Urdu Journalism In India On The Third Position

2 views
Skip to first unread message

suhail anjum

unread,
Feb 21, 2012, 1:11:05 AM2/21/12
to bazme qalam, bazme qalam
اردو صحافت : ذرا نم ہو تو یہ مٹی ۔۔۔
سہیل انجم
ہندوستان میں گذشتہ چند برسوں میں میڈیا کے شعبے میں زبردست فروغ ہوا ہے۔ جس میں الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا کا بھی خاطر خواہ حصہ ہے۔ جس طرح ملک میں ٹی وی چینلوں اور بالخصوص نیوز چینلوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح پرنٹ میڈیا یا مطبوعہ صحافت بھی مائل بہ نمو ہے۔ ٹی وی چینلوں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود تعلیم یافتہ طبقہ نے اخبار بینی بند نہیں کی ہے۔ حالانکہ اخباروں کو پہلے جتنا وقت دیا جاتا تھا اب اس میں کمی آئی ہے لیکن اخبار بینی کا سلسلہ جاری ہے۔ البتہ اس کے اوقات میں کمی آگئی ہے۔ اخباربینی کے اوقات میں کمی کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اخبارات کی تعداد میں بھی تخفیف ہوتی اور پرنٹ میڈیا کو زوال ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ سال یعنی 2011میں اخبارات کی تعداد بڑھی ہے۔ ہندی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو اخبارات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں 760 ٹی وی چینل ہیں جن میں چار سو سے زائد نیوز چینل ہیں۔ اس کے باوجود پرنٹ میڈیا میں8.23فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ حیرت انگیز ہے۔ اس میدان میں اردو اخبارات بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
رجسٹریشن آف نیوز پیپرس ان انڈیا (آر این آئی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سال 2010-11 میں اردو اخبارات تعداد کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ ہندی کے اخبار شائع ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد 7910 ہے۔ اور ان کی مجموعی سرکولیشن 15,54,94,770 ہے۔ دوسرے نمبر پر انگریزی ہے، اس کے روزنامہ اخباروں کی تعداد 1406 ہے اور ان کی مجموعی سرکولیشن 5,53,17,184 ہے۔اردو روزنامہ اخبار تیسرے نمبر پر ہیں، ان کی تعداد 938 ہے اور ان کی مجموعی سرکولیشن دو کروڑ سولہ لاکھ انتالیس ہزار دو سو تیس (2,16,39,230) ہے۔چوتھے نمبر پر گجراتی(761) ، پانچویں نمبر پر تیلگو (603) ، چھٹے نمبر پر مراٹھی (521) ساتویں پر بنگالی(472) ، آٹھویں پر اڑیہ (245)، نویں پر کنڑ (200)اور دسویں نمبر پر ملیالم (192) ہیں۔ ملک میں کل رجسٹرڈ اخبارات کی تعدا د 82,237ہے۔ آر این آئی نے 2010میں یعنی 31مارچ2011تک مجموعی طور پر 13,229اخباروں کو منظوری دی۔ (یہ رپورٹ 31مارچ 2011تک محدود ہے)۔ہندی میں سب سے زیادہ32,793اخبار رجسٹرڈ کیے گئے۔ انگریزی دوسرے نمبر پر رہی۔ اس کے رجسٹرڈ اخباروں کی تعداد 11,478رہی۔ اس وقفے میں پورے ملک میں تمام زبانوں کی مجموعی سرکولیشن 32,92,04,841ہے۔ جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ تعداد 30,88,16,563رہی ہے۔ آر این آئی کی اس 55ویں رپورٹ کے مطابق اتر پردیش میں سب سے زیادہ 3,671اخبار شائع ہوتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر دہلی ہے جہاں شائع ہونے والے اخبارات کی تعداد1,933ہے اور تیسرے نمبر پر مدھیہ پردیش ہے جہاں 1234اخبار شائع ہوتے ہیں۔ سرکولیشن کے اعتبار سے بھی اتر پردیش سب سے آگے ہے۔ اس ریاست میں اخباروں کی تعداد اشاعت 6کروڑ 97لاکھ ہے۔ دہلی میں 5کروڑ27لاکھ کاپیاں چھپتی ہیں تو مہاراشٹرا میں 2کروڑ 90لاکھ۔ حیدر آباد سے شائع ہونے والے تیلگو اخبار ’’اناڈو‘‘ کی سرکولیشن سب سے زیادہ 16,74,305ہے۔ یہ سنگل ایڈیشن اخبار ہے۔اس کے بعد چنئی سے شائع ہونے والا روزنامہ ’’ہندو‘‘ ہے جس کی سرکولیشن14,82,658ہے۔ کلکتہ سے شائع ہونے والا بنگالی روزنامہ آنند بازار پتریکا تیسرے نمبر ہے۔مذکورہ سال میں اخباروں کی جانب سے سالانہ اسٹیٹمنٹ بھیجنے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 15جون 2011تک 14508اسٹیٹمنٹ جمع کیے گئے جبکہ اس سے پہلے کے سال میں 13134اسٹیٹمنٹ جمع کیے گئے تھے۔ گویا اس میں 10.46فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
اس رپورٹ سے اردو اخباروں کی تعداد اشاعت کے تعلق سے جو اعداد وشمار سامنے آئے ہیں وہ چونکا دینے والے ہیں۔ کیونکہ اردو زبان کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ زوال پذیر ہے۔ لیکن جو صورت حال سامنے آئی ہے وہ پرکشش بھی ہے اور حوصلہ افزا بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ برسوں میں اردو اخباروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ بھی ایک نا قابل تردید سچائی ہے کہ اخباروں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود قارئین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اخبارات کے ایڈیشن بڑھے ہیں لیکن ان کی اشاعت کم ہوئی ہے۔ اس وقت کئی اردو اخبار ایسے ہیں جو ملٹی ایڈیشن ہیں۔ روزنامہ ’’انقلاب‘‘ اور ’’راشٹریہ سہارا‘‘ کم از کم ایک ایک درجن شہروں سے شائع ہو رہے ہیں۔ ’’اودھ نامہ‘‘اور ’’صحافت‘‘ چار چار شہروں سے نکل رہے ہیں۔ ’’ہمارا سماج‘‘ اور ’’اخبار مشرق‘‘ دو دو شہروں سے۔ اور بھی دوسرے اخبارات ایسے ہیں جو زائد از ایک شہروں سے نکل رہے ہیں۔ ا س روشنی میں دیکھا جائے تو حالیہ دور کو اردو صحافت کا زریں دور کہا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا واقعتاً ایسا ہے؟ اگر اردو زبان اور اس کی موجودہ مجموعی صورت حال کے تناظر میں جواب تلاش کیا جائے تو مایوسی ہوتی ہے۔ اخبارات کی تعداد میں اضافہ کا یہ مطلب نہیں کہ اردو زبان ترقی پر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بیشتر اردو اخبارات مالکوں اور مدیروں کے ذاتی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ ہیں اور کچھ نہیں۔ صرف دارالحکومت دہلی کی بات کی جائے تو یہاں اشتہارات کے سرکاری ادارے ڈی اے وی پی سے رجسٹرڈ اردو اخباروں کی تعداد پچاس سے زائد ہے لیکن مارکیٹ میں محض چار پانچ ہی ہیں۔ دوسرے شہروں میں بھی یہی حالت ہے۔ ابھی چند روز قبل سرکاری ادبی ماہنامہ ’’آجکل‘‘ کے سابق مدیر جناب محبوب الرحمن فاروقی کا ایک مضمون ایک اخبار میں شائع ہوا ہے جس میں انہو ں نے لکھا ہے کہ سرکاری اخبار ’’روزگار سماچار‘‘ جو کہ ہندی اور انگریزی میں لاکھو ں کی تعداد میں شائع ہوتا ہے، اس کے اردو ایڈیشن کی تعداد محض ڈیڑھ سو ہے۔ اسی طرح سرکاری اردو رسالے ’’آجکل‘‘، ’’یوجنا‘‘، ’’سینک سماچار‘‘ ، ’’نیا دور‘‘ اور ’’دہلی‘‘ جیسے رسائل کی تعداد اشاعت کم ہو گئی ہے۔ ان کی اشاعت بڑھانے کی طرف حکومت کوئی توجہ نہیں دیتی۔ جہاں تک پرائیویٹ اخبارات و رسائل کی بات ہے تو ان کی بھی حالت بہت اچھی نہیں ہے۔ متعدد پرائیویٹ ادبی رسائل شاعروں اور ادیبوں کے گوشے شائع کرکے اپنے لیے کچھ مزید سانسوں کا بند وبست کر لیتے ہیں۔ خلیجی ملکوں یا امریکہ اور یوروپی ملکوں میں رہائش پذیر اردو ادبا وشعرا بھی ایسے رسائل کے لیے ’’آکسیجن‘‘ کی فراہمی کرتے ہیں۔ کئی غیر ادبی جریدے ایسے ہیں جن کے مالکان اشتہاروں کے لیے تگ ودو کرتے ہیں اور جب کچھ اشتہارات مل جاتے ہیں تو وہ یکمشت کئی شمارے شائع کر دیتے ہیں۔ کچھ ایک ہی شمارے میں کئی شمارے یکجا کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کئی ہفت روزہ رسالے ایسے ہیں جو صرف خصوصی شمارہ ہی شائع کرتے ہیں۔
تقریباً ایک دو دہائی قبل ایسا کہا جاتا تھا کہ اب اردو صحافیوں کی نئی کھیپ پیدا ہونا بند ہو گئی ہے۔ لیکن مذکورہ حوصلہ شکن صورت حال کے باوجود اردو صحافیوں کی نئی کھیپ پیدا ہو رہی ہے او ر اردو صحافت کے کارواں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ بارہ سال قبل جب ’’روزنامہ راشٹریہ سہارا‘‘ جاری ہوا تھا تو اس میں ایڈیٹوریل میں کام کرنے والے زیادہ تر نئے صحافی تھے۔ اب جو نئے اخبار نکلتے ہیں ان میں نئے صحافیوں ہی کی بھرتی ہوتی ہے۔ البتہ ایڈیٹروں پر کمپیوٹر آپریٹروں کو ترجیح دینے سے صحافت کی کوالٹی گری ہے او رمعیار بھی متاثر ہوا ہے۔ اگر اخبار میں کام کرنے کے لیے کمپیوٹر کا علم ضروی ہو گیا ہے تو نئے اردو اخباروں کو چاہیے کہ اگر وہ پرانے اور تجربہ کار صحافی رکھیں تو ان کو کمپیوٹر کی تربیت دلوائیں۔ اور اگر کمپیوٹر آپریٹروں کو سب ایڈیٹر یا رپورٹر کے طور پر اپائنٹ کرنا ہو تو ان کو ایڈیٹوریل میں کام کرنے کی ٹریننگ دیں۔ لیکن ان باتوں کا لحاظ نہ کرنے کی وجہ سے اردو اخباروں کا معیار گر رہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں بہت سے نئے اردو صحافی میدان صحافت میں آئے ہیں۔ان کی اکثریت مدارس کے فارغین کی ہے۔ جو کھیپ یونیورسٹیوں سے آتی ہے ان میں بھی بیشتر کا بیک گراؤنڈ دینی مدارس کا ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے ان کا ذہنی افق کشادہ ہو جاتا ہے اور وہ کامیاب صحافی کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب اردو صحافت کے ذمہ دارو ں کو زمانے کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ اردو صحافت کے بارے میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک مشن کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ اس کی صداقت پر کسی کو کوئی شبہ نہیں لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور مشن کے خمیر میں بزنس کی مہک ڈالنے کی ضرورت ہے جبھی اردو صحافت کی بقا کے راستے وا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی صحافت کو جذبات کی منڈی بنانے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ قارئین کی جذباتیت کو مشتعل کرنے اور زرد صحافت کو رائج کرنے کی بجائے ان کے اندر تعمیری سوچ پیدا کرنے والی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ مسائل کی نمائندگی کی کوشش میں جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اکثر یہ بات اٹھائی جاتی ہے کہ اردو زبان کا رشتہ روزی روٹی سے منقطع ہو گیا ہے۔ لیکن یہ بات کلی طور پر درست نہیں ہے۔ آر این آئی کی مذکورہ رپورٹ سے یہ معلوم ہوا کہ اس وقت پورے ملک میں اردو کے 938روزنامہ اخبار نکل رہے ہیں۔ جبکہ ہفت روزہ، پندرہ روزہ، ماہنامہ اور سہ ماہی رسائل وجرائد اس سے الگ ہیں۔ اگر روزنامہ سے لے کر سہ ماہی اور شش ماہی جرائد تک کا شمار کیا جائے تو ان کی تعداد ہزاروں میں ہوگی۔ ان میں کام کرنے والے بھی ہوں گے۔ جن کی تعداد ملکی سطح پر یقیناً لاکھوں میں پہنچے گی۔یہ صورت حال مجموعی طور پر صحافت کے زوال کے باوجود بڑی خوش کن ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ اردو صحافت اتنی آسانی سے ختم ہونے والی نہیں ہے۔ جس طرح اردو زبان بہت سخت جان ہے اور لاکھ سازشوں کے باوجود زندہ ہے اسی طرح اردو صحافت بھی نا مساعد حالات کے باوجود زندہ رہے گی اور اردو صحافیوں کی نئی کھیپ سامنے آکر اس کو سہارا دیتی رہے گی۔ 
M-09818195929-09582078862

Mohammed Mahmood

unread,
Feb 21, 2012, 6:02:01 AM2/21/12
to bazme...@googlegroups.com
Dear Suhail Anjum: 

You appear to be too much optimistic about the future of Urdu jounalism in India.  Your optimism is misplaced. Indian Urdu journals is on the decline in terms of quality and content. Circulation figures are deceptive.

