خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے
علی الصبح اتوار بازار کی جانب رواں دواں تھا اور ذہن میں یہی بات تھی کہ متحدہ قومی موومنٹ کے مزار قائد سے متصل خواتین کے جلسے کی وجہ سے کہیں الطاف بھائی کی گھر کے مردوں کو اس روز کھانا پکانے کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کتب فروش بھی بازار میں آنے سے قاصر نہ ہوں۔ لیکن وہ سب کے سب وہاں موجود تھے۔
صاحبو! خواتین کا جلسہ بھی خوب تھا، صنف نازک کا وہ جم غفیر کہ بقول شخصے قاعد اعظم اس روز رات کو ایک بزرگ کے خواب میں آئے اور کہا کہ "میں نے اتنے وسیع پیمانے پر خواتین کا مجمع اپنی تمام زندگی میں نہیں دیکھا
اور ہم یہ سوچ رہے تھے کہ الطاف بھائی کا جلسے کے انعقاد سے بڑھ کر کارنامہ تو یہ رہا کہ لاکھوں خواتین کو خاموش رہنے پر کس خوش اسلوبی سے آمادہ کیے رکھا۔ مجال ہے کہ کوئی عفیفہ چوں بھی کرجاتی۔ یہاں 5 خواتین کو خاموش کرانا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب!
کتابوں کا اتوار بازار اس مرتبہ احباب سے ملاقاتوں کی نذر ہوا، کویت سے محمد حنیف صاحب
تشریف لائے تھے، ابتدائی ملاقات اتوار بازار ہی میں رکھی گئی، ادھر جناب اجمل کمال صاحب بھی موجود تھے اور معراج جامی صاحب تو ہمارے ساتھ ہی تھے۔ عقیل عباس جعفری صاحب گیارہ بجے کے قریب پہنچے اور فون پر ہمیں ‘شیش محل‘ کے ملنے کی نوید سنائی۔
دو عدد کتابوں کا تعارف یہ ہے:
بوجھیں تو جانیں
منظوم خاکے
مبارک مونگریری
ناشر: مونگیری میموریل سوسائٹی، کراچی
سن اشاعت: 1994
صبح کرنا شام کا
خودنوشت
تیسرا ایڈیشن
مصنف: آفاق صدیقی
اردو سندھی ادبی فاونڈیشن کراچی
سن اشاعت: 1999
اتوار بازار سے رخ کیا کمال احمد رضوی صاحب کے گھر کا جن سے ملنے کے متمنی حنیف صاحب اور جامی صاحب بھی تھے، ملاقات ہوئی اور مختلف النوع موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا، ہم لوگوں نے کمال صاحب سے درخواست کی کہ وہ اپنی یاداشتیں لکھنے کا سلسلہ شروع کریں کہ لاہور میں انہوں نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔ حال ہی میں انہوں نے کراچی کے مجلے اسالیب میں انور جلال شمزا سے متعلق اپنی یادوں کو مضمون کی شکل میں سمیٹا ہے جو خاصا دلچسپ ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر یہ امید نظر آئی ہے کہ کمال صاحب لاہور میں اپنے قیام، الف نون کی اجراء سے متعلق واقعات اور ادبی سرگرمیوں سے متعلق اپنی یادیں قلم بند کریں گے۔ ان کا ایک اور مضمون کراچی کے ایک جریدے میں شائع ہونے والا ہے۔
ہفتے کے روز کراچی کی بیدل لائبریری میں علامہ عبدالعزیز میمن کے فرزند پروفیسر عمر میمن کے اعزاز میں ایک سادہ سی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کے روح رواں ڈاکٹر معین الدین عقیل تھے۔ شرکاء پروفیسر عمر کی گفتگو سے دو گھنٹے تک لطف اندوز ہوتے رہے۔ حاضرین میں جناب سید معراج جامی، ماہنامہ انشاء کے مدیر صفدر علی خان، جناب راشد شیخ بھی شامل تھے۔
علامہ عبدالعزیز میمن ایک جید اسکالر تھے۔ ان کی شخصیت پر لکھی گئی ایک کتاب اور اس سلسلے میں محمد راشد شیخ صاحب کے کردار کا احوال ملک نواز احمد اعوان اپنی ایک تحریر میں اس طرح بیان کرتے ہیں:
