Respected Jb;Mohammed Mahmood Sb; and all on this forum,ASAK
I donn't fully agree with ur opinion on the article of Mr.Suhail Anjum that the future of Urdu in India is on so much decline and this language will become like Sanskrit etc.
Of-course,there has been tremendous decline of Urdu in the last few decades but recently,electronic media and the rising enthusiasm of print media has been constantly,ecouraging Urdu at the most and Govtt.of India has also,been kind enough to enhance the Urdu language as much as possible, though, it has not so far been upto it's requirement.I feel sorry, when I go to Muslims and find that non of them reads Urdu newpaper but hindi or english newspapers only.
Muslims are,equally, responsible for it's decline so far,But even than, persons like me who happened to be an engineer by profession, has been reading almost all newspapers of Urdu In Aligarh or when in Delhi or anywhere and writing for Urdu dailies,magazines and werbsites inspite of my very bussy schedule, as an Engineer working in an internationally famous company,NTPC.I have even started a daily newspaper, Nadia Times, in Urdu.U can visit it at; www.nadiatimes.com and mail to at; nadia...@gmail.com and nadia...@yahoo.com ,and contact me at +91 9650990786,if possible?
Pl read this Newspaper and tell me, whether it is upto ur standard and expectations or not?
By just speaking anything negative,about anything is not good for u also.Pl be positi\ve and give positive comments,
Suhail Anjum is an expert on Urdu language and has been working with famous newspapers like Qaumi Awaz and Voice of America and writes in many newpapers and magazines.
His analysis in this regard is commendable and we must thank him for his great work of Urdu journalism.
Pl write good words about Urdu writers and Urdu language if U want to see Urdu surving as a Champion of Champions of languages, of which it is really.
I can now say only to u that.
Mita Day Apni Hasti Ko Agar Kuch Martaba Chhahay;
Kay Dana Khaak Main Milkar Gul e Gulzaar Hota Hay.
And for Mr.Suhail Anjum that;
Andheray Hi Andheray Thay Meri Duniya Main Ay Aalim;
Magar Milkar Abhi Tujh Say Mili Hay Roshni Bahut Mujh Ko.
(By me only).
Khudahafiz and Fih Amaan Allah;
Duago,
Er.Ahmad Rais Siddiqi(Alig)
Former Champion and Captain of AMU TT and Gymkhana Clubs,
First All India Power Sector TT Champion,
Champion and Captain of All India NTPC's TT and Tennis teams,
International radio and TV Commentator and Quiz Master(DDSports and AIR),
Publisher,Printer,Owner and Chief Editor,
Nadia Times,
New Delhi,India.
Dt.21.02.2012,
From: BAZMe...@googlegroups.com <BAZMe...@googlegroups.com> Subject: {9601} Digest for BAZMe...@googlegroups.com - 21 Messages in 17 Topics To: "Digest Recipients" <BAZMe...@googlegroups.com> Date: Tuesday, 21 February, 2012, 4:53 PM
suhail anjum <s_an...@yahoo.com> Feb 20 10:11PM -0800
اردو صحافت : ذرا نم ہو تو یہ مٹی ۔۔۔ سہیل انجمہندوستان میں گذشتہ چند برسوں میں میڈیا کے شعبے میں زبردست فروغ ہوا ہے۔ جس میں الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا کا بھی خاطر خواہ حصہ ہے۔ جس طرح ملک میں ٹی وی چینلوں اور بالخصوص نیوز چینلوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح پرنٹ میڈیا یا مطبوعہ صحافت بھی مائل بہ نمو ہے۔ ٹی وی چینلوں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود تعلیم یافتہ طبقہ نے اخبار بینی بند نہیں کی ہے۔ حالانکہ اخباروں کو پہلے جتنا وقت دیا جاتا تھا اب
اس میں کمی آئی ہے لیکن اخبار بینی کا سلسلہ جاری ہے۔ البتہ اس کے اوقات میں کمی آگئی ہے۔ اخباربینی کے اوقات میں کمی کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اخبارات کی تعداد میں بھی تخفیف ہوتی اور پرنٹ میڈیا کو زوال ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ سال یعنی 2011میں اخبارات کی تعداد بڑھی ہے۔ ہندی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو اخبارات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں 760 ٹی وی چینل ہیں جن میں چار سو سے زائد نیوز چینل ہیں۔ اس کے باوجود پرنٹ میڈیا میں8.23فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ حیرت انگیز ہے۔ اس
میدان میں اردو اخبارات بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔رجسٹریشن آف نیوز پیپرس ان انڈیا (آر این آئی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سال 2010-11 میں اردو اخبارات تعداد کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ ہندی کے اخبار شائع ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد 7910 ہے۔ اور ان کی مجموعی سرکولیشن 15,54,94,770 ہے۔ دوسرے نمبر پر انگریزی ہے، اس کے روزنامہ اخباروں کی تعداد 1406 ہے اور ان کی مجموعی سرکولیشن 5,53,17,184 ہے۔اردو روزنامہ اخبار تیسرے نمبر پر ہیں، ان کی تعداد 938 ہے اور ان کی مجموعی سرکولیشن دو کروڑ سولہ لاکھ انتالیس ہزار
دو سو تیس (2,16,39,230) ہے۔چوتھے نمبر پر گجراتی(761) ، پانچویں نمبر پر تیلگو (603) ، چھٹے نمبر پر مراٹھی (521) ساتویں پر بنگالی(472) ، آٹھویں پر اڑیہ (245)، نویں پر کنڑ (200)اور دسویں نمبر پر ملیالم (192) ہیں۔ ملک میں کل رجسٹرڈ اخبارات کی تعدا د 82,237ہے۔ آر این آئی نے 2010میں یعنی 31مارچ2011تک مجموعی طور پر 13,229اخباروں کو منظوری دی۔ (یہ رپورٹ 31مارچ 2011تک محدود ہے)۔ہندی میں سب سے زیادہ32,793اخبار رجسٹرڈ کیے گئے۔ انگریزی دوسرے نمبر پر رہی۔ اس کے رجسٹرڈ اخباروں کی تعداد 11,478رہی۔ اس وقفے میں پورے ملک میں تمام زبانوں کی مجموعی سرکولیشن 32,92,04,841ہے۔ جبکہ اس سے
ایک سال قبل یہ تعداد 30,88,16,563رہی ہے۔ آر این آئی کی اس 55ویں رپورٹ کے مطابق اتر پردیش میں سب سے زیادہ 3,671اخبار شائع ہوتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر دہلی ہے جہاں شائع ہونے والے اخبارات کی تعداد1,933ہے اور تیسرے نمبر پر مدھیہ پردیش ہے جہاں 1234اخبار شائع ہوتے ہیں۔ سرکولیشن کے اعتبار سے بھی اتر پردیش سب سے آگے ہے۔ اس ریاست میں اخباروں کی تعداد اشاعت 6کروڑ 97لاکھ ہے۔ دہلی میں 5کروڑ27لاکھ کاپیاں چھپتی ہیں تو مہاراشٹرا میں 2کروڑ 90لاکھ۔ حیدر آباد سے شائع ہونے والے تیلگو اخبار ’’اناڈو‘‘ کی سرکولیشن سب سے زیادہ 16,74,305ہے۔ یہ سنگل ایڈیشن اخبار
ہے۔اس کے بعد چنئی سے شائع ہونے والا روزنامہ ’’ہندو‘‘ ہے جس کی سرکولیشن14,82,658ہے۔ کلکتہ سے شائع ہونے والا بنگالی روزنامہ آنند بازار پتریکا تیسرے نمبر ہے۔مذکورہ سال میں اخباروں کی جانب سے سالانہ اسٹیٹمنٹ بھیجنے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 15جون 2011تک 14508اسٹیٹمنٹ جمع کیے گئے جبکہ اس سے پہلے کے سال میں 13134اسٹیٹمنٹ جمع کیے گئے تھے۔ گویا اس میں 10.46فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔اس رپورٹ سے اردو اخباروں کی تعداد اشاعت کے تعلق سے جو اعداد وشمار سامنے آئے ہیں وہ چونکا دینے والے ہیں۔ کیونکہ اردو زبان کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ
زوال پذیر ہے۔ لیکن جو صورت حال سامنے آئی ہے وہ پرکشش بھی ہے اور حوصلہ افزا بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ برسوں میں اردو اخباروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ بھی ایک نا قابل تردید سچائی ہے کہ اخباروں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود قارئین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اخبارات کے ایڈیشن بڑھے ہیں لیکن ان کی اشاعت کم ہوئی ہے۔ اس وقت کئی اردو اخبار ایسے ہیں جو ملٹی ایڈیشن ہیں۔ روزنامہ ’’انقلاب‘‘ اور ’’راشٹریہ سہارا‘‘ کم از کم ایک ایک درجن شہروں سے شائع ہو رہے ہیں۔ ’’اودھ نامہ‘‘اور ’’صحافت‘‘ چار چار شہروں سے نکل رہے
ہیں۔ ’’ہمارا سماج‘‘ اور ’’اخبار مشرق‘‘ دو دو شہروں سے۔ اور بھی دوسرے اخبارات ایسے ہیں جو زائد از ایک شہروں سے نکل رہے ہیں۔ ا س روشنی میں دیکھا جائے تو حالیہ دور کو اردو صحافت کا زریں دور کہا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا واقعتاً ایسا ہے؟ اگر اردو زبان اور اس کی موجودہ مجموعی صورت حال کے تناظر میں جواب تلاش کیا جائے تو مایوسی ہوتی ہے۔ اخبارات کی تعداد میں اضافہ کا یہ مطلب نہیں کہ اردو زبان ترقی پر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بیشتر اردو اخبارات مالکوں اور مدیروں کے ذاتی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ ہیں اور کچھ نہیں۔ صرف دارالحکومت دہلی کی
بات کی جائے تو یہاں اشتہارات کے سرکاری ادارے ڈی اے وی پی سے رجسٹرڈ اردو اخباروں کی تعداد پچاس سے زائد ہے لیکن مارکیٹ میں محض چار پانچ ہی ہیں۔ دوسرے شہروں میں بھی یہی حالت ہے۔ ابھی چند روز قبل سرکاری ادبی ماہنامہ ’’آجکل‘‘ کے سابق مدیر جناب محبوب الرحمن فاروقی کا ایک مضمون ایک اخبار میں شائع ہوا ہے جس میں انہو ں نے لکھا ہے کہ سرکاری اخبار ’’روزگار سماچار‘‘ جو کہ ہندی اور انگریزی میں لاکھو ں کی تعداد میں شائع ہوتا ہے، اس کے اردو ایڈیشن کی تعداد محض ڈیڑھ سو ہے۔ اسی طرح سرکاری اردو رسالے ’’آجکل‘‘، ’’یوجنا‘‘،
’’سینک سماچار‘‘ ، ’’نیا دور‘‘ اور ’’دہلی‘‘ جیسے رسائل کی تعداد اشاعت کم ہو گئی ہے۔ ان کی اشاعت بڑھانے کی طرف حکومت کوئی توجہ نہیں دیتی۔ جہاں تک پرائیویٹ اخبارات و رسائل کی بات ہے تو ان کی بھی حالت بہت اچھی نہیں ہے۔ متعدد پرائیویٹ ادبی رسائل شاعروں اور ادیبوں کے گوشے شائع کرکے اپنے لیے کچھ مزید سانسوں کا بند وبست کر لیتے ہیں۔ خلیجی ملکوں یا امریکہ اور یوروپی ملکوں میں رہائش پذیر اردو ادبا وشعرا بھی ایسے رسائل کے لیے ’’آکسیجن‘‘ کی فراہمی کرتے ہیں۔ کئی غیر ادبی جریدے ایسے ہیں جن کے مالکان اشتہاروں کے لیے تگ ودو
کرتے ہیں اور جب کچھ اشتہارات مل جاتے ہیں تو وہ یکمشت کئی شمارے شائع کر دیتے ہیں۔ کچھ ایک ہی شمارے میں کئی شمارے یکجا کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کئی ہفت روزہ رسالے ایسے ہیں جو صرف خصوصی شمارہ ہی شائع کرتے ہیں۔تقریباً ایک دو دہائی قبل ایسا کہا جاتا تھا کہ اب اردو صحافیوں کی نئی کھیپ پیدا ہونا بند ہو گئی ہے۔ لیکن مذکورہ حوصلہ شکن صورت حال کے باوجود اردو صحافیوں کی نئی کھیپ پیدا ہو رہی ہے او ر اردو صحافت کے کارواں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ بارہ سال قبل جب ’’روزنامہ راشٹریہ سہارا‘‘ جاری ہوا تھا تو اس میں ایڈیٹوریل میں کام کرنے والے
زیادہ تر نئے صحافی تھے۔ اب جو نئے اخبار نکلتے ہیں ان میں نئے صحافیوں ہی کی بھرتی ہوتی ہے۔ البتہ ایڈیٹروں پر کمپیوٹر آپریٹروں کو ترجیح دینے سے صحافت کی کوالٹی گری ہے او رمعیار بھی متاثر ہوا ہے۔ اگر اخبار میں کام کرنے کے لیے کمپیوٹر کا علم ضروی ہو گیا ہے تو نئے اردو اخباروں کو چاہیے کہ اگر وہ پرانے اور تجربہ کار صحافی رکھیں تو ان کو کمپیوٹر کی تربیت دلوائیں۔ اور اگر کمپیوٹر آپریٹروں کو سب ایڈیٹر یا رپورٹر کے طور پر اپائنٹ کرنا ہو تو ان کو ایڈیٹوریل میں کام کرنے کی ٹریننگ دیں۔ لیکن ان باتوں کا لحاظ نہ کرنے کی وجہ سے اردو
اخباروں کا معیار گر رہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں بہت سے نئے اردو صحافی میدان صحافت میں آئے ہیں۔ان کی اکثریت مدارس کے فارغین کی ہے۔ جو کھیپ یونیورسٹیوں سے آتی ہے ان میں بھی بیشتر کا بیک گراؤنڈ دینی مدارس کا ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے ان کا ذہنی افق کشادہ ہو جاتا ہے اور وہ کامیاب صحافی کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب اردو صحافت کے ذمہ دارو ں کو زمانے کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ اردو صحافت کے بارے میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک مشن کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ اس کی صداقت پر کسی کو کوئی شبہ
نہیں لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور مشن کے خمیر میں بزنس کی مہک ڈالنے کی ضرورت ہے جبھی اردو صحافت کی بقا کے راستے وا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی صحافت کو جذبات کی منڈی بنانے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ قارئین کی جذباتیت کو مشتعل کرنے اور زرد صحافت کو رائج کرنے کی بجائے ان کے اندر تعمیری سوچ پیدا کرنے والی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ مسائل کی نمائندگی کی کوشش میں جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اکثر یہ بات اٹھائی جاتی ہے کہ اردو زبان کا رشتہ روزی روٹی سے منقطع ہو گیا ہے۔ لیکن یہ بات کلی طور پر درست نہیں ہے۔ آر این آئی کی