These newspapers may survive for the better part of the next 25 years. By the time the post-1945 generation of Urdu speakers passes away Urdu will become a classical language and taught in university departments like Sanskrit, Arabic and Persian. What happened to Milap and Partap when the Urdu-knowing generation of the Punjabi refugees passed away? Then namaskar and bye.

Mohammed Mahmood
Aligarh


From: suhail anjum <s_an...@yahoo.com>
To: bazme qalam <bazme...@gmail.com>; bazme qalam <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Tuesday, February 21, 2012 11:41 AM
Subject: {9595} Urdu Journalism In India On The Third Position

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"


abdulmateen muniri

unread,
Feb 21, 2012, 5:24:39 AM2/21/12
to Bazm E Qalam
ایسا خوبصورت اور معلوماتی مضمون پیش کرنے کا شکریہ


Date: Mon, 20 Feb 2012 22:11:05 -0800
From: s_an...@yahoo.com

Subject: {9595} Urdu Journalism In India On The Third Position

kamran...@sify.com

unread,
Feb 21, 2012, 6:15:14 AM2/21/12
to bazme...@googlegroups.com
Do not discount audio-video media journalism. If Urdu adopts roman script like it does for all filmi posters and banners it will last like rest of languages.

Yes, there may not be good literature and subtle nuances coming any more. So literature will be casualty to great extent.

Mir o Ghalib may just survive not their style ,expression or even language.

As Sahir summarized;
Muflisi hiss e latafat mita deti hai
Bhuk tehzib ke sanchon mein nahin dhal sakti.

If the economic lot of sub-continent Muslims grows so will language as medium of expression. Script may be an issue for some Muslims in near future.
Internet has given lease of life to many languages and URDU will not be an exception to digital logic.
SK Razvi
Sent from BlackBerry® on Airtel

From: Mohammed Mahmood <m.mahm...@yahoo.com>
Date: Tue, 21 Feb 2012 03:02:01 -0800 (PST)
Subject: Re: {9600} Urdu Journalism In India On The Third Position

Huma Muzaffar

unread,
Feb 21, 2012, 6:39:56 AM2/21/12
to bazme...@googlegroups.com
bahut khoob

Huma Muzaffar
0091-11-9810842632

On 2/21/12, kamran...@sify.com <kamran...@sify.com> wrote:
> Do not discount audio-video media journalism. If Urdu adopts roman script
> like it does for all filmi posters and banners it will last like rest of
> languages.
>
> Yes, there may not be good literature and subtle nuances coming any more. So
> literature will be casualty to great extent.
>
> Mir o Ghalib may just survive not their style ,expression or even
> language.
>
> As Sahir summarized;
> Muflisi hiss e latafat mita deti hai
> Bhuk tehzib ke sanchon mein nahin dhal sakti.
>
> If the economic lot of sub-continent Muslims grows so will language as
> medium of expression. Script may be an issue for some Muslims in near
> future.
> Internet has given lease of life to many languages and URDU will not be an
> exception to digital logic.
> SK Razvi
> Sent from BlackBerry® on Airtel
>

Mehfooz Ahmad

unread,
Feb 21, 2012, 7:22:28 AM2/21/12
to bazme...@googlegroups.com
unless new generation of urdu speakers come forward,i dont see a good future for our beloved urdu.do something to promote the language on war footing.this is the only solution.

From: "kamran...@sify.com" <kamran...@sify.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Tuesday, 21 February 2012 4:45 PM
Subject: Re: {9601} Urdu Journalism In India On The Third Position
Do not discount audio-video media journalism. If Urdu adopts roman script like it does for all filmi posters and banners it will last like rest of languages. Yes, there may not be good literature and subtle nuances coming any more. So literature will be casualty to great extent.Mir o Ghalib may just survive not their style ,expression or even language.As Sahir summarized;Muflisi hiss e latafat mita deti haiBhuk tehzib ke sanchon mein nahin dhal sakti.If the economic lot of sub-continent Muslims grows so will language as medium of expression. Script may be an issue for some Muslims in near future.Internet has given lease of life to many languages and URDU will not be an exception to digital logic.SK Razvi
Sent from BlackBerry® on Airtel
From: Mohammed Mahmood <m.mahm...@yahoo.com>
Date: Tue, 21 Feb 2012 03:02:01 -0800 (PST)
Subject: Re: {9600} Urdu Journalism In India On The Third Position

Dear Suhail Anjum: 

You appear to be too much optimistic about the future of Urdu jounalism in India.  Your optimism is misplaced. Indian Urdu journals is on the decline in terms of quality and content. Circulation figures are deceptive.

These newspapers may survive for the better part of the next 25 years. By the time the post-1945 generation of Urdu speakers passes away Urdu will become a classical language and taught in university departments like Sanskrit, Arabic and Persian. What happened to Milap and Partap when the Urdu-knowing generation of the Punjabi refugees passed away? Then namaskar and bye.