"بھارت ایک دن ایک صاحب ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایاکہ میں علامہ عبدالعزیز میمن صاحب پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں مجھے فلاں صاحب نے آپ کے پاس جانے کے لیے کہا اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ سلسلے میں مدد فرمائیں نیز اپنے دوست محمد راشد شیخ صاحب سے بھی سفارش فرمائیں کہ وہ بھی تعاون فرمائیں۔ راقم نے راشد شیخ صاحب سے فون پر صورت حال بتائی انہوں نے فرمایا میں پندرہ سولہ سال سے علامہ عبدالعزیز کی سوانح حیات لکھنے کے لوازم جمع کر رہاہوں وہ اس لیے نہیں کہ کسی کو پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھنے کے دے دوں ان کو چاہیے جس طرح میں نے محنت سے یہ لوازمہ جمع کیا ہے اسی طرح وہ بھی محنت اور تگ و دو سے لوازمہ اکٹھا کریں اور اپنا مقالہ لکھیں۔ بات درست تھی تحقیق کامقصد ڈگری حاصل کرنا نہیں بلکہ تحقیق کی صلاحیت اجاگر کرنا ہوتا ہے اس کے باوجود انہوں نے کچھ ضروری لوازمہ ان کو عطا کیا۔ معلوم نہیں ان کے پی یاچ ڈی کا کیا بنا۔ جناب فیصل احمد ندوی بھٹکلی کتاب کے پیش لفظ میں علامہ رضی الدین حسن بن محمد الصنعانی متوفی 650 ہجری اور علامہ سید مرتضیٰ بلگرامی زبیدی 1205 ہجری کے بعد علامہ میمنی کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ”لیکن ہمارے یہاں کی ایک تیسری شخصیت جو عربی لغت کی باریکیوں سے واقفیت میں دنیا پر چھا گئی اور جن کی عربی دانی کا پوری دنیا میں ڈنکا پیٹا اورعربوں نے کھل کر نہ صرف یہ کہ ان کا اعتراف کیا بلکہ اس میں ان کی استاذیت تسلیم کی، جو برسرعام عرب ادیبوں کو ان کی لسانی غلطیوں پر ٹوکنے کی جرات رکھتے تھی، اور عرب ان کو شکریے کے ساتھ قبول کرتے تھی، وہ ہمارے ممدوح علامہ عبدالعزیز میمن (1398ھ1978/ئ) ہیں۔ پیشرو دونوں شخصیات سے ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ خالص اول سے اخیر تک اسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں، اسی سرزمین سے اٹھے یہیں پلے بڑھی، یہیں علمی ترقی کی اور اس میں کمال بہم پہنچایا، اور یہیں سے دنیا کو سیراب کیا اور یہیں پیوند خاک ہوئے۔ علامہ میمن ادبی کمال کے ساتھ بہت سی انسانی خصوصیات کے بھی حامل تھے وہ اگر چہ کفایت شعار مشہور تھی، لیکن گہرائی میں اترنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کفایت شعاری صرف ذاتی معاملات میں تھی، ورنہ ملی معاملات میں تو وہ نہایت فیاض بلکہ شاہ خرچ تھے۔ انہوںنے ندوة العلماءکے کتب خانے کو خطیر رقم دی، المجمع العلمی دمشق کے لیے بھی گراں قدر عطیے دیی، حتی کہ مخطوطات جو وہ بہت خرچ کر کے اور بڑی محنت سے حاصل کرتے تھے اور جو ان کو جان سے زیادہ عزیز تھے وہ ضرورت پر ان کی بھی سخاوت کرتے تھے۔ اسی طرح وہ قوم و ملت کے مال کو خرچ کرنے میں بڑے محتاط تھی، ادارہ تحقیقات اسلامی کراچی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے انہوں نے بلا مشاہرہ خدمت انجام دی اور ادارہ کے لیے حصول کتب کی خاطر انہوں نے بڑھاپے میں بیرون ملک کے کئی سفر کیے۔ اور اپنے اثر و رسوخ اور واقفیت کی بنا پر کئی نادر کتب ادارے کے لیے جمع کیں، اور یہ بات یاد رکھنے کی بلکہ قابل تقلید ہے کہ ان دوروں میں اگر چہ تمام اخراجات حکومت پاکستان برداشت کر رہی تھی، مگر علامہ ان سفروں میں پوری احتیاط سے خرچ کرتے تھی، نہایت ہی سادگی سے گزر بسر کرتے تھے۔ اسی سلسلے میں ترکی کے سفر سے واپسی کے بعد خاصی رقم یہ کہتے ہوئے واپس کی کہ یہ ملک اور قوم کی امانت ہے۔ ایسے فضائل و کمالات کی جامع شخصیت علامہ عبدالعزیز میمن کے انتقال کو اب تیس سال ہو چکے ہیں، اس عرصے میں علامہ پر اردوعربی میں مضامین تو بہت لکھے گئی، جرائد ورسائل کے مخصوص نمبرات بھی نکلی،مگر اب تک ان کی حیات اور علمی خدمات پر کوئی مرتب اور مستند کتاب نہیں لکھی گئی۔ یہ برصغیر کی ملت اسلامیہ کے ذمے قرض تھا جو اگر چہ بہت تاخیر سے ادا ہوا، لیکن جس ”حسن ادا“ کے ساتھ اس کی ادائیگی ہوئی ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ تاخیر قابل معافی ہے۔ محترم جناب محمد راشدشیخ صاحب نے جس عزم و حوصلے سے یہ بیڑا اٹھایا اور پھر جس صبر و ثبات کے ساتھ منجدھار میں رہے اور جس خوش اسلوبی سے اس کو پار لگایا، وہ انہی جیسے جواں مردوں کا حصہ ہے۔ فہرست مضامین کتاب کی جامعیت کا انداہ لگانے کے لیے کافی ہی، اور فہرست مراجع و مصادر ان کی محنت کو پکار پکار کر کہہ رہی ہی، پھر جس حسن ترتیب اور تصنیفی سلیقے سے انہوں نے یہ کام انجام دیا ہے اس سے خیال ہوتا ہے کہ جناب محمد ارشد شیخ صاحب علم کے لیے فارغ اور تصنیف و تحقیق کے لیے یکسو ہیں، لیکن یہ سن کر حیرت ہو گی کہ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک سول انجینئر ہیں اور اپنے پیشے سے برابر جڑے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ علم و مطالعے سے گہری وابستگی رکھنا اور تصنیفی و تحقیقی ذوق کو جمع کرنا جمع اضداد سے کم نہیں۔ ہم اس کو ان کے ساتھ اللہ کا خاص فضل سمجھتے ہیں۔ درحقیقت یہ کام ادب عربی کے کسی باذوق طالب علم یا استاد کے کرنے کا تھا، لیکن ان کو اب جناب محمد راشد شیخ صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے یہ فرض کفایہ ان کی طرف سے ادا کر دیا ہے اور حق یہ ہے کہ انہوں نے ان کے سوانح کا حق ادا کر دیا ہے۔ اللہ اس کو نافع بنائے۔“ کتاب سترہ ابواب پر مشتمل ہی، باب اول میں خاندان، ولادت، ابتدائی حالات باب دوم میں قیام دہلی باب سوم میں قیام امروہہ و رام پور باب چہارم قیام پشاور، باب پنجم پہلا قیام لاہور باب ششم قیام علی گڑھ،باب ہفتم قیام کراچی باب ہشتم دوسرا قیام لاہور باب نہم قیام کراچی و حیدرآباد سندھ، باب دہم عربی زبان اور علامہ میمن، باب یاز دہم علامہ میمن و تحقیقی خدمات باب از دہم عادات و خصائل باب سیزدہم تلامذہ باب چہار دہم اعتراف عظمت اور خراج عقیدت باب پنجم علامہ میمن کی نادر تحریریں، باب ششذہم اردو مکاتیب علامہ عبدالعزیز میمن باب ہفدھم مکاتیب بنام علامہ میمن۔ کتاب بڑی محنت اور تحقیق سے لکھی گئی ہے پاکستان سے بھی اس کا نظر ثانی شدہ عنقریب طبع ہو رہا ہے اگر راشد شیخ صاحب کسی یونیورسٹی کو پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ پیش کرتے تو لازماً ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا ہوتی۔"