مذکورہ رپورٹ سے یہ معلوم ہوا کہ اس وقت پورے ملک میں اردو کے 938روزنامہ اخبار نکل رہے ہیں۔ جبکہ ہفت روزہ، پندرہ روزہ، ماہنامہ اور سہ ماہی رسائل وجرائد اس سے الگ ہیں۔ اگر روزنامہ سے لے کر سہ ماہی اور شش ماہی جرائد تک کا شمار کیا جائے تو ان کی تعداد ہزاروں میں ہوگی۔ ان میں کام کرنے والے بھی ہوں گے۔ جن کی تعداد ملکی سطح پر یقیناً لاکھوں میں پہنچے گی۔یہ صورت حال مجموعی طور پر صحافت کے زوال کے باوجود بڑی خوش کن ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ اردو صحافت اتنی آسانی سے ختم ہونے والی نہیں ہے۔ جس طرح اردو زبان بہت سخت جان ہے اور لاکھ سازشوں
کے باوجود زندہ ہے اسی طرح اردو صحافت بھی نا مساعد حالات کے باوجود زندہ رہے گی اور اردو صحافیوں کی نئی کھیپ سامنے آکر اس کو سہارا دیتی رہے گی۔ M-09818195929-09582078862
Mohammed Mahmood <m.mahm...@yahoo.com> Feb 21 03:02AM -0800
Dear Suhail Anjum: You appear to be too much optimistic about the future of Urdu jounalism in India. Your optimism is misplaced. Indian Urdu journals is on the decline in terms of quality and content. Circulation figures are deceptive. These newspapers may survive for the better part of the next 25 years. By the time the post-1945 generation of Urdu speakers passes away Urdu will become a classical language and taught in university departments like Sanskrit, Arabic and Persian. What happened to Milap and Partap when the Urdu-knowing generation of the Punjabi refugees passed away? Then namaskar and bye. Mohammed Mahmood Aligarh ________________________________ From: suhail anjum <s_an...@yahoo.com> To: bazme qalam
<bazme...@gmail.com>; bazme qalam <bazme...@googlegroups.com> Sent: Tuesday, February 21, 2012 11:41 AM Subject: {9595} Urdu Journalism In India On The Third Position
اردو صحافت : ذرا نم ہو تو یہ مٹی ۔۔۔ سہیل انجم ہندوستان میں گذشتہ چند برسوں میں میڈیا کے شعبے میں زبردست فروغ ہوا ہے۔ جس میں الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا کا بھی خاطر خواہ حصہ ہے۔ جس طرح ملک میں ٹی وی چینلوں اور بالخصوص نیوز چینلوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح پرنٹ میڈیا یا مطبوعہ صحافت بھی مائل بہ نمو ہے۔ ٹی وی چینلوں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود تعلیم یافتہ طبقہ نے اخبار بینی بند نہیں کی
ہے۔ حالانکہ اخباروں کو پہلے جتنا وقت دیا جاتا تھا اب اس میں کمی آئی ہے لیکن اخبار بینی کا سلسلہ جاری ہے۔ البتہ اس کے اوقات میں کمی آگئی ہے۔ اخباربینی کے اوقات میں کمی کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اخبارات کی تعداد میں بھی تخفیف ہوتی اور پرنٹ میڈیا کو زوال ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ سال یعنی 2011میں اخبارات کی تعداد بڑھی ہے۔ ہندی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو اخبارات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں 760 ٹی وی چینل ہیں جن میں چار سو سے زائد نیوز چینل ہیں۔ اس کے باوجود پرنٹ میڈیا
میں8.23فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ حیرت انگیز ہے۔ اس میدان میں اردو اخبارات بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔رجسٹریشن آف نیوز پیپرس ان انڈیا (آر این آئی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سال 2010-11 میں اردو اخبارات تعداد کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ ہندی کے اخبار شائع ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد 7910 ہے۔ اور ان کی مجموعی سرکولیشن 15,54,94,770 ہے۔ دوسرے نمبر پر انگریزی ہے، اس کے روزنامہ اخباروں کی تعداد 1406 ہے اور ان کی مجموعی سرکولیشن 5,53,17,184 ہے۔اردو روزنامہ اخبار تیسرے نمبر پر ہیں، ان کی تعداد 938 ہے اور ان کی
مجموعی سرکولیشن دو کروڑ سولہ لاکھ انتالیس ہزار دو سو تیس (2,16,39,230) ہے۔چوتھے نمبر پر گجراتی(761) ، پانچویں نمبر پر تیلگو (603) ، چھٹے نمبر پر مراٹھی (521) ساتویں پر بنگالی(472) ، آٹھویں پر اڑیہ (245)، نویں پر کنڑ (200)اور دسویں نمبر پر ملیالم (192) ہیں۔ ملک میں کل رجسٹرڈ اخبارات کی تعدا د 82,237ہے۔ آر این آئی نے 2010میں یعنی 31مارچ2011تک مجموعی طور پر 13,229اخباروں کو منظوری دی۔ (یہ رپورٹ 31مارچ 2011تک محدود ہے)۔ہندی میں سب سے زیادہ32,793اخبار رجسٹرڈ کیے گئے۔ انگریزی دوسرے نمبر پر رہی۔ اس کے رجسٹرڈ اخباروں کی تعداد 11,478رہی۔ اس وقفے میں پورے ملک میں تمام
زبانوں کی مجموعی سرکولیشن 32,92,04,841ہے۔ جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ تعداد 30,88,16,563رہی ہے۔ آر این آئی کی اس 55ویں رپورٹ کے مطابق اتر پردیش میں سب سے زیادہ 3,671اخبار شائع ہوتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر دہلی ہے جہاں شائع ہونے والے اخبارات کی تعداد1,933ہے اور تیسرے نمبر پر مدھیہ پردیش ہے جہاں 1234اخبار شائع ہوتے ہیں۔ سرکولیشن کے اعتبار سے بھی اتر پردیش سب سے آگے ہے۔ اس ریاست میں اخباروں کی تعداد اشاعت 6کروڑ 97لاکھ ہے۔ دہلی میں 5کروڑ27لاکھ کاپیاں چھپتی ہیں تو مہاراشٹرا میں 2کروڑ 90لاکھ۔ حیدر آباد سے شائع ہونے والے تیلگو اخبار ’’اناڈو‘‘ کی
سرکولیشن سب سے زیادہ 16,74,305ہے۔ یہ سنگل ایڈیشن اخبار ہے۔اس کے بعد چنئی سے شائع ہونے والا روزنامہ ’’ہندو‘‘ ہے جس کی سرکولیشن14,82,658ہے۔ کلکتہ سے شائع ہونے والا بنگالی روزنامہ آنند بازار پتریکا تیسرے نمبر ہے۔مذکورہ سال میں اخباروں کی جانب سے سالانہ اسٹیٹمنٹ بھیجنے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 15جون 2011تک 14508اسٹیٹمنٹ جمع کیے گئے جبکہ اس سے پہلے کے سال میں 13134اسٹیٹمنٹ جمع کیے گئے تھے۔ گویا اس میں 10.46فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ سے اردو اخباروں کی تعداد اشاعت کے تعلق سے جو اعداد وشمار سامنے آئے ہیں وہ چونکا دینے والے ہیں۔ کیونکہ
اردو زبان کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ زوال پذیر ہے۔ لیکن جو صورت حال سامنے آئی ہے وہ پرکشش بھی ہے اور حوصلہ افزا بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ برسوں میں اردو اخباروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ بھی ایک نا قابل تردید سچائی ہے کہ اخباروں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود قارئین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اخبارات کے ایڈیشن بڑھے ہیں لیکن ان کی اشاعت کم ہوئی ہے۔ اس وقت کئی اردو اخبار ایسے ہیں جو ملٹی ایڈیشن ہیں۔ روزنامہ ’’انقلاب‘‘ اور ’’راشٹریہ سہارا‘‘ کم از کم ایک ایک درجن شہروں سے شائع ہو رہے ہیں۔
’’اودھ نامہ‘‘اور ’’صحافت‘‘ چار چار شہروں سے نکل رہے ہیں۔ ’’ہمارا سماج‘‘ اور ’’اخبار مشرق‘‘ دو دو شہروں سے۔ اور بھی دوسرے اخبارات ایسے ہیں جو زائد از ایک شہروں سے نکل رہے ہیں۔ ا س روشنی میں دیکھا جائے تو حالیہ دور کو اردو صحافت کا زریں دور کہا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا واقعتاً ایسا ہے؟ اگر اردو زبان اور اس کی موجودہ مجموعی صورت حال کے تناظر میں جواب تلاش کیا جائے تو مایوسی ہوتی ہے۔ اخبارات کی تعداد میں اضافہ کا یہ مطلب نہیں کہ اردو زبان ترقی پر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بیشتر اردو اخبارات مالکوں اور مدیروں کے ذاتی مفادات کی
تکمیل کا ذریعہ ہیں اور کچھ نہیں۔ صرف دارالحکومت دہلی کی بات کی جائے تو یہاں اشتہارات کے سرکاری ادارے ڈی اے وی پی سے رجسٹرڈ اردو اخباروں کی تعداد پچاس سے زائد ہے لیکن مارکیٹ میں محض چار پانچ ہی ہیں۔ دوسرے شہروں میں بھی یہی حالت ہے۔ ابھی چند روز قبل سرکاری ادبی ماہنامہ ’’آجکل‘‘ کے سابق مدیر جناب محبوب الرحمن فاروقی کا ایک مضمون ایک اخبار میں شائع ہوا ہے جس میں انہو ں نے لکھا ہے کہ سرکاری اخبار ’’روزگار سماچار‘‘ جو کہ ہندی اور انگریزی میں لاکھو ں کی تعداد میں شائع ہوتا ہے، اس کے اردو ایڈیشن کی تعداد محض ڈیڑھ سو ہے۔
اسی طرح سرکاری اردو رسالے ’’آجکل‘‘، ’’یوجنا‘‘، ’’سینک سماچار‘‘ ، ’’نیا دور‘‘ اور ’’دہلی‘‘ جیسے رسائل کی تعداد اشاعت کم ہو گئی ہے۔ ان کی اشاعت بڑھانے کی طرف حکومت کوئی توجہ نہیں دیتی۔ جہاں تک پرائیویٹ اخبارات و رسائل کی بات ہے تو ان کی بھی حالت بہت اچھی نہیں ہے۔ متعدد پرائیویٹ ادبی رسائل شاعروں اور ادیبوں کے گوشے شائع کرکے اپنے لیے کچھ مزید سانسوں کا بند وبست کر لیتے ہیں۔ خلیجی ملکوں یا امریکہ اور یوروپی ملکوں میں رہائش پذیر اردو ادبا وشعرا بھی ایسے رسائل کے لیے ’’آکسیجن‘‘ کی فراہمی کرتے ہیں۔ کئی غیر
ادبی جریدے ایسے ہیں جن کے مالکان اشتہاروں کے لیے تگ ودو کرتے ہیں اور جب کچھ اشتہارات مل جاتے ہیں تو وہ یکمشت کئی شمارے شائع کر دیتے ہیں۔ کچھ ایک ہی شمارے میں کئی شمارے یکجا کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کئی ہفت روزہ رسالے ایسے ہیں جو صرف خصوصی شمارہ ہی شائع کرتے ہیں۔ تقریباً ایک دو دہائی قبل ایسا کہا جاتا تھا کہ اب اردو صحافیوں کی نئی کھیپ پیدا ہونا بند ہو گئی ہے۔ لیکن مذکورہ حوصلہ شکن صورت حال کے باوجود اردو صحافیوں کی نئی کھیپ پیدا ہو رہی ہے او ر اردو صحافت کے کارواں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ بارہ سال قبل جب ’’روزنامہ راشٹریہ
سہارا‘‘ جاری ہوا تھا تو اس میں ایڈیٹوریل میں کام کرنے والے زیادہ تر نئے صحافی تھے۔ اب جو نئے اخبار نکلتے ہیں ان میں نئے صحافیوں ہی کی بھرتی ہوتی ہے۔ البتہ ایڈیٹروں پر کمپیوٹر آپریٹروں کو ترجیح دینے سے صحافت کی کوالٹی گری ہے او رمعیار بھی متاثر ہوا ہے۔ اگر اخبار میں کام کرنے کے لیے کمپیوٹر کا علم ضروی ہو گیا ہے تو نئے اردو اخباروں کو چاہیے کہ اگر وہ پرانے اور تجربہ کار صحافی رکھیں تو ان کو کمپیوٹر کی تربیت دلوائیں۔ اور اگر کمپیوٹر آپریٹروں کو سب ایڈیٹر یا رپورٹر کے طور پر اپائنٹ کرنا ہو تو ان کو ایڈیٹوریل میں کام کرنے
کی ٹریننگ دیں۔ لیکن ان باتوں کا لحاظ نہ کرنے کی وجہ سے اردو اخباروں کا معیار گر رہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں بہت سے نئے اردو صحافی میدان صحافت میں آئے ہیں۔ان کی اکثریت مدارس کے فارغین کی ہے۔ جو کھیپ یونیورسٹیوں سے آتی ہے ان میں بھی بیشتر کا بیک گراؤنڈ دینی مدارس کا ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے ان کا ذہنی افق کشادہ ہو جاتا ہے اور وہ کامیاب صحافی کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب اردو صحافت کے ذمہ دارو ں کو زمانے کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ اردو صحافت کے بارے میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک
مشن کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ اس کی صداقت پر کسی کو کوئی شبہ نہیں لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور مشن کے خمیر میں بزنس کی مہک ڈالنے کی ضرورت ہے جبھی اردو صحافت کی بقا کے راستے وا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی صحافت کو جذبات کی منڈی بنانے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ قارئین کی جذباتیت کو مشتعل کرنے اور زرد صحافت کو رائج کرنے کی بجائے ان کے اندر تعمیری سوچ پیدا کرنے والی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ مسائل کی نمائندگی کی کوشش میں جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اکثر یہ بات اٹھائی جاتی ہے کہ اردو زبان کا رشتہ روزی روٹی سے منقطع ہو
گیا ہے۔ لیکن یہ بات کلی طور پر درست نہیں ہے۔ آر این آئی کی مذکورہ رپورٹ سے یہ معلوم ہوا کہ اس وقت پورے ملک میں اردو کے 938روزنامہ اخبار نکل رہے ہیں۔ جبکہ ہفت روزہ، پندرہ روزہ، ماہنامہ اور سہ ماہی رسائل وجرائد اس سے الگ ہیں۔ اگر روزنامہ سے لے کر سہ ماہی اور شش ماہی جرائد تک کا شمار کیا جائے تو ان کی تعداد ہزاروں میں ہوگی۔ ان میں کام کرنے والے بھی ہوں گے۔ جن کی تعداد ملکی سطح پر یقیناً لاکھوں میں پہنچے گی۔یہ صورت حال مجموعی طور پر صحافت کے زوال کے باوجود بڑی خوش کن ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ اردو صحافت اتنی آسانی سے ختم ہونے