Mohammed Mahmood
Aligarh

From: suhail anjum <s_an...@yahoo.com>
To: bazme qalam <bazme...@gmail.com>; bazme qalam <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Tuesday, February 21, 2012 11:41 AM
Subject: {9595} Urdu Journalism In India On The Third Position
اردو صحافت : ذرا نم ہو تو یہ مٹی ۔۔۔
سہیل انجم
ہندوستان میں گذشتہ چند برسوں میں میڈیا کے شعبے میں زبردست فروغ ہوا ہے۔ جس میں الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا کا بھی خاطر خواہ حصہ ہے۔ جس طرح ملک میں ٹی وی چینلوں اور بالخصوص نیوز چینلوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اسی طرح پرنٹ میڈیا یا مطبوعہ صحافت بھی مائل بہ نمو ہے۔ ٹی وی چینلوں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود تعلیم یافتہ طبقہ نے اخبار بینی بند نہیں کی ہے۔ حالانکہ اخباروں کو پہلے جتنا وقت دیا جاتا تھا اب اس میں کمی آئی ہے لیکن اخبار بینی کا سلسلہ جاری ہے۔ البتہ اس کے اوقات میں کمی آگئی ہے۔ اخباربینی کے اوقات میں کمی کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اخبارات کی تعداد میں بھی تخفیف ہوتی اور پرنٹ میڈیا کو زوال ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ سال یعنی 2011میں اخبارات کی تعداد بڑھی ہے۔ ہندی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو اخبارات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں 760 ٹی وی چینل ہیں جن میں چار سو سے زائد نیوز چینل ہیں۔ اس کے باوجود پرنٹ میڈیا میں8.23فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ حیرت انگیز ہے۔ اس میدان میں اردو اخبارات بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
رجسٹریشن آف نیوز پیپرس ان انڈیا (آر این آئی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سال 2010-11 میں اردو اخبارات تعداد کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر رہے ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ ہندی کے اخبار شائع ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد 7910 ہے۔ اور ان کی مجموعی سرکولیشن 15,54,94,770 ہے۔ دوسرے نمبر پر انگریزی ہے، اس کے روزنامہ اخباروں کی تعداد 1406 ہے اور ان کی مجموعی سرکولیشن 5,53,17,184 ہے۔اردو روزنامہ اخبار تیسرے نمبر پر ہیں، ان کی تعداد 938 ہے اور ان کی مجموعی سرکولیشن دو کروڑ سولہ لاکھ انتالیس ہزار دو سو تیس (2,16,39,230) ہے۔چوتھے نمبر پر گجراتی(761) ، پانچویں نمبر پر تیلگو (603) ، چھٹے نمبر پر مراٹھی (521) ساتویں پر بنگالی(472) ، آٹھویں پر اڑیہ (245)، نویں پر کنڑ (200)اور دسویں نمبر پر ملیالم (192) ہیں۔ ملک میں کل رجسٹرڈ اخبارات کی تعدا د 82,237ہے۔ آر این آئی نے 2010میں یعنی 31مارچ2011تک مجموعی طور پر 13,229اخباروں کو منظوری دی۔ (یہ رپورٹ 31مارچ 2011تک محدود ہے)۔ہندی میں سب سے زیادہ32,793اخبار رجسٹرڈ کیے گئے۔ انگریزی دوسرے نمبر پر رہی۔ اس کے رجسٹرڈ اخباروں کی تعداد 11,478رہی۔ اس وقفے میں پورے ملک میں تمام زبانوں کی مجموعی سرکولیشن 32,92,04,841ہے۔ جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ تعداد 30,88,16,563رہی ہے۔ آر این آئی کی اس 55ویں رپورٹ کے مطابق اتر پردیش میں سب سے زیادہ 3,671اخبار شائع ہوتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر دہلی ہے جہاں شائع ہونے والے اخبارات کی تعداد1,933ہے اور تیسرے نمبر پر مدھیہ پردیش ہے جہاں 1234اخبار شائع ہوتے ہیں۔ سرکولیشن کے اعتبار سے بھی اتر پردیش سب سے آگے ہے۔ اس ریاست میں اخباروں کی تعداد اشاعت 6کروڑ 97لاکھ ہے۔ دہلی میں 5کروڑ27لاکھ کاپیاں چھپتی ہیں تو مہاراشٹرا میں 2کروڑ 90لاکھ۔ حیدر آباد سے شائع ہونے والے تیلگو اخبار ’’اناڈو‘‘ کی سرکولیشن سب سے زیادہ 16,74,305ہے۔ یہ سنگل ایڈیشن اخبار ہے۔اس کے بعد چنئی سے شائع ہونے والا روزنامہ ’’ہندو‘‘ ہے جس کی سرکولیشن14,82,658ہے۔ کلکتہ سے شائع ہونے والا بنگالی روزنامہ آنند بازار پتریکا تیسرے نمبر ہے۔مذکورہ سال میں اخباروں کی جانب سے سالانہ اسٹیٹمنٹ بھیجنے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 15جون 2011تک 14508اسٹیٹمنٹ جمع کیے گئے جبکہ اس سے پہلے کے سال میں 13134اسٹیٹمنٹ جمع کیے گئے تھے۔ گویا اس میں 10.46فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
اس رپورٹ سے اردو اخباروں کی تعداد اشاعت کے تعلق سے جو اعداد وشمار سامنے آئے ہیں وہ چونکا دینے والے ہیں۔ کیونکہ اردو زبان کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ زوال پذیر ہے۔ لیکن جو صورت حال سامنے آئی ہے وہ پرکشش بھی ہے اور حوصلہ افزا بھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ برسوں میں اردو اخباروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ بھی ایک نا قابل تردید سچائی ہے کہ اخباروں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود قارئین کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ اخبارات کے ایڈیشن بڑھے ہیں لیکن ان کی اشاعت کم ہوئی ہے۔ اس وقت کئی اردو اخبار ایسے ہیں جو ملٹی ایڈیشن ہیں۔ روزنامہ ’’انقلاب‘‘ اور ’’راشٹریہ سہارا‘‘ کم از کم ایک ایک درجن شہروں سے شائع ہو رہے ہیں۔ ’’اودھ نامہ‘‘اور ’’صحافت‘‘ چار چار شہروں سے نکل رہے ہیں۔ ’’ہمارا سماج‘‘ اور ’’اخبار مشرق‘‘ دو دو شہروں سے۔ اور بھی دوسرے اخبارات ایسے ہیں جو زائد از ایک شہروں سے نکل رہے ہیں۔ ا س روشنی میں دیکھا جائے تو حالیہ دور کو اردو صحافت کا زریں دور کہا جا سکتا ہے۔ لیکن کیا واقعتاً ایسا ہے؟ اگر اردو زبان اور اس کی موجودہ مجموعی صورت حال کے تناظر میں جواب تلاش کیا جائے تو مایوسی ہوتی ہے۔ اخبارات کی تعداد میں اضافہ کا یہ مطلب نہیں کہ اردو زبان ترقی پر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بیشتر اردو اخبارات مالکوں اور مدیروں کے ذاتی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ ہیں اور کچھ نہیں۔ صرف دارالحکومت دہلی کی بات کی جائے تو یہاں اشتہارات کے سرکاری ادارے ڈی اے وی پی سے رجسٹرڈ اردو اخباروں کی تعداد پچاس سے زائد ہے لیکن مارکیٹ میں محض چار پانچ ہی ہیں۔ دوسرے شہروں میں بھی یہی حالت ہے۔ ابھی چند روز قبل سرکاری ادبی ماہنامہ ’’آجکل‘‘ کے سابق مدیر جناب محبوب الرحمن فاروقی کا ایک مضمون ایک اخبار میں شائع ہوا ہے جس میں انہو ں نے لکھا ہے کہ سرکاری اخبار ’’روزگار سماچار‘‘ جو کہ ہندی اور انگریزی میں لاکھو ں کی تعداد میں شائع ہوتا ہے، اس کے اردو ایڈیشن کی تعداد محض ڈیڑھ سو ہے۔ اسی طرح سرکاری اردو رسالے ’’آجکل‘‘، ’’یوجنا‘‘، ’’سینک سماچار‘‘ ، ’’نیا دور‘‘ اور ’’دہلی‘‘ جیسے رسائل کی تعداد اشاعت کم ہو گئی ہے۔ ان کی اشاعت بڑھانے کی طرف حکومت کوئی توجہ نہیں دیتی۔ جہاں تک پرائیویٹ اخبارات و رسائل کی بات ہے تو ان کی بھی حالت بہت اچھی نہیں ہے۔ متعدد پرائیویٹ ادبی رسائل شاعروں اور ادیبوں کے گوشے شائع کرکے اپنے لیے کچھ مزید سانسوں کا بند وبست کر لیتے ہیں۔ خلیجی ملکوں یا امریکہ اور یوروپی ملکوں میں رہائش پذیر اردو ادبا وشعرا بھی ایسے رسائل کے لیے ’’آکسیجن‘‘ کی فراہمی کرتے ہیں۔ کئی غیر ادبی جریدے ایسے ہیں جن کے مالکان اشتہاروں کے لیے تگ ودو کرتے ہیں اور جب کچھ اشتہارات مل جاتے ہیں تو وہ یکمشت کئی شمارے شائع کر دیتے ہیں۔ کچھ ایک ہی شمارے میں کئی شمارے یکجا کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کئی ہفت روزہ رسالے ایسے ہیں جو صرف خصوصی شمارہ ہی شائع کرتے ہیں۔
تقریباً ایک دو دہائی قبل ایسا کہا جاتا تھا کہ اب اردو صحافیوں کی نئی کھیپ پیدا ہونا بند ہو گئی ہے۔ لیکن مذکورہ حوصلہ شکن صورت حال کے باوجود اردو صحافیوں کی نئی کھیپ پیدا ہو رہی ہے او ر اردو صحافت کے کارواں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ بارہ سال قبل جب ’’روزنامہ راشٹریہ سہارا‘‘ جاری ہوا تھا تو اس میں ایڈیٹوریل میں کام کرنے والے زیادہ تر نئے صحافی تھے۔ اب جو نئے اخبار نکلتے ہیں ان میں نئے صحافیوں ہی کی بھرتی ہوتی ہے۔ البتہ ایڈیٹروں پر کمپیوٹر آپریٹروں کو ترجیح دینے سے صحافت کی کوالٹی گری ہے او رمعیار بھی متاثر ہوا ہے۔ اگر اخبار میں کام کرنے کے لیے کمپیوٹر کا علم ضروی ہو گیا ہے تو نئے اردو اخباروں کو چاہیے کہ اگر وہ پرانے اور تجربہ کار صحافی رکھیں تو ان کو کمپیوٹر کی تربیت دلوائیں۔ اور اگر کمپیوٹر آپریٹروں کو سب ایڈیٹر یا رپورٹر کے طور پر اپائنٹ کرنا ہو تو ان کو ایڈیٹوریل میں کام کرنے کی ٹریننگ دیں۔ لیکن ان باتوں کا لحاظ نہ کرنے کی وجہ سے اردو اخباروں کا معیار گر رہا ہے۔ گذشتہ چند برسوں میں بہت سے نئے اردو صحافی میدان صحافت میں آئے ہیں۔ان کی اکثریت مدارس کے فارغین کی ہے۔ جو کھیپ یونیورسٹیوں سے آتی ہے ان میں بھی بیشتر کا بیک گراؤنڈ دینی مدارس کا ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے ان کا ذہنی افق کشادہ ہو جاتا ہے اور وہ کامیاب صحافی کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب اردو صحافت کے ذمہ دارو ں کو زمانے کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔ اردو صحافت کے بارے میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک مشن کے طور پر شروع ہوئی تھی۔ اس کی صداقت پر کسی کو کوئی شبہ نہیں لیکن اب حالات بدل رہے ہیں اور مشن کے خمیر میں بزنس کی مہک ڈالنے کی ضرورت ہے جبھی اردو صحافت کی بقا کے راستے وا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی صحافت کو جذبات کی منڈی بنانے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ قارئین کی جذباتیت کو مشتعل کرنے اور زرد صحافت کو رائج کرنے کی بجائے ان کے اندر تعمیری سوچ پیدا کرنے والی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ مسائل کی نمائندگی کی کوشش میں جذبات سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اکثر یہ بات اٹھائی جاتی ہے کہ اردو زبان کا رشتہ روزی روٹی سے منقطع ہو گیا ہے۔ لیکن یہ بات کلی طور پر درست نہیں ہے۔ آر این آئی کی مذکورہ رپورٹ سے یہ معلوم ہوا کہ اس وقت پورے ملک میں اردو کے 938روزنامہ اخبار نکل رہے ہیں۔ جبکہ ہفت روزہ، پندرہ روزہ، ماہنامہ اور سہ ماہی رسائل وجرائد اس سے الگ ہیں۔ اگر روزنامہ سے لے کر سہ ماہی اور شش ماہی جرائد تک کا شمار کیا جائے تو ان کی تعداد ہزاروں میں ہوگی۔ ان میں کام کرنے والے بھی ہوں گے۔ جن کی تعداد ملکی سطح پر یقیناً لاکھوں میں پہنچے گی۔یہ صورت حال مجموعی طور پر صحافت کے زوال کے باوجود بڑی خوش کن ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ اردو صحافت اتنی آسانی سے ختم ہونے والی نہیں ہے۔ جس طرح اردو زبان بہت سخت جان ہے اور لاکھ سازشوں کے باوجود زندہ ہے اسی طرح اردو صحافت بھی نا مساعد حالات کے باوجود زندہ رہے گی اور اردو صحافیوں کی نئی کھیپ سامنے آکر اس کو سہارا دیتی رہے گی۔ 
M-09818195929-09582078862
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"-- زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/ اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.comسہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.comکمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.comhttp://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/راشد اشرف کی تحریروں کے لیےhttp://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

