غزل از ڈاکٹر جاوید جمیل
احباب ادب تسلیمات
میں عام طور پر اپنی غزلیں کسی تمہید کے بغیر ارسال کرتا ہوں- مگر اس غزل کے بارے میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ یہ چھوٹی سے چھوٹی بحر میں غزل کا تجربہ ہے- غزل پیش خدمت ہے-
سچا ہوں کڑوا ہوں
پکّا ہوں میٹھا ہوں
بچا ہوں سچا ہوں
سیدھا ہوں رسوا ہوں
آ جاؤ تنہا ہوں
کیسے سنوں بہرا ہوں
روند مجھے رستہ ہوں خوب ستا تیرا ہوں
بن تیرے میں کیا ہوں
سن بھی لے مزدہ ہوں
دوست ہوں گو کڑوا ہوں اے ساقی پیاسا ہوں
کھل مجھ میں گملا ہوں
تنہا تھا تنہا ہوں
پڑھ جاوید نامہ ہوں Sachcha huN kaRwa huN
pakka huN meeTHa huN
bachcha huN sachcha huN seedha huN ruswa huN
aa jaao tanha huN
kaise sunooN bahra huN
KHoob sata Tera huN
Bin tere main kya huN
sun bhi ley muzda huN
dost huN go kaRwa huN
khil mujh meiN gamla huN
tanha tha tanha huN
paRH javed nama huN |