والی نہیں ہے۔ جس طرح اردو زبان بہت سخت جان ہے اور لاکھ سازشوں کے باوجود زندہ ہے اسی طرح اردو صحافت بھی نا مساعد حالات کے باوجود زندہ رہے گی اور اردو صحافیوں کی نئی کھیپ سامنے آکر اس کو سہارا دیتی رہے گی۔ M-09818195929-09582078862 -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/ راشد اشرف کی تحریروں کے لیے http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> Feb 21 01:22PM +0500
۔21 فروری 2005 کو انتقال کرنے والے مشفق خواجہ کی آج کی ساتویں برسی ہے۔ اس موقع پر ایک تبصرہ پیش خدمت ہے جسے خواجہ صاحب کے قلم سے لکھا گیا ہے، یہ قلم ہمیں استاد لاغر مراد آبادی نے عارییتا ہماری اپنی ذمہ داری پر پیش کیا تھا، اتنی بڑی ہستی کے قلم کو تھامنا بھی ایک مشکل کام ہے، چہ جائیکہ اس کا استعمال، اللہ اللہ۔ جیسے تیسے چند مضامین سرزد ہوئے، چند ہورہے ہیں۔ امید ہے مشاہیر ادب اس گستاخی کو معاف فرمائیں گے خیر اندیش راشد اشرف کراچی سے مستنصر حسین
تارڑ کا تازہ ترین انٹرویو چند روز قبل ایک انگریزی اخبار میں تارڑ صاحب کا انٹرویو شائع ہوا ہے، اسے ہمارے کرم فرما جناب عاررف وقار نے لیا ہے۔ مذکورہ انٹرویو کا عنوان ہے: At home with the wanderer ہماری انگریزی اس اساتذہ کی اردو جیسی ہے جو گزشتہ 35 برس سے ماسکو یونیورسٹی میں تارڑ صاحب کی تحریریں بطور نصاب طالب علموں کو پڑھا رہے ہیں، لہذا ہم نے انٹرویو کے عنوان کا ترجمہ "ایک خانہ بدوش کے گھر میں" کے عنوان سے کیا ہے۔ انٹرویو پڑھ کر کئی دلچسپ باتوں کا علم ہوا مثلا A few days later, the young Tarrar was shocked to see a press statement issued by the prime minister of Pakistan
saying that Soviet Union was Pakistan’s mortal enemy; and that the boys who had been to Moscow were traitors and would be arrested at the Karachi airport on their return and immediately dispatched to Mianwali jail یہ ذکر تارڑ صاحب کے 1957 میں ماسکو کے پہلے سفر سے واپسی کا ہے، ان دنوں تارڑ صاحب کی عمر 18 برس تھی۔ وہ تو میانوالی جیل جانے سے بچ گئے لیکن شنید ہے کہ میانوالی جیل میں ایسے کئی قیدی موجود ہیں جنہوں نے تارڑ صاحب کے ناولز پڑھ رکھے ہیں۔ تارڑ صاحب آگے بیان کرتے ہیں After about half a century, in 2007, I got an invitation from The Moscow State University to deliver a series of lectures about the influence of Russian Classics on Pakistani literature. On that occasion, I was bestowed the Gold Medal for
Outstanding Literary Contributions.” خفیہ ذرائع سے ہمیں یہ علم ہوا کہ تارڑ صاحب نے ماسکو یونیورسٹی میں "روسی فن پاروں کے پاکستانی ادب پر اثرات" کے ضمن میں اپنی ہی تحریریں پیش کیں، سند کے طور پر انہوں نے روس کے پس منظر میں لکھی اپنی تخلیقات کو پیش کیا جن میں ان کا ناول جپسی، ماسکو کی سفید راتیں وغیرہ شامل ہیں۔ روسی فن پاروں کے پاکستانی ادب پر جتنے اثرات تارڑ صاحب کی تحریروں پر نظر آتےہیں، شاید ہی کوئی دوسری مثال مل سکے۔ تارڑ صاحب کا جلد شائع ہونے والا ناول بھی ماسکو ہی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ ماسکو یونیورسٹی کی Professor Galina
Dushenko کے لیے پاکستان یا تو فیض کی شاعری ہے یا پھر مستنصر کا ناول ان کے الفاظ میں: “For us, Pakistan is Faiz’s poetry and Tarrar’s novels” فیض کی شاعری تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، البتہ خاتون پروفیسر کے بیان کے دوسرے حصے کو پڑھ کر ماسکو اور اسلام آباد کے خراب تعلقات کا سبب اب ذرا واضح طور پر سمجھ میں آیا ہے۔ گزشتہ 35 برس میں تو ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب یہ یہ حالات خطرناک حد تک خراب ہوگئے تھے، خبریں گرم تھیں کہ روس کی جانب سے حملہ اب ہوا کہ تب ہوا. انٹرویو میں اس بات کا خصوصی ذکر ہے کہ ماسکو یونیورسٹی میں 35 برس سے تارڑ صاحب کی چند تحریریں
نصاب میں شامل ہیں. یونیورسٹی کی سطح پر تحقیقی کام بھی ہوتے رہتے ہیں اور ان کے عوض پی ایچ ڈی کی سند بھی جاری کی جاتی ہے، ہمیں امید ہے کہ یہ تارڑ صاحب کی تحریروں پر بھی پی ایچ ڈی کی جائے گی یا ہوسکتا ہے کہ اب تک کی جاچکی ہو۔ کہا جاتا ہے کہ: "" مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں جن کاموں پر سزا ہوسکتی ہے، انہی کاموں پر بعض پسماندہ ایشیائی ممالک میں پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جاتی ہے۔ تارڑ صاحب کے معاملے میں مندرجہ بالا بیان کو الٹ کر (مہذب ممالک سے ایشیائی ممالک کے الٹ پھیر کے ساتھ) پڑھا جائے تو مفہوم واضح ہوتا نظر آتا
ہے۔ یہ مقام شکر ہے کہ تارڑ صاحب کی تحریریں ماسکو یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کی گئیں، ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں، خدا کا شکر ہے کہ ان کی محنت ضائع نہیں ہوئی ورنہ اس قسم کی کوششوں میں ہم نے خود ادیب کو ضائع ہوتے دیکھا ہے۔ انٹرویو میں ایک ٹکڑا یہ بھی پڑھا کہ: Dr Christina Oesterheld, from the Institute of Modern South Asian Languages and Literatures, Heidelberg University, Germany, is an expert in modern Urdu Literature. She specialises in the fiction of Quratulain Hyder, but she has declared my novel Raakh to be the most representative piece of fiction of the whole subcontinent.” ڈاکٹر اوسٹرہیلڈ سے ابن صفی کے تعلق سے ہمارا رابطہ بھی رہا
ہے، کیا خوب خاتون ہیں۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ ایک غیر ملک سے تعلق رکھنے والی نے ہمارے ادیب کے مقام کا تعین کیا ہے، یہ کام تو ہمارے نقادوں کو کرنا چاہیے۔ ایک نقاد سے ہماری اس سلسلے میں بات ہوئی تھی، کہنے لگے کہ راکھ کو پڑھنے کے بعد ان کے ہاتھ میں سوائے راکھ کے، اور کچھ نہ آیا لہذا انہوں نے اس پر تبصرہ لکھنے کا خیال ترک کردیا۔ ہم اس شر پسندانہ رائے سے ہرگز ہرگز اتفاق نہیں کرتے! لیکن حال ہی میں ہمیں ناقدین کے تارڑ صاحب کے بارے میں اس معاندانہ رویے کی ایک اہم وجہ معلوم ہوئی ہے۔ دونوں طرف ہے "آگ" برابر لگی ہوئے کے مصداق تارڑ
صاحب بھی نقادوں سے سخت بیزار ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ تارڑ صاحب کا ایک حالیہ بیان لاہور کے الحمراء کے جنوری 2012 کے سالنامے میں شائع ہوا ہے۔ مدیر الحراء کی ہمت کو داد ہے کہ ان کا خط شائع کردیا۔ اپنے خط میں فرماتے ہیں " درانی نامہ اور محمد کاظم کی آپ بیتی ‘دن جو علی گڑھ میں گزرے‘ ایسی تخلیقات ہیں جو الحمراء میں مسلسل شائع ہونے والی زہر ناک اور گھٹیا تحریروں کی کڑواہٹ بھلا دیتی ہیں جن میں کسی ایک ادبی شخصیت پر پلید نہایت وار کیے جاتے ہیں۔ آپ کی خواہش اور فرمائش سر آنکھوں پر۔ میں اپنے تازہ ناول کے کچھ حصے آپ کی نذر
کرتا ہوں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ محفل احباب میں ہمہ وقت موجود پر تعصب اور مدرسی نقاد اس ناول پر اپنی عالمانہ رائے دینے سے اجتناب کریں، خاموشی اختیار کریں۔" (مستنصر حسین تارڑ) ہم نے الحراء کے چند گزشتہ شماروں کا بندوبست کرنے کی کوشش کی ہے، ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ محفل احباب میں ایسے کون سے "پُر تعصب اور مدرسی نقاد‘ ہیں جنہیں سوائے الحمراء کی محفل احباب میں موجود رہنے کے، اور کوئی کام ہی نہیں۔ استاد لاغر مراد آبادی نے مذکورہ خط پڑھنے کے بعد فرمایا کہ "تارڑ صاحب نے اب تک جتنے ناولز لکھے ہیں ان پر ان کے اپنے الفاظ
میں ‘خاموشی اختیار کرلینا‘ ہی بہتر ہے۔ انٹرویو کے آخر میں تارڑ صاحب سے ایک دلچسپ سوال کیا گیا، پوچھا گیا Wearing so many feathers in his cap — a travel writer, a novelist, a playwright, a columnist, a television presenter and an actor — how would he like to be remembered, say, 50 years from now, I ask. He looks directly into my eyes for the first time during the conversation and puts me a counter question, rather wryly, “Fifty years from now, or fifty years from the day I’m buried under tons of soil in my family graveyard?” After a deep breath, he says, “All these feathers in my cap will be blown away by the dust-storm of time. The travel writer, the novelist, the media person will vanish in the fog of future. If, however, the impossible happens and some crackpot discovers me in the future, I would
like to be remembered as a person who devoted his whole life sweating at his study table, as a travel writer and a novelist. Presumptions are pretensions but two of my novels, Bahaao and Khaso Khashaak Zamanay may survive.” مقتدرہ قومی زبان کی پانچ کلو وزنی لغت میں crackpot کے معنی خبطی، سنکی، نیم باؤلا، پاگل درج ہیں۔ یہاں یہ بات تعجب خیز ہے کہ تارڑ صاحب اپنے کام کو کسی ‘کریک پوٹ‘ ہی سے کیوں دریافت کروانا چاہتے ہیں۔ وطن عزیز میں آج بھی ایسے افراد کی کمی نہیں جو مذکورہ لفظ کی تعریف پر پورا اترتے ہیں لیکن روز بروز بڑھتے معاشی و معاشرتی مسائل کے پیش نظر اس بات کا قومی امکان ہے کہ پچاس برس کے بعد ایسے افراد کی
تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہوگا لہذا اگلے پچاس برس بعد بھی یہ کام کئی ایسے لوگ بخوشی کرنے پر تیار ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پچاس برس ب ہمارے ممدوح کو دریافت کرنے والے نے ان کے ناولز پڑھ رکھے ہوں، اس صورت میں یہ تلاش بیحد سہل ہوجائے گی۔ تارڑ صاحب کے انٹرویو میں ایک جگہ یہ عقدہ کھلا ہے کہ ان کو لکھتے ہوئے 45 برس کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اب تک ہم نے تارڑ صاحب کے بارے میں اپنی ذاتی رائے کیوں محفوظ رکھی ہے سو اس بارے عرض ہے کہ ہم ان کے بڑے مداح ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہاں ہمیں ایک واقعہ یاد آرہا ہے
جسے درج کرنے میں ہمیں کوئی قباحت نظر نہیں آتی ایک بار کا ذکر ہے کہ انگریزی کے مشہور مصنف ایڈگر ویلس نے اپنے مداحوں کے ایک مجمع میں بڑے خلوص سے کہا۔ " پچاس ناول لکھنے کے بعد ہی مجھے ناول لکھنے کا سلیقہ ہوا ہے۔ چھوٹتے ہی ایک صاحبزادی نے فرمایا " کاش ایسا نہ ہوا ہوتا! اب تو آپ بور کرنے لگے ہیں۔ شروع شروع کی کتابوں کا کیا کہنا۔ کاش آپ ماضی میں چھلانگ لگا سکیں۔"
Ayaz Al-Shaikh <ayazfr...@gmail.com> Feb 21 01:04PM +0530
پیر ویلینٹائن(علیہ ماعلیہ) کا عُرس سراپا قُدس ابو نثر -منگل 14 فروری کو دُنیا بھر کی طرح ہمارے یہاں بھی پیر ویلینٹائن علیہ ماعلیہ کا عرس سراپاقدس بڑی دھوم دھام سے منایا گیا۔ سچ پوچھیے تو ہمارے ہی یہاں سب سے زیادہ دھوم دھام سے منایا گیا۔ لہٰذا ہم اس کالم کے ذریعے سے اپنے یہاں اِس عرس شریف کے دُنیا بھر سے زیادہ کامیاب انعقاد پر اپنی پوری قوم کو تہِ دل سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ ایں کار از تو آئد و مرداں چنیں کنند.... بلکہ....زناں بھی چناں کنند۔ ہم نے عرس
منانے میں دُنیا بھر پر سبقت لے جانے کی جو بات کی ہے تو یہ بات کسی خوش فہمی یا محض اپنی خوش عقیدگی کے سبب نہیں کی ہے۔ یہ اہم اطلاع ہمیں ہمارے بہت سینئر صحافی جناب آصف جیلانی نے لندن سے دی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ برطانیہ میں بھی یہ عرس اتنے تزک و احتشام سے نہیں منایا گیا جتنا پاکستان کے ٹی وی چینلوں پر دکھایا گیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہمارے یہاں یہ عرس جتنی وارفتگی اور جس جوش وخروش سے منایا گیا، ”ویلینٹائن ڈے“ کے پروگراموں میں موسیقاروں اور فنکاروں کو بلابلا کر جو جو کچھ کیا گیا اُس کی جھلک تک برطانیہ میں دکھائی نہ دی۔ وہاں اگر کسی
نے یہ عرس منایا بھی ہوگا تو نجی طور پر ہی منایا ہوگا۔ شاید ہوٹلوں میں۔ شاید ریستورانوں میں۔ (”گھر“ تو وہاں رہا ہی نہیں۔) آصف جیلانی صاحب کو اوپر ہم نے ”بہت سینئر صحافی“ لکھا ہے تو یہ اپنی ذاتی معلومات کی بنیاد پر لکھا ہے۔ ہمیں خوب اچھی طرح یاد ہے کہ 1965ءکی جنگ کے دوران میں جب وہ دہلی میں تعینات تھے تو اُن کو بھارتی حکومت نے ”پاکستانی صحافی“ ہونے کے جرم میں گرفتار کرلیا تھا۔ جس اخبار سے اُس وقت وہ وابستہ تھے اُس اخبار میں اُس دل کش و رعنا غزالِ تاتاری یعنی جوانِ رعنا آصف جیلانی کی تصویر روزانہ چھپتی تھی۔ ہم اُس وقت پانچویں
جماعت میں داخل ہوئے تھی، حافظہ تیز تھا، اُس وقت ہمارے حافظے میں اُن کی جو تصویر محفوظ ہوئی وہ آج تک محفوظ ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ 1965ءسے صحافت کرتے تو اُنھیں ہم خود دیکھ رہے ہیں۔ اُن کے ”بہت سینئر صحافی“ ہونے میں بھلا کیا شک ہی؟ اب دیکھیے اتنے سینئر صحافی کو بھی ”صدمہ“ ہے کہ انگریزوں نے پیر ویلینٹائن علیہ ماعلیہ کا عرس اُس شان سے نہ منایا جس شان وشوکت سے اہلِ پاکستان نے منایا۔ تفو بر تو اے چرخِ انگلینڈ تفو۔ ............٭٭٭............ باعثِ تحریر آں کہ ہفتہ 16فروری کے روزنامہ ”نئی بات“ میں کالم لکھتے ہوئے ہمارے بہت سینئر اور بہت