Shahidul Islam

unread,
Feb 22, 2012, 5:01:21 AM2/22/12
to bazme...@googlegroups.com
محترم سہیل انجم نے اردوصحافت کاجوخوشنماچہرہ دکھایا ہے،اسے یک رخی تو کہاجاسکتاہے مگریکلخت مسترد بھی نہیں کیاجاسکتا۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ اردوصحافت کو جب ہم سرکاری چشمہ لگاکردیکھتے ہیں تو بے نظیر ترقی کااحساس ہوتا ہے مگرجیسے ہی ایک محقق کاعینک لگاکرہم وادئ اردوصحافت میں داخل ہوتے ہیں،خوش فہمیوں کاہمالیہ پہاڑمنہدم ہوجاتاہے اورہم اوندھے منہ زمین پردھم سے آگرتے ہیں اوریہ شعرگنگناکراردوصحافت کا مرثیہ پڑھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں:
برباد صحافت کرنے کو بس ایک ہی الُّو کافی ہے
ہراخبار میں گیانی بیٹھا ہے انجامِ صحافت کیا ہوگا
محترم سہیل انجم نے اردوصحافت کی ایک تصویردکھائی،اس پر احباب اپنے خیالات کامنفی و مثبت اظہار خیال بھی فرمارہے ہیں،اسی تسلسل میں راقم ایک مختصر مقالہ یہاں پیش کررہاہے جو پچھلے 30-31دسمبر2011کوحیدرآباد میں منعقد ہونے والے عالمی اردوایڈیٹرس کانفرنس میں پیش کیاگیاتھا۔امید ہے کہ اس مختصر تحریر کو پڑھنے کے بعد اردوصحافت کی حقیقی تصویرکی ایک جھلک کاقارئین کواندازہ ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔شاہدالاسلام
مقالہ برائے سمینار عالمی اردو ایڈیٹرس کانفرنس
اُردوصحافت۔۔۔مسائل اور موجودہ موقف
*۔۔۔شاہدالاسلام
ہندوستان کی اردو صحافت بیک وقت دومتضاد کیفیتوں سے دوچار ہے۔ ایک طرف محققین وناقدین کاایک طبقہ یہ نتیجہ اخذکررہاہے کہ اردو صحافت موت کے تکلیف دہ عمل سے گزررہی ہے اور آخری ہچکیاں لے رہی ہے وہیں دوسری جانب حکومت ہند کے اعدادوشمارسے اس خیال کی نفی ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ تاثربھی پوری شدت کے ساتھ ابھرتاہے کہ وطن عزیزمیں اردوصحافت کی نشوونماکاعمل پورے عزم و استقلال کے ساتھ جاری ہے۔لہٰذاقبل اس کے کہ عصری اردوصحافت پر گفتگوکے سلسلے کوآگے بڑھایاجائے،یہ ناگزیرمعلوم ہوتاہے کہ حکومت ہند کے اُن اعداد وشمارپر طائرانہ نگاڑدوڑالی جائے جو اردو صحافت کی ترقی کاپیغام پیش کرنے کاباعث بن رہے ہیں اور جن سے یہ نتیجہ بھی اخذ ہوتاہے کہ ملک میں اردو صحافت کا مستقبل خاصاروشن اورتابناک ہے۔
حکومت کی نگاہ سے اردوصحافت کودیکھنے اورسرکاری چشمہ لگاکر موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے سے بلامبالغہ یہی نتیجہ سامنے آتاہے کہ اردوصحافت ترقی کی شاہرہ عظیم پر نہایت برق رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔صرف قومی دارالخلافہ دہلی سے ہی اِس وقت اردو کے47ایسے روزنامہ اردواخبارات شائع ہورہے ہیں جنہیں ڈی اے وی پی پابندی سے اشتہارات دے رہی ہے۔ریاست اتر پردیش سرکاری لحاظ سے اردوصحافت کو سب سے زیادہ سیراب کرانے والی ریاست ہے۔یوپی میں اردوصحافت کو بظاہر گھریلو صنعت کادرجہ حاصل ہوچکاہے کیونکہ یہاں کے تقریباً88اردو روزناموں کوہماری حکومت اشتہارات سے نواز رہی ہے ۔صرف ریاستی راجدھانی لکھنؤ سے ہی34اردوروزنامہ اخبارات شائع ہو رہے ہیں جو یقیناہمیں اورآپ کو خوشی کا سوغات دینے کیلئے کافی کہلا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ آگرہ ‘علی گڑھ ‘اعظم گڑھ ،بارہ بنکی ‘بستی ‘دیوریا‘فیض آباد ‘فتح پور ‘غازی آباد‘گونڈا‘گورکھپور‘ہردوئی‘جون پور‘جھانسی،کانپور‘لکھیم پور کھیری، میرٹھ ‘ مرزاپور‘ مرادآباد‘رائے بریلی‘ رامپور‘ سلطان پور اوروارانسی جیسے چھوٹے بڑے شہروں کی ایک لمبی فہرست ہماے سامنے موجود ہے جہاں سے اردو کے روزنامہ اخبارات پابندئ وقت سے شائع ہورہے ہیں اور اشتہارات کی فراہمی سے متعلق حکومت ہند کاذمہ دارادارہ ان کی کفالت کررہاہے۔
اسی طرح آندھرا پردیش سے15،بہارسے20،جموں و کشمیر سے26،مغربی بنگال سے8،مہاراشٹر،کرناٹک اوراتراکھنڈ سے5-5،مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ سے4-4،پنجاب، ہریانہ، راجستھان،تمل ناڈواورچھتیس گڑھ سے ایک ایک اردوروزنامہ کو ڈائریکٹوریٹ آف اڈورٹائزنگ اینڈویژول پبلی سٹی(ڈی اے وی پی) نے اپنی فہرست میں باضابطہ جگہ دی ہوئی ہے، جنہیں اشتہارات کی ترسیل کی جارہی ہے۔حکومت ہند کے دستاویزات پر نگاہ دوڑانے کے بعد بالعموم اور ڈی اے وی پی کے پینل پر توجہ مرکوز کرنے کے بعد بالخصوص اردو صحافت کے ارتقاء کی جو تصویر ابھرتی ہے،اس سے فرحت کااحساس ہونا فطری بھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عام طورپر اس تاثر کو بڑی شدت کے ساتھ رواج دینے کی کوشش ہورہی ہے کہ ہندوستان میں اردوذرائع ابلاغ کاسفر نہایت کامیابی کے ساتھ آگے کی جانب گامزن ہے!
مگرایک طبقہ یہ سوال بھی کھڑا کررہاہے کہ سرکاری اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر محض اردو اخبارات کی اشاعت کے سلسلے میں بے پناہ اضافہ کو اردوصحافت کی کامیابی کی دلیل قرار دیناکہاں تک درست ہے؟بیشک یہ سوال بھی بجائے خود بحث طلب ہے کیونکہ سرکاری گوشواروں میں حقیقت کاعنصریوں بھی کم شامل ہوا کرتاہے، مبالغہ آرائیوں اور فریب کاریوں کی جلوہ سامانی زیادہ دیکھی جاتی رہی ہے۔
گوکہ حکومت کے اعدادوشمار کی روشنی صرف دہلی سے شائع ہونے والے اردواخبارات کا ہی مجموعی سرکولیشن اکتوبر2010میں 15لاکھ سے بھی زائدتھا،جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق کم از کم50ہزار کا مزید اضافہ درج کرلیاگیاہے لیکن جب ہم اسی دہلی میں قارئین کی حقیقی تعداد جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو تصویر کا دوسرا رُخ موجب تشویش بن کرابھرتا ہے۔
دہلی میں مجموعی طورپر75اخباراتی مراکزہیں جہاں قومی دارالحکومت سے شائع ہونے والے اخبارات کے تقسیم کاروں کی جمعیت(اخباری اصطلاح میں جنہیں سیلزمین کہاجاتاہے) روزانہ علی الصباح اخباروں کی ترسیل کے فرائض انجام دیتی ہے۔ ان مراکز کازمینی سطح پرجائزہ لے کر اردو روزناموں کے سرکولیشن کی بابت حقیقی نوعیت جاننے کی کی کوشش کی گئی تو پتہ یہ چلا کہ میروغالب کے اس گہوارۂ علمی میں تواردوصحافت کاجنازہ تقریباًتیارہوچکاہے اور قارئین کی تشویشناک حد تک کمی واقع ہو چکی ہے جس پرمصلحتاًپردہ ڈالاجاتارہاہے۔
جواہر لال نہرویونیورسٹی کے ہندوستانی زبانوں کے مرکزسے وابستہ ایک تحقیقی مقالہ میں حیرت انگیز انکشاف کے ساتھ یہ بتایاگیا ہے کہ دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ(نام ظاہر کرنا مجھے مناسب معلوم نہیں ہوتا) کی تقسیم سے متعلق تفصیلات کاجواجمالیہ محقق کے ہاتھ آیا، اس کے مطابق دہلی میں اس اخبار کاسرکولیشن محض1060 تھاجبکہ سرکاری سطح پر مذکورہ اخبار کی تعداد اشاعت اکتوبر2010 میں 63704تھی اور یہی اخبار دہلی کادوسرا سب سے بڑا اردو اخباربھی ہواکرتا تھا۔ دستاویزی خاکہ کی روشنی میں اخبارات کے مراکزپر پہنچ کرمحقق کے ذریعہ علاقہ جاتی لحاظ سے اس کی تصدیق کرلینے کے بعد بھلا کیوں کر خوش فہمیوں میں مبتلا ہوا جائے؟یہ سوال توجہ طلب ہے۔خیر مبالغے اور مغالطے کے حصار سے باہر نکل کرذرامفادخصوصی سے کلیتاًآزاد ان اردوخواں خواص کابھی حال جان لیں جو اردو صحافت سے فاصلہ بنائے ہوئے ہیں۔
پچھلے دنوں دہلی کے ایسے50چنندہ افراد سے اخبارات کی خریداری کی بابت سوالات کئے گئے اوریہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ان کے گھروں میں اردو کاکون ساروزنامہ خریداجاتاہے؟ ان منتخبہ افرادکی فہرست میں اردوکے نمائندہ شاعروں، ادیبوں اور استادوں کے علاوہ بزرگ سیاست داں،سینئرآئی پی ایس افسرس،ڈاکٹرس اور انجینئرس کو بھی شامل کیاگیاتھاتاکہ یہ پتہ لگ سکے کہ اردوروزناموں سے دہلی کے عام اردوخواں اشرافیہ کاکیارشتہ ہے؟رجحان جاننے کی یہ کوشش بہرحال اس نتیجہ پر پہنچی کہ اردواخبارات سے باشعور اردوقاری کاتعلق قریب الختم ہے۔50منتخبہ افراد میں10بھی ایسے نہیں جوپابندی کے ساتھ اردواخبارات خریدتے ہیں۔6صاحبان (جن میں ایک محترمہ بھی شامل ہیں)اردواخبار کی پابند قاری ہیں۔4قارئین کارشتہ اردواخبارات سے اس حد تک وابستہ ہے کہ جب انہیں مرضی ہوئی کسی اسٹال سے اخبار خریدلائے(روزانہ نہیں)جبکہ باقیماندہ 40میں سے 31افراد تواردواخبارات بالکل ہی نہیں خریدتے کیونکہ (بقول ان کے)وہ ان کے ذوق سلیم کی تسکین کیلئے ناکافی یا نامناسب ہے۔ 50میں سے9افراد ایسے بھی سامنے آئے جو بعض اوقات اِدھر اُدھرسے(مفت میں) اردو اخبارات حاصل کرتے ہیں جو مستقل ان کی اخبار بینی کا حصہ توہے لیکن وہ بھی اردواخبارات خریدکرپڑھنا بہرحال اسراف مانتے ہیں۔
آخر یہ صورتحال کیوں ہے؟اس پر غالباًغور کرنے کی ضرورت ہے ۔ اردوصحافت کا قریب سے جائزہ لینے والے مشاہدین بہرحال اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ شمالی ہند میں بالعموم اور دہلی میں بالخصوص غیرمعمولی طورپرقارئین کی تعدادمیں کمی واقع ہوجانے کے باوجود حالات مایوس کن نہیں ہیں،کیونکہ قارئین کی تعدادمیں تخفیف کے ساتھ ہی ساتھ مصنوعی قلت بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ صورتحال بالکل واضح ہے۔ایک طرف عام قارئین کی نگاہ میں اردوصحافت ’بے کار‘چیزبن چکی ہے۔مفادخصوصی سے آزاد عام قارئین کی اکثریت کیلئے اردوکے اخبارات خریدنا اور انہیں پڑھنا تضیع اوقات اوراسراف کے زمرے میں ہے تو دوسری جانب دم توڑرہی اردوصحافت مالی بحران کے باعث اپنی شبیہ کو بہتر بنانے اور مخصوص فکری و نظریاتی خول سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہے۔صورتحال یہ ہے کہ اردوروزناموں کے ذمہ داران اوراردو صحافت کواپنے گھروں سے بے دخل کرچکے عام اردوخواں طبقے کے درمیان ایک خاص قسم کی معرکہ آرائی ہے۔ قاری کو جو کچھ چاہئے وہ اردو کے ان اخبارات میں شائع نہیں کئے جاتے جبکہ اس کے برعکس اخبارات میں جو کچھ موجود ہوتاہے اس میں عام اردوقارئین(جواب اردواخبارات خریدنے سے گریزاں ہیں) کی بہت زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی۔ نہ قارئین جھکنے پہ آمادہ ہیں اور نہ ہی اردواخبارات کے مدیران اپنارویہ تبدیل کرنے کے آرزومند۔یہ ایک ایسی کشمکش پر مبنی صورتحال ہے جس سے اردو صحافت اس وقت جوجھ رہی ہے۔اردو صحافت کے معیار کی پستی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ آج اردوکاہر بڑااورصاحب طرزادیب و شاعرجس کی مکمل زندگی اردو سے متعلق رہی ہے،وہ بھی اسے خریدنا گوارا نہیں کرتا۔ حدتو یہ ہے کہ اردو کے ایسے مستند قلمکاربھی اب اردواخبارات خریدنے سے گریز کرنے لگے ہیں جن کی 60-70 سالہ ادبی خدمات کو کسی بھی طرح سے فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ایسے ہی معتبرفنکاروں کی فہرست میں مظہرامام بھی شامل ہیں جنہوں نے ایک ذاتی ملاقات میں خود ہی یہ راز فاش کیا کہ بحیثیت قاری ’اردوصحافت‘ سے انہوں نے اپنے دیرینہ رشتے منقطع کرلئے ہیں ۔مظہرامام جنہوں نے 1940کی دہائی میں کلکتہ سے اپنی عملی زندگی کاآغاز ’صحافت‘ سے ہی کیاتھا،وہ آج اردوکاکوئی اخبار کیوں نہیں خریدتے؟یہ مقام غورطلب ہے!درحقیقت یہ اردوصحافت کی زوال پذیری کی ہی علامت ہے کہ پڑھالکھاہر وہ شخص جس پراردو دنیااظہار تفاخرکرتی ہے،وہ اردو روزناموں کو یاتوخرید کرپڑھتا نہیںیا پھر ظاہری طور پراردو نوازی کا بھرم قائم رکھنے کیلئے کوئی ایک روزنامہ اس وجہ سے اپنے گھر منگواتاہے تاکہ اسے ناقدین نشانہ نہ بنائیں۔معروف شاعرہ بلقیس ظفیرالحسن اردو اخبارکی ایسی ہی سنجیدہ قاری ہیں جنہیں دہلی کے اردو روزنامہ کی جذبات نگاری اور لاابالی پن پسندنہیں لیکن اس کے باوجودمحترمہ ’ایک عدد‘اردواخبار خرید کراردو نوازی کا بھرم قائم کی ہوئی ہیں۔ مظہر امام کابے پروا ہو کر اردو کے اخبارات نہ خرید نااور بلقیس ظفیرالحسن کا ہزار شکایات کے باوجود اردواخبارات سے رشتہ جوڑے رکھنابظاہر دو متضادعلامتیں ہیں۔دونوں ہی علامتیں ایسے طبقے کی نمائندگی کررہی ہیں جن کا اردو زبان و ادب سے اٹوٹ رشتہ ہے ،لیکن دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ اول الذکر طبقے نے اردوصحافت سے دل شکستہ ہوکر اپنا رشتہ توڑلیاہے جبکہ آخرالذکرنے اردونوازی کابھرم رکھنے کیلئے ’ایک عدداخبار‘خریدنا لازم سمجھاہے۔ دونوں کے مابین قدرے مشترک پہلویہ ہے کہ دونوں ہی اردواخبار کی فکری ونظریاتی زوال پذیری سے کبیدہ خاطر ہیں۔
اس صورتحال کے درمیان جب اردوروزناموں کو’خداحافظ‘ کہہ دینے والے قارئین نے اخباربینی کے مذاق کی برقراری کیلئے دیگرزبانوں کے اخبارات کو متبادل کے طور پرخریدنا شروع کردیاتو بھلا اردواخبارات کے ذمہ داران کیوں کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے۔ چنانچہ انہوں نے بھی اپنے وجودکی برقراری کیلئے ایک مخصوص طبقے میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کانسخہ آزمانا لازم سمجھا۔ یوں اردوکے اخبارات جوآزادئ ہند کے بعد نظریاتی لحاظ سے’ مشرف بہ اسلام‘ ہوچکے تھے،انہیں ’مومن کامل ‘بنانے کی کوشش کی جانے لگی۔نتیجہ فطری طور پر یہ برآمدہوا کہ اردواخبارات مذہبی طبقے کے گردطواف کرتے نظرآنے لگے ۔مسلم تنظیموں و قائدین کی ایک بڑی جمعیۃ جنہیں قومی میڈیا سے خاصی شکایتیں اور تحفظات رہی تھیں، انہیں اردوذرائع ابلاغ نے خودسے قریب کرنے کی حکمت عملی اختیارکی ۔دراصل یہ ان کی مجبوری بھی تھی کیونکہ ایسے ستمگرانہ ماحول میں جبکہ اردوصحافت کے ساتھ خودعام اردو خواں طبقے کا بھی رویہ مشفقانہ نہیں رہ گیاتھا، مذہبی طبقوں کاخیال رکھنا اوران کے گلے شکوے کو صحافتی ترجیحات کاجزولازم سمجھ لینا اردوصحافت کوزندہ رکھنے کیلئے ضروری بھی تھا۔ اگرایسا نہیں ہوتاتوعین ممکن تھاکہ جو مٹھی بھرطبقہ آج اردوصحافت کوبہ نظراستحسان دیکھ رہاہے ،اس کے سایۂ عاطفت سے بھی محرومی ہاتھ آتی اورپھر یہ بھی طے تھاکہ جس طرح اردو صحافت فکری و نظریاتی اعتبار سے موت و حیات کی کشمکش میں تادیرمبتلا رہنے کے بعداب عالم نزع میں پہنچ کر صحافتی زندگی کاانوکھا سفرطے کررہی ہے،اسے یہ دوربھی دیکھنے کو نہیں مل پاتااورجاں کنی کاقلیل عرصہ طے کرلینے کے بعد اس کی موت واقع ہوچکی ہوتی۔
شمالی ہند کے اردو اخبارات کے مالکان کی فکری و نظریاتی رویوں پر شدید اعتراض ظاہر کرتے ہوئے آج کے معروف نقاداورکل کے مستند صحافی وہاب اشرفی کہتے ہیں:
’’شمالی ہندمیں اردو اخبارات کو جولوگ چلا رہے ہیں،ان میں اکثر ایسے کاروباری ذہن کے لوگ ہیں جو پشتینی بے ایمان ہیں۔انہیں صحافت کے تقاضوں کو برتنے سے کوئی سروکار نہیں ہے۔اردو صحافت کو ایک خاص نہج پر چلایاجارہاہے۔اکثر خبروں کو ’مسلمان‘ کیاجاتا ہے،یااس کاختنہ کیا جاتاہے۔ آخرکیوں؟ میں یہ سمجھتاہوں کہ یہ احساس کمتری کی ایک بڑی علامت ہے۔ ہندوستان کا طبقہ اشرافیہ انگریزی صحافت سے قریب ہے۔ہندی کو چونکہ حکومت کی براہ راست سرپرستی حاصل ہے اور یہ کہ اس زبان کی تعلیم کابھی خاصا بندوبست ہے لہٰذا ہندی صحافت بھی ترقی کی جانب گامزن ہے لیکن اس کے برعکس اردو صحافت کیلئے جیسی تگ ودو کی جانی چاہئے ،نہیں کی گئی۔مسئلہ دراصل روزی روٹی کاہے۔لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف اردو پڑھ کرہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔میں یہ سمجھتاہوں کہ صرف اردوپڑھ کر بھی اعلیٰ مناسب کا حصول ممکن ہے بشرطیکہ آپ میں صلاحیتیں موجود ہوں۔یہ کاروباری سلسلہ شروع ہوگیا ہے،اس سے اردوصحافت بھی اثرانداز ہوئی۔ اردوصحافت کا کوئی ڈیکورم نہیں ہوسکاہے۔ ایک دو اخبارات کو چھوڑدیاجائے تو اردو صحافت سے جڑے لوگوں کو پیسے بہت ہی معمولی ملتے ہیں۔یہ اردو کاہی قصہ ہے کہ جو اردواخبار کامالک ہوتا ہے وہی خواہ مخواہ کا مدیر بھی ہوتاہے ۔ مختصراًکہ اردوصحافت کی بہت سی خامیاں ہیں۔ ۔۔۔لوگ اردوصحافت کے تعلق سے صرف تاریخ دوہراتے ہیں،الہلال نے کیا کام کیا؟مولانا آزاد کی صحافتی خدمات کیا ہیں؟اس پر تو خاصا کچھ لکھاجاتارہاہے لیکن اس کے برعکس صحافت کے موضوع پر تنقیدی کتاب نہیں لکھی گئی ہے جس کی عصری صحافت کو سخت ضرورت ہے۔ان ساری خامیوں کو دورکرنے کی ضرورت ہے ۔سچ تو یہ بھی ہے کہ اردو صحافت بڑی صحافت کا اٹنڈنٹ بن کر رہ گئی ہے۔یہ پیچھے پیچھے چلنے والی شئے ہے ،آگے بڑھنے والی چیز نہیں ہے۔اس زبان کے پاس کوئی اپنی ایسی خبررساں ایجنسی نہیں ہے جس سے کوئی بڑا صحافی وابستہ ہو اوروہ عالمی معیار کی خبریں بروقت دینے کی اہلیت رکھتی ہو۔بنیادی خامی یہ ہے کہ جو لوگ اردوصحافت کے امام ہیں،وہ صحافتی فکر نہیں رکھتے۔۔۔۔ برلا جیسی کمپنیاں بھی اخبار چلارہی ہیں لیکن ان کا اپنا ایک اسٹرکچرہے،وہ ایک ساخت رکھتی ہیں لیکن اس کے برعکس اردو کے اخبارات کے ذمہ داروں کی حالت یہ ہے کہ وہ اخبار کیلئے کسی بھی بے روزگار کو پکڑلیتے ہیں،ایک عدد کارڈ اسے جاری کردیاگیا۔وہ الٹی سیدھی باتیں لکھ کر صاحبان اخبار کو بھیج دیتاہے جسے شائع کردیا جاتاہے۔۔۔۔یہ نظریہ آزادی کے بعد شمالی ہند میں رواج پاتارہاجس سے اخبارکے مزاج و معیار پر گہرامنفی اثردیکھنے کو ملا۔جنوب میں اس کے برعکس اردوصحافت کو ایمانداری کے ساتھ فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔آج’سیاست‘حیدرآباد کاایک انتہائی مقبول عام اخبار ہے۔اس کے بانی (عابدعلی خاں) نے مجھے خود بتایاتھاکہ انہوں نے اپنی اہلیہ کے زیورات فروخت کرکے’سیاست‘کی بنیاد رکھی تھی۔ ایمانداری کے ساتھ صحافتی تقاضوں کاخیال رکھتے ہوئے اردواخبارات اگر اسی طرح شمالی ہند بشمول دہلی میں جاری کئے جائیں توکوئی وجہ نہیں کہ اردواخبارات ترقی سے ہمکنارنہ ہوں۔ ’سیاست‘کے علاوہ ’انقلاب‘اور ’منصف‘ بھی اس کی بہترین مثالیں ہیں،جنہوں نے ہندوستان کی اردوصحافت کوبلندی بخشنے میں اہم کرداراداکیا ہے۔کہنے کامطلب یہ ہے کہ دہلی سمیت شمالی ہند میں اردوصحافت کونئی زندگی مل سکتی ہے۔بشرطیکہ اخبارات کے مالکان ایماندارہوں،کاروباری ضرورتوں کو سمجھنے کے اہل ہوں اور صحافتی مطالبات کی تکمیل کی صلاحیتیں رکھتے ہوں۔‘‘
بیشک وہاب اشرفی کا لہجہ خاصا کرخت ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان کی کہی گئی باتوں سے بہت زیادہ عدم اتفاق کا جواز بھی موجود نہیں کیونکہ یہ برحق ہے کہ اردو صحافت مسائل کے بحر بے کراں میں غوطہ لگارہی ہے۔ان کی اپنی مجبوریاں ہیں، اردو کشی پرمبنی صورتحال کومسلسل فروغ دیاجارہاہے جس کی وجہ سے اشتہارات کی فراہمی میں بھی نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے۔اخبارات کی ترسیل کی دشواریاں اضافی مصیبت کا پیش خیمہ بنتی چلی جارہی ہیں،کاغذکی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے جس سے اخبارات کی تیاری پر صرفہ بڑھ رہا ہے۔مجموعی اعتبار سے جو صورتحال ابھرتی ہے وہ یہی کہتی ہے کہ واقعی اردواخبارات کااجراء اور اس کی ترسیل کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں،دشواریوں کی فہرست اگر مختصر ہو تواس سے جان چھڑائے جانے کاراستہ اور طریقہ ڈھونڈاجاسکتاتھا مگر یہاں تو مسائل کاایک انبار ہے۔معیاری خبررساں ایجنسیوں کافقدان،اچھے لکھنے والوں کی قلت،اشتہاری سلسلوں میں بخالت، مالی بحران سب سے بڑی مصیبت!!!کسے شمار میں لایاجائے،کس کس کاشکوہ کیاجائے،واقعی نا موافق حالات میں جو لوگ صحافتی ذمہ داریاں نبھارہے ہیں اور اخبارات کی اشاعت و ترویج کا حقیقی معنوں میں بوجھ برداشت کررہے ہیں،وہ مبارکباد کے مستحق ہیں،کیوں کہ اردو اخبارات اس ملک میں دوہری ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ایک طرف صحافت کافریضہ ہے،دوسری جانب ملت غریب کی رہنمائی کانہایت پر خلوص جذبہ!