محترم کالم نگار جناب ظفر اقبال نے ”ویلینٹائن ڈے“ کو (نعوذباﷲ) ”لعنت“ اور اِس کے منانے کو (استغفراﷲ) ”نیا فساد“ قرار دے ڈالا ہے۔ حالاں کہ کلیہ رئیسانی کی رُو سی: ”فساد، فساد ہوتا ہی، خواہ پرانا ہو یا نیا“۔ ہم اپنی.... ذہناً جدید اورعُمراً قدیم.... منفرد غزل گو شاعر جناب ظفر اقبال کا بہت احترام کرتے ہیں مگر کیا کریں کہ اب وہ (اپنی) عمر کے اُس مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں جہاں پہنچ کر بقولِ حفیظ جالندھری مرحوم: ہر بُری بات، بُری بات نظر آتی ہی لہٰذا اُنھوں نے درانتی لے کر اس ”فساد“ کی ”گہری جڑیں“ کاٹنے کی کوشش بھی کی ہے اور اِسی
کوشش میں نہ صرف ”انسان کی کیمسٹری تبدیل کرنے“ کی سفارش کی ہی، بلکہ ”محبت“ کرنے پر ”قید وغیرہ کے علاوہ کوڑوں کی سزا“ بھی تجویز فرمائی ہے۔آپ نے گلاب کے پھول، غزلوں اور غباروں کو ”فساد کی اصل جڑ“ بھی ٹھیرایا ہے۔ اِس ”اصل جڑ“کی جڑیں کہاںکہاں پیوست ہیں؟ یہ نہیں بتایا، کسی کو اتنی گہرائی میں اُترنے کی تلقین بھی نہیں کی، مبادا اتنی گہرائی میں اُترکر کہیں وہ وہیں جڑوں میں ہی نہ بیٹھا رہ جائے۔ گلاب اُگانے پر قدغن لگانی، ”ویلینٹائن ڈے“ کارڈ پر پابندی لگانی، نیز غزلیں گانے والیوں اور” ویلینٹائن ڈے کارڈ“ لے کر ”مکروڈ
الیہ“ یا ”الیہا“ تک پہنچانے والوں کو حوالہ پولیس کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ ............٭٭٭............ اب ہم کیا عرض کریں؟ اگلے وقتوں کے ایک اور شاعر مرزا اسد اﷲ خان غالب کا ایک حکم ہمیں موصول ہوا ہے کہ: اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انھیں کچھ نہ کہو سو ہم انھیں کچھ نہیں کہتے۔ فقط پیر ویلینٹائن علیہ ما علیہ کے فضائل، مناقب اورکرامتیں ہی بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ تو اے بزرگو! جب تک ہمارے سماج کا نطق پیر ویلینٹائن علیہ ما علیہ کے نام سے رُوشناس نہ تھا.... عشاق کی.... تنِ حروف پہ مفہوم کا لباس نہ تھا.... اور تب تک ہماری
”شاعری بہت کچھ چھپاتی تھی“۔ محبوب کے آگے کچھ نہ کہہ پاتی تھی۔ عُشّاقِ عُظّام بس فارغ بیٹھے محبوب کے بجائے اپنا ہی کفِ افسوس ملتے رہتے تھے کہ....”دِل میں کتنے مسودے تھے ولی.... ایک پیش اُس کے رُوبرو نہ گیا“....القصہ مختصر: وہی اپنی فطرت پہ طبعِ بشر تھی خدا کی زمیں بِن جُتی سر بسر تھی وہ تو کہیے کہ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ پیر ویلینٹائن علیہ ما علیہ آگئے۔ آکر وہ اپنے دستِ مبارک سے نہ جانے کتنے ہل چلوا گئے۔اور کتنی بِن جُتی زمینیں جُتوا گئے۔ جب تک ہمارے لوگوں نے پیر ویلینٹائن علیہ ما علیہ کا نام نہیں سُنا تھا تب تک ٹٹروں ٹوں محض
وارث شاہؒ اور بلھے شاہؒ وغیرھم کے عرس منایا کرتے تھے۔ خواجہ فریدؒ کی کافیاں گایا کرتے تھے کہ: ”ترے لمے لمے بال فریدا ٹُریا ٹُریا جا“۔ بنیاد پرستی و رجعت پسندی کی حد دیکھیے کہ اِنھی”غیر ماڈرن“ پیروں فقیروں پر فخر بھی فرمایا کرتے تھے۔ احسان دانش مرحوم ”دیہات کی صبح“ کا منظرکھینچتے ہوئے اپنی دانش کے مطابق بس اتنے ہی کو نہایت پُرکیف عاشقانہ اور رومانی منظر سمجھ کر خوش ہولیا کرتے تھے کہ: وہ جنھیں کچھ ہیر کا قصہ زبانی یاد ہی اُن کی پُر تاثیر تانوں سے فضا آباد ہی ہمارے محبوب شاعر محترم ناصر زیدی کے نام اُن کے محبوب کی طرف
سے اگر....”کبھی بسے ہوئے خوشبو میں نامے آتے تھے“.... تو وہ بچارے بھی (محبوب کی ٹی شرٹ پر لگے ہوئے پرفیوم یا بازار سے خرید کر اُس کے دیے ہوئے گلاب کے بجائی) اُسی کو سونگھ کر خوش ہوجایا کرتے تھے۔ پیر ویلینٹائن علیہ ما علیہ کی دکھائی ہوئی راہِ عشق کے مقابلے میں ہمارے صوفیوں کا عشق بڑا فرسودہ تھا۔ ”صوفی مومن و اشتراکی مسلم“ حضرت مولانا حسرت موہانی اپنے مریدوں کو ”باصفا“ رہنے کی تلقین یوں کیاکرتے تھی: شیوہ عشق نہیں حسن کو رُسوا کرنا دیکھنا بھی تو اُنھیں دُور سے دیکھا کرنا ”ویلینٹائن کارڈ“ کاتو دوردور تک تصور بھی نہ تھا، پس
اگر محبوب کا خط بھی مل جاتا تھا تواُس سے کسی پارک میں جاکر مل لینے کے بجائے بس یہ جواب بھجوا کررہ جایاکرتے تھے کہ: پڑھ کے تیرا خط مرے دِل کی عجب حالت ہوئی اضطرابِ شوق نے اِک حشر برپا کردیا پھر سب سے بڑا فرق یہ پیش آیا کہ پیر ویلینٹائن علیہ ما علیہ کے تشریف لانے سے قبل ہماری ساری عشق و عاشقی محبوب کو ”قیدِ شریعت“ میں لانے تک طویل ہوا کرتی تھی۔ اورآپ تو جانتے ہی ہیں کہ: عاشقی قیدِ شریعت میں جب آجاتی ہی جلوہ کثرتِ اولاد دکھا جاتی ہی جب کہ پیر ویلینٹائن علیہ ما علیہ کے آنے کے بعد سے عاشقی محبوب کو ”سیتاوھائٹ“ بناجاتی ہے۔ اس سے
قبل عشاقِ کرام اگر کسی روشن خیال، وسیع المشرب، لبرل اور پروگریسو شاعر کی دُختر سے بھی عشق فرماتے تھے تو اُنھیں اُس سے عقدِ اوّل، ثانی، ثالث یا رابع کرکے تمام عمر محبوب کے نان و نفقہ اور اپنے کیے کرائے کا بوجھ اُٹھانا پڑتا تھا۔پیر ویلینٹائن علیہ ما علیہ کے آنے کے بعد سے یہ سہولت حاصل ہوگئی ہے کہ بیٹی اگر کسی شاعرکی بھی ہو توآپ اُسے ”گراں بارِ محبت“ کرکے روپوش ہوجائیے۔باقی معاملات عاصمہ جہانگیر سنبھال لیں گی۔ -- *-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=-=- * *Pls Visit blog for Selected Articles both in Urdu &
English* *http://ayazmedia.blogspot.com Imam Ghazali Research Foundation** (IGRF) Research Papers Articles, Abstracts on Religion, Philosophy & Science ** http://igrfoundation.blogspot.com Vidoes at: http://www.youtube.com/igrfoundation<http://www.youtube.com/user/IGRFOUNDATION?blend=13&ob=video-mustangbase> *
Syed Qamar Hasan <qamarh...@hotmail.com> Feb 21 10:30AM +0400
Dear Members. I am looking for unpublished(Ghair Tabaa') NAZM by Josh Malihabadi. I would be grateful if any one of the thousands of members of Bazme Qalam can help me. I do not remember the full Nazm, The NAZM goes like " ALLAMA KHANKHA KI DUNYA MAASIAT GUNAH KI DUNYA YAHAN ZAR O MAL DENEY AATEY HEIN LOOG AULAAD LENEY AATEY HEIN DHOOL KI GAT PE RUKHS HOTA NAGHMA CHANDI MEIN HAAT DHOTA HAY. Thanks. Qamar Hasan
Hashmat Ali <sh_a...@yahoo.com> Feb 20 06:15AM -0800
جامی صاحب وعلیکم السلام آپکی تحریریں اتنی خوبصورت ہوتی ہیں کہ معلوم ہوتا ہے نامہ بر خود رکھ لیتا ہے میں نے آپ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ کرن کرن تبسم اردو فیسٹیول میں جگہ پا سکی یا نہیں اور خیریت بھی دریافت کی تھی حشمت ________________________________ From: syed maeraj jami <maer...@yahoo.co.uk> To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com> Sent: Sunday, February 19, 2012 9:41 PM Subject: Re: {9561} کراچی لٹریچر فیسٹیول 2012 اور اس میں منعقدہ ابن صفی پر مذاکرے کا احوال
حشمت صاحب آپ کی ہر میل
کا جواب تو میں آپ کو دیتا رہا ہوں کیا میرا جواب راستے میں نامہ بر کسی اورکو تو دے نہیں دیتا جامی ________________________________ From: Hashmat Ali <sh_a...@yahoo.com> To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com> Sent: Sunday, 19 February 2012, 22:55 Subject: Re: {9553} کراچی لٹریچر فیسٹیول 2012 اور اس میں منعقدہ ابن صفی پر مذاکرے کا احوال
جناب راشد اشرف صاحب سلام مسنون امید ہے بخیر ہونگے کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ابن صفی پر مزاکرے کی روداد پڑھی بھائی حسب سابق آپنے بڑی عمدگی سے تصویر کشی کی ہے ہم لوگ یہاں شکاگو میں ایک بار ابن صفی مرحوم پر ایک پروگرام کر
چکے ہیں جس میں میرے دوست اور پڑوسی ابرار صفی صاحب بھی شریک تھے اب دوبارہ ویسا ہی پروگرام کرنے کا ارادہ ہے جس میں آپ کا یہ مضمون بطور خاص پیش کیا جائے گا بھائی معراج جامی صاحب کہاں ہیں میں نے انکو کئی ای میل بھیجیں مگر جواب سے محروم رہا اگر آپ سے بات ہو تو میرا سلام بھی کہہ دیجئے گا بہت بہت شکریہ حشمت سہیل شکاگو ________________________________ From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com> Cc: arif.waqar <arif....@gmail.com> Sent: Sunday, February 19, 2012 2:28 AM Subject: {9544} کراچی لٹریچر فیسٹیول 2012 اور اس میں منعقدہ ابن صفی پر
مذاکرے کا احوال
خیر اندیش راشد اشرف کراچی سے کراچی لٹریچر فیسٹیول ہفتہ اور اتوار 2012 کے روز اپنی تمام تر رونقیں بکھیرنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ جمعے کی رات ڈاکٹر آصف فرخی کی دعوت پر فیسٹیول کے شرکاء کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے میں بھی شریک ہونے کا موقع ملا۔ مشاہیر ادب کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور فلم سے وابستہ کئی چہرے بھی نظر آئے جن میں زیبا بختیار، راحت کاظمی اور ساحرہ کاظمی شامل تھے۔ دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر خالد جاوید سے ملاقات کروا کر ڈاکٹر آصف فرخی نے ہم پر گویا ایک احسان کیا، دو گھنٹے
خالد صاحب اور میں، اپنے پسندیدہ موضوع یعنی ابن صفی پر بات کرتے رہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ،برٹش کونسل اور ڈاکٹر آصف فرخی کی کوششوں سے اس رنگا رنگ میلے کا انعقاد گزشتہ تین برس سے جاری ہے۔ اس مرتبہ کل 136 مہمانوں کو دنیا بھر سے مدعو کیا گیا تھا۔ دو روز تک جاری رہنے والے اس فیسٹیول میں مذاکرے، مباحثے، کتابوں کی نمائش و رونمائی، موسیقی کا اہتمام کیا گیا جبکہ پہلے روز شام کے وقت مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔ ادبی میلے میں برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی، انڈیا اور پاکستان سے ادیب، دانشور اور شعراء نے شرکت کی۔ کتابوں
پرگفتگو ہوئی، لکھنے اور پڑھنے والوں کے درمیان ربط بھی پیدا ہوا۔ میلے کے دوران ادبی و عصر حاضر کے موضوعات پر تھیٹر بھی پیش کیا گیا۔ عشائیے کے دوران برطانیہ سے آئی بے نظیر بھٹو کی ہم جماعت وکٹوریہ شوفیلڈ کو اخباری نمائندوں نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا اور وہ کہہ رہی تھیں کہ اس ادبی میلے میں شرکت اور مقامی لوگوں سے مل کر پاکستان اور یہاں کے باشندوں کے متعلق وہ منفی تاثر ختم ہوگیا جو عالمی سطح پر موجود ہے۔ میرے نزدیک یہ صرف روایتی پروپیگنڈا ہے۔ پاکستانی کھلے ذہن کے مالک اور فراخ دل ہیں۔ مطالعہ کے شوقین ہیں،
ملنسار اور خوش اخلاق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ پھر انہیں یہاں آنے کی دعوت دی گئی تو وہ پاکستان آنے سے بالکل نہیں ہچکچائیں گی آرٹس کونسل کے سربراہ احمد شاہ نے یہ عندیہ دیا کہ آئندہ برس کراچی لٹریچر فیسٹیول کے انعقاد میں آرٹس کونسل کا تعاون بھی شامل ہوگا۔ فیسٹیول میں اس مرتبہ انگریزی لکھنے والے ادیبوں میں وکرم سیٹھ، شوبھا ڈے، بینا شاہ، اناتول لیوین، ایم ایچ نقوی، عائشہ جلال، منیزہ نقوی، احمد رشید، کاملہ شمسی، محسن حامد وغیرہ نے شرکت کی۔جب کہ اردو کے ادیبوں میں انتظار حسین، عارفہ سیدہ زہرہ،
عطیہ داؤد, زہرہ نگاہ، کشور ناہید، زاہدہ حنا، فہمیدہ ریاض، افتخار عارف، فاطمہ حسن، پروفیسر سحر انصاری و دیگر شامل تھے۔ ادبی میلے کے پہلے روز شام پانچ بجے جناب ابن صفی پر ایک مذاکرہ منعقد کیا گیا ۔ ابن صفی برصغیر پاک و ہند کے سری ادب کے سب سے بڑے جاسوسی ناول نگار تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ نقادوں اور ادب کے علمبرداروں نے انہیں ’ادب عالیہ ‘ میں کبھی شمار نہیں کیا لیکن اب یہ برف پگھل رہی ہے اور ادب میں ان کو ان کا جائز مقام دینے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ اس ضمن میں ابن صفی اپنے ایک مضمون میں کہتے ہیں: مجھے اس
وقت بڑی ہنسی آتی ہے جب آرٹ اور ثقافت کے علمبردار مجھ سے کہتے ہیں کہ میں ادب کی بھی کچھ خدمت کروں۔ان کی دانست میں شاید میں جھک مار رہا ہوں۔ حیات و کائنات کا کون سا ایسا مسئلہ ہے جسے میں نے اپنی کسی نہ کسی کتاب میں نہ چھیڑا ہو۔ لیکن میرا طریقِ کار ہمیشہ عام روش سے الگ تھلگ رہا ہے۔ میں بہت زیادہ اونچی باتوں اور ایک ہزار کے ایڈیشن تک محدود رہ جانے کا قائل نہیں ہوں۔ میرے احباب کا اعلیٰ و ارفع ادب کتنے ہاتھوں تک پہنچتا ہے اور انفرادی یا اجتماعی زندگی میں کس قسم کا انقلاب لاتا ہے۔افسانوی ادب خواہ کسی پائے کا ہو محض ذہنی فرار کا
ذریعہ ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی معیار کی تفریح فراہم کرنا ہی اس کا مقصد ہوتا ہے۔ جس طرح فٹ بال کا کھلاڑی شطرنج سے نہیں بہل سکتا۔ اسی طرح ہماری سوسائٹی کے ایک بہتبرے حصّے کے لئے اعلیٰ ترین افسانوی ادب قطعی بے معنی ہے۔ تو پھر میں گنے چنے ڈرائنگ روموں کے لئے کیوں لکھوں؟ میں اسی انداز میں کیوں نہ لکھوں جسے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ شاید اسی بہانے عوام تک کچھ اونچی باتیں بھی پہنچ جائیں۔بہت ہی بھیانک قسم کے ذہنی ادوار سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہوں۔ ورنہ میں نے بھی آفاقیت کے گیت گائے ہیں۔ عالمی بھائی چارے کی باتیں کی ہیں۔ لیکن 1947میں جو