تحقیق کاروں کو بھلے ہی ملت اسلامیہ ہندکے غم میںآنسو بہانے کی اردو اخبارات کی روایت اچھی نہ لگے ،مگر یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ مابعد آزادی اردو صحافت نے از خودیہ ذمہ داری اپنے اوپرعائد کر لی ہے کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے وہ اپنا سرگرم اور قائدانہ کردار نبھائے۔
قربان علی انڈیانیوزمیں منیجنگ ایڈیٹرہیں۔برسوں اردو صحافت سے وابستہ رہ چکے ہیں اور صحافت کیلئے ضابطہ اخلاق کی پابندی انہیں بہت عزیز ہے۔بی بی سی کی اردو سروس کو خداحافظ کہنے کے بعدموصوف ہندی صحافت سے جڑگئے۔ برقی ذرائع ابلاغ کی غیرذمہ دارانہ روش اوراردوصحافت کے احتجاجی رویے کو وہ ایک ہی نظریے سے دیکھتے ہیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں:
’’اردوصحافت پروفیشنل ازم سے دور ہے۔ہندی اورانگریزی میں بھی یہ صورتحال تھی،لیکن انہوں نے خود کو تبدیل کرلیا۔ ایک زمانہ تھاکہ اردواخبارات کے مدیرکوقوم کالیڈر تصورکیا جاتاتھاکہ صاحب یہ جو مشعل راہ دکھائے گاہم اسی کوقبول کریں گے۔وہ نظریہ آج تک اردوایڈیٹرس میں موجود ہے۔اردو ایڈیٹرس آج بھی خود کو قوم کا رہنما تصور کرتے ہیں۔ان کا یہ موقف ہواکرتاہے کہ ہم جو کہہ رہے ہیں،وہ حرف آخرہے،قوم اسے تسلیم کرے۔ ملک میں جتنے بھی جذباتی ایشوزابھرے ان کوہوادینے میں اردوپریس کابھی بڑارول ہے۔ دہلی میںیہ جذبہ اس وجہ سے زیادہ شدیدہے کیونکہ تقسیم ہند کااثردہلی اور یوپی میں جنوبی ریاستوںیا مہاراشٹر وغیرہ علاقوں کے مقابلے زیادہ ہوا اورمسلم اشرافیہ کی اکثریت ہجرت کرگئی۔۔۔۔میں اس معاملے میں اردو اخبارات کی تعریف کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے سن 1947 کے سانحہ اورقتل و غارت گری کے بعد بھی اردوصحافت کوزندہ رکھا۔یہ یقیناایک معرکہ کاکام تھالیکن یہ اس زمانے کے اردواخبارات کے ذمہ داران کاقائدانہ کردارتھا۔۔۔۔اس وقت شمالی ہندبالخصوص دہلی میں جوسرگرمیاں صحافت کے نام پرانجام پارہی ہیں،انہیں’’صحافت‘‘ قرار دینامشکل ہے۔آج کی اردوصحافت قوم کو مذہب کے نام پر مشوروں سے نوازرہی ہے کہ وہ ان کے بتائے ہوئے راستے پرچلیں۔ پرسنل لا کے معاملے میں’’اردوپریس ‘‘نے وہ واویلامچایاکہ آپ پوچھئے ہی نہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کیلئے ایک مدت سے شوربرپاہے۔بابری مسجدکے ایشو کولے کر ’’اردوپریس ‘‘برسوں کھیلتی رہی۔یہ صحافت ہرگزنہیں۔۔۔۔ ہندی میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ ’’ہر پیشے کاایک دھرم ہوتا ہے‘‘۔ جس طرح انجینئرکاکام انجینئرنگ کے فرائض انجام دینا ہوتاہے،ڈاکٹر کاکام مریضوں کا علاج کرنا ہوتا ہے،ٹھیک اسی طرح اخبار کاکام اطلاعات رسانی ہے۔ڈاکٹرس و انجینئرس جس طرح بلا تفریق مذہب و ملت اپنی خدمات انجام دیتے ہیں،صحافت کیلئے بھی یہ ناگزیر ہے کہ وہ اسی طرح کسی تفریق کے بغیر خبریں اور معلومات فراہم کرائیں لیکن اس کے برعکس کیا ہورہا ہے؟یہ ہم اور آپ سے پوشیدہ نہیں۔بہ حیثیت مجموعی اس خطے میں اردو صحافت یا ٹیلی ویژن چینلوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہوا ہے ،اسے صحافت سے حقیقی معنوں میں کوئی سروکار نہیں۔‘‘
قربان علی کے مذکورہ بالاخیالات سے مرحوم ’’ہجوم ‘‘ کے ایڈیٹرجاویدحبیب اور’’انڈین ایکسپریس ‘‘کی ریزیڈنٹ ایڈیٹر سیماچشتی کو پوری طرح اتفاق نہیں۔جاویدحبیب اردو اخبارات کے احتجاجی کردار کو کسی حدتک درست گرانتے ہیں، حالانکہ وہ عصری اردوصحافت کے موجودہ رویے سے پوری طرح مطمئن بھی نہیں ہیں،جبکہ اس کے برعکس سیماچشتی کاخیال ہے کہ اردواخبارات جس طبقے کی نمائندگی کررہے ہیں،ان کے مسائل کے حوالے سے احتجاجی رویوں کوسمجھنے کی سخت ضرورت ہے۔مجموعی طور پر ہم یہ نتیجہ اخذکرسکتے ہیں کہ اردو صحافت کااحتجاجی کردار کسی حد تک اس طبقے کی اضطراب اور بے چینوں کافطری اظہار ہے،جس طبقے کے وہ ترجمان ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس فطری بہاؤمیں میں کہیں کوئی حد اعتدال کی بھی گنجائش ہونی چاہئے یانہیں؟
معاصرانگریزی روزنامہ ’’انڈین ایکسپریس‘‘(دہلی)کی ریزیڈنٹ ایڈیٹرسیماچشتی 2006 سے مستقل اردواخبارات کاجائزہ لیتی رہی ہیں۔ان کے خیال میں اردوزبان کی موجودہ صورت حال اور اردو خواں آبادی کو نظراندازکرتے ہوئے اردوصحافت کے اسلوب و آہنگ کاجائزہ لینادرست نہیں۔وہ کہتی ہیں:
’’اردواخبارات جس سماج کی نمائندگی کرتے ہیں،اس کاعکس اس پر نمایاں ہے۔ ان میں شائع ہونے والی خبروں،اداریوں اورمضامین کاانداز و آہنگ اور اسالیب بیان بہت زیادہ مایوس کن نہیں۔ان اخبارات کو دیکھتے ہوئے میںیہ نظریہ قائم کرتی ہوں کہ بعض مواقع پریہ اخبارات ایسا رخ ضرور لیتے ہیں،جن سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اخبارکالب ولہجہ درشت ہے اور وہ جذبات کی رو میں بہہ رہے ہیں، لیکن اسے ہم اس معاشرتی سوچ سے الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے جو بعض اوقات سماج میں پائی جاتی ہے۔ فرض کیجئے کہ نوے کی دہائی میں ملک کے کیاحالات تھے، کس طرح کی بے چینی عام طورپرپائی جارہی تھی؟یاپھر دہلی کے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بعد یہاں کی کیا صورتحال تھی؟ ۔۔۔ایسے مواقع پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی جو معاشرتی فکر تھی،اسے اردو کے اخبارات نے ظاہرکیا، لہٰذاہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سماج کی آئینہ دار ی اردواخبارات سماجی تناظرمیں کراتاہے جس کے باعث کبھی کبھی ہمیں یہ گمان گزرتاہے کہ اخبار کا لب ولہجہ نامناسب ہے۔۔۔۔کچھ باتیں اقتصادیات ومعاشیات سے بھی متعلق ہوا کرتی ہیں۔ چونکہ اردو کے اخبارات کی مالی حالت بھی بہت زیادہ اچھی نہیں ہے۔پھریہ بھی ہم دیکھتے ہیں اردوایک طرح سے مسلمانوں کی زبان بن چکی ہے اور وہ بھی ایک خاص دائرے میں سمٹی ہوئی ہے۔یہ بھی نہیں کہاجاسکتا کہ اردو عام مسلمانوں کی زبان ہے۔جن ریاستوں میں اردوکو ثانوی درجہ حاصل ہے،وہاں اردو کی کیاصورتحال ہے؟اسے بھی نگاہ میں رکھناہوگا۔ایسے مایوس کن حالات میں یہ توقع آپ کیسے کرسکتے ہیں کہ اردواخبارات’’نیویارک ٹائمز‘‘کی طرح اپنااسلوب بیان اختیار کریں؟۔۔۔ایک وہ دنیاتھی اردو اخبارات کی ،جب سیاست دانوں کی صبح اسی سے شروع ہوتی تھی،ایک آج کی اردوصحافت کی دنیاہے،جس کاکوئی پرسان حال نہیں ہے۔لہٰذاضرورت اس امرکی ہے کہ بہ حیثیت زبان اردوکی جڑوں کو مضبوطی فراہم کرائی جائے، اس کے بغیر اردوصحافت کااسلوب بیان اوراندازو آہنگ بہترہونے کی توقع فضول ہے۔۔۔۔ویسے اس وقت جو صورتحال ہے اسے مایوس کن تو کہاجاسکتا ہے لیکن اسے بالکل ہی زوال پذیر نہیں گرداناجاسکتا۔‘‘
بے شک اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ اردوصحافت عرصۂ دراز سے ’’مسلم ‘‘طبقے کی ترجمانی کررہی ہے۔وہ بھی اس مسلم طبقے کی ،جومتوسط بھی کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔طبقۂ اشرافیہ کاتعلق تو اردوصحافت سے پوری طرح ختم ہو ہی چکا ہے،شمالی ہند کے برعکس جنوب کی صورتحال اطمینان بخش بھلے ہی ہو مگردہلی،یوپی،بہار،مدھیہ پردیش،جھارکھنڈاور کسی حد تک مغربی بنگال کے متوسط مسلمانوں کی نئی نسل بھی اردو زبان سے تقریباًناآشناہے کیونکہ موجودہ تعلیمی منظرنامہ میں اردو زبان کی تعلیم کیلئے اب وہ گنجائش باقی رکھی ہی نہیں گئی ہے جوپہلے بحیثیت مادری زبان اسے حاصل تھی۔ ایسی صورت میں جو تصویرابھرتی ہے ،وہ یہی ہے کہ غریب مسلمانوں کاصرف وہ طبقہ اردوزبان کو گلے لگائے ہوئے ہے،جس کارشتہ کہیں نہ کہیں اور کبھی نہ کبھی ملک کے مدارس سے جڑا رہاہے۔لہٰذا فطری طورپر ان کی ذہنیت میں مذہبی وابستگی کاایک خاص رجحان نظرآتا ہے جسے روشن خیال طبقے کی زبان میں دقیہ نوسی کہاجاتاہے۔چنانچہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ شمالی ہندکے تقریباًتمام اردو اخبارات اسی طبقے کے احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔مثلاًاگر یہ خبرآتی ہے کہ’’ تسلیمہ نسرین کے ویزہ کی مدت حکومت نے پھر بڑھادی‘‘تو دہلی،یوپی،بہاروغیرہ ریاستوں کے اردواخبارات اس خبر کو نمایاں طورپر شائع تو کرتے ہی ہیں،ساتھ ہی ساتھ موقع گنوائے بغیر فوراًملی تنظیموں اور مدارس اسلامیہ کے ذمہ داروں سے رجو ع کیاجاتا ہے اوران کے’’شدیدردعمل‘‘کو نذرقارئین کرنا اردو اخبارات اپنافرض منصبی سمجھتے ہیں۔چونکہ تسلیمہ نسرین کاوجودبجائے خود شاتم رسولﷺ قرارپاچکاہے،لہٰذامذہبی حلقوں میں مصنفہ کے تئیں کسی بھی طرح کانرم گوشہ موجود ہوہی نہیں سکتا۔نتیجتاًاحتجاج پرمبنی خبریں بہ اہتمام منظرعام پر لائی جاتی ہیں اور اس طرح ایک ایشو کے سامنے آنے کے بعد ہفتہ و عشرہ تک مذمتوں کاایک سیلاب آجاتاہے جس کے بہاؤمیں بہتے ہوئے اردواخبارات سراپا احتجاج بن جاتے ہیں ۔یوں بھی یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ مذہب کے تئیں گہری وابستگی کاایک عام رجحان ہندوستان میں اس طبقے کے درمیان زیادہ شدید ہے،جو زیادہ پسماندہ یا مفلوک الحال ہے۔خواہ اس کاتعلق کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہو۔ لہٰذاہم یہ دیکھتے ہیں کہ اردواخبارات میں مذہب کے تئیں پسماندہ ہندوستانی مسلم معاشرہ میں جوافکاروخیالات پائے جاتے ہیں،ان کی ترجمانی خوب خوب کی جارہی ہے۔ یہ روش اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک کہ اردو اخبارات کے قارئین کی فکرکادائرہ وسیع نہیں ہوجاتا۔ ہمیںیہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ جب تک اردوصحافت ’’پسماندہ مسلم معاشرہ ‘‘کی ترجمانی کرتی رہے گی،احتجاج کی چنگاریاں اسی طرح بھڑکتی ہی رہیں گی۔ کبھی مسلم پرسنل لا خطرے میں نظر آئے گا۔کبھی بابری مسجدکی تعمیرنوکاشوربرپاہوگاتوکبھی یونیورسٹیوں کے اقلیتی کردار کی بحالی کیلئے صدائیں بلند ہوں گی۔ قصہ مختصر یہ کہ احتجاج کی راہ پر نہ چلتے ہوئے اعتدال کی گاڑی پر سوار ہونے کی گنجائش اس وقت تک نظر نہیںآتی جب تک کہ اردوصحافت کم از کم مجموعی طورپرمسلم طبقے کی ترجمان نہ بن جائے۔اگرمتوسط اوراشرافیہ مسلم طبقہ ایک بارپھر اردو صحافت سے اپنابھر پور ربط جوڑ لے اورادب نوازبرادری ماضی کی طرح موثر طریقے سے اردواخبارات کی فکری سرپرستی انجام دینے لگ جائے توپھرسنجیدگی آسکتی ہے اور پھرازخود اردواخبارات کے اس خیال کی بھی نفی ہوسکتی ہے کہ ۔۔۔’’اسلام خطرے میں ہے،ہندوستانی مسلمانوں کاتشخص داؤ پر ہے !!!‘‘
تعداد اشاعت کے مغالطے، مبالغے اور معیارکے حوالے سے کی جانے والی مسلسل انگشت نمائی کے درمیان یہ سوال بھی کھڑاکیاجاتا رہا ہے کہ دہلی سے شائع ہونے والے47اردو روزناموں میں سے کیاکوئی ایک اخبار بھی معیاری لحاظ سے اس لائق ہے جو قومی روزناموں کی ہمسری کے دعوے کرسکے؟یہ بھی دریافت کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے کہ مہاراشٹر کے 5 اردو روزناموں میں چنداستثنائی صورتوں کو چھوڑکرکیابالعموم ’’اردوصحافت کی گاڑی‘‘پٹری سے اتری ہوئی نہیں ہے؟ جنوبی ریاستوں(آندھرا پردیش، تمل ناڈو اورکرناٹک)سے منظرعام پر آنے والے 20اردو روزناموں میں کتنے ایسے ہیں جو اخباری تقاضوں کو نباہتے ہوئے سلیقے اور قرینے کے ساتھ اخبارات کے اجراء کو یقینی بنا رہے ہیں؟بہار سے شائع ہونے والے20اردوروزناموں،یوپی سے چھپنے والے88اردو روزناموں، جھارکھنڈاور مغربی بنگال سے بالترتیب شائع ہونے والے 8,4 اردو روزناموں میں سے کیاکوئی بھی ایک اردو اخبار ایسا ہے جواردو آبادی کی صحافتی ضروریات کی تکمیل کا فریضہ انجام دے رہا ہو؟مدھیہ پردیش ، پنجاب، راجستھان اور ہریانہ جیسی بڑی سے لے کر چھوٹی ریاستوں کے اردواخبارات صحافت کے نام پر محض صفحات سیاہ کرنے میںیقین نہیں رکھتے؟بیشک یہ وہ سوالات ہیں جن پرہمیں بھڑکنا نہیں چاہئے بلکہ سچ تو یہ بھی ہے ان سوالات پر توجہ مرکوز کئے بغیر’ ہندوستان کی عصری اردوصحافت ‘کی حقیقی صورتحال نہ تو سامنے آسکتی ہے اور نہ ہی اردو صحافت کاموجودہ منظرنامہ اپنے حقیقی چہرے کے ساتھ متشکل ہوسکتاہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں اردو صحافت کی دنیا الگ الگ طریقوں سے آباد ہے۔ ہر ایک خطے میں اردوخواں آبادی کی نوعیت بھی مختلف ہے،لہٰذا جغرافیائی لحاظ سے ہر ایک ریاست میں اردوصحافت کی صورت حال دوسرے صوبوں سے مختلف ہے۔اہل زبان کی آبادی،ان کے تقاضوں اور ذوق سلیم کی منفردکیفیتیں بھی علاحدہ علاحدہ صوبوں میں الگ الگ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض خطوں میں اردوصحافت اپنا وجود منوانے میں کسی حد تک کامیاب کہلاسکتی ہے، جہاں اردوصحافت کاارتقائی سفر اردو خواں آبادی کے تعاون و اشتراک سے آگے بڑھ رہا ہے،لیکن بیشترریاستوں میں حالات قطعاًاطمینان بخش نہیں ہیں بلکہ ہم اسے تشویشناک ہی کہہ سکتے ہیں۔خصوصی شمالی ہند کی صورتحال ہرگزہرگزاطمینان بخش نہیں کہلاسکتی۔
اردوصحافت کوفروغ دینے کے نام پر منظرعام پرآنے والے بیشتراخبارات کی موجودہ صورتحال کیاہے؟درحقیقت انہیں کن مصائب ومشکلات کاسامناہے؟ بنیادی مسئلہ کیاہے؟قاری کامسئلہ کیاہے؟ان کے وسائل کس حد تک ہیں؟ زردصحافت سے اردوصحافت کاکیارشتہ ہے؟ خبروں کی فراہمی،پیشکش اور انداز و آہنگ کے لحاظ سے اردوروزناموں کی صورتحال کیا ہے؟کمرشیل اشتہارات کس حد تک ملتے ہیں؟سرکولیشن کامعاملہ کیساہے؟ ہم عصرصحافت سے مقابلے اورموازنے کے بعد اردوصحافت کی کیا شکل سامنے آتی ہے؟جدیدتکنیکی وسائل کو بروئے کارلانے میں اردوصحافت کس حدتک کامیاب ہے؟’حقیقت پسندی‘ کارجحان کس حد تک ’فرقہ پرستی‘کو فروغ دینے کا محرک بن رہاہے؟اردو صحافت نے’خودساختہ‘قفس میں خودکوکس حد تک قید کررکھا ہے ؟صحافتی اقداروآداب اور تقاضوں کی پاسداری کس حد تک کی جارہی ہے؟اردوصحافت کے اسلوب وآہنگ پر اردو زبان کی زوال پذیری کااحساس کس حدتک غالب ہے؟احتجاج واشتعال سے یہ وادی کیوں بھری پڑی ہے؟اخلاقیات کو نباہنے کاخیال بھی ہے آیا نہیں؟یہ وہ سوالات ہیں،جنہیں نظر انداز کرتے ہوئے عصری اردوصحافت کاایماندارانہ طریقے سے جائزہ لیاجانا ممکن ہی نہیں!
اردو صحافت کے موجودہ منظرنامہ سے جو تصویر ابھرتی ہے اس کا قدر مشترک پہلو یہ بھی ہے کہ اردو صحافت میں سرمایہ کاری کا عام طور پررجحان کافور ہے اور چند استثنائی صورتوں کے علاوہ اردو اخبارات کی اشاعت میں ایسے لوگ ہی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جن کیلئے اس وادئ خزاں رسیدہ میں قدم رنجہ ہونا ذاتی آمدنی کے حصول کابہترین وسیلہ ہے و رنہ صحافت کے بنیادی تقا ضوں کو پورا کرنے سے انہیں دورکابھی واسطہ نہیں!۔ بلا شبہ قابل لحاظ تعداد میں اردواخبارات و رسائل کاورودمسعود متواترجاری ہے اور برقی ذرائع ابلاغ کی دنیا میں بھی اردوصحافت کسی نہ کسی شکل میں جگہ بناتی نظرآرہی ہے ،تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بہ حیثیت مجموعی اردو صحافت کی صورت حال تشویش ناک حد تک خراب ہے ۔کہنے کواس وقت ہندوستان میں اردوصحافت خوب پھل پھول رہی ہے اور وطن عزیز کے25 کروڑ مسلمانوں کی ’’ایک مستحکم آواز ‘‘بھی تصورکی جاتی ہے مگرگہرائی میں جاکر دیکھنے سے اس تاثر کی نفی ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ خیال بھی شدت کے ساتھ ابھرتا ہے کہ تقسیم وطن کے بعد اگر کم از کم ہندوستانی مسلمانوں نے ہی اردوصحافت سے اپنے تعلقات کوبرقرار رکھاہوتا توآج اسے جس کس مپرسی کاسامنا ہے،ایسی صورت حال ہرگزہرگزپیش نہ آتی۔
صحافت آج ایک ایسے انسان پسندپیشہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جو ہمہ پہلوعلوم وفنون کااحاطہ کرتے ہوئے قارئین کونہایت جامعیت کے ساتھ صرف اطلاعات ہی فراہم نہیں کراتی بلکہ معاشرے کے ہررکن سے وابستگی رکھتے ہوئے اس کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کاباعث بھی بنتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ 21ویں صدی کے تبدیل شدہ منظر نامہ میں صحافت کی اہمیت مزیددو چند ہوگئی ہے ۔یہ مسلمہ حیثیت اس پیشے کو صرف اس وجہ سے حاصل ہے کیونکہ صحافت کا بذاد خود کوئی مذہب نہیں ہے ۔یہ معززومحترم پیشہ خودکو کسی حصار کی مکین نہیں گردانتا۔جس طرح زبان کاکوئی مذہب نہیں ہوتا، علم وفن کا کوئی دین ودھرم نہیں ہوتا،ٹھیک اسی طرح بذات خود صحافت بھی مذہبی ولسانی حدودوقیودکی کبھی پابند نہیں رہی ۔یہی وجہ ہے کہ انسان سے براہ راست انسانیت کی بنیاد پر سروکار رکھنا اس مقدس پیشے کاجزواعظم قرارپایا۔ صحافت کایہ آزادانہ کرداربالعموم جس طرح بحال نہیں رہ سکاہے،اسی طرح بدقسمتی سے’’اردوصحافت‘‘پربھی اس کا مکمل طورپر اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ ’’اردوصحافت‘‘اس تقاضے کو بوجوہ نبھانے سے قاصر رہی ہے۔
اردوصحافت کے ائمہ نے صحافت کا جو دستورالعمل اور ضابطہ تیارکیاتھا(اور جسے انہوں نے عملی صحافت میں برتتے ہوئے تاریخ میں اردوصحافت کانام روشن کیا)اس میں بھی ایسے ہی محسوسات کااظہار کیاگیاتھاجس کاذکر سطور بالامیں کیاگیا ہے۔لیکن آج اردوصحافت میں عملاًان اصولوں کونہیں برتاجارہاہے۔مولانامحمدعلی جوہرنے کہاتھا کہ وہ اپنے اخبارکوقاری کا’رفیق سفر‘بنانا چاہتے ہیں،آج کی اردوصحافت کے مزاج،انداز،اطواراور ترجیحات کو پیش نظررکھ کر یہ رائے قائم کرنامشکل ہے کہ اردوکے اخبارات قارئین کے’’رفیق سفر‘‘ہیں۔ اصولوں کی پاسداری کے لحاظ سے اردوصحافت اپنے شاندار ماضی کی امین کہلانے کی مستحق ہے؟یہ دعویٰ ہرگزنہیں کیاجاسکتا کیونکہ تغیرزماں کے درمیان ’’اردوصحافت‘‘ہنوز یہ طے نہیں کرسکی ہے کہ اس کاکردارکیاہے؟مشن کے طور پر ’’اردوصحافت‘‘کام کررہی ہے؟یا کاروباری خطوط پر’اردوصحافت‘ کی گاڑی آگے بڑھ رہی ہے؟ عصری اردوصحافت کوپیش نظر رکھ کریہ فیصلہ کرنامشکل ہے۔کیونکہ اردوصحافت کاموجودہ منہاج نہ تومشن سے ہی عبارت ہے اور نہ ہی اس میں’کاروباری ‘ یا’تجارتی‘خصلتیں ہی موجودہیں۔ہرچند کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ اردوصحافت کوہم عصرصحافت کے مدمقابل کھڑاکیاجاسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے بالعموم ایسا نہیں ہوسکاہے۔عصری اردوصحافت کی یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ منفی جذبوں کوبروئے کار لاتے ہوئے قارئین کے جذبات کو برانگیختگی بخشنے کی بجائے مثبت رویوں کو صحافتی ترجیحات میں شامل کیاجائے اور خوابیدہ صلاحیتوں کوجگایاجائے۔ہم عصراردوصحافت کے رگ و ریشے میں تواناخون دوڑانے کیلئے ایک تحریکی ذہنیت کی ضرورت درپیش ہے ۔ صرف پرخلوص جذبوں کے تحت صورتحال میں کوئی انقلابی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی۔اس کیلئے بہترین وسائل کوبروئے کارلاناہوگا،سرمایہ کاری کامستحکم طریقہ اختیارکرناپڑے گا۔ بہترین صحافتی ٹیم تیارکرناہوگی۔فرسودہ نظریات اوردقیانوسی ذہنیت کوترک کرناپڑے گا۔عصری صحافت کی ترقی کے اسرار ورموزسے شناوری حاصل کرنی پڑے گی اورپھراس کی روشنی میں اردوخواں آبادی کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے ترجیحات کاتعین کرناہوگا،تب کہیں جاکر اردوصحافت کی آبرو کی بحالی ممکن ہوسکے گی۔گرچہ یہ ایک مشکل ترین کام ہے لیکن ناممکن ہرگز نہیں۔ اردوقارئین کاایک بڑاطبقہ آج اپنی صحافتی ضروریات کی تکمیل کیلئے صرف اس وجہ سے دیگرزبان کے اخبارات خریدنے پر مجبور ہے کیونکہ اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی اہلیت سے زیادہ تر اردو اخبارات متصف نہیں۔ماحصل کے طورپریہ نتیجہ اخذہوتا ہے کہ امکانات کی موجودگی کے درمیان اردوصحافت ایسے مسیحاؤں کی منتظر ہے جس کاشرمندۂ احسان ہوکریہ صنف ادب اپنی حرمت،عزت، وقاراوراعتبار کودوبارہ بحال کرسکے۔
شاہدالاسلام(ہندوستان ایکسپریس،نئی دہلی)
رابطہ:08802004854/09871719262