کچھ ہوا اُس نے میری پوری شخصیت کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ سڑکوں پر خون بہہ رہا تھا اور عالمی بھائی چارے کی باتیں کرنے والے سوکھے سہمے اپنی پناہ گاہوں میں دبکے ہوئے تھے۔ ہنگامہ فرو ہوتے ہی پھر پناہ گاہوں سے باہر آ گئے اور چیخنا شروع کر دیا۔ ’’یہ نہ ہونا چاہیئے تھا۔ یہ بہت برا ہوا۔‘‘ لیکن ہوا کیوں؟ تم تو بہت پہلے سے یہی چیختے رہے تھے۔ تمہارے گیت دیوانگی کے اِس طوفان کو کیوں نہ روک سکے۔ میں سوچتا... سوچتا رہا۔ آخرکار اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی میں جب تک قانون کے احترام کا سلیقہ نہیں پیدا ہو گا یہی سب کچھ ہوتا رہے گا۔ یہ
میرا مشن ہے کہ آدمی قانون کا احترام سیکھے۔ اور جاسوسی ناول کی راہ میں نے اِسی لئے منتخب کی تھی۔ تھکے ہارے ذہنوں کے لئے تفریح بھی مہیا کرتا ہوں اور انہیں قانون کا احترام کرنا بھی سکھاتا ہوں۔ فریدی میرا آئیڈیل ہے جو خود بھی قانون کا احترام کرتا ہے۔ اور دوسروں سے قانون کا احترام کرانے کے لئے اپنی زندگی تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔ مذاکرے کے شرکاء میں جامعہ ملیہ دہلی کے ڈاکٹر خالد جاوید، فرزند ابن صفی جناب احمد صفی، جناب شکیل عادل زادہ اور ڈاکٹر شیر شاہ سید شامل تھے جبکہ صدارت کے فرائض ادیب و مترجم بلال تنویر نے
سرانجام دیے۔ جناب احمد صفی نے حاضرین کو بتایا کہ’’جاسوسی ادب کو ہمیشہ ہی سے پلپ فکشن Pulp fiction کے زمرے میں ہی شمار کیا جاتا رہا ہے، محقق و ادیب خرم علی شفیق نے اسے جمہوری ادب کا نا م دیا ہے یعنی وہ ادب جس کے پڑھنے والوں معاشرے کا ہر طبقہ شامل رہا ہے۔ ایک پان والے سے لے کر ڈاکٹر ابو الخیر کشفی بھی ابن صفی کے پڑھنے والوں میں شامل رہے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ابن صفی کا عام فہم و دلنشیں اسلوب تھا۔ جب ابو (ابن صفی) گھر سے نکلتے تھے تو نکڑ پر بیٹھا پان والا بھی ان سے ان کے نئے آنے والے ناول کے بارے میں سوال کرتا
تھا۔ ابن صفی کے پڑھنے والوں میں ڈاکٹر، انجینئر ، ادبی شخصیات غرضیکہ ہر طبقہ ہائے زندگی کے لوگ شامل تھے۔ ‘‘ایک سوال ہمیشہ سے ذہن میں اٹھتا ہے کہ پلپ فکشن یا مقبول عوامی ادب تو معاشرے کے ایک خاص طبقے ہی میں پڑھا جاتا ہے اور اسی میں ختم ہو جاتا ہے۔ اہل علم و فراست اس پر توجہ نہیں دیتے تو پھر کیا ابن صفی کے ادب کو پلپ فکشن کہا جا سکتا ہے؟ ان کے پڑھنے والوں میںرکشہ ٹیکسی والے سے لے کر علماء، ادیب، دانشور اور شعراء سب ہی شامل ہیں۔ جب ابو (ابن صفی) گھر سے نکلتے تھے تو نکڑ پر بیٹھا پان والا بھی ان سے ان کے نئے آنے والے ناول کے بارے
میں سوال کرتا تھا۔ ان کے پڑھنے والوں کا اسپیکٹرم بہت وسیع ہے۔ تو ایسے ادب کو کوئی اور نام دینا پڑے گا۔ ممتاز محقق خرم علی شفیق ایسے ادب کو جسے معاشرے کے ہر طبقے میں پذیرائی حاصل ہو جمہوری ادب قرار دیتے ہیں اور ابن صفی کو سر سید، مولانا محمد علی جوہر اور علامہ اقبال کے سلسلے کی کڑی قرار دیتے ہیں۔ فزیشن و سرجن ڈاکٹر شیر شاہ سید ایک جانے پہچانے افسانہ نگار بھی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ ’ پاکستان نیشنل فورم آن وومین ہیلتھ‘ کے صدر کے عہدے پر بھی فائز ہیں .ڈاکٹر شیر شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: ’’ میں
2005 کے زلزلے کے بعد رفاہ عامہ کے کام کے لیے شمالی علاقاجات میں گیا تھا۔ مانسہرہ میں ہمارا پڑاؤ تھا۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب، ہم آپ کوقریب واقع ایک چھوٹے سے شہربفہ میں لے چلتے ہیں، یہ شہر ترکوں کا آباد کیا ہوا ہے اور مانسہرہ سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ شہر میں داخل ہوتے وقت میری نظر ایک بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا کہ یہاں ابن صفی کے ناول کرایے پر ملتے ہیں، یہ سٹی ہال کی لائبریر ی کی جانب سے آویزاں کیا گیا تھا جہاں ابن صفی کے ناول کثیر تعداد میں دستیاب تھے۔ ہم جب تک وہاں رہے، فرصت کے اوقات میں لائبریری سے ناول
لے کر پڑھتے رہے۔ مجھ سے بڑے دو بھائی تھے جو ابن صفی کے ناول چھپ چھپ کر پڑھا کرتے تھے اس لیے کہ والدہ صاحب کی طرف سے ناول پڑھنے پر پابندی تھی۔ یہ پابندی اس وقت ختم ہوگئی جب ہماری والدہ نے خود ایک مرتبہ ابن صفی کا ناول پڑھا اور ہمیں انہیں پڑھنے کی بخوشی اجازت دے دی۔ میں نے ناظم شہر کراچی سے کئی مرتبہ کہا کہ (کسی سڑک یا فلائی اوور کا نام ضرور ابن صفی کے نام پر رکھا جانا چاہیے۔) آپ اتنے بڑے بڑے فلائی اوور اور پُل بنا رہے ہیں کچھ پیسہ اس شہر میں لائیبریریاں بنانے پر خرچ کریں۔ لائیبریریاں بنائیے اور اس میں ابن صفی کی کتابیں بھر
دیجیئے۔ مگر انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا کیونکہ پُل بنانا بہت آسان ہے، لائبریری بنانا بہت مشکل۔ میں جب کبھی بھی کسی دورے پر جاتا ہوں، ابن صفی کے ناولز ضرور میرے
syed maeraj jami <maer...@yahoo.co.uk> Feb 20 05:54PM
صاحب وہاں پہلے سے اتنی کرنین تھیں کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا بقول ہماری ایک ساتھی شاہینہ فلک صدیقی کہ قیامت ہے کہ دور آگہی میں نظر آتا نہیں کچھ روشنی میں ان شا اللہ کسی اور اچھے موقع پر تبسم کا کرن پھیلانے کی کوشش کروں گا جامی ________________________________ From: Hashmat Ali <sh_a...@yahoo.com> To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com> Sent: Monday, 20 February 2012, 19:15 Subject: Re: {9588} کراچی لٹریچر فیسٹیول 2012 اور اس میں منعقدہ ابن صفی پر مذاکرے کا احوال
جامی
صاحب وعلیکم السلام آپکی تحریریں اتنی خوبصورت ہوتی ہیں کہ معلوم ہوتا ہے نامہ بر خود رکھ لیتا ہے میں نے آپ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ کرن کرن تبسم اردو فیسٹیول میں جگہ پا سکی یا نہیں اور خیریت بھی دریافت کی تھی حشمت ________________________________ From: syed maeraj jami <maer...@yahoo.co.uk> To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com> Sent: Sunday, February 19, 2012 9:41 PM Subject: Re: {9561} کراچی لٹریچر فیسٹیول 2012 اور اس میں منعقدہ ابن صفی پر مذاکرے کا احوال
حشمت صاحب آپ کی ہر میل کا جواب تو میں آپ کو دیتا رہا ہوں کیا میرا جواب راستے میں نامہ بر کسی اورکو
تو دے نہیں دیتا جامی ________________________________ From: Hashmat Ali <sh_a...@yahoo.com> To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com> Sent: Sunday, 19 February 2012, 22:55 Subject: Re: {9553} کراچی لٹریچر فیسٹیول 2012 اور اس میں منعقدہ ابن صفی پر مذاکرے کا احوال
جناب راشد اشرف صاحب سلام مسنون امید ہے بخیر ہونگے کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ابن صفی پر مزاکرے کی روداد پڑھی بھائی حسب سابق آپنے بڑی عمدگی سے تصویر کشی کی ہے ہم لوگ یہاں شکاگو میں ایک بار ابن صفی مرحوم پر ایک پروگرام کر چکے ہیں جس میں میرے دوست اور پڑوسی ابرار صفی صاحب بھی شریک تھے اب دوبارہ
ویسا ہی پروگرام کرنے کا ارادہ ہے جس میں آپ کا یہ مضمون بطور خاص پیش کیا جائے گا بھائی معراج جامی صاحب کہاں ہیں میں نے انکو کئی ای میل بھیجیں مگر جواب سے محروم رہا اگر آپ سے بات ہو تو میرا سلام بھی کہہ دیجئے گا بہت بہت شکریہ حشمت سہیل شکاگو ________________________________ From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com> Cc: arif.waqar <arif....@gmail.com> Sent: Sunday, February 19, 2012 2:28 AM Subject: {9544} کراچی لٹریچر فیسٹیول 2012 اور اس میں منعقدہ ابن صفی پر مذاکرے کا احوال
خیر اندیش راشد اشرف کراچی سے
کراچی لٹریچر فیسٹیول ہفتہ اور اتوار 2012 کے روز اپنی تمام تر رونقیں بکھیرنے کے بعد اختتام پذیر ہوا۔ جمعے کی رات ڈاکٹر آصف فرخی کی دعوت پر فیسٹیول کے شرکاء کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے میں بھی شریک ہونے کا موقع ملا۔ مشاہیر ادب کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور فلم سے وابستہ کئی چہرے بھی نظر آئے جن میں زیبا بختیار، راحت کاظمی اور ساحرہ کاظمی شامل تھے۔ دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر خالد جاوید سے ملاقات کروا کر ڈاکٹر آصف فرخی نے ہم پر گویا ایک احسان کیا، دو گھنٹے خالد صاحب اور میں، اپنے پسندیدہ موضوع یعنی ابن صفی پر بات
کرتے رہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ،برٹش کونسل اور ڈاکٹر آصف فرخی کی کوششوں سے اس رنگا رنگ میلے کا انعقاد گزشتہ تین برس سے جاری ہے۔ اس مرتبہ کل 136 مہمانوں کو دنیا بھر سے مدعو کیا گیا تھا۔ دو روز تک جاری رہنے والے اس فیسٹیول میں مذاکرے، مباحثے، کتابوں کی نمائش و رونمائی، موسیقی کا اہتمام کیا گیا جبکہ پہلے روز شام کے وقت مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔ ادبی میلے میں برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی، انڈیا اور پاکستان سے ادیب، دانشور اور شعراء نے شرکت کی۔ کتابوں پرگفتگو ہوئی، لکھنے اور پڑھنے والوں کے درمیان ربط بھی پیدا
ہوا۔ میلے کے دوران ادبی و عصر حاضر کے موضوعات پر تھیٹر بھی پیش کیا گیا۔ عشائیے کے دوران برطانیہ سے آئی بے نظیر بھٹو کی ہم جماعت وکٹوریہ شوفیلڈ کو اخباری نمائندوں نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا اور وہ کہہ رہی تھیں کہ اس ادبی میلے میں شرکت اور مقامی لوگوں سے مل کر پاکستان اور یہاں کے باشندوں کے متعلق وہ منفی تاثر ختم ہوگیا جو عالمی سطح پر موجود ہے۔ میرے نزدیک یہ صرف روایتی پروپیگنڈا ہے۔ پاکستانی کھلے ذہن کے مالک اور فراخ دل ہیں۔ مطالعہ کے شوقین ہیں، ملنسار اور خوش اخلاق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ پھر انہیں
یہاں آنے کی دعوت دی گئی تو وہ پاکستان آنے سے بالکل نہیں ہچکچائیں گی آرٹس کونسل کے سربراہ احمد شاہ نے یہ عندیہ دیا کہ آئندہ برس کراچی لٹریچر فیسٹیول کے انعقاد میں آرٹس کونسل کا تعاون بھی شامل ہوگا۔ فیسٹیول میں اس مرتبہ انگریزی لکھنے والے ادیبوں میں وکرم سیٹھ، شوبھا ڈے، بینا شاہ، اناتول لیوین، ایم ایچ نقوی، عائشہ جلال، منیزہ نقوی، احمد رشید، کاملہ شمسی، محسن حامد وغیرہ نے شرکت کی۔جب کہ اردو کے ادیبوں میں انتظار حسین، عارفہ سیدہ زہرہ، عطیہ داؤد, زہرہ نگاہ، کشور ناہید، زاہدہ حنا، فہمیدہ ریاض، افتخار
عارف، فاطمہ حسن، پروفیسر سحر انصاری و دیگر شامل تھے۔ ادبی میلے کے پہلے روز شام پانچ بجے جناب ابن صفی پر ایک مذاکرہ منعقد کیا گیا ۔ ابن صفی برصغیر پاک و ہند کے سری ادب کے سب سے بڑے جاسوسی ناول نگار تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ نقادوں اور ادب کے علمبرداروں نے انہیں ’ادب عالیہ ‘ میں کبھی شمار نہیں کیا لیکن اب یہ برف پگھل رہی ہے اور ادب میں ان کو ان کا جائز مقام دینے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ اس ضمن میں ابن صفی اپنے ایک مضمون میں کہتے ہیں: مجھے اس وقت بڑی ہنسی آتی ہے جب آرٹ اور ثقافت کے علمبردار مجھ سے کہتے ہیں کہ
میں ادب کی بھی کچھ خدمت کروں۔ان کی دانست میں شاید میں جھک مار رہا ہوں۔ حیات و کائنات کا کون سا ایسا مسئلہ ہے جسے میں نے اپنی کسی نہ کسی کتاب میں نہ چھیڑا ہو۔ لیکن میرا طریقِ کار ہمیشہ عام روش سے الگ تھلگ رہا ہے۔ میں بہت زیادہ اونچی باتوں اور ایک ہزار کے ایڈیشن تک محدود رہ جانے کا قائل نہیں ہوں۔ میرے احباب کا اعلیٰ و ارفع ادب کتنے ہاتھوں تک پہنچتا ہے اور انفرادی یا اجتماعی زندگی میں کس قسم کا انقلاب لاتا ہے۔افسانوی ادب خواہ کسی پائے کا ہو محض ذہنی فرار کا ذریعہ ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی معیار کی تفریح فراہم کرنا ہی اس کا مقصد ہوتا
ہے۔ جس طرح فٹ بال کا کھلاڑی شطرنج سے نہیں بہل سکتا۔ اسی طرح ہماری سوسائٹی کے ایک بہتبرے حصّے کے لئے اعلیٰ ترین افسانوی ادب قطعی بے معنی ہے۔ تو پھر میں گنے چنے ڈرائنگ روموں کے لئے کیوں لکھوں؟ میں اسی انداز میں کیوں نہ لکھوں جسے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ شاید اسی بہانے عوام تک کچھ اونچی باتیں بھی پہنچ جائیں۔بہت ہی بھیانک قسم کے ذہنی ادوار سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہوں۔ ورنہ میں نے بھی آفاقیت کے گیت گائے ہیں۔ عالمی بھائی چارے کی باتیں کی ہیں۔ لیکن 1947میں جو کچھ ہوا اُس نے میری پوری شخصیت کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ سڑکوں پر خون
بہہ رہا تھا اور عالمی بھائی چارے کی باتیں کرنے والے سوکھے سہمے اپنی پناہ گاہوں میں دبکے ہوئے تھے۔ ہنگامہ فرو ہوتے ہی پھر پناہ گاہوں سے باہر آ گئے اور چیخنا شروع کر دیا۔ ’’یہ نہ ہونا چاہیئے تھا۔ یہ بہت برا ہوا۔‘‘ لیکن ہوا کیوں؟ تم تو بہت پہلے سے یہی چیختے رہے تھے۔ تمہارے گیت دیوانگی کے اِس طوفان کو کیوں نہ روک سکے۔ میں سوچتا... سوچتا رہا۔ آخرکار اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی میں جب تک قانون کے احترام کا سلیقہ نہیں پیدا ہو گا یہی سب کچھ ہوتا رہے گا۔ یہ میرا مشن ہے کہ آدمی قانون کا احترام سیکھے۔ اور جاسوسی ناول کی راہ میں
نے اِسی لئے منتخب کی تھی۔ تھکے ہارے ذہنوں کے لئے تفریح بھی مہیا کرتا ہوں اور انہیں قانون کا احترام کرنا بھی سکھاتا ہوں۔ فریدی میرا آئیڈیل ہے جو خود بھی قانون کا احترام کرتا ہے۔ اور دوسروں سے قانون کا احترام کرانے کے لئے اپنی زندگی تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔ مذاکرے کے شرکاء میں جامعہ ملیہ دہلی کے ڈاکٹر خالد جاوید، فرزند ابن صفی جناب احمد صفی، جناب شکیل عادل زادہ اور ڈاکٹر شیر شاہ سید شامل تھے جبکہ صدارت کے فرائض ادیب و مترجم بلال تنویر نے سرانجام دیے۔ جناب احمد صفی نے حاضرین کو بتایا کہ’’جاسوسی ادب کو
ہمیشہ ہی سے پلپ فکشن Pulp fiction کے زمرے میں ہی شمار کیا جاتا رہا ہے، محقق و ادیب خرم علی شفیق نے اسے جمہوری ادب کا نا م دیا ہے یعنی وہ ادب جس کے پڑھنے والوں معاشرے کا ہر طبقہ شامل رہا ہے۔ ایک پان والے سے لے کر ڈاکٹر ابو الخیر کشفی بھی ابن صفی کے پڑھنے والوں میں شامل رہے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ابن صفی کا عام فہم و دلنشیں اسلوب تھا۔ جب ابو (ابن صفی) گھر سے نکلتے تھے تو نکڑ پر بیٹھا پان والا بھی ان سے ان کے نئے آنے والے ناول کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ ابن صفی کے پڑھنے والوں میں ڈاکٹر، انجینئر ، ادبی شخصیات غرضیکہ ہر طبقہ
ہائے زندگی کے لوگ شامل تھے۔ ‘‘ایک سوال ہمیشہ سے ذہن میں اٹھتا ہے کہ پلپ فکشن یا مقبول عوامی ادب تو معاشرے کے ایک خاص طبقے ہی میں پڑھا جاتا ہے اور اسی میں ختم ہو جاتا ہے۔ اہل علم و فراست اس پر توجہ نہیں دیتے تو پھر کیا ابن صفی کے ادب کو پلپ فکشن کہا جا سکتا ہے؟ ان کے پڑھنے والوں میںرکشہ ٹیکسی والے سے لے کر علماء، ادیب، دانشور اور شعراء سب ہی شامل ہیں۔ جب ابو (ابن صفی) گھر سے نکلتے تھے تو نکڑ پر بیٹھا پان والا بھی ان سے ان کے نئے آنے والے ناول کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ ان کے پڑھنے والوں کا اسپیکٹرم بہت وسیع ہے۔ تو ایسے ادب
کو کوئی اور نام دینا پڑے گا۔ ممتاز محقق خرم علی شفیق ایسے ادب کو جسے معاشرے کے ہر طبقے میں پذیرائی حاصل ہو جمہوری ادب قرار دیتے ہیں اور ابن صفی کو سر سید، مولانا محمد علی جوہر اور علامہ اقبال کے سلسلے کی کڑی قرار دیتے ہیں۔ فزیشن و سرجن ڈاکٹر شیر شاہ سید ایک جانے پہچانے افسانہ نگار بھی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ ’ پاکستان نیشنل فورم آن وومین ہیلتھ‘ کے صدر کے عہدے پر بھی فائز ہیں .ڈاکٹر شیر شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: ’’ میں 2005 کے زلزلے کے بعد رفاہ عامہ کے کام کے لیے شمالی علاقاجات میں گیا تھا۔
مانسہرہ میں ہمارا پڑاؤ تھا۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب، ہم آپ کوقریب واقع ایک چھوٹے سے شہربفہ میں لے چلتے ہیں، یہ شہر ترکوں کا آباد کیا ہوا ہے اور مانسہرہ سے ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ شہر میں داخل ہوتے وقت میری نظر ایک بورڈ پر پڑی جس پر لکھا تھا کہ یہاں ابن صفی کے ناول کرایے پر ملتے ہیں، یہ سٹی ہال کی لائبریر ی کی جانب سے آویزاں کیا گیا تھا جہاں ابن صفی کے ناول کثیر تعداد میں دستیاب تھے۔ ہم جب تک وہاں رہے، فرصت کے اوقات میں لائبریری سے ناول لے کر پڑھتے رہے۔ مجھ سے بڑے دو بھائی تھے جو ابن صفی کے ناول چھپ چھپ
کر پڑھا کرتے تھے اس لیے کہ والدہ صاحب کی طرف سے ناول پڑھنے پر پابندی تھی۔ یہ پابندی اس وقت ختم ہوگئی جب ہماری والدہ نے خود ایک مرتبہ ابن صفی کا ناول پڑھا اور ہمیں انہیں پڑھنے کی بخوشی اجازت دے دی۔ میں
SUBAAN GUL <suba...@hotmail.com> Feb 20 02:33PM
بے حسی
معصوم کو جینے کی سزا دیتے ہیں
بد بخت ہیں نفرت کو ہوا دیتے ہیں
لگتی ہے کھبی بھوک جو زرداروں کو
خود آپنا وطن آپ جلا دیتے ہیں
بخشالوی
MAR Saleem <salee...@gmail.com> Feb 20 03:27PM +0300
Sorry for the attachment not attached properly in earlier email. Here it is attached. Saleem M.A.R. -- Architect M.A.R. Saleem Team Leader-Projects Gulf Real Estate Company, Riyadh Tel :+966 1 4648210 ext-235 Fax :+966 1 4633359 Mob:+966 503453598
Muhammad Rafee <rafee...@yahoo.com> Feb 20 05:00PM
Assalam o Alaikum apni ek ghazal Bazm e Qalam me tabsiry k liye bhaij raha hon. Umeed he qareen tk zrur ponch jaey gi....Muhammad Rafee Azharfrom Quetta
Khadim Ali Hashmi <alikhad...@yahoo.com> Feb 20 05:58AM -0800
علامہ عبدالعزیزمیمن کے بارے میں ایک مرتبہ علامہ غلام شبیر بخاری نے بتایا کہ وہ ایک وفد کے ہمراہ مصر گئے ہوئے تھے، وہاں جامعہ الازہر کے ریکٹر نے پہلا سوال علامہ میمن کی خیریت دریافت کرنے کا کیا۔ 1975 ء میں ایڈنبرا یونیورسٹی میں انٹرنیشنل کانفرنس برائےتعلیم فزکس ہو رہی تھی، اس میں میری ملاقات علامہ مرحوم کے بیٹے عیسیٰ میمن اور ان کی والدہ سے ہوئی۔ اس وقت علامہ کا انتقال ہو چکا تھا، اس لیے اس مضمون میں علامہ کے انتقال کی
تاریخ (1398ھ1978/ئ) درست معلوم نہیں ہوتی۔ خادم علی ہاشمی ________________________________ From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com> Cc: arif.waqar <arif....@gmail.com>; Maqsood Sheikh <maqsood....@googlemail.com> Sent: Monday, February 20, 2012 2:18 PM Subject: {9576} کتابوں کا اتوار بازار، عمر میمن اور کمال رضوی سے ملاقاتیں
خیر اندیش راشد اشرف کراچی سے علی الصبح اتوار بازار کی جانب رواں دواں تھا اور ذہن میں یہی بات تھی کہ متحدہ قومی موومنٹ کے مزار قائد سے متصل خواتین کے جلسے کی وجہ سے کہیں الطاف بھائی کی گھر کے مردوں کو اس روز
کھانا پکانے کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کتب فروش بھی بازار میں آنے سے قاصر نہ ہوں۔ لیکن وہ سب کے سب وہاں موجود تھے۔ صاحبو! خواتین کا جلسہ بھی خوب تھا، صنف نازک کا وہ جم غفیر کہ بقول شخصے قاعد اعظم اس روز رات کو ایک بزرگ کے خواب میں آئے اور کہا کہ "میں نے اتنے وسیع پیمانے پر خواتین کا مجمع اپنی تمام زندگی میں نہیں دیکھا اور ہم یہ سوچ رہے تھے کہ الطاف بھائی کا جلسے کے انعقاد سے بڑھ کر کارنامہ تو یہ رہا کہ لاکھوں خواتین کو خاموش رہنے پر کس خوش اسلوبی سے آمادہ کیے رکھا۔ مجال ہے کہ کوئی عفیفہ چوں بھی کرجاتی۔
یہاں 5 خواتین کو خاموش کرانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب! کتابوں کا اتوار بازار اس مرتبہ احباب سے ملاقاتوں کی نذر ہوا، کویت سے محمد حنیف صاحب (ibnesafi.info) تشریف لائے تھے، ابتدائی ملاقات اتوار بازار ہی میں رکھی گئی، ادھر جناب اجمل کمال صاحب بھی موجود تھے اور معراج جامی صاحب تو ہمارے ساتھ ہی تھے۔ عقیل عباس جعفری صاحب گیارہ بجے کے قریب پہنچے اور فون پر ہمیں ‘شیش محل‘ کے ملنے کی نوید سنائی۔ دو عدد کتابوں کا تعارف یہ ہے: بوجھیں تو جانیں منظوم خاکے مبارک مونگریری ناشر: مونگیری میموریل
سوسائٹی، کراچی سن اشاعت: 1994 صبح کرنا شام کا خودنوشت تیسرا ایڈیشن مصنف: آفاق صدیقی اردو سندھی ادبی فاونڈیشن کراچی سن اشاعت: 1999 اتوار بازار سے رخ کیا کمال احمد رضوی صاحب کے گھر کا جن سے ملنے کے متمنی حنیف صاحب اور جامی صاحب بھی تھے، ملاقات ہوئی اور مختلف النوع موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا، ہم لوگوں نے کمال صاحب سے درخواست کی کہ وہ اپنی یاداشتیں لکھنے کا سلسلہ شروع کریں کہ لاہور میں انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔ حال ہی میں انہوں نے کراچی کے مجلے اسالیب میں انور جلال شمزا سے متعلق اپنی یادوں کو مضمون
کی شکل میں سمیٹا ہے جو خاصا دلچسپ ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر یہ امید نظر آئی ہے کہ کمال صاحب لاہور میں اپنے قیام، الف نون کی اجراء سے متعلق واقعات اور ادبی سرگرمیوں سے متعلق اپنی یادیں قلم بند کریں گے۔ ان کا ایک اور مضمون کراچی کے ایک جریدے میں شائع ہونے والا ہے۔ ہفتے کے روز کراچی کی بیدل لائبریری میں علامہ عبدالعزیز میمن کے فرزند پروفیسر عمر میمن کے اعزاز میں ایک سادہ سی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کے روح رواں ڈاکٹر معین الدین عقیل تھے۔ شرکاء پروفیسر عمر کی گفتگو سے دو گھنٹے تک لطف اندوز ہوتے رہے۔ حاضرین میں جناب
سید معراج جامی، ماہنامہ انشاء کے مدیر صفدر علی خان، جناب راشد شیخ بھی شامل تھے۔ پروفیسر عمر میمن 38 برس کی خدمات کے بعد امریکہ کی University of Wisconsin سے سبکدوش ہوئے ہیں، 1939 میں علی گڑھ میں پیدا ہونے والے پروفیسر عمر میمن بیرونی دنیا میں ایک معروف اسکالر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ پروفیسر میمن نے Roger Boase کا مضمون ‘ یورپ کی عشقیہ شاعری پر عرب اثرات" کے عنوان سے ترجمہ کیا تھا جو مندرجہ ذیل لنک پر پڑھا جاسکتا ہے: https://docs.google.com/viewer?a=v&pid=explorer&chrome=true&srcid=0B6MrkMcVU868Yjk1OTVmZTAtMDE1Zi00ZDY2LWEwMTEtMmIzYTliZjFiZDNh پروفیسر میمن کے دیگر تراجم کے مطالعے کے لیے یہ لنک کارآماد ہے: http://sites.google.com/site/muhammadumarmemon/urdu-translations http://urdustudies.com/ مندرجہ بالا ویب سائٹ کی تخلیق میں پروفیسر عم میمن کا نمایاں حصہ ہے
علامہ عبدالعزیز میمن ایک جید اسکالر تھے۔ ان کی شخصیت پر لکھی گئی ایک کتاب اور اس سلسلے میں محمد راشد شیخ صاحب کے کردار کا احوال ملک نواز احمد اعوان اپنی
ایک تحریر میں اس طرح بیان کرتے ہیں: "بھارت ایک دن ایک صاحب ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایاکہ میں علامہ عبدالعزیز میمن صاحب پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں مجھے فلاں صاحب نے آپ کے پاس جانے کے لیے کہا اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ سلسلے میں مدد فرمائیں نیز اپنے دوست محمد راشد شیخ صاحب سے بھی سفارش فرمائیں کہ وہ بھی تعاون فرمائیں۔ راقم نے راشد شیخ صاحب سے فون پر صورت حال بتائی انہوں نے فرمایا میں پندرہ سولہ سال سے علامہ عبدالعزیز کی سوانح حیات لکھنے کے لوازم جمع کر رہاہوں وہ اس لیے نہیں کہ کسی کو پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنے کے دے دوں ان کو
چاہیے جس طرح میں نے محنت سے یہ لوازمہ جمع کیا ہے اسی طرح وہ بھی محنت اور تگ و دو سے لوازمہ اکٹھا کریں اور اپنا مقالہ لکھیں۔ بات درست تھی تحقیق کامقصد ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ تحقیق کی صلاحیت اجاگر کرنا ہوتا ہے اس کے باوجود انہوں نے کچھ ضروری لوازمہ ان کو عطا کیا۔ معلوم نہیں ان کے پی یاچ ڈی کا کیا بنا۔ جناب فیصل احمد ندوی بھٹکلی کتاب کے پیش لفظ میں علامہ رضی الدین حسن بن محمد الصنعانی متوفی 650 ہجری اور علامہ سید مرتضیٰ بلگرامی زبیدی 1205 ہجری کے بعد علامہ میمنی کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ”لیکن ہمارے یہاں کی ایک تیسری شخصیت جو عربی لغت کی
باریکیوں سے واقفیت میں دنیا پر چھا گئی اور جن کی عربی دانی کا پوری دنیا میں ڈنکا پیٹا اورعربوں نے کھل کر نہ صرف یہ کہ ان کا اعتراف کیا بلکہ اس میں ان کی استاذیت تسلیم کی، جو برسرعام عرب ادیبوں کو ان کی لسانی غلطیوں پر ٹوکنے کی جرات رکھتے تھی، اور عرب ان کو شکریے کے ساتھ قبول کرتے تھی، وہ ہمارے ممدوح علامہ عبدالعزیز میمن (1398ھ1978/ئ) ہیں۔ پیشرو دونوں شخصیات سے ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ خالص اول سے اخیر تک اسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں، اسی سرزمین سے اٹھے یہیں پلے بڑھی، یہیں علمی ترقی کی اور اس میں کمال بہم پہنچایا، اور یہیں سے دنیا کو سیراب
کیا اور یہیں پیوند خاک ہوئے۔ علامہ میمن ادبی کمال کے ساتھ بہت سی انسانی خصوصیات کے بھی حامل تھے وہ اگر چہ کفایت شعار مشہور تھی، لیکن گہرائی میں اترنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کفایت شعاری صرف ذاتی معاملات میں تھی، ورنہ ملی معاملات میں تو وہ نہایت فیاض بلکہ شاہ خرچ تھے۔ انہوںنے ندوة العلماءکے کتب خانے کو خطیر رقم دی، المجمع العلمی دمشق کے لیے بھی گراں قدر عطیے دیی، حتی کہ مخطوطات جو وہ بہت خرچ کر کے اور بڑی محنت سے حاصل کرتے تھے اور جو ان کو جان سے زیادہ عزیز تھے وہ ضرورت پر ان کی بھی سخاوت کرتے تھے۔ اسی طرح وہ قوم و ملت کے مال کو خرچ کرنے
میں بڑے محتاط تھی، ادارہ تحقیقات اسلامی کراچی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے انہوں نے بلا مشاہرہ خدمت انجام دی اور ادارہ کے لیے حصول کتب کی خاطر انہوں نے بڑھاپے میں بیرون ملک کے کئی سفر کیے۔ اور اپنے اثر و رسوخ اور واقفیت کی بنا پر کئی نادر کتب ادارے کے لیے جمع کیں، اور یہ بات یاد رکھنے کی بلکہ قابل تقلید ہے کہ ان دوروں میں اگر چہ تمام اخراجات حکومت پاکستان برداشت کر رہی تھی، مگر علامہ ان سفروں میں پوری احتیاط سے خرچ کرتے تھی، نہایت ہی سادگی سے گزر بسر کرتے تھے۔ اسی سلسلے میں ترکی کے سفر سے واپسی کے بعد خاصی رقم یہ کہتے ہوئے واپس کی کہ یہ ملک
اور قوم کی امانت ہے۔ ایسے فضائل و کمالات کی جامع شخصیت علامہ عبدالعزیز میمن کے انتقال کو اب تیس سال ہو چکے ہیں، اس عرصے میں علامہ پر اردوعربی میں مضامین تو بہت لکھے گئی، جرائد ورسائل کے مخصوص نمبرات بھی نکلی،مگر اب تک ان کی حیات اور علمی خدمات پر کوئی مرتب اور مستند کتاب نہیں لکھی گئی۔ یہ برصغیر کی ملت اسلامیہ کے ذمے قرض تھا جو اگر چہ بہت تاخیر سے ادا ہوا، لیکن جس ”حسن ادا“ کے ساتھ اس کی ادائیگی ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ تاخیر قابل معافی ہے۔ محترم جناب محمد راشدشیخ صاحب نے جس عزم و حوصلے سے یہ بیڑا اٹھایا اور پھر جس صبر و ثبات کے
ساتھ منجدھار میں رہے اور جس خوش اسلوبی سے اس کو پار لگایا، وہ انہی جیسے جواں مردوں کا حصہ ہے۔ فہرست مضامین کتاب کی جامعیت کا انداہ لگانے کے لیے کافی ہی، اور فہرست مراجع و مصادر ان کی محنت کو پکار پکار کر کہہ رہی ہی، پھر جس حسن ترتیب اور تصنیفی سلیقے سے انہوں نے یہ کام انجام دیا ہے اس سے خیال ہوتا ہے کہ جناب محمد ارشد شیخ صاحب علم کے لیے فارغ اور تصنیف و تحقیق کے لیے یکسو ہیں، لیکن یہ سن کر حیرت ہو گی کہ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک سول انجینئر ہیں اور اپنے پیشے سے برابر جڑے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ علم و مطالعے سے گہری وابستگی رکھنا اور تصنیفی و
تحقیقی ذوق کو جمع کرنا جمع اضداد سے کم نہیں۔ ہم اس کو ان کے ساتھ اللہ کا خاص فضل سمجھتے ہیں۔ درحقیقت یہ کام ادب عربی کے کسی باذوق طالب علم یا استاد کے کرنے کا تھا، لیکن ان کو اب جناب محمد راشد شیخ صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے یہ فرض کفایہ ان کی طرف سے ادا کر دیا ہے اور حق یہ ہے کہ انہوں نے ان کے سوانح کا حق ادا کر دیا ہے۔ اللہ اس کو نافع بنائے۔“ کتاب سترہ ابواب پر مشتمل ہی، باب اول میں خاندان، ولادت، ابتدائی حالات باب دوم میں قیام دہلی باب سوم میں قیام امروہہ و رام پور باب چہارم قیام پشاور، باب پنجم پہلا قیام لاہور باب ششم
قیام علی گڑھ،باب ہفتم قیام کراچی باب ہشتم دوسرا قیام لاہور باب نہم قیام کراچی و حیدرآباد سندھ، باب دہم عربی زبان اور علامہ میمن، باب یاز دہم علامہ میمن و تحقیقی خدمات باب از دہم عادات و خصائل باب سیزدہم تلامذہ باب چہار دہم اعتراف عظمت اور خراج عقیدت باب پنجم علامہ میمن کی نادر تحریریں، باب ششذہم اردو مکاتیب علامہ عبدالعزیز میمن باب ہفدھم مکاتیب بنام علامہ میمن۔ کتاب بڑی محنت اور تحقیق سے لکھی گئی ہے پاکستان سے بھی اس کا نظر ثانی شدہ عنقریب طبع ہو رہا ہے اگر راشد شیخ صاحب کسی یونیورسٹی کو پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ پیش کرتے تو لازماً
ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا ہوتی۔" -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے
Ainee Niazi <ainee...@gmail.com> Feb 20 07:25PM +0500
جناب را شدصاحب ! اسلا م وعلیکم جی ہاں آپ کو بتا تے چلیں کہ ہم بھی بنفیس زندگی میں پہلی با ر گلشن اقبال سے اس قافلے میں شریک ہو نے گئے شریک تو ہوئے کہ کو ئی اچھا سا کالم لکھنے میں آسانی ہو گی کہ آنکھوں دیکھے حا ل کی با ت اور ہو تی ہےاپ کی لیکن افسوس کہ قلم پکڑ کر لکھنے بھیٹھے تو پتہ چلا کہ کچھ ھا تھ نہ آیا ۔۔۔ بہر حا ل آپ کی تحر یر بہت خو بصورت ہے ۔ آپ نے جس مدلل انداز میں ابن صفی صا حب سےاپنی پسند کا مقدمہ لڑا ہے وہ لا جواب ہے بہت خو بصورت تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ آپ
کو خو ش اور سلا مت رکھے آمین عینی نیازی کرا چی 2012/2/20 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
asaf jilani <jilan...@gmail.com> Feb 20 10:25AM
جناب ارشد کمال صاحب۔ کالم پسند کرنے کا بے حد شکریہ۔میرا فرض تھا کہ اس اہم مسلہ کی جانب صاحب فکر لوگوں کی توجہ دلاوں۔مجھے خوشی ہے کہ ایک حد تک میں اس کاوش میں کامیاب رہا ہوں۔ مخلص۔ٓاصف جیلانی 2012/2/20 ARSHAD KAMAL <arshad...@yahoo.co.in>
SUBAAN GUL <suba...@hotmail.com> Feb 20 02:16PM
شرم ہم کو مگر نہیں آتی گل بخشالوی
Date: Mon, 20 Feb 2012 10:25:54 +0000 Subject: Re: {9580} جناب آصف جیلانی کی ایک تحریر۔۔۔۔۔ثقافتی سامراجیت From: jilan...@gmail.com To: bazme...@googlegroups.com جناب ارشد کمال صاحب۔ کالم پسند کرنے کا بے حد شکریہ۔میرا فرض تھا کہ اس اہم مسلہ کی جانب صاحب فکر لوگوں کی توجہ دلاوں۔مجھے خوشی ہے کہ ایک حد تک میں اس کاوش میں کامیاب رہا ہوں۔ مخلص۔ٓاصف جیلانی 2012/2/20 ARSHAD KAMAL <arshad...@yahoo.co.in> A wonderful write-up, congrats, One
may or may not agree with the writer, yet it can not be ignored ,
arshad kamal From: Bazm e Qalam <bazme...@googlegroups.com> To: 1 بزم قلم <BAZMe...@googlegroups.com> Sent: Friday, 17 February 2012 3:01 PM Subject: {9489} جناب آصف جیلانی کی ایک تحریر۔۔۔۔۔ثقافتی سامراجیت ثقافتی سامراجیت آصف جیلانی 14فروری کو پاکستان کے بازاروں اور ٹیلی وژن چینلز پر عجب عالم تھا۔ سرخ گلابوں کی بھرمار تھی اور ٹیلی وژن چینلز پر ویلنٹائن ڈے ایسے منایا جارہا تھا جیسے یہ پاکستان کے مسلمانوں کا اہم ترین مذہبی تہوار ہو۔ اس دن کے تاریخی پس منظر سے یکسر
نابلد ہر ایک، ویلنٹائن ڈے کی ایسے مبارکباد پیش کررہا تھا جیسے عید ہو۔ ٹیلی وژن چینلز پر خاص پروگرام برپا کیے گئے اور موسیقاروں اور فنکاروں کو بلاکر ایسی بچکانہ حرکتیں کی گئیں کہ لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے۔ اس کے مقابلے میں یہاں برطانیہ میں خاموشی سے نجی طور پر تو لوگوں نے ایک دوسرے کو تحفے تحائف پیش کیے اور ہوٹلوں اور ریستورانوں میں ضیافتوں کا اہتمام کیا، لیکن ٹیلی وژن پر اتنا ہنگامہ نہیں تھا جتنا کہ پاکستان میں نظر آرہا تھا۔ بڑی عمر کے لوگوں کو اس بات پر سخت تاسف تھا کہ انگریزوں کی غلامی کے دور میں برصغیر کے مسلمانوں نے یہ دن اتنی
وارفتگی اور جوش و خروش سے کبھی نہیں منایا تھا جتنا کہ آزادی کے بعد اب لوگوں نے منانا شروع کردیا ہے۔ غلامی کے دور میں ہم ذہنی طور پر آزاد تھی، اور اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آزادی کے حصول کے بعد ہم ذہنی طور پر غلام ہوگئے ہیں۔ معاملہ صرف ویلنٹائن ڈے کا نہیں جس کے پس پشت بنیادی طور پر تجارتی مفادات کے فروغ کی کاوش کارفرما ہی، بلکہ دراصل یہ مغربی ثقافتی سامراجیت کی علامت ہے۔ وہ دور گزر گیا جب جنگی جہازوں کے بیڑوں کے بل پر اور تجارت کی آڑ میں کمزور ممالک پر قبضہ کیا جاتا تھا اور انہیں اپنی نوآبادیاں بناکر ان پر تسلط جمایا جاتا تھا۔ اب سامراجیت
کا نیا دور اور نیا انداز ہے۔ مغرب اب ایک نہایت منظم اور مو ¿ثر طریقے پر ثقافتی سامراجیت مسلط کررہا ہی، دنیا کے لوگوں کی شناخت مسخ کرکے ان کے ذہنوں کو اپنا غلام بنارہا ہے۔ سوویت یونین کے زیر حصار ہنگری میں کمیونسٹ حکومت کے خلاف 1989ءکے کامیاب انقلاب کے فوراً بعد میں بڈاپیسٹ میں تھا۔ ابھی عبوری صدر ماتیاس سیروش نے ملک کو جمہوریہ قرار دینے کا اعلان کیا ہی تھا کہ بڈاپیسٹ میں امریکیوں نے میکڈانلڈ کا پرچم لہرا دیا۔ بڈاپیسٹ کے عوام کے نزدیک یہ کمیونزم کی شکست اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام کی فتح کی علامت تھی۔ میکڈانلڈ میں فش برگر اور فرائیز
کا آرڈر دیتے وقت بڈاپیسٹ کے لوگوںکے چہروں پر جو طمانیت تھی وہ اس سے کہیں زیادہ تھی جو ہیرو چوک میں کمیونسٹ دور سے ہنگری کی آزادی کے اعلان کے وقت عوام کے چہروں پر تھی۔ اسی طرح سوویت یونین کی مسماری کے بعد جب وسط ایشیا کی جمہوریائیں آزاد ہوئیں تو اس کے فوراً بعد میں 1992ءمیں نوآزاد وسط ایشیا کے دورے پر تھا۔ابھی آزادی کو ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ قازقستان کے دارالحکومت الماتی کے قریب الی الاتا ¶ جھیل کے کنارے پر مَیں میکڈانلڈ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ پھر ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں دیکھا کہ شہر کے جنوب میں یاکا سرائے میں کے ایف سی اور
میکڈانلڈ کے ریستوران لوگوں سے کھچاکھچ بھرے ہوئے تھے اور ان کے قریب فٹ پاتھ پر امریکی جینز پر لوگ ٹوٹے پڑرہے تھے۔ ایسا محسوس ہوا کہ وسط ایشیا میں امریکی، ثقافتی تسلط کا بہت پہلے سے منصوبہ بنارہے تھی، اور جیسے ہی یہ ملک سوویت یونین کی محکومی سے آزاد ہوئے امریکیوں نے یہاں بھرپور چھاپہ مارا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکیوں کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی نظریاتی تبلیغ کے بجائے عوام کے ذہنوں کو میکڈانلڈ، کے ایف سی، پیپسی اور کوکاکولا کے نشے کا غلام بنایا جائی، اور یوں ان کو ان اشیاءکا عادی بناکر ان پر تسلط جمایا جائے۔ ہالی
ووڈ بھی اس حکمت عملی میں شریک ِکار رہا ہی، اور یہی وجہ ہے کہ امریکا سے لے کر چین تک امریکی فلموں نے اس وسیع پیمانے پر ثقافتی حملہ کیا ہے کہ ان فلموں کی وجہ سے نئی نسل کی زندگی کی طرز بدل گئی ہے۔ امریکی فاسٹ فوڈ، امریکی لباس، حتیٰ کہ انگریزی کے امریکی لہجے نے اس نسل کی شناخت مسخ کردی ہے۔ پاکستان میں بھی مغربیت اس بری طرح سے مسلط ہوتی جارہی ہے کہ پاکستان کی نئی نسل اپنی شناخت کھورہی ہے۔ نوجوان مغربیت کو اپنانے کو آزاد خیالی کی علامت سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو اونچے گھرانے کا کہلانے والے نوجوانوں کا اپنی مادری زبان اردو کے ساتھ نہایت ہتک آمیز
رویہ ہے۔ ان میں سے بہت سے نوجوان یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ اردو تو ہمارے گھر میںصرف ” ماسی“ بولتی ہے۔ یہ جانے بغیر کہ کولہے پر ٹکی ہوئی، زمین پر جھاڑو دیتی ہوئی پتلونیں مغرب میں صرف نرے جاہل پہنتے ہیں، اور محض ایک کان میں ٹاپس صرف ہم جنس پرست پہنتے ہیں، پاکستان میں نوجوانوں نے یہ اندھی تقلید ایسے اختیار کی ہے کہ جیسے یہ اعلیٰ تہذیب کی نشانی ہے۔ جسموں پر tattoo کرانے (جسم کو گودنی)کا بھی رواج اب پاکستانی نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ مغربی تہذیب سے سرشار ہورہے ہیں۔ یہ نوجوان مغرب کی یہ تقلید تو کررہے ہیں،
لیکن مغرب کی جو اعلیٰ قدریں ہیں اُن کے قریب بھی یہ نہیں پھٹکتے۔ بڑی قدروں کی بات تو الگ رہی، چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی یہ اپنانے سے گریزاں ہیں۔ مثلاً شکریہ ادا کرنا، کسی کے لیے دروازہ کھولنا، کسی بوڑھے یا خاتون کو سڑک پار کرانا، یا راستے میں کسی معذور کی مدد کرنا، کسی نے سڑک پر کوئی کاغذ پھینکا ہے تو اسے خاموشی سے اٹھاکر کوڑے کے ڈبے میں ڈالنا۔ یہ قدریں ہماری تہذیب کی بھی قدریں رہی ہیں، لیکن کیا کیا جائے ”کوّا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا“۔ بلاشبہ امریکی کلچر یورپ کے ملکوں میں بھی درانداز ہورہا ہے۔ کوکاکولا، میکڈانلڈ اور
امریکی فلمیں مقبول ہیں، لیکن اس کے باوجود یورپیوں نے اپنے کھانی، اپنی موسیقی اور اپنی فلمیں ترک نہیں کی ہیں۔ اپنی زبانوں کا ان میں تقدس مذہب کے مانند ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرح وہ پارلیمنٹ میں تقریر انگریزی میں نہیں کرتی، اور نہ پاکستانی ٹیلی وژن چینلز پر سیاسی مباحثوں میں شرکت کرنے والے سیاست دانوں کی طرح وہ اپنی رائے انگریزی میں ظاہر کرتے ہیں۔ ایک بار رات کے بارہ بجے وزیراعظم گیلانی ریڈیو اور ٹیلی وژن پر نہایت اہم مسئلے پر خطاب انگریزی میں کررہے تھے۔ اتفاق سے ایک فرانسیسی صحافی ہمارے گھر پر بیٹھے تھے۔ ٹیلی
وژن کھلا تھا، انہوں نے جب گیلانی کو انگریزی میں خطاب کرتے دیکھا تو بڑی حیرت سے مجھ سے پوچھا ”کیا پاکستان میں سارے عوام انگریزی سمجھتے ہیں؟“ مجھ سے سچ نہ چھپایا جاسکا۔ میں نے کہا کہ ”یہ خطاب پاکستانی عوام کے لیے نہیں ہے بلکہ واشنگٹن کے حکمرانوں کے لیے ہے“۔ امریکیوں سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ میکڈانلڈ، کوکاکولا اور امریکی فلمیں ثقافتی سامراجیت کا مظہر ہیں تو یہ جواب دیا جاتا ہے کہ یہ امریکی ثقافتی نمائندہ نہیں بلکہ امریکی تجارتی پروڈکٹس ہیں، یہ ثقافتی سامراجیت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ اشیاءامریکی اقتصادی سامراجیت کی علامت ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اقتصادی سامراجیت کے کندھوں پر ثقافتی سامراجیت درانداز ہورہی ہے اور دنیا بھر کے ملکوں پر مسلط ہورہی ہے۔ بزم قلم گروپ میں شمولیت کے لیۓ یہاں کلک کیجے -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور
ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/ راشد اشرف کی تحریروں کے لیے http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760 To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to
bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE" -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/ راشد اشرف کی تحریروں کے لیے http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760 To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE" -- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ
www.urduaudio.com سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/ راشد اشرف کی تحریروں کے لیے http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760 To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
Abida Rahmani <abidar...@yahoo.com> Feb 19 11:11PM -0800
جناب راشد صاحب سلام مسنون
کافی دلچسپ اور تفصیلی روداد ہے اگر آپ لوگوں کا ابن صفی فین کلب نہیں ہے تو وہ ضرور بنا لیں اس سے آپ کے شوق کو مزید تسکین ملیگی - یہاں پر مختلف کارٹون تک کے فین کلب بنے ہوے ہیں -انکے ممبران مختلف مواقع پر اکٹھے ہوجاتے ہیںSnoopy ایک مرتبہ ہوٹل میں قیام کے دوران دیکھا ک فین کلب کے شائقین جمع ہیں سینکڑوں کا مجمع تھا دور دور سے شرکت کرنے آۓ،تھے ہر طرف سنوپی کی
بھار تھی بینر، پوسٹر تصا ویر ،اخبارات -کافئ اشیاء براۓ فروخت تھیں ابن صفی جیسا کہ آپ نے بھی فرمایا ایک عوامی ادیب تھے اوربے شمار انکے رسیا تھے -میرے اپنے عزیزوں میں لوگ انکے دیوانے تھے -لیکن جنہوں نے انہیں نہیں پڑھا یا پڑھنا نہیں چاہتے ان پر آپ زبردستی نہیں کرسکتے پسند اپنی اپنی - امید ہے کہ میری بات کا برا نھیں مانینگےبہت شکریہ --- On Sun, 2/19/12, Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> wrote: From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> Subject: Re: {9563} کراچی لٹریچر فیسٹیول 2012 اور اس میں منعقدہ ابن صفی پر مذاکرے کا احوال To:
bazme...@googlegroups.com Date: Sunday, February 19, 2012, 10:38 PM جناب حشمت صاحب، وعلیکم السلام مزاج گرامی کراچی ادبی جشن میں صفی صاحب پر ہوئے مذاکرے کی روداد کی پسندیدگی کا شکریہ مذکورہ احوال شکاگو میں پڑھا جائے گا، یہ میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے! جناب ابرار صفی کو میں ابرار بھیا کہہ کر مخاطب کرتا ہوں، جناب ابن صفی پر اپنی غیر تجارتی ویب سائٹ وادی اردو کے اجراء کے سلسلے میں خانوادہ ابن صفی کا تعاون بے مثال رہا ہے۔ تمام بہن بھائی مجھے اپنے اہل خانہ ہی میں سے ایک مانتے ہیں، سب کے سب اپنے والد محترم کی شفقت آمیز شخصیت کا پرتو ہیں، احمد صفی
صاحب کی کراچی میں موجودگی سے ڈھارس بندھی رہتی تھی، ایک برس قبل وہ لاہور منتقل ہوگئے تھے اور ادھر کراچی میں بہتیرے ایسے ہیں جنہیں ان کی کمی آج تک محسوس ہوتی ہے۔ دو روز قبل امریکہ سے تشریف لائے پروفیسر عمر میمن کے اعزاز میں کراچی کی ایک لائبریری میں ایک نشست منعقد کی گئی، پروفیسر میمن، علامہ عبدالعزیز میمن کے صاحبزادے ہیں، علی گڑھ کی روایات کے امین، وہ بھی ابن صفی کے پرستار نکل آئے، میں نے اس سے اس بارے میں ایک سوال کیا اور وہ جذباتی ہوگئے، کہا: ""علی گڑھ میں ابن صفی کے نئے ناول کی خبر سن کی چلچلاتی دھوپ میں
دیوانوں کی طرح سائکل چلا کر وہاں پہنچتا تھا۔۔"" راشد 2012/2/19 Hashmat Ali <sh_a...@yahoo.com> جناب راشد اشرف صاحب سلام مسنون امید ہے بخیر ہونگے کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ابن صفی پر مزاکرے کی روداد پڑھی بھائی حسب سابق آپنے بڑی عمدگی سے تصویر کشی کی ہے ہم لوگ یہاں شکاگو میں ایک بار ابن صفی مرحوم پر ایک پروگرام کر چکے ہیں جس میں میرے دوست اور پڑوسی ابرار صفی صاحب بھی شریک تھے اب دوبارہ ویسا ہی پروگرام کرنے کا ارادہ ہے جس میں آپ کا یہ مضمون بطور خاص پیش کیا جائے گا بھائی معراج جامی صاحب کہاں
ہیں میں نے انکو کئی ای میل بھیجیں مگر جواب سے محروم رہا اگر آپ سے بات ہو تو میرا سلام بھی کہہ دیجئے گا بہت بہت شکریہ حشمت سہیل شکاگو From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com> Cc: arif.waqar <arif....@gmail.com> Sent: Sunday, February 19, 2012 2:28 AM Subject: {9544} کراچی لٹریچر فیسٹیول 2012 اور اس میں منعقدہ ابن صفی پر مذاکرے کا احوال خیر اندیش راشد اشرف کراچی سے کراچی لٹریچر فیسٹیول ہفتہ اور اتوار 2012 کے روز اپنی تمام تر رونقیں بکھیرنے کے
بعد اختتام پذیر ہوا۔ جمعے کی رات ڈاکٹر آصف فرخی کی دعوت پر فیسٹیول کے شرکاء کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے میں بھی شریک ہونے کا موقع ملا۔ مشاہیر ادب کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور فلم سے وابستہ کئی چہرے بھی نظر آئے جن میں زیبا بختیار، راحت کاظمی اور ساحرہ کاظمی شامل تھے۔ دہلی سے تشریف لائے ڈاکٹر خالد جاوید سے ملاقات کروا کر ڈاکٹر آصف فرخی نے ہم پر گویا ایک احسان کیا، دو گھنٹے خالد صاحب اور میں، اپنے پسندیدہ موضوع یعنی ابن صفی پر بات کرتے رہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ،برٹش کونسل اور ڈاکٹر آصف فرخی کی کوششوں سے اس رنگا رنگ میلے کا
انعقاد گزشتہ تین برس سے جاری ہے۔ اس مرتبہ کل 136 مہمانوں کو دنیا بھر سے مدعو کیا گیا تھا۔ دو روز تک جاری رہنے والے اس فیسٹیول میں مذاکرے، مباحثے، کتابوں کی نمائش و رونمائی، موسیقی کا اہتمام کیا گیا جبکہ پہلے روز شام کے وقت مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔ ادبی میلے میں برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی، انڈیا اور پاکستان سے ادیب، دانشور اور شعراء نے شرکت کی۔ کتابوں پرگفتگو ہوئی، لکھنے اور پڑھنے والوں کے درمیان ربط بھی پیدا ہوا۔ میلے کے دوران ادبی و عصر حاضر کے موضوعات پر تھیٹر بھی پیش کیا گیا۔ عشائیے کے دوران برطانیہ سے آئی بے
نظیر بھٹو کی ہم جماعت وکٹوریہ شوفیلڈ کو اخباری نمائندوں نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا اور وہ کہہ رہی تھیں کہ اس ادبی میلے میں شرکت اور مقامی لوگوں سے مل کر پاکستان اور یہاں کے باشندوں کے متعلق وہ منفی تاثر ختم ہوگیا جو عالمی سطح پر موجود ہے۔ میرے نزدیک یہ صرف روایتی پروپیگنڈا ہے۔ پاکستانی کھلے ذہن کے مالک اور فراخ دل ہیں۔ مطالعہ کے شوقین ہیں، ملنسار اور خوش اخلاق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ پھر انہیں یہاں آنے کی دعوت دی گئی تو وہ پاکستان آنے سے بالکل نہیں ہچکچائیں گی آرٹس کونسل کے سربراہ احمد شاہ نے یہ عندیہ دیا کہ
آئندہ برس کراچی لٹریچر فیسٹیول کے انعقاد میں آرٹس کونسل کا تعاون بھی شامل ہوگا۔ فیسٹیول میں اس مرتبہ انگریزی لکھنے والے ادیبوں میں وکرم سیٹھ، شوبھا ڈے، بینا شاہ، اناتول لیوین، ایم ایچ نقوی، عائشہ جلال، منیزہ نقوی، احمد رشید، کاملہ شمسی، محسن حامد وغیرہ نے شرکت کی۔جب کہ اردو کے ادیبوں میں انتظار حسین، عارفہ سیدہ زہرہ، عطیہ داؤد, زہرہ نگاہ، کشور ناہید، زاہدہ حنا، فہمیدہ ریاض، افتخار عارف، فاطمہ حسن، پروفیسر سحر انصاری و دیگر شامل تھے۔ ادبی میلے کے پہلے روز شام پانچ بجے جناب ابن صفی پر ایک مذاکرہ منعقد
کیا گیا ۔ ابن صفی برصغیر پاک و ہند کے سری ادب کے سب سے بڑے جاسوسی ناول نگار تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ نقادوں اور ادب کے علمبرداروں نے انہیں ’ادب عالیہ ‘ میں کبھی شمار نہیں کیا لیکن اب یہ برف پگھل رہی ہے اور ادب میں ان کو ان کا جائز مقام دینے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ اس ضمن میں ابن صفی اپنے ایک مضمون میں کہتے ہیں: مجھے اس وقت بڑی ہنسی آتی ہے جب آرٹ اور ثقافت کے علمبردار مجھ سے کہتے ہیں کہ میں ادب کی بھی کچھ خدمت کروں۔ان کی دانست میں شاید میں جھک مار رہا ہوں۔ حیات و کائنات کا کون سا ایسا مسئلہ ہے جسے میں نے اپنی کسی نہ
کسی کتاب میں نہ چھیڑا ہو۔ لیکن میرا طریقِ کار ہمیشہ عام روش سے الگ تھلگ رہا ہے۔ میں بہت زیادہ اونچی باتوں اور ایک ہزار کے ایڈیشن تک محدود رہ جانے کا قائل نہیں ہوں۔ میرے احباب کا اعلیٰ و ارفع ادب کتنے ہاتھوں تک پہنچتا ہے اور انفرادی یا اجتماعی زندگی میں کس قسم کا انقلاب لاتا ہے۔افسانوی ادب خواہ کسی پائے کا ہو محض ذہنی فرار کا ذریعہ ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی معیار کی تفریح فراہم کرنا ہی اس کا مقصد ہوتا ہے۔ جس طرح فٹ بال کا کھلاڑی شطرنج سے نہیں بہل سکتا۔ اسی طرح ہماری سوسائٹی کے ایک بہتبرے حصّے کے لئے اعلیٰ ترین افسانوی ادب قطعی بے معنی ہے۔ تو
پھر میں گنے چنے ڈرائنگ روموں کے لئے کیوں لکھوں؟ میں اسی انداز میں کیوں نہ لکھوں جسے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ شاید اسی بہانے عوام تک کچھ اونچی باتیں بھی پہنچ جائیں۔بہت ہی بھیانک قسم کے ذہنی ادوار سے گزرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہوں۔ ورنہ میں نے بھی آفاقیت کے گیت گائے ہیں۔ عالمی بھائی چارے کی باتیں کی ہیں۔ لیکن 1947میں جو کچھ ہوا اُس نے میری پوری شخصیت کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ سڑکوں پر خون بہہ رہا تھا اور عالمی بھائی چارے کی باتیں کرنے والے سوکھے سہمے اپنی پناہ گاہوں میں دبکے ہوئے تھے۔ ہنگامہ فرو ہوتے ہی پھر پناہ گاہوں سے باہر آ گئے اور
چیخنا شروع کر دیا۔ ’’یہ نہ ہونا چاہیئے تھا۔ یہ بہت برا ہوا۔‘‘ لیکن ہوا کیوں؟ تم تو بہت پہلے سے یہی چیختے رہے تھے۔ تمہارے گیت دیوانگی کے اِس طوفان کو کیوں نہ روک سکے۔ میں سوچتا... سوچتا رہا۔ آخرکار اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی میں جب تک قانون کے احترام کا سلیقہ نہیں پیدا ہو گا یہی سب کچھ ہوتا رہے گا۔ یہ میرا مشن ہے کہ آدمی قانون کا احترام سیکھے۔ اور جاسوسی ناول کی راہ میں نے اِسی لئے منتخب کی تھی۔ تھکے ہارے ذہنوں کے لئے تفریح بھی مہیا کرتا ہوں اور انہیں قانون کا احترام کرنا بھی سکھاتا ہوں۔ فریدی میرا آئیڈیل ہے جو خود بھی قانون
کا احترام کرتا ہے۔ اور دوسروں سے قانون کا احترام کرانے کے لئے اپنی زندگی تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔ مذاکرے کے شرکاء میں جامعہ ملیہ دہلی کے ڈاکٹر خالد جاوید، فرزند ابن صفی جناب احمد صفی، جناب شکیل عادل زادہ اور ڈاکٹر شیر شاہ سید شامل تھے جبکہ صدارت کے فرائض ادیب و مترجم بلال تنویر نے سرانجام دیے۔ جناب احمد صفی نے حاضرین کو بتایا کہ ’’جاسوسی ادب کو ہمیشہ ہی سے پلپ فکشن Pulp fiction کے زمرے میں ہی شمار کیا جاتا رہا ہے، محقق و ادیب خرم علی شفیق نے اسے جمہوری ادب کا نا م دیا ہے یعنی وہ ادب جس کے پڑھنے والوں
معاشرے کا ہر طبقہ شامل رہا ہے۔ ایک پان والے سے لے کر ڈاکٹر ابو الخیر کشفی بھی ابن صفی کے پڑھنے والوں میں شامل رہے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ابن صفی کا عام فہم و دلنشیں اسلوب تھا۔ جب ابو (ابن صفی) گھر سے نکلتے تھے تو نکڑ پر بیٹھا پان والا بھی ان سے ان کے نئے آنے والے ناول کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ ابن صفی کے پڑھنے والوں میں ڈاکٹر، انجینئر ، ادبی شخصیات غرضیکہ ہر طبقہ ہائے زندگی کے لوگ شامل تھے۔ ‘‘ایک سوال ہمیشہ سے ذہن میں اٹھتا ہے کہ پلپ فکشن یا مقبول عوامی ادب تو معاشرے کے ایک خاص طبقے ہی میں پڑھا جاتا ہے اور اسی میں ختم ہو
جاتا ہے۔ اہل علم و فراست اس پر توجہ نہیں دیتے تو پھر کیا ابن صفی کے ادب کو پلپ فکشن کہا جا سکتا ہے؟ ان کے پڑھنے والوں میں رکشہ ٹیکسی والے سے لے کر علماء، ادیب، دانشور اور شعراء سب ہی شامل ہیں۔ جب ابو (ابن صفی) گھر سے نکلتے تھے تو نکڑ پر بیٹھا پان والا بھی ان سے ان کے نئے آنے والے ناول کے بارے میں سوال کرتا تھا۔ ان کے پڑھنے والوں کا اسپیکٹرم بہت وسیع ہے۔ تو ایسے ادب کو کوئی اور نام دینا پڑے گا۔ ممتاز محقق خرم علی شفیق ایسے ادب کو جسے معاشرے کے ہر طبقے میں پذیرائی حاصل ہو جمہوری ادب قرار دیتے ہیں اور ابن صفی کو سر سید، مولانا محمد علی
جوہر اور علامہ اقبال کے سلسلے کی کڑی قرار دیتے ہیں۔ فزیشن و سرجن ڈاکٹر شیر شاہ سید ایک جانے پہچانے افسانہ نگار بھی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ ’ پاکستان نیشنل فورم آن وومین ہیلتھ‘ کے صدر کے عہدے پر بھی فائز ہیں .ڈاکٹر شیر شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا:
|