Shahidul Islam
News & Web Editor
HINDUSTAN EXPRESS
DELHI-25
CONTACT: 8802004854
web address:


www.dailyhindustanexpress.com
Follow Rediff Deal ho jaye! to get exciting offers in your city everyday.

rahmatullah md

unread,
Feb 22, 2012, 5:20:33 AM2/22/12
to bazme...@googlegroups.com
Bahut Badhiya.

Regards,
Dr M Rahmatullah / News Head / Channel One News / 09818462389



--- On Wed, 2/22/12, Shahidul Islam <shahid...@rediffmail.com> wrote:
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثباتwww.esbaatpublications.com
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com

Mohammed Mahmood

unread,
Feb 22, 2012, 6:53:26 AM2/22/12
to bazme...@googlegroups.com
If you can't produce a new generation capable of reading Urdu books,journals and newspapers Urdu will die its natural death, say during the next quarter century.
Official policy of distributing money through Urdu academies and giving petty ads to petty or fake Urdu papers cannot ensure the survival of Urdu.

Mohammed Mahmood
Aligarh


From: Shahidul Islam <shahid...@rediffmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Wednesday, February 22, 2012 3:31 PM
Subject: Re: Re: {9640} Urdu Journalism In India On The Third Position

S A Hannan

unread,
Feb 22, 2012, 8:44:17 AM2/22/12
to bazme...@googlegroups.com

Dear sirs,

 

If even ten percent of Muslim population of India, apart from magnanimous Hindus ,supports Urdu, it can survive. All efforts should be made in this regard. I learnt Urdu in my school days and I read Urdu material also regularly. It is a great language, very rich in words.It has produced many great writers.

Shah Abdul Hannan

Dhaka.

 


’’اردواخبارات جس سماج کی نمائندگی کرتے ہیں،اس کاعکس اس پر نمایاں ہے۔ ان میں شائع ہونے والی خبروں،اداریوں اورمضامین کاانداز و آہنگ اور اسالیب بیان بہت زیادہ مایوس کن نہیں۔ان اخبارات کو دیکھتے ہوئے میںیہ نظریہ قائم کرتی ہوں کہ بعض مواقع پریہ اخبارات ایسا رخ ضرور لیتے ہیں،جن سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اخبارکالب ولہجہ درشت ہے اور وہ جذبات کی رو میں بہہ رہے ہیں، لیکن اسے ہم اس معاشرتی سوچ سے الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے جو بعض اوقات سماج میں پائی جاتی ہے۔ فرض کیجئے کہ نوے کی دہائی میں ملک کے کیاحالات تھے، کس طرح کی بے چینی عام طورپرپائی جارہی تھی؟یاپھر دہلی کے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بعد یہاں کی کیا صورتحال تھی؟ ۔۔۔ایسے مواقع پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی جو معاشرتی فکر تھی،اسے اردو کے اخبارات نے D

Azmat Sharif

unread,
Feb 22, 2012, 10:19:55 PM2/22/12
to bazme...@googlegroups.com
Assalam u alykum wa rahmatullahi wa barakathuh,

MANY NEED URDU SIMPLY TO PRESERVE THEIR DEEN.
THATS WHY THE EXTREMISTS KILLED URDU. WHEN THEY WROTE THE CONSTITUTION.
THEY WANT ISLAM TO DISAPPEAR AND MUSLIMS TO LEAVE OR BECOME THE LOWEST CLASS PEOPLE
WE SHOULD HAVE OPPOSED STRONGLY THE ELIMINATION OF URDU WHEN THE CONSTITUTION  WAS WRITTEN.  HINDI HAD NO POPULARITY AT THE TIME. HINDUS, MUSLIMS AND SIKHS HAD ONLY ONE LANGUAGE IN COMMON, URDU.  WE LOST BECAUSE WE DID NOT PREPARE FOR  ANYTHING IN ADVANCE.
WE ALWAYS HAVE AN OPEN FIELD FOR THE EXTREMIST COMMUNAL ELEMENTS.
IT IS TIME TO LEARN AND DO WHATEVER IT TAKES TO PRESERVE URDU.  I AGREE THAT IF THERE IS NO TEACHING OF URDU, URDU WILL BECOME WHAT LATIN IS TODAY.  IT IS NO ONE'S FAULT BUT OURS.  THIS BATTLE MUST BE WON. IT IS THE SURVIVAL OF ISLAM IN THE SUBCONTINENT.  DO NOT COUNT ON PAKISTAN TO DO ANYTHING FOR  URDU. THEY HAVE JUST CONVERTED ALL SCHOOLS INTO ENGLISH MEDIUM.  SO MUCH FOR THEIR CONTRIBUTION.

--- On Wed, 2/22/12, S A Hannan <saha...@sonarbangladesh.com> wrote:

From: S A Hannan <saha...@sonarbangladesh.com>
Subject: RE: Re: {9656} Urdu Journalism In India On The Third Position
To: bazme...@googlegroups.com
Date: Wednesday, February 22, 2012, 8:44 AM

Dear sirs,

 

If even ten percent of Muslim population of India , apart from magnanimous Hindus ,supports Urdu, it can survive. All efforts should be made in this regard. I learnt Urdu in my school days and I read Urdu material also regularly. It is a great language, very rich in words.It has produced many great writers.

--

Syedmuhammad Pasha

unread,
Feb 22, 2012, 10:29:59 PM2/22/12
to bazme...@googlegroups.com
NA SAMJHOGAY AYE URDU KAY PARWANOO
THUMHARI DAASTHAN THAKH BHEE NA HOAGEE URDU KAY DASTHOAN MAY
S.M.PASHA
AN URDU LOVER & FREE LANCE JOURNALIST


From: Azmat Sharif <abr...@yahoo.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Thursday, February 23, 2012 8:54 AM
Subject: RE: Re: {9660} Urdu Journalism In India On The Third Position

----- Forwarded Message -----

Assalam u alykum wa rahmatullahi wa barakathuh,

MANY NEED URDU SIMPLY TO PRESERVE THEIR DEEN.
THATS WHY THE EXTREMISTS KILLED URDU. WHEN THEY WROTE THE CONSTITUTION.
THEY WANT ISLAM TO DISAPPEAR AND MUSLIMS TO LEAVE OR BECOME THE LOWEST CLASS PEOPLE
WE SHOULD HAVE OPPOSED STRONGLY THE ELIMINATION OF URDU WHEN THE CONSTITUTION  WAS WRITTEN.  HINDI HAD NO POPULARITY AT THE TIME. HINDUS, MUSLIMS AND SIKHS HAD ONLY ONE LANGUAGE IN COMMON, URDU.  WE LOST BECAUSE WE DID NOT PREPARE FOR  ANYTHING IN ADVANCE.
WE ALWAYS HAVE AN OPEN FIELD FOR THE EXTREMIST COMMUNAL ELEMENTS.
IT IS TIME TO LEARN AND DO WHATEVER IT TAKES TO PRESERVE URDU.  I AGREE THAT IF THERE IS NO TEACHING OF URDU, URDU WILL BECOME WHAT LATIN IS TODAY.  IT IS NO ONE'S FAULT BUT OURS.  THIS BATTLE MUST BE WON. IT IS THE SURVIVAL OF ISLAM IN THE SUBCONTINENT.  DO NOT COUNT ON PAKISTAN TO DO ANYTHING FOR  URDU. THEY HAVE JUST CONVERTED ALL SCHOOLS INTO ENGLISH MEDIUM.  SO MUCH FOR THEIR CONTRIBUTION.

--- On Wed, 2/22/12, S A Hannan <saha...@sonarbangladesh.com> wrote:

From: S A Hannan <saha...@sonarbangladesh.com>
Subject: RE: Re: {9656} Urdu Journalism In India On The Third Position
To: bazme...@googlegroups.com
Date: Wednesday, February 22, 2012, 8:44 AM

Dear sirs,
 
If even ten percent of Muslim population of India , apart from magnanimous Hindus ,supports Urdu, it can survive. All efforts should be made in this regard. I learnt Urdu in my school days and I read Urdu material also regularly. It is a great language, very rich in words.It has produced many great writers.

Mohammed Mahmood

unread,
Feb 23, 2012, 7:22:34 AM2/23/12
to bazme...@googlegroups.com
This is with reference to Mr Azmath's observation that because some people need Urdu to save their religion the Constitution-makers killed the Urdu language.

He should know that after partition the Gandhi-Nehru formula of Hindustani written in both Nagari and Farsi scripts became redundant. Hindi in Devanagari was declared to be official language of the Indian Union. The only concession made to Urdu, at the instance of Pandit Jawaharlal Nehru, was its inclusion in the VIII Schedule of the Indian Constitution, which could be drawn upon for the development of the official language.

It's a pity that a linguistic minority spread throughout India has not been given its due rights even after 63 years of independence.

Mohammed Mahmood
Aligarh 


From: Azmat Sharif <abr...@yahoo.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Thursday, February 23, 2012 8:49 AM
Subject: RE: Re: {9660} Urdu Journalism In India On The Third Position

Mohammed Mahmood

unread,
Feb 23, 2012, 7:28:42 AM2/23/12
to bazme...@googlegroups.com
Dear SM Pasha: Your lament over the fate of Urdu is justified. But emulate only one example--the Hebrew speakers. Although they were expelled from their land and dispersed in Europe they continued to preserve their language and today Hebrew is not a dead language like Greek and Latin but a living and flourishing language of the Jewish colony of Israel.

Mohammed Mahmood
Aligarh


From: Syedmuhammad Pasha <syedmuha...@yahoo.com>
To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Thursday, February 23, 2012 8:59 AM
Subject: Re: Re: {9668} Urdu Journalism In India On The Third Position

Syed Qamar Hasan

unread,
Feb 23, 2012, 8:44:04 AM2/23/12
to bazme...@googlegroups.com, bazme...@googlegroups.com
Motheraman.
Where is the connection between deem/Islam/faith and Urdu. We have erroneously made Urdu as passage to Islam/seen . Arabic should have been the major means of understanding the tenets of Islam. Our ulema,and 
our madarsas have failed in this respect. Urdu at the most was the language  of the people of certain period of time in history,not confined to any religion or faith. This was be because it was the language of the ruling elite.Now HIndi is the languages of the ruling elite of a large part of the country. Where other cultures are prevailing , like in the south. They have their language playing major role in all aspects of social, cultural,political life.As long as Urdu will be made to appear as a symbol of religion, it is bound to suffer. It must be made to be a cultural and social medium of expression.
S.Qamar Hasan
Sent from my iPhone
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages