To:
BAZMe...@googlegroups.comFrom:
BAZMe...@googlegroups.comSubject: {5844} Digest for
BAZMe...@googlegroups.com - 25 Messages in 19 Topics
Date: Thu, 15 Sep 2011 05:28:30 +0000
Group:
http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
TSidd...@aol.com Sep 14 09:46PM -0400
^
ASA
Congratulations Javed Bhai,
Both these couplets are extremely beautiful and highly ideological in
concept.
Shamim
In a message dated 9/14/2011 9:22:00 P.M. Eastern Daylight Time,
doctor...@yahoo.com writes:
اچّھا ہوا کہ بیچ کی دیوار گر گئی
آؤ دعا کریں یہ کبھی پھر کھڑی نہ ہو
منزل کی جستجو میں نکلنا فضول ہے
دل میں اگر جنوں نہ ہو دیوانگی نہ ہو
Bakhtiar Ahmad Sheikh <bakhtia...@hotmail.com> Sep 15 04:55AM +0600
^
cKindly help me in decoding the word "SHUROOAAT" used by Mr. Asif Jilani in his essay. I wonder whether it is Urdu or its distortion. I request to also specify the gender, singular/plural of this word. Moreover, what about those Urdu writers, journalists, speakers, anchors etc. who use word "AWAAM" in feminine gender? What about the use of "JAB KEH" by news reporters? I am afraid Urdu is being massacred by all and sundry.Bakhtiar Ahmed
Date: Tue, 13 Sep 2011 13:57:33 +0530
Subject: Re: {5802} اردو زبان کو مسخ کرنے میں اخبارات کا کردار
From: raeesam...@gmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
اردو زبان کو مسخ کرنے میں اخبارات کے کردار سے زیادہ ماحول اور گھر ہیں ۔ آپ خود دیکھئے کہ لوگ بات اردو کی کرتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو انگریزی ذریعہ تعلیم کے اسکولوں میں داخلے کے لئے حیران و پریشان ہوتے ہیں۔ پھر اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ گھروں میں اردو کا ناطقہ بند ہوجاتا ہے ، یعنی اگر بالفرض اردو اخبارات آتے بھی ہوں تو ’’بچوں کی خوشی اور سہولت‘‘ کے لئے انگریزی اخبارات منگوائے جاتے ہیں ، اس کو اسٹیٹس بھی سمجھا جاتا ہے ، ۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اردو داں افراد بھی رفتہ رفتہ عام بول چال میں انگریزی کا استعمال کرنے لگتے ہیں ، مثلاً جاہل ماں
بھی بچے کو کسی چیز کے لئے مناتی ہے تو ’’پلیز‘‘ کا استعمال کرنے لگتی ہے ۔ کسی بھی زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے جتنے ذمے دار اخبارات ہیں اتنے ہی قاری بھی ہیں ۔ اب تو یہ حال ہے کہ اردو اخبارات میں کہیں کوئی جملہ فصیح و بلیغ ہوجاتا ہے تو قارئین شکایت کرتے ہیں کہ آپ کے اخبار کی زبان بہت مشکل ہے ۔ پھر آپ ٹیلی ویژن اور فلموں کو کیوں بھول رہے ہیں جہاں زبان کی ایسی تیسی ہورہی ہے ، ٹی وی سیریئلوں میں اردو کم انگریزی زیادہ نظر آتی ہے ، غالب گالب بن گئے ہیں اور قتیل شفائی، قاتل سپاہی ۔ اس لئے صرف اخبارات کو موردِ الزام ٹھہرانا ، اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف
ہوگا ۔
2011/9/12 anis deen <anis...@yahoo.com>
Khadim ali Hashmi sahab assalam o Alaikum Wa Rahmatullahi Wa Barkata-hu
main urdu ka ek adna khadim hoon. aasif Jilani sahab ka fikar angez mazmoon "اردو زبان کو مسخ کرنے میں Agar pdf mein ho to irsal karen nawazish hogi. unicode word document mein copy-paste nahin hota. aap rahnumee karen. jazakallah
اخبارات کا کردار
Anees Aaftab Anis...@yahoo.com BSNL, khamgaon 444303 india
From: Khadim Ali Hashmi <alikhad...@yahoo.com>
To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Sunday, 11 September 2011 10:14 AM
Subject: Re: {5740} ساغر، شیشے، لعل و گوہر سے
آصف جیلانی صاحب کا فکرانگیز مضمون توجہ طلب ہے۔ میں ایک معلم کی حیثیت سے اس ڈرامے کا عینی شاہد ہوں جس میں انگریزی کے الفاظ کو اردو میں دخیل کیا گیا۔ اصل غلطی اس وقت ہوئی جب مغربی پاکستان میں سرکاری طور پر درسی کتب تیار کرکے ایک ہی کتاب ملک بھر میں رائج کر دی گئی۔ اس کے دو اہداف بیان کیے گئے: اول تو یہ دعوی کیا گیا کہ طلبہ کو سستی اور معیاری کتب فراہم ہوں گی؛ دوم یہ کہ معیار تعلیم یکساں اور اونچا ہو گا۔ہر دو خواہشات بظاہر نیک تھیں، مگر بیوروکریسی کا کام کرنے کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے۔ چنانچہ عملا صورت حال یہ ہوئی کہ درسی کتب کے سرکاری ادارے[ٹیکسٹ بک بورڈ]
میں متعین افراد جو کتابوں کی تیاری کے ذمہ دار تھے اور سرکاری عہدے کی بنا پر اچانک "مصنف" اور "مدیر" بن بیٹھے، کا اپنا غالبا اردو میں چند سطریں بھی لکھنے کا تجربہ نہ تھا۔ میں سائنس اور ریاضی کی کتب کی تدوین کی بات کر رہا ہوں۔ چنانچہ ان "مصنفین" و "مرتبین" نے انگریزی کی اصطلاحات کے علاوہ عام الفاظ بھی لکھنے شروع کر دیے۔ ایک مثال دینا کافی ہوگا کہ 1970ء کی دہائی میں جماعت چہارم کی سائنس کی کتاب جسے میٹرک پاس استاد پڑھا تا تھا، میں انگریزی رسم الخط میں
verteberate
کا لفظ بغیر کسی وضاحت کے درج کر دیا گیا۔ پاکستان بننے کے وقت اور سرکاری کتب کی تیاری تک ریاضی میں مساوات دائیں سے بائیں لکھی جاتی تھیں اور یہ عمل دسویں جماعت تک تھا، بعد کی جماعتوں میں البتہ انگریزی ذریعہ تعلیم ہی تھا۔ نئے نظام میں یہ سلسلہ سراسر موقوف کر دیا گیا اور ریاضی کی مساوات انگریزی رسم الخط کی مانند بائیں سے دائیں جانب لکھی جانے لگیں۔
اس کے بعد تو انگریزی کے الفاظ کو بطور فیشن اردو کی تحریروں میں دخیل کیا جانے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جامعہ پنجاب، جامعہ کراچی اور دیگر اداروں کی کاوشیں جن میں جامعہ عثمانیہ کا کلیدی کردار تھا،یکسر موقوف ہوگئیں اور جن لوگوں نے اور اداروں نے عمر بھر اردو کی خدمت کا بیڑا اٹھائے رکھنے کا عزم کیا ہوا تھا، ان کی جملہ مساعی حرف غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔
جب اس نظام سے پڑھ کر کوئی بچہ میدان عمل میں آئے گا تو خواہ وہ صحافت میں جائے یا کسی اور میدان میں ، اس سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟
جناب آصف جیلانی صاحب یقینا یہ بات سن کر محظوظ ہوں گے کہ ایک جامعہ کا دورہ کرتے ہوئے جامعہ کے چانسلر صاحب جب شعبہ اردو میں پہنچے اور انہوں نے کسی استاد کو لیکچر دیتے سنا تو حیران ہو کر بولے "آپ کے یہاں تدریس اردو میں ہوتی ہے؟" یعنی روشن خیال ترقی پسند پاکستان میں اردو کا کیا کام۔
لہذا خرابی صحافت میں نہیں طریقہ تعلیم میں ہوئی جس نے پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
خادم علی ہاشمی
From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com>
Cc: suhail anwar <suha...@yahoo.co.uk>; arif.waqar <arif....@gmail.com>; anwer....@bbc.co.uk
Sent: Sunday, September 11, 2011 6:04 AM
Subject: {5736} ساغر، شیشے، لعل و گوہر سے
تم ناحق شیشے چن چن کر!
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو
سب ساغر، شیشے، لعل و گوہر
اس بازی میں بَد جاتے ہیں
اُٹھو سب خالی ہاتھوں کو
اس رَن سے بلاوے آتے ہیں
یوں تو فیض احمد فیض دہائی دے گئے ہیں کہ " شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں" لیکن شیشوں کا ایک قدردان ایسا بھی ہے جو کبھی موج میں آتا ہے تو ایک بکھرا شیشہ چن کر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے
جی ہاں، یہ سہیل انور صاحب ہیں جو جناب آصف جیلانی کی کتاب "ساغر، شیشے، لعل و گوہر" پر فدا ہیں۔ اردو سے محبت کرتے ہیں لہذا انتخاب ہماری طرح کا نہیں کرتے کہ اسکین کر اور بزم میں لا سجایا۔ یہ خود ہی ٹائپ کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ان پیج فائل کو یونی کوڈ میں تبدیل کرنے کا کام البتہ یہ ہمیں سونپ دیتے ہیں، کبھی یہ تفاضا بھی نہیں کرتے کہ ان کا نام کہیں آنا چاہیے!
دل تو باد صبا کی مانند ہے، جس طرف بھی چل پڑے!
یہ بکھرے مضامین یوں کارگر ہوئے کہ خامہ کش ہمہ وقت ان میں غرق ہے
زیر نظر مضمون "اردو زبان کو مسخ کرنے میں اخبارات کا کردار
" موضوع کے اعتبار سے بہت اہم ہے ---- اصل مدعا بین السطور مستور ہے!
زبان کی غلطی کس سے نہیں ہوتی لیکن اب تو یہ عالم ہے کہ بی بی سی ریڈیو سے خبریں سنتے ہوئے اکثر لوگ بیزار ہوکر ریڈیو ہی بند کردیتے ہیں، وہم و گمان میں بھی نہ تھا تلفظ کی ایسی اغلاط اس ادارے سے سننے کو ملیں گی جس کو سنوارنے میں رضا علی عابدی صاحب جیسے لوگوں کا ہاتھ ہے۔
لیجیے اس پر ایک لطیفہ یاد آگیا، خامہ بگوش پر ان دنوں کام کررہا ہوں لہذا ذہن میں ہمہ وقت انہی کی باتیں رہتی ہیں۔ لکھتے ہیں:
"مجروح سلطان پوری اردو شاعری کی صحت مند روایات کے امین اور زبان و بیان کے معاملے میں درجہ استناد رکھتے ہیں لیکن ان کے حالیہ انٹرویو میں معاملہ برعکس نظر آتا ہے۔ چند جملے بطور نمونہ کلام پیش کیے جاتے ہیں:
’’ فلموں کا معیار اتنا کمرشلائزڈ ہوگیا ہے کہ انہوں نے ہیومن ریسپانسیبیلٹی کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ پوئٹری اور میوزک کا فرق ہمیشہ رہے گا۔ ہمارا ملک چونکہ بڑا ملک ہے۔مختلف سبجکٹ ہیں، اس وجہ سے ورائٹی ہمارے ہاں زیادہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کے اندر سیلف ریسپکٹ پیدا ہو۔ کوالٹی اور کوانٹٹی دونوں ہوں۔‘‘
اتنی زیادہ انگریزی جناب مجروح سلطان پوری کی زبان سے اچھی نہیں لگتی۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں جدیدیے مجروح صاحب کو پیروی میں
WOUNDED
سلطان پوری نہ کہنے لگیں۔"
مضمون پیش خدمت ہے:
آصف جیلانی
اردو زبان کو مسخ کرنے میں اخبارات کا کردار
اردو ادب اور صحافت کا اوائل ہی سے ایک دوسرے کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ رہا ہے اور بلاشبہ اردو زبان کی ترقی اور فروغ میں اردو اخبارات کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ اسی زمانہ میں جب کہ اردو زبان کم سنی کے عہد سے نکل کر بلوغت کی شعوری منزلوں کو چھو رہی تھی اردو صحافت کا آغاز ہوا تھا۔ یہ انیسویں صدی کا اوائیلی دور تھا۔ کلکتہ سے مارچ سن اٹھارہ سو بائیس میں شایع ہونے والا جام جہاں نما بر صغیر کا اردو کا پہلا ہفت روزہ اخبار تھا۔ اس کے بعد اٹھارہ سو چھتیس کے آس پاس محمدباقر صاحب نے دلی سے اردو اخبار نکالا اور اکبر آباد سے منشی سدا سکھ لال کی سرپرستی میں اخبار نورالبصار
نکلا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بر صغیر میں اردو نثر کی ترقی کے لئے شعوری اقدامات کئے جارہے تھے اور اردو کتابوں کے لئے چھاپے خانے قائم ہورہے تھے ۔ اردو طباعت کے شعبہ میں یہ انقلاب اردو صحافت کی ترقی کا نقیب ثابت ہوا اوریہ حقیقت ہے کہ اردو صحافت نے اپنے اوائل ہی سے اردو ادب اور اردو ادیبوں کو عوام سے روشناس کرایا اور یہ مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ اردو ادب صحافت ہی کے ذریعہ عوام میں مقبول ہوااور پروان چڑھا۔
اردو شاعری کے بارے میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے جو فروغ ہوا اور عوام میں جو مقبولیت حاصل ہوئی اس میں شاہی درباروں۔‘ نوابوں کے ڈیروں اور مشاعروں کی پرانی روایت کا بڑا ہاتھ تھا لیکن اردو نثر کی ترقی خالصتاً صحافت کی مرہون منت رہی ہے۔
مولانا محمد علی جوہر کے ہمدرد ‘ سرسید کے رسالے تہذیب الاخلاق ‘ مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار الہلال او ر البلاغ‘ بنارس کے اردو اخبار آوازہ اخلاق ‘ کانپور کے زمانہ ‘ حسرت موہانی کے رسالہ اردوئے معلی اور امتیاز علی تاج کے کہکشاں اور مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار نے اردو شاعری کے فروغ کے ساتھ نثر کی ترقی اور ترویج میں جو اہم حصہ ادا کیا ہے وہ اردو ادب کی تاریخ کے لئے قابل فخر ہے۔
سر سید نے تہذیب الاخلاق کے ذریعہ اردو کے ادیبوں کی ایک کہکشاں سجائی تھی جس میں مولانا حالی‘ مولانا شبلی‘ ڈپٹی نذیر احمد‘ ذکا اللہ خان ‘ محسن الملک اور چراخ علی نمایاں ہیں۔
سر سید نے مولانا حالی کو مسدس لکھنے کی ترغیب دی تھی اور اس کو مقبول عام کرنے کے لئے انہوں نے اپنے رسالہ تہذیب الاخلاق میں یہ مسدس شایع کی اور ادب کا یہ شہہ پارہ عوام تک پہنچا یا ۔ مولانا محمد علی جوہر کے ہمدرد نے جہاں ایک طرف عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا اور ان کی آزادی کی جدوجہد میں مدد کی وہاں اردو نثر کو بھی مالا مال کیا۔ پریم چند کا پہلا ناول‘ اسرار معابد‘ بنارس کے آوازہ اخلاق میں قسط وار شایع ہوا تھا اور اسی طرح ان کے دوسرے ناول اور افسانے کانپور کے رسالہ زمانہ میں شایع ہوئے۔
اردو ادب میں نثر کا وہ ابتدائی دور جب کہ رومانیت اپنے عروج پر تھی اور ادب لطیف کی اصطلاح عام تھی اس کو خان بہادر ناصر علی کے اخبار ‘ صلاح عام ‘ دلی اور نیاز فتح پوری کے نگار نے بڑھاوا دیا۔ یہ زمانہ انیس سو بیس اور اکیس کا تھا۔ اسی زمانہ میں سجاد حیدر یلدرم‘ نواب نصیر حسین خیال اور مجنوں گورکھپوری
anis deen <anis...@yahoo.com> Sep 14 07:55PM -0700
^
Janab Ejaz shaheen Sahab... salam Masnoon
main urdu ke ahem aur fikr angez mazameen ke prints hard file mein printouts lekar mehfooz rakhne ka aadi hoon isliye yeh zaroorat pesh ayee.
Aapki Nazre inayat ka talib anees
________________________________
From: Bazm e Qalam <bazme...@googlegroups.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Tuesday, 13 September 2011 1:44 AM
Subject: Re: {5790} اردو زبان کو مسخ کرنے میں اخبارات کا کردار
جناب من
پی ڈی ایف میں اسے آپ خود بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔طریقہ میں بتادوں گا۔مگر یہ تو پتہ چلے کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ جس فارمیٹ میں یہ مضمون ہے وہ سب سے اچھا فارمیٹ ہے
اعجاز شاہین
2011/9/12 anis deen <anis...@yahoo.com>
Khadim ali Hashmi sahab assalam o Alaikum Wa Rahmatullahi Wa Barkata-hu
>Sent: Sunday, 11 September 2011 10:14 AM
>Subject: Re: {5740} ساغر، شیشے، لعل و گوہر سے
>آصف جیلانی صاحب کا فکرانگیز مضمون توجہ طلب ہے۔ میں ایک معلم کی حیثیت سے اس ڈرامے کا عینی شاہد ہوں جس میں انگریزی کے الفاظ کو اردو میں دخیل کیا گیا۔ اصل غلطی اس وقت ہوئی جب مغربی پاکستان میں سرکاری طور پر درسی کتب تیار کرکے ایک ہی کتاب ملک بھر میں رائج کر دی گئی۔ اس کے دو اہداف بیان کیے گئے: اول تو یہ دعوی کیا گیا کہ طلبہ کو سستی اور معیاری کتب فراہم ہوں گی؛ دوم یہ کہ معیار تعلیم یکساں اور اونچا ہو گا۔ہر دو خواہشات بظاہر نیک تھیں، مگر بیوروکریسی کا کام کرنے کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے۔ چنانچہ عملا صورت حال یہ ہوئی کہ درسی کتب کے سرکاری
ادارے[ٹیکسٹ بک بورڈ] میں متعین افراد جو کتابوں کی تیاری کے ذمہ دار تھے اور سرکاری عہدے کی بنا پر اچانک "مصنف" اور "مدیر" بن بیٹھے، کا اپنا غالبا اردو میں چند سطریں بھی لکھنے کا تجربہ نہ تھا۔ میں سائنس اور ریاضی کی کتب کی تدوین کی بات کر رہا ہوں۔ چنانچہ ان "مصنفین" و "مرتبین" نے انگریزی کی اصطلاحات کے علاوہ عام الفاظ بھی لکھنے شروع کر دیے۔ ایک مثال دینا کافی ہوگا کہ 1970ء کی دہائی میں جماعت چہارم کی سائنس کی کتاب جسے میٹرک پاس استاد پڑھا تا تھا، میں انگریزی رسم الخط میں
>آصف جیلانی
>اردو زبان کو مسخ کرنے میں اخبارات کا کردار
>اردو ادب اور صحافت کا اوائل ہی سے ایک دوسرے کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ رہا ہے اور بلاشبہ اردو زبان کی ترقی اور فروغ میں اردو اخبارات کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ اسی زمانہ میں جب کہ اردو زبان کم سنی کے عہد سے نکل کر بلوغت کی شعوری منزلوں کو چھو رہی تھی اردو صحافت کا آغاز ہوا تھا۔ یہ انیسویں صدی کا اوائیلی دور تھا۔ کلکتہ سے مارچ سن اٹھارہ سو بائیس میں شایع ہونے والا جام جہاں نما بر صغیر کا اردو کا پہلا ہفت روزہ اخبار تھا۔ اس کے بعد اٹھارہ سو چھتیس کے آس پاس محمدباقر صاحب نے دلی سے اردو اخبار نکالا اور اکبر آباد سے منشی سدا سکھ لال کی سرپرستی میں
اخبار نورالبصار نکلا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بر صغیر میں اردو نثر کی ترقی کے لئے شعوری اقدامات کئے جارہے تھے اور اردو کتابوں کے لئے چھاپے خانے قائم ہورہے تھے ۔ اردو طباعت کے شعبہ میں یہ انقلاب اردو صحافت کی ترقی کا نقیب ثابت ہوا اوریہ حقیقت ہے کہ اردو صحافت نے اپنے اوائل ہی سے اردو ادب اور اردو ادیبوں کو عوام سے روشناس کرایا اور یہ مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ اردو ادب صحافت ہی کے ذریعہ عوام میں مقبول ہوااور پروان چڑھا۔
>سر سید نے مولانا حالی کو مسدس لکھنے کی ترغیب دی تھی اور اس کو مقبول عام کرنے کے لئے انہوں نے اپنے رسالہ تہذیب الاخلاق میں یہ مسدس شایع کی اور ادب کا یہ شہہ پارہ عوام تک پہنچا یا ۔ مولانا محمد علی جوہر کے ہمدرد نے جہاں ایک طرف عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا اور ان کی آزادی کی جدوجہد میں مدد کی وہاں اردو نثر کو بھی مالا مال کیا۔ پریم چند کا پہلا ناول‘ اسرار معابد‘ بنارس کے آوازہ اخلاق میں قسط وار شایع ہوا تھا اور اسی طرح ان کے دوسرے ناول اور افسانے کانپور کے رسالہ زمانہ میں شایع ہوئے۔
>اردو ادب میں نثر کا وہ ابتدائی دور جب کہ رومانیت اپنے عروج پر تھی اور ادب لطیف کی اصطلاح عام تھی اس کو خان بہادر ناصر علی کے اخبار ‘ صلاح عام ‘ دلی اور نیاز فتح پوری کے نگار نے بڑھاوا دیا۔ یہ زمانہ انیس سو بیس اور اکیس کا تھا۔ اسی زمانہ میں سجاد حیدر یلدرم‘ نواب نصیر حسین خیال اور مجنوں گورکھپوری کے مجلہ ایوان نے جو انہوں نے انیس سو تیس میں گورکھپور سے جاری کیا تھا ‘ اردو ناول اور افسانہ نگاری کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
>اردو میں طنزومزاح کو جو فروغ حاصل ہوا وہ خاص طور پر اردو صحافت کی دین ہے۔ اس صنف کا آغاز سر شار اور سجاد حسین سے ہوتا ہے جنہوں نے اپنے مزاحیہ مضامین کی ابتدا اودھ پنچ سے کی۔ خود سجاد حسین اس زمانہ میں اودھ پنچ کے مدیر تھے۔ مرزا مچھو بیگ ستم ظریف ‘ پنڈت ہجر ‘ منشی احمد علی کسمنڈوی اور جوالا پرشاد برق اسی زمانہ کے نامور مزاح نگار تھے۔ بعد کے مزاح نگار رشید احمد صدیقی ‘ ملا رموزی ‘ پطرس ‘ فرحت اللہ بیگ‘ عظیم بیگ چغتائی اور کنہیا لال کپور کتابی مزاح نگار ہیں لیکن بعد کی مزاح نگار نسل میں چراخ حسن حسرت‘ مجید لاہوری‘ حاجی لق لق ‘ طفیل
احمد جمالی ‘ ابراہیم جلیس ‘ ابن انشاء نصر اللہ خان ‘ فکر تونسوی ‘ شوکت تھانوی مشفق خواجہ اور عطا الحق قاسمی‘ ان سبھوں نے اردو صحافت کے ذریعہ اپنی تخلیقات کو جلا دی اور عوام تک پہنچایا ۔اس نسل کے مزاح نگاروں میں ایک بڑا نام مشتاق احمد یوسفی کا ہے لیکن وہ براہ راست حساب کتاب سے کتاب تک آئے ہیں۔
>یہ اردو صحافت کی خوش قسمتی ہے کہ اردو ادب کے ممتاز دانشوروں اور شاعروں نے اردو صحافت کی عملی رہنمائی کی ہے جن میں مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا ابوالکلام آزاد ‘ مولانا ظفر علی خان ‘ حیات اللہ انصاری ‘ غلام رسول مہر اور مولانا جالب نمایاں ہیں اور آزادی کے بعد فیض احمد فیض ‘ احمد ندیم قاسمی اور چراخ حسن حسرت اردو اخبارات کے مدیر رہے لیکن اسے بدقسمتی کہہ لیں یا بدلتے ہوئے حالات کے تقاضے کہ جب سے اردو صحافت نے تجارت کا لبادہ اوڑھا ہے ایڈیٹری خاندانی میراث بنتی جارہی ہے۔ اب یہ عہدہ محض اخبارات کے مالکوں کے بیٹوں اور بھتیجوں کے لئے مخصوص
ہوکر رہ گیا ہے اور حقیقی ایڈیٹر مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔
>میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے جب سن پچاس کی دہائی کے آغاز میں اپنے صحافتی سفر کی شروعات روزنامہ امروز سے کی تو اس وقت فیض صاحب ‘ چراغ حسن حسرت ‘ احمد ندیم قاسمی‘ سید سبط حسن ایسے جید صحافی اس ادارہ سے وابستہ تھے اور واقعی یہ اخبار ہر اعتبار سے مثالی اخبار تھا آج کل کے اخبارات سے بالکل مختلف۔ ان ممتاز ادیبوں کی چھاپ اخبار پر نمایاںتھی جنہوں نے اردو زبان پر اپنی دست رس اور مہارت کے ذریعہ اخبار کو معیاری اور شستہ زبان سے مزین کیا ۔
>پھر اس زمانہ میں اخبارات میں کالم نگاروں کا اتنا مجمع نہیں تھا جتنا آج کل ہے۔ آج کل توکالم نگاروں کی فوج ظفر موج ہے جن کی نہ تو زبان میں چاشنی اور مزہ ہے اور نہ وہ گہرائی میں جا کر کوئی ٹھوس بات کہتے ہیں ‘نہ پڑھنے والوں کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں اور نہ کوئی ایسی رائے ظاہر کرتے ہیں کہ جس سے نئے ذہنی دریچے کھلیں ۔ پھر عالم یہ ہے کہ کوئی کالم نگار کسی کے لئے زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے او کوئی کسی کے لئے مردہ باد کہتاہے۔ ہر کالم نگار اپنی اپنی ڈفلی بجاتا دکھائی دیتا ہے۔ بیچ کی پرکھی اور تلی رائے خال خال ہی کہیں نظر آتی ہے ۔ غرض اخبار کی
الول جلول خبریں پڑھنے کے بعد ادارتی صفحہ قارئین کے لئے اور زیادہ ذہنی خلفشار کا سبب بنتا ہے۔
>سب سے زیادہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ کمپیوٹر اور ٹیکنولوجی کی زبردست ترقی کے باوجود اخبارات کے ادارتی معیار اور خاص طور پر زبان میں ایسی گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اردو اخبارات جنہوں نے اب تک اردو ادب اور اردو زبان کی ترقی اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اب یہی ‘ اردو زبان کی ہئیت بگاڑنے اور اسے مسخ کرنے میں سب سے آگے آگے ہیں۔ مایوسی کے عالم میں بہت سے سنجیدہ اور اہل فکر لوگ یہ کہتے ہیں کہ صاحب پاکستان کے پورے معاشرے میں پچھلے چالیس پینتالیس برس میں معیار کی پستی کی شکایت ہے اور صحافت بھی اس ے مبرا نہیںکیونکہ یہ
بھی تو آخر معاشرہ کا ایک حصہ ہے۔ میں اس استدلال سے متفق نہیں۔ میرے خیال میں صحافت ‘ حیات انسانی کی منجھدار کی سمت متعین کرتی ہے اور اس کے مختلف پہلوں کی نشاندہی اور ترجمانی کرتی ہے اس لئے اس کے فرایض اور ذمہ داریاں معاشرہ کے دوسرے اداروں سے قطعی مختلف ہیں۔
>ایک زمانہ تک پاکستان میں صحافت کو زبان بندی کے مسئلہ کا سامنا رہا تھا لیکن اب اردو اخبارات کو زبان کی ابتری کے سنگین مسئلہ نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ سائنس اور دوسرے علوم کی فنی اصطلاحات کے اردو میں مناسب ترجموں کی کوشش کو فوقیت دی جاتی تھی لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ یکسر مفقود ہوگیا ہے۔ انگریزی الفاظ کا ایک سیل بے کراں ہے کہ وہ اردوزبان میں اور اس کے راستہ اخبارات میں درآیا ہے۔ سائنس اور ٹیکنولوجی کی نئی اصطلاحات یعنی کمپیوٹر ‘ سافٹ ویر‘ ڈسک‘ ماؤس ‘ مانیٹر‘ کی بورڈ‘ کنکشن‘ ہارڈ ڈرائیو‘ براڈ بینڈ‘
انٹینا‘ ٹرانسسٹر اور ایسے ہی بے شمار الفاظ اور اصطلاحات ہیں جن کے ترجمے کے کوئی کوشش نہیں کی گئی اور یہی مستعمل ہوگئے ہیں لیکن بدقسمتی تو یہ ہے کہ اردو اخبارات ‘ اردو کے اچھے اور مقبول الفاظ ترک کر کے ان کی جگہ انگریزی کے الفاظ ٹھونس رہے ہیں۔ مثلاً رو برو یا تخلیہ میں ملاقات کے لئے انگریزی کی اصطلاح ‘ ون ٹو ون استعمال کی جارہی ہے حالانکہ انگریزی کی صحیح اصطلاح ون آن ون ہے۔ اسی طرح تعطل اردو کا اتنا اچھا لفظ ہے اس کی جگہ سینہ تان کر ڈیڈ لاک استعمال کیا جارہا ہے ۔ انتخاب کی جگہ الیکشن ‘ عام انتخابات کی جگہ جنرل الیکشن ‘ جوہری طاقت کی
جگہ ایٹامک انرجی‘ کاوائی کی جگہ آپریشن‘ حزب مخالف کی جگہ اپوزیشن‘بدعنوانی کی جگہ کرپشن‘ استاد کی جگہ ٹیچر ‘ مجلس قایمہ کی جگہ اسڈینڈنگ کمیٹی‘ جلسہ کو میٹنگ اور پارلیمان کے اجلاس کو سیشن لکھاجاتا ہے۔
>سن انیس سو چھپن میں جب پاکستان کے پہلے آئین کے تحت صدر مقرر ہوا تو ہم نے امروز میں پریزیڈنٹ ہاؤس کی جگہ ایوان صدر کی اصطلاح رایج کی تھی ۔ ایک عرصہ تک سب نے یہی اصطلاح استعمال کی لیکن پچھلے چند برسوں سے پھر اخبارات پریزیڈنٹ ہاوس کو ترجیع دے رہے ہیں نہ جانے کیوں؟۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ چھاپہ مار جنگ کو اخبارات گوریلا جنگ کیوں لکھتے ہیں ۔ وہ انگریزی کے لفظ گوریلا اور گریلا میں فرق نہیں سمجھتے۔ چرس جو خاص طور پر اپنے ہاں کی سوغات ہے اسے اخبارات کینیبیز لکھتے ہیں۔ محصول کو ڈیوٹی کہتے ہیں قرطاس ابیض اتنا اچھا لفظ ہے اب اخبارات اس کی جگہ
وایٹ پیپر لکھتے ہیں اور ہوا[L:4 R:183] اڈہ کو ایرپورٹ ۔ پچھلے دنوں قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے کچھ اراکین گرفتار کر لئے گئے ان کو ایوان میں طلبی کے حکم کے لئے بے دھڑک پروڈکشن آرڈر لکھا جاتا رہا اور تو اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے بغاوت کرکے اقتدار میں
tahir naqvi <ibnes...@yahoo.com> Sep 14 08:21PM -0700
^
Aini Sahiba,
beshak ye gazal boht achi hai.magar iss ki adabi khobian Farida Khanum ki gaeiki k sabab ujagar huein. shaer ka naam kam log jantay hain.Ye shair Athar Nafis ka hai.Tahir Naqvi
Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> Sep 14 06:34PM +0500
^
شاہین صاحب!آداب
سب سے پہلے تو آپ کے تبصرے پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، اسے پڑھ کر یہ تقویت
ملی کہ مشفق خواجہ مرحوم کی تحریروں کے مختلف النوع پہلووں سے آپ بخوبی واقف
ہیں
منظر علی خاں منظر کی کتاب "چھپائے نہ بنے" کے تذکرے کے بعد ان کی تصنیفات کی
قدر و قیمت کو مشکوک قرار دینے کا تاثر ہرگز نہیں دینا چاہ رہا تھا، مقصد صرف
اور صرف خواجہ صاحب کے شگفتہ اسلوب کے چند حوالے پیش کرنا تھا، بلکہ سچ پوچھیے
تو مذکورہ کتاب ( چھپائے نہ بنے) کے مطالعے کے بعد معاملہ اس کے برعکس نکلا۔
مشفق خواجہ پر خاں صاحب کا مضمون مجھے پسند آیا (آپ نے بھی اسی کا ایک اقتباس
درج کیا ہے)، اسی طرح خاں صاحب نے پٹنہ کے سفر کا جو احوال لکھا ہے وہ بھی خاصہ
دلچسپ ہے۔
گزشتہ پوسٹ میں، میرا تبصرہ یہ تھا:
"یہ وہی منظر علی خان منظر ہیں جن کے لتے مشفق خواجہ نے اپنے کالمز میں خوب لیے
تھے لیکن خاں صاحب بے مزہ نہ ہوئے، کتابوں کے ڈھیر لگاتے چلے گئے حتی کہ زیر
نظر کتاب کی اشاعت پر خواجہ صاحب نے کالم کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ " آخر وہی
ہوا جس کا اندیشہ تھا، منظر علی خان منظر کی پانچویں تصنیف لطیف بھی شائع ہوگئی
جیسا کہ آپ نے فرمایا (اور میں نے اپنے زیر تکمیل مضمون میں بھی لکھا ہے) کہ
حضرت نظیر صدیقی، جوش ملیح آبادی، منظر علی خاں منظر، باقر مہدی، انور سدید،
استاد اختر انصاری اکبر آبادی، مظہر امام وغیرہ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو
خواجہ صاحب نے سب سے زیادہ تختہ مشق بنایا۔
آپ نے خوب کہا کہ "غالب کی طرح مشفق خواجہ بھی جس پر مرتے ہیں اسے مار رکھتے
ہیں۔
"
اردو دنیا میں ان کا کالم بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا تھا، کسی کی تحقیر ان کا
مقصد کبھی نہ رہا، بقول شخصے ایک طرح سے وہ ادب کی دنیا کے محتسب اعلی تھے۔
اور بقول ڈاکٹر خلیق انجم "" خامہ بگوش نے جس ہندوستانی شاعر کے مجموعہ کلام پر
تبصرہ کیا، اسے ساہیتہ اکیڈمی ایوارڈ مل گیا
استاد اختر انصاری اکبر آبادی کا ذکر تو اس طور کیا جاتا تھا کہ پڑھنے والوں کو
آج تک یاد ہے۔ لیکن پھر یہ بھی ہوا کہ مشفق خواجہ نے ان کے انتقال پر 6 ستمبر
1986 کو ایک ایسا تعزیتی کالم لکھا جو پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ کالم پڑھ کر یہ
بات واضح ہوائی کہ استاد مرحوم نے اپنی ساری زندگی اردو کی خدمت میں گزاری۔
استاد بہاولپور کے ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے تھے، وہ بہاولپور اپنے رسالے کے
خصوصی نمبر کی اشاعت کے سلسلے میں چند اہل قلم حضرات سے ان کی تخلیقات کے حصول
کے لیے گئے تھے!
ہاں ، البتہ منظر صاحب کی شاعری چونکہ ابھی تک نظر سے نہیں گزری (اور شاید اس
بارے میں خواجہ صاحب کے کالمز پڑھنے کے بعد خواہش بھی نہ رہی) ، لہذا کوئی رائے
دینے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
آپ نے لکھا:
"منظر علی خاں منظر کےمداحوں میں ڈاکٹر وزیرآغا، ڈاکٹر حنیف فوق، ڈاکٹر جمیل
جالبی،اور ڈاکٹر اسلم فرخی جیسے مشاہیر ادب شامل ہیں۔
"
یہ مداحوں کا معاملہ بھی عجیب ہے، خواجہ صاحب پر اپنے زیر تکمیل مضمون
(اقتباسات سمیت) کے سلسلے میں ان کے سینکڑوں کالمز کا مطالعہ کرچکا ہوں، کئی
مثالیں ایسی ملتی ہیں جن میں نثر یا شاعری پر مشتمل کسی نوآزمودہ مصنف کی تحریر
کردہ کتاب کے بارے میں اردو ادب کی کسی جید شخصیت/شخصیات کی فلیپ پر درج آراء
کے جواب میں مشفق خواجہ کا تبصرہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے - آپ تو جانتے ہی ہیں
کہ ایسے موقعوں پر ان کے قلم کی کاٹ کس طرح کی ہوتی تھی۔ اس سلسلے میں بھی کبھی
چند دلچسپ مثالیں پیش کروں گا
!
اس موقع پر منظر علی خاں منظر صاحب سے متعلق ایک دلچسپ تبصرہ ملاحظہ ہو -- مشفق
خواجہ رقم طراز ہیں:
"ڈاکٹر شاہد الوری کی کتاب ’چراغ سے چراغ‘ میں انہوں نے غالب کے مصرعوں پر
مصرعے لگائے ہیں، مثلا:
*نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ*
*گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (غالب)*
* *
آپ سے تو نہیں میں داد کا خواہاں بخدا
نہ سہی، شاعر خوش گو، بہت اچھا، نہ سہی
سن کے اشعار مرے جھوم تو جاتے ہیں عوام
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (شاہد الوری
یہ کتاب جن ’مشاہیر‘ کی آراء سے مزین ہیں ان میں ہمارے کرم فرما منظر علی خاں
منظر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ: ’’ غالب کے چراغ پر شاہد
الوری کا حق یوں بنتا ہے کہ الور، شاہد کی جائے پیدائش ہے اور غالب کے والد کی
جائے وفات۔‘‘
اگر منظر صاحب مزید تحقیق فرماتے تو انہیں غالب کی جائے وفات نہ سہی، سبب وفات
اسی کتاب میں مل جاتا۔"
سچ تو یہ ہے کہ خواجہ صاحب کی وفات کے بعد اس شہر کا حافظہ ہی چھن گیا ہے
!
آپ نے لکھا کہ "منظر علی خاں، نظیر
صدیقی، اور مشفق خواجہ سے میری دیرینہ ارادت اور نیازمندی تھی۔ ساقی فاروقی کو
اللہ رکھے وہ ہنوز مجھے یاد رکھتے ہیں۔
"
خدا آپ کو سلامت رکھے، ان شخصیات سے مراسم کے تعلق سے اپنی یادوں کو قلم بند
ضرور کیجیے گا۔ یہ بھی فرمائیے کہ منظر علی خاں منظر صاحب کی وفات کیسے ہوئی کہ
وفیات اہل قلم سے مجھے محض ان کی تاریخ وفات ہی کا علم ہوا ہے۔
افسانہ آپ کو پسند آیا، آپ کی عنایت ہے
حیدرآباد دکن سے جناب ابن صفی پر ادارہ قومی زبان نے پہلی مرتبہ خصوصی نمبر
نکالا ہے، کچھ کام ان کے لیے کیا تھا، پرچہ شائع ہوچکا ہے اور اس کے نگراں کار
مجھ ہی سے پوچھ رہے تھے کہ اب اسے کراچی مجھ تک کیسے پہنچایا جائے -- - - دہلی
میں مقیم ایک کرم فرما نے داد رسی کی اور اب امید ہے کہ یہاں پہنچ جائے گا ۔ ۔
۔ ۔ تفصیل پیش کروں گا!
خیر اندیش
راشد اشرف
2011/9/13 Wali Alam Shaheen <waliala...@rogers.com>
Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> Sep 14 06:57PM +0500
^
عبدالمتین صاحب، آداب
مشفق خواجہ تکبیر میں کالم نگاری ترک کر چکے تھے، صلاح الدین صاحب کے کہنے پر
بھی وہ آمادہ نہ ہوئے - مارچ 1994 میں مدیر تکبیر صلاح الدین حج کے لیے گئے،
واپس آکر خواجہ صاحب سے کہا:
"" اب تک تو میں آپ ہی سے کہتا رہا ہوں کہ تکبیر کے لیے لکھیے، لیکن اس مرتبہ
میں نے حرمین میں دعا کی ہے کہ آپ لکھنے کے لیے آمادہ ہوجائیں""
مشفق خواجہ ان کی یہ بات سن کر لرز اٹھے اور کہا:
"" صلاح الدین صاحب اتنے چھوٹے سے کام کے لیے اتنی بڑی بارگاہ میں دعا کرنے کی
کیا ضرورت تھی، میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہوں"
یوں تکبیر میں سخن در سخن کا یہ سلسلہ 31 مارچ 1994 کو دوبارہ شروع ہوا اور
مدیر تکبیر کے قتل (دسمبر 1994) تک جاری رہا
راشد
2011/9/14 Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>
syed maeraj jami <maer...@yahoo.co.uk> Sep 14 03:26PM +0100
^
محترم شاہین صاحب کا منظر علی خاں منظر پر خیالات پڑھے اور پھر راشد کی وضاحتیں پڑھیں
شاہین صاحب کا یہ کہنا کہ خواجہ صاحب جس پر مرتے تھے اسے مار دیتے تھے میں اس سے اس لیے اتفاق نہیں کروں گا کہ میں نے خواجہ صاحب کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور انھیں پڑھا بھی ہے وہ کسی پہ بھی نہیں مرتے تھے اور بغیر کسی پہ مرے لوگوں کومار دیتے تھے اپنے ظنز و مزاح کی تحریروں سےاتنا ضرور ہے کہ منظر علی خاں منظر ایک بے ضرر انسان تھے نہایت شریف اور پیارے انسان اور خواجہ صاحب کی دوستی اور محبت کا دم بھرتے تھے ان کی اسی بے لوث محبت کو دیکھتے ہوئے خواجہ صاحب نے ان پر کئی کالم لکھے ہیں مگر ان کے کسی بھی کالم سے ان کی محبت کا گراف بلند نہیں نظر آیا دراصل
یہاں مجھے کسی شخص کا ایک جملہ یاد آ رہا ہے نام قصدا نہیں بھول رہا ہوں سہوا یاد نہيں آ رہا کہ خواجہ صاحب سب کو اپنی عینک سے دیکھتے تھے حالاں کہ یہ کوئی انوکھا جملہ نہیں ہے ہم سب دوسروں کو اپنی آنکھوں سے ہی دیکھتے ہیں مگر کہنے والے نے آنکھ کے بجائے عینک کا لفظ استعمال کر کے ایک استعارہ دیا ہے
خواجہ صاحب برے انسان نہيں تھے مگر ان کی کسوٹی ایسی سخت تھی کہ اس پر کوئی پورا نہیں اترتا تھا آج تک ہزاروں کی تعداد ميں خودنوشت لکھی گئیں ہیں مگر خواجہ صاحب کو سعیدہ احمد کی خودنوشت ڈگر سے ہٹ کر پسند تھی انھوں نے اپنے کئی دوستوں کو خط میں لکھا ہے کہ خودنوشت یہی ہے جو اس معیار پر پوری اتری ہے باقی سب جھوٹ اور سچ کا ملغوبہ ہیں اس سے اندازہ لگا لیجیے کہ کتابوں انسانوں اور تحریروں کے معاملے میں خواجہ صاحب کا معیار کس قدر کڑا اور ناقابل یقین ہو گا خواجہ صاحب کی تمام طنز و مزاح کی تحریریں ہجو ملیح ميں ہوتی ہیں اور کسی کسی کے بارے میں انھوں نے
کھل کر لکھا کوئی رو رعایت نہیں برتی
ان کے بہت سے کالم اب تک کتابی شکل میں نہیں آئے ہیں
جامی
________________________________
From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Cc: waliala...@rogers.com
Sent: Wednesday, 14 September 2011, 18:34
Subject: Re: {5818} چند کتابیں-نئی اور پرانی
شاہین صاحب!آداب
سب سے پہلے تو آپ کے تبصرے پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، اسے
پڑھ کر یہ تقویت ملی کہ مشفق خواجہ مرحوم کی تحریروں کے مختلف النوع پہلووں سے آپ
بخوبی واقف ہیں
منظر علی خاں منظر کی کتاب "چھپائے نہ بنے" کے تذکرے کے بعد
ان کی تصنیفات کی قدر و قیمت کو مشکوک قرار دینے کا تاثر ہرگز نہیں دینا چاہ رہا
تھا، مقصد صرف اور صرف خواجہ صاحب کے شگفتہ اسلوب کے چند حوالے پیش کرنا تھا، بلکہ
سچ پوچھیے تو مذکورہ کتاب ( چھپائے نہ بنے) کے مطالعے کے بعد معاملہ اس کے برعکس
نکلا۔ مشفق خواجہ پر خاں صاحب کا مضمون مجھے پسند آیا (آپ نے بھی اسی کا ایک اقتباس
درج کیا ہے)، اسی طرح خاں صاحب نے پٹنہ کے سفر کا جو احوال لکھا ہے وہ بھی خاصہ
دلچسپ ہے۔
گزشتہ پوسٹ میں، میرا تبصرہ یہ تھا:
"یہ وہی منظر
علی خان منظر ہیں جن کے لتے مشفق خواجہ نے اپنے کالمز میں خوب لیے تھے لیکن خاں
صاحب بے مزہ نہ ہوئے، کتابوں کے ڈھیر لگاتے چلے گئے حتی کہ زیر نظر کتاب کی اشاعت
پر خواجہ صاحب نے کالم کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ " آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا،
منظر علی خان منظر کی پانچویں تصنیف لطیف بھی شائع ہوگئی
جیسا کہ آپ نے فرمایا (اور میں نے اپنے زیر تکمیل مضمون میں
بھی لکھا ہے) کہ حضرت نظیر صدیقی، جوش ملیح آبادی، منظر علی خاں منظر، باقر مہدی،
انور سدید، استاد اختر انصاری اکبر آبادی، مظہر امام وغیرہ ان لوگوں میں شامل ہیں
جن کو خواجہ صاحب نے سب سے زیادہ تختہ مشق بنایا۔
آپ نے خوب کہا کہ "غالب کی طرح مشفق خواجہ بھی جس پر مرتے
ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔
"
اردو دنیا میں ان کا کالم بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا تھا،
کسی کی تحقیر ان کا مقصد کبھی نہ رہا، بقول شخصے ایک طرح سے وہ ادب کی دنیا کے
محتسب اعلی تھے۔ اور بقول ڈاکٹر خلیق انجم "" خامہ بگوش نے جس ہندوستانی شاعر کے
مجموعہ کلام پر تبصرہ کیا، اسے ساہیتہ اکیڈمی ایوارڈ مل گیا
استاد اختر انصاری اکبر آبادی کا ذکر تو اس طور کیا جاتا
تھا کہ پڑھنے والوں کو آج تک یاد ہے۔ لیکن پھر یہ بھی ہوا کہ مشفق خواجہ نے ان کے
انتقال پر 6 ستمبر 1986 کو ایک ایسا تعزیتی کالم لکھا جو پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔
کالم پڑھ کر یہ بات واضح ہوائی کہ استاد مرحوم نے اپنی ساری زندگی اردو کی خدمت میں
گزاری۔
استاد بہاولپور کے ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے تھے، وہ بہاولپور اپنے رسالے
کے خصوصی نمبر کی اشاعت کے سلسلے میں چند اہل قلم حضرات سے ان کی تخلیقات کے حصول
کے لیے گئے تھے!
ہاں ، البتہ منظر صاحب کی شاعری چونکہ ابھی تک نظر سے نہیں
گزری (اور شاید اس بارے میں خواجہ صاحب کے کالمز پڑھنے کے بعد خواہش بھی نہ رہی) ،
لہذا کوئی رائے دینے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
آپ نے لکھا:
"منظر علی خاں منظر کےمداحوں میں ڈاکٹر
وزیرآغا، ڈاکٹر حنیف فوق، ڈاکٹر جمیل جالبی،اور ڈاکٹر اسلم فرخی جیسے مشاہیر ادب
شامل ہیں۔
"
یہ مداحوں کا معاملہ بھی عجیب ہے، خواجہ صاحب پر اپنے زیر
تکمیل مضمون (اقتباسات سمیت) کے سلسلے میں ان کے سینکڑوں کالمز کا مطالعہ کرچکا
ہوں، کئی مثالیں ایسی ملتی ہیں جن میں نثر یا شاعری پر مشتمل کسی نوآزمودہ مصنف کی
تحریر کردہ کتاب کے بارے میں اردو ادب کی کسی جید شخصیت/شخصیات کی فلیپ پر درج آراء
کے جواب میں مشفق خواجہ کا تبصرہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے - آپ تو جانتے ہی ہیں کہ
ایسے موقعوں پر ان کے قلم کی کاٹ کس طرح کی ہوتی تھی۔ اس سلسلے میں بھی کبھی چند
دلچسپ مثالیں پیش کروں گا
!
اس موقع پر منظر علی خاں منظر صاحب سے متعلق ایک دلچسپ
تبصرہ ملاحظہ ہو -- مشفق خواجہ رقم طراز ہیں:
"ڈاکٹر شاہد الوری کی کتاب ’چراغ سے چراغ‘ میں انہوں نے
غالب کے مصرعوں پر مصرعے لگائے ہیں، مثلا:
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی
پرواہ
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (غالب)
آپ سے تو نہیں میں داد کا خواہاں بخدا
نہ سہی، شاعر خوش
گو، بہت اچھا، نہ سہی
سن کے اشعار مرے جھوم تو جاتے ہیں عوام
گر نہیں ہیں
مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (شاہد الوری
یہ کتاب جن ’مشاہیر‘ کی آراء سے مزین ہیں ان میں ہمارے کرم
فرما منظر علی خاں منظر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ: ’’ غالب کے
چراغ پر شاہد الوری کا حق یوں بنتا ہے کہ الور، شاہد کی جائے پیدائش ہے اور غالب کے
والد کی جائے وفات۔‘‘
اگر منظر صاحب مزید تحقیق فرماتے تو انہیں غالب کی جائے
وفات نہ سہی، سبب وفات اسی کتاب میں مل جاتا۔"
سچ تو یہ ہے کہ خواجہ صاحب کی وفات کے بعد اس شہر کا حافظہ
ہی چھن گیا ہے
!
آپ نے لکھا کہ "منظر علی خاں، نظیر
صدیقی، اور مشفق خواجہ
سے میری دیرینہ ارادت اور نیازمندی تھی۔ ساقی فاروقی کو اللہ رکھے وہ ہنوز مجھے یاد
رکھتے ہیں۔
"
خدا آپ کو سلامت رکھے، ان شخصیات سے مراسم کے تعلق سے اپنی
یادوں کو قلم بند ضرور کیجیے گا۔ یہ بھی فرمائیے کہ منظر علی خاں منظر صاحب کی وفات
کیسے ہوئی کہ وفیات اہل قلم سے مجھے محض ان کی تاریخ وفات ہی کا علم ہوا ہے۔
افسانہ آپ کو پسند آیا، آپ کی عنایت ہے
حیدرآباد دکن سے جناب ابن صفی پر
ادارہ قومی زبان نے پہلی مرتبہ خصوصی نمبر نکالا ہے، کچھ کام ان کے لیے کیا تھا،
پرچہ شائع ہوچکا ہے اور اس کے نگراں کار مجھ ہی سے پوچھ رہے تھے کہ اب اسے کراچی
مجھ تک کیسے پہنچایا جائے -- - - دہلی میں مقیم ایک کرم فرما نے داد رسی کی اور اب
امید ہے کہ یہاں پہنچ جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ تفصیل پیش کروں گا!
خیر
اندیش
راشد اشرف
2011/9/13 Wali Alam Shaheen <waliala...@rogers.com>
>راشد اشرف نے منظر علی خاں منظر کی کتاب "چھپائے نہ بنے" کی اشاعتی تفصیل کے بعد مشفق خواجہ کی تحریرسے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اول الذکر کی ٹصنیفات ایسی ہیں جن کی قدر و قیمت مشکوک ہے۔ سو ایسا نہیں ہے۔ منظر علی خاں منظر کےمداحوں میں ڈاکٹر وزیرآغا، ڈاکٹر حنیف فوق، ڈاکٹر جمیل جالبی،اور ڈاکٹر اسلم فرخی جیسے مشاہیر ادب شامل ہیں۔ ماجرا یہ ہے کہ غالب کی طرح مشفق خواجہ بھی جس پر مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں منظر کے علاوہ نظیر صدیقی اور ساقی فاروقی خاص اہمیت رکھتے ہیں جن سے مشفق خواجہ کی دوستانہ چھیڑ چلتی رہتی تھی۔ منظر علی
خاں، نظیر صدیقی، اور مشفق خواجہ سے میری دیرینہ ارادت اور نیازمندی تھی۔ ساقی فاروقی کو اللہ رکھے وہ ہنوز مجھے یاد رکھتے ہیں۔ اب خامہ بگوش کے ایک کالم "سفر نامہ یا تذکرۃ النسا" کے آخری چند جملے ملاحظہ فرمائیں۔
>
>ایک طرف تو نظیر صدیقی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ انگریزی شاعری پر رائے دینے کے اہل نہیں ہیں، دوسری طرف یہ رائے بھی دیتے ہیں کہ ساقی کی انگریزی نظم نہ صرف بڑی زوردار ہے بلکہ اتنا زور ان کی کسی اردو نظم میں بھی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ساقی فاروقی نے اپنی انگریزی نظم نظیر صدیقی کو خاصی زوردار آواز میں سنائی تھی، موصوف آواز کی بجائے نظم کو زوردار سمجھ بیٹھے۔ ساقی فاروقی نے لندن کی ایک ادبی محفل میں نظیر صدیقی سے شکایت کی کہ آپ نے پروین شاکر پر پچاس صفحوں کا مضمون لکھا لیکن مجھ پر پانچ صفحے بھی نہیں لکھے۔ اوپر کی پانچ سطروں میں نظیر صدیقی نے اس
شکایت کا بخوبی ازالہ کردیا ہے۔
>اب منظر علی خاں منظر کے ایک مضمون کا اقتباس دیکھیں جو مشفق خواجہ کے متعلق ہے:۔
>معلوم ہوا خواجہ صاحب منوں نہیں بلکہ ٹنوں کے حساب سے کتابیں لے کر آئے ہیں۔ چونکہ کسٹم والوں کے لئے یہ نرالی سوغات تھی لہذا انہیں سمجھانے میں چار پانچ روز نکل گئے۔ ان کتابوں کا وزن چونکہ زیادہ ہو گیا تھا لہذا پتہ چلا کہ اپنی بہت سی چیزیں وہیں چھوڑ آئے۔ میں نے گھبرا کر پوچھا کہ بھابی جان تو ساتھ آئی ہیں کہ وہ بھی وہیں رہ گئیں۔ معلوم ہوا کہ ترقی پسند شعراء کے مجموعہ ہائے کلام کے عوض جو وہاں چھوڑ دئے گئےوہ آسکی ہیں اور یہ قسم کھاکر بیٹھی ہیں کہ یا تو آئندہ کتابیں آئیں گی یا وہ ہندوستان جائیں گی۔ کہہ رہی تھیں غضب خدا کا آخری وقت تک دھڑ کا لگا
رہتا ہے کہ دیکھو کتابیں جہاز پر سوار ہوتی ہیں یا وہ خود قدم رکھتی ہیں (مطبوعہ "اوراق" لاہور) ۔
>>دو مختلف کالمز سے تبصرے ملاحظہ ہوں:
>>اول:
>>اتنی تیزی سے تو کسی کو رسوائی بھی نہیں ملتی جتنی تیزی سے منظر علی خان منظر کو شہرت ملی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ان کا مجموعہ کلام ’کرب آگہی‘ کے نام سے شائع ہوا تھا جس میں ’آگہی‘ تو آٹے میں نمک کے برابر تھی اور باقی کرب ہی کرب تھا، اور وہ بھی مصنف کا نہیں، پڑھنے والوں کا۔اب مصنف کی تیسری تصنیف ’مکررکہے بغیر‘ شائع ہوئی ہے جس پر ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ تین سال کے مختصر عرصے میں تین کتابوں کا مصنف بن جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ملک میں کاغذ کی قلت کی جو شکایت پائی جاتی ہے وہ بلا سبب نہیں ۔ اگر منظر صاحب اسی رفتار سے کتابیں
چھاپتے رہے تو وہ دن دور نہیں کہ دوبارہ کاغذ کی جگہ بھوج پتر کے استعمال کا
Khadim Ali Hashmi <alikhad...@yahoo.com> Sep 14 08:52AM -0700
^
محترم راشد اشرف صاحب
سلام مسنون۔ میں خاموشی سے آپ کی نگارشات پڑھتا رہتا ہوں۔ آپ ایک عمدہ تصنیف کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ امید ہے کہ اشاعت کے وقت اسے خوب پذیرائی ملے گی ان شاء اللہ۔ مجھے یہاں دخل دینے کی وجہ استاد اخترانصاری اکبرآبادی کا ذکر بنا۔ انتقال سے پہلے استاد لاہور آئے۔ انہوں نے مجھے اپنے پروگرام سے آگاہ کیا۔ چنانچہ ان کے انتقال سے ایک دن قبل دہلی مسلم ہوٹل انارکلی لاہورمیں ان سے میری آخری ملاقات ہوئی۔ اتفاق سے شاہد واسطی صاحب بھی اس وقت موجود تھے۔ اگلے دن استاد بہاولپور روانہ ہوگئے۔ صبح سویرے واسطی صاحب نے مجھے ٹیلی فون پر ان کے انتقال کی اطلاع دی۔
میں نے اس وقت تک اخبار نہ دیکھا تھا۔
مرحوم کم گو، وضع دار اور حفظ مراتب کا خیال رکھنے والے تھے۔ یہاں ایک واقعہ بیان کرتا چلوں۔ حیدرآباد سندھ میں ابھی ریڈیو سٹیشن کی اپنی عمارت نہیں بنی تھی۔ اور دفاتر ہوم سٹیڈ ہال کی عمارت میں گاڑی کھاتہ پر تھے۔ وہاں مشاعرہ ہو رہا تھا، مشاعرے کی نظامت سندھ یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد افتخار صاحب کر رہے تھے۔ وہ عشقی صاحب کے دوست تھے۔ ان کی ایک ٹانگ میں نقص تھا اس لیے لنگڑا کر چلتے تھے۔سامعین میں استاد کے پیچھے والی قطار میں الیاس عشقی اور دوسرے احباب کے ساتھ میں بیٹھا ہوا تھا۔ عشقی صاحب استاد پر آوازے کستے رہے، مگر انہوں نے کوئی جواب
نہ دیا۔ جب استاد اپنا کلام سنانے کے لیے سٹیج پر گئے تو اپنی ایک مطبوعہ غزل عشقی صاحب کو مخاطب کر کے سناتے رہے، جس کا مصرع اولی تھا
جائے خدا تنگ نہیں پائے گدا لنگ نہیں۔
اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے خوب شخص تھا۔ عمر بھر تنگ دستی میں گزارا کیا، اردو کی خدمت سے ہاتھ نہ اٹھایا۔ ایک ملاقات پہ کہا: ہاشمی صاحب تیس برس ہوگئے ہیں حیدرآباد کی سنگلاخ زمین میں ادب کی آبیاری کرتے ہوئے مگر کوئی پذیرائی نہیں ملی، میں نے جواب میں کہا کہ ہم مردہ پرست ہیں۔ کوئی بات نہیں آپ فاقے کرتے رہیں۔ آپ کے انتقال پر کچھ لوگوں کا روزگار بن جائے گا، کوئی آپ کی شاعری پر اور کوئی دوسرا آپ کی صحافت یا تنقید پر تحقیق کر کے یونیورسٹی سے ڈگری لے کر روزگار کا بندوبست کرے گا۔
خادم علی ہاشمی
________________________________
From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Cc: waliala...@rogers.com
Sent: Wednesday, September 14, 2011 6:34 PM
Subject: Re: {5818} چند کتابیں-نئی اور پرانی
شاہین صاحب!آداب
سب سے پہلے تو آپ کے تبصرے پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، اسے
پڑھ کر یہ تقویت ملی کہ مشفق خواجہ مرحوم کی تحریروں کے مختلف النوع پہلووں سے آپ
بخوبی واقف ہیں
منظر علی خاں منظر کی کتاب "چھپائے نہ بنے" کے تذکرے کے بعد
ان کی تصنیفات کی قدر و قیمت کو مشکوک قرار دینے کا تاثر ہرگز نہیں دینا چاہ رہا
تھا، مقصد صرف اور صرف خواجہ صاحب کے شگفتہ اسلوب کے چند حوالے پیش کرنا تھا، بلکہ
سچ پوچھیے تو مذکورہ کتاب ( چھپائے نہ بنے) کے مطالعے کے بعد معاملہ اس کے برعکس
نکلا۔ مشفق خواجہ پر خاں صاحب کا مضمون مجھے پسند آیا (آپ نے بھی اسی کا ایک اقتباس
درج کیا ہے)، اسی طرح خاں صاحب نے پٹنہ کے سفر کا جو احوال لکھا ہے وہ بھی خاصہ
دلچسپ ہے۔
گزشتہ پوسٹ میں، میرا تبصرہ یہ تھا:
"یہ وہی منظر
علی خان منظر ہیں جن کے لتے مشفق خواجہ نے اپنے کالمز میں خوب لیے تھے لیکن خاں
صاحب بے مزہ نہ ہوئے، کتابوں کے ڈھیر لگاتے چلے گئے حتی کہ زیر نظر کتاب کی اشاعت
پر خواجہ صاحب نے کالم کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ " آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا،
منظر علی خان منظر کی پانچویں تصنیف لطیف بھی شائع ہوگئی
جیسا کہ آپ نے فرمایا (اور میں نے اپنے زیر تکمیل مضمون میں
بھی لکھا ہے) کہ حضرت نظیر صدیقی، جوش ملیح آبادی، منظر علی خاں منظر، باقر مہدی،
انور سدید، استاد اختر انصاری اکبر آبادی، مظہر امام وغیرہ ان لوگوں میں شامل ہیں
جن کو خواجہ صاحب نے سب سے زیادہ تختہ مشق بنایا۔
آپ نے خوب کہا کہ "غالب کی طرح مشفق خواجہ بھی جس پر مرتے
ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔
"
اردو دنیا میں ان کا کالم بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا تھا،
کسی کی تحقیر ان کا مقصد کبھی نہ رہا، بقول شخصے ایک طرح سے وہ ادب کی دنیا کے
محتسب اعلی تھے۔ اور بقول ڈاکٹر خلیق انجم "" خامہ بگوش نے جس ہندوستانی شاعر کے
مجموعہ کلام پر تبصرہ کیا، اسے ساہیتہ اکیڈمی ایوارڈ مل گیا
استاد اختر انصاری اکبر آبادی کا ذکر تو اس طور کیا جاتا
تھا کہ پڑھنے والوں کو آج تک یاد ہے۔ لیکن پھر یہ بھی ہوا کہ مشفق خواجہ نے ان کے
انتقال پر 6 ستمبر 1986 کو ایک ایسا تعزیتی کالم لکھا جو پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔
کالم پڑھ کر یہ بات واضح ہوائی کہ استاد مرحوم نے اپنی ساری زندگی اردو کی خدمت میں
گزاری۔
استاد بہاولپور کے ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے تھے، وہ بہاولپور اپنے رسالے
کے خصوصی نمبر کی اشاعت کے سلسلے میں چند اہل قلم حضرات سے ان کی تخلیقات کے حصول
کے لیے گئے تھے!
ہاں ، البتہ منظر صاحب کی شاعری چونکہ ابھی تک نظر سے نہیں
گزری (اور شاید اس بارے میں خواجہ صاحب کے کالمز پڑھنے کے بعد خواہش بھی نہ رہی) ،
لہذا کوئی رائے دینے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
آپ نے لکھا:
"منظر علی خاں منظر کےمداحوں میں ڈاکٹر
وزیرآغا، ڈاکٹر حنیف فوق، ڈاکٹر جمیل جالبی،اور ڈاکٹر اسلم فرخی جیسے مشاہیر ادب
شامل ہیں۔
"
یہ مداحوں کا معاملہ بھی عجیب ہے، خواجہ صاحب پر اپنے زیر
تکمیل مضمون (اقتباسات سمیت) کے سلسلے میں ان کے سینکڑوں کالمز کا مطالعہ کرچکا
ہوں، کئی مثالیں ایسی ملتی ہیں جن میں نثر یا شاعری پر مشتمل کسی نوآزمودہ مصنف کی
تحریر کردہ کتاب کے بارے میں اردو ادب کی کسی جید شخصیت/شخصیات کی فلیپ پر درج آراء
کے جواب میں مشفق خواجہ کا تبصرہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے - آپ تو جانتے ہی ہیں کہ
ایسے موقعوں پر ان کے قلم کی کاٹ کس طرح کی ہوتی تھی۔ اس سلسلے میں بھی کبھی چند
دلچسپ مثالیں پیش کروں گا
!
اس موقع پر منظر علی خاں منظر صاحب سے متعلق ایک دلچسپ
تبصرہ ملاحظہ ہو -- مشفق خواجہ رقم طراز ہیں:
"ڈاکٹر شاہد الوری کی کتاب ’چراغ سے چراغ‘ میں انہوں نے
غالب کے مصرعوں پر مصرعے لگائے ہیں، مثلا:
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی
پرواہ
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (غالب)
آپ سے تو نہیں میں داد کا خواہاں بخدا
نہ سہی، شاعر خوش
گو، بہت اچھا، نہ سہی
سن کے اشعار مرے جھوم تو جاتے ہیں عوام
گر نہیں ہیں
مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (شاہد الوری
یہ کتاب جن ’مشاہیر‘ کی آراء سے مزین ہیں ان میں ہمارے کرم
فرما منظر علی خاں منظر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ: ’’ غالب کے
چراغ پر شاہد الوری کا حق یوں بنتا ہے کہ الور، شاہد کی جائے پیدائش ہے اور غالب کے
والد کی جائے وفات۔‘‘
اگر منظر صاحب مزید تحقیق فرماتے تو انہیں غالب کی جائے
وفات نہ سہی، سبب وفات اسی کتاب میں مل جاتا۔"
سچ تو یہ ہے کہ خواجہ صاحب کی وفات کے بعد اس شہر کا حافظہ
ہی چھن گیا ہے
!
آپ نے لکھا کہ "منظر علی خاں، نظیر
صدیقی، اور مشفق خواجہ
سے میری دیرینہ ارادت اور نیازمندی تھی۔ ساقی فاروقی کو اللہ رکھے وہ ہنوز مجھے یاد
رکھتے ہیں۔
"
خدا آپ کو سلامت رکھے، ان شخصیات سے مراسم کے تعلق سے اپنی
یادوں کو قلم بند ضرور کیجیے گا۔ یہ بھی فرمائیے کہ منظر علی خاں منظر صاحب کی وفات
کیسے ہوئی کہ وفیات اہل قلم سے مجھے محض ان کی تاریخ وفات ہی کا علم ہوا ہے۔
افسانہ آپ کو پسند آیا، آپ کی عنایت ہے
حیدرآباد دکن سے جناب ابن صفی پر
ادارہ قومی زبان نے پہلی مرتبہ خصوصی نمبر نکالا ہے، کچھ کام ان کے لیے کیا تھا،
پرچہ شائع ہوچکا ہے اور اس کے نگراں کار مجھ ہی سے پوچھ رہے تھے کہ اب اسے کراچی
مجھ تک کیسے پہنچایا جائے -- - - دہلی میں مقیم ایک کرم فرما نے داد رسی کی اور اب
امید ہے کہ یہاں پہنچ جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ تفصیل پیش کروں گا!
خیر
اندیش
راشد اشرف
2011/9/13 Wali Alam Shaheen <waliala...@rogers.com>
>راشد اشرف نے منظر علی خاں منظر کی کتاب "چھپائے نہ بنے" کی اشاعتی تفصیل کے بعد مشفق خواجہ کی تحریرسے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اول الذکر کی ٹصنیفات ایسی ہیں جن کی قدر و قیمت مشکوک ہے۔ سو ایسا نہیں ہے۔ منظر علی خاں منظر کےمداحوں میں ڈاکٹر وزیرآغا، ڈاکٹر حنیف فوق، ڈاکٹر جمیل جالبی،اور ڈاکٹر اسلم فرخی جیسے مشاہیر ادب شامل ہیں۔ ماجرا یہ ہے کہ غالب کی طرح مشفق خواجہ بھی جس پر مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں منظر کے علاوہ نظیر صدیقی اور ساقی فاروقی خاص اہمیت رکھتے ہیں جن سے مشفق خواجہ کی دوستانہ چھیڑ چلتی رہتی تھی۔ منظر علی
خاں، نظیر صدیقی، اور مشفق خواجہ سے میری دیرینہ ارادت اور نیازمندی تھی۔ ساقی فاروقی کو اللہ رکھے وہ ہنوز مجھے یاد رکھتے ہیں۔ اب خامہ بگوش کے ایک کالم "سفر نامہ یا تذکرۃ النسا" کے آخری چند جملے ملاحظہ فرمائیں۔
>
>ایک طرف تو نظیر صدیقی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ انگریزی شاعری پر رائے دینے کے اہل نہیں ہیں، دوسری طرف یہ رائے بھی دیتے ہیں کہ ساقی کی انگریزی نظم نہ صرف بڑی زوردار ہے بلکہ اتنا زور ان کی کسی اردو نظم میں بھی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ساقی فاروقی نے اپنی انگریزی نظم نظیر صدیقی کو خاصی زوردار آواز میں سنائی تھی، موصوف آواز کی بجائے نظم کو زوردار سمجھ بیٹھے۔ ساقی فاروقی نے لندن کی ایک ادبی محفل میں نظیر صدیقی سے شکایت کی کہ آپ نے پروین شاکر پر پچاس صفحوں کا مضمون لکھا لیکن مجھ پر پانچ صفحے بھی نہیں لکھے۔ اوپر کی پانچ سطروں میں نظیر صدیقی نے اس
شکایت کا بخوبی ازالہ کردیا ہے۔
>اب منظر علی خاں منظر کے ایک مضمون کا اقتباس دیکھیں جو مشفق خواجہ کے متعلق ہے:۔
>معلوم ہوا خواجہ صاحب منوں نہیں بلکہ ٹنوں کے حساب سے کتابیں لے کر آئے ہیں۔ چونکہ کسٹم والوں کے لئے یہ نرالی سوغات تھی لہذا انہیں سمجھانے میں چار پانچ روز نکل گئے۔ ان کتابوں کا وزن چونکہ زیادہ ہو گیا تھا لہذا پتہ چلا کہ اپنی بہت سی چیزیں وہیں چھوڑ آئے۔ میں نے گھبرا کر پوچھا کہ بھابی جان تو ساتھ آئی ہیں کہ وہ بھی وہیں رہ گئیں۔ معلوم ہوا کہ ترقی پسند شعراء کے مجموعہ ہائے کلام کے عوض جو وہاں چھوڑ دئے گئےوہ آسکی ہیں اور یہ قسم کھاکر بیٹھی ہیں کہ یا تو آئندہ کتابیں آئیں گی یا وہ ہندوستان جائیں گی۔ کہہ رہی تھیں غضب خدا کا آخری وقت تک دھڑ کا لگا
رہتا ہے کہ دیکھو کتابیں جہاز پر سوار ہوتی ہیں یا وہ خود قدم رکھتی ہیں (مطبوعہ "اوراق" لاہور) ۔
>>دو مختلف کالمز سے تبصرے ملاحظہ ہوں:
>>اول:
>>اتنی تیزی سے تو کسی کو رسوائی بھی نہیں ملتی جتنی تیزی سے منظر علی خان منظر کو شہرت ملی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ان کا مجموعہ کلام ’کرب آگہی‘ کے نام سے شائع ہوا تھا جس میں ’آگہی‘ تو آٹے میں نمک کے برابر تھی اور باقی کرب ہی کرب تھا، اور وہ بھی مصنف کا نہیں، پڑھنے والوں کا۔اب مصنف کی تیسری تصنیف ’مکررکہے بغیر‘ شائع ہوئی ہے جس پر ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ
Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> Sep 15 06:22AM +0500
^
جامی صاحب
خواجہ صاحب کو سعیدہ احمد کی خودنوشت ڈگر سے ہٹ کر پسند تھی، یہ بات ہمارے علم
میں نہیں تھی، اس خودنوشت کو دوبارہ پڑھوں گا، بہت شکریہ
راشد
2011/9/14 syed maeraj jami <maer...@yahoo.co.uk>
javed jamil <doctor...@yahoo.com> Sep 14 06:21PM -0700
^
دو غزلیں از ڈاکٹر جاوید جمیل
1.
گفتار میں ہو کبر فقط، عاجزی نہ ہو
ہے آدمی کہاں وہ اگر آدمی نہ ہو
ہو اعتماد خود پہ مگر خود سری نہ ہو
احساس کمتری نہ ہو اور برتری نہ ہو
اے جاذب نظر یہ ملاقات خوب تھی
پہلی تھی یہ، خدا کرے کہ آخری نہ ہو
اچّھا ہوا کہ بیچ کی دیوار گر گئی
آؤ دعا کریں یہ کبھی پھر کھڑی نہ ہو
منزل کی جستجو میں نکلنا فضول ہے
دل میں اگر جنوں نہ ہو دیوانگی نہ ہو
اے نو جوان! گھومنا پھرنا برا نہیں
ہے شرط صرف اتنی کہ بے رہ روی نہ ہو
جاوید ہم نے دیکھی ہے دنیا قریب سے
دنیا ہے اسکی، جسکو غم دنیوی نہ ہو
2.
طویل غم کا زمانہ گزر گیا شاید
وہ میرے صبر کی قوّت سے ڈر گیا شاید
وہ سنگسار ہوا ہے ضمیر کے ہاتھوں
وہ اپنے عھد وفا سے مکر گیا شاید
تمہاری آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے آخر
تمہارے ضبط کا پیمانہ بھر گیا شاید
دکھائی دیتا ہے رومال سبکی ناکوں پر
کسی مقام پہ پانی ٹھہر گیا شاید
ہے سجدہ ریز بھی جاوید چشم نم بھی ہے
غرور ٹوٹ کے اسکا بکھر گیا شاید
Raies Warsi <rwa...@aol.com> Sep 14 06:54PM -0400
^
Dear Friends
Urdu Marakz New York is organizing an inauguration ceremony of famous writer and poet Dr. Saeed Naqvi's new book "Dosra Rukh" (A collection of Urdu fictions), On Friday September 30th at 6:30pm (Sharp) at Queens Museum Of Arts.
We request you to join us at the this occasion. For details please check the attachment. Thanks
Note: Light dinner will be served.
RW
-----Original Message-----
From: Saeed Syed <saeed...@hotmail.com>
To: rais warsi <rwa...@aol.com>
Sent: Sun, Sep 11, 2011 10:12 am
Subject: FW: Runumai invitation
Hi Rais
Invitation flyer is attached for your review, once you approve, it can be distributed.
Saeed
Ainee Niazi <ainee...@gmail.com> Sep 15 12:37AM +0430
^
Ainee Niazi
غزل
مرزا رفیع سودا
وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
آیا تھا کیوں عدم سے کیا کر چلا جہاں میں
یہ مرگ وزیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں
کیوں کر نہ ہو مسخر شیشہ سا دل ہمارا
اُس شخص کی نگا ہیں پتھر میں دھنستیاں ہیں
برسات کا تو موسم کب کا نکل گیا پر
مژگاں کی یہ گھٹاییں اب تک برستیاں ہیں
لیتے ہیں چھین کردل عاشق کا پل میں دیکھو
خوباں کی عاشقوں پر کیا پیش دستیاں ہیں
اس واسطے کہ ہیں یہ وحشی نکل نہ جاویں
آنکھوں کو میری مژگاں دونوں سے کستیاں ہیں
قیمت میں ان کی گو ہم دو جگ کو دے چکے اب
اس یار کی نگاہیں تس پر بھی سستیاں ہیں
جب میں کہا یہ اس سے: سودا: سے اپنے مل کے
اس سال تو ہے ساقی اور مے پرستیاں ہیں
اُس نے کہا یہ مجھ سے :اب چھوڑ دُخت رز کو
پیری میںاے دوانے یہ کون مستیاں ہیں
Mahmood Shaam <mahmoo...@gmail.com> Sep 15 12:41AM +0500
^
Ek ghazal sheer afzal jaffri sahib ki jo weekly qindeel mien 1965 mien shay hue thee mobile sey taster bane hai is lye diqqat hogee bahar Hal ek sought hai
Sent from my iPad
Begin forwarded message:
Ainee Niazi <ainee...@gmail.com> Sep 14 07:39PM +0430
^
آپ جو سوال کیا کر تے ہیں کہ انسا نیت کو فلا ح کیوں نہیں ملتی ۔ تو اصل با ت
اس میں یہی ہے کہ ہما رے اند ر تضا د ہےلیکن ایک با ت یہ بھی بڑی اہم ہے کہ
انسا ن ڈگر یا ں تو حا صل کر لیتا ہے ،بڑا امیر اور مشہور آدمی بن جا تا ہے
لیکن وہ دوسروں کی فلا ح کا سبب نہیں بنتا۔اور ایسی صورت میں تما م ڈگر یا ں نہ
اس کے کا م آسکتی ہیں اور نہ دوسروں کے ۔وہ روحا نی طور پر پسما ند ہ ہو تا ہے
۔ تر قی یا فتہ نہیں ۔جب آپ کا اند ر اور با ہر ایک جیسا ہو گا تو نہ صر ف آپ
خو د کے لیے فلا ح کا سبب بنیں گے بلکہ دوسر وں کے لیے بھی بہت فا ئد ہ مند ثا
بت ہو ں گے
اشفا ق احمد کی کتا ب زوایہ سے اقتبا س
Ainee Niazi <ainee...@gmail.com> Sep 14 07:20PM +0430
^
وہ عِشق جو ہم سے رُوٹھ گیا، اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا
اِک ہِجر جو ہم کو لاحق ہے تا دیر اسے دہرائیں کیا
وہ زہر جو دِل میں اتار لیا پھر اس کے ناز اُٹھائیں کیا
پھر آنکھیں لہو سے خالی ہیں یہ شمعیں بجھنے والی ہیں
ہم خُود بھی کسی کے سوالی ہیں اس بات پہ ہم شرمائیں کیا
اِک آگ غمِ تنہائی کی جو سارے بدن میں پھیل گئی
جب جسم ہی سارا جلتا ہو پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے ہم صُورت گر کچھ چہروں کے
بے جذبۂ شوق سنائیں کیا کوئی خواب
Ainee Niazi <ainee...@gmail.com> Sep 14 07:23PM +0430
^
نعت پاک : احمد ندیم قاسمی
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب لوٹتی ہیں
نور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا
کچھ نہیں سوجھتا جب پیاس کی شدت سے مجھے
چھلک اٹھتا ہے میری روح میں مینا تیرا
پورے قد سے میں کھڑا ہوں تو یہ ہے تیرا کرم
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا
دستگیری میری تنہائی کی تو نے ہی تو کی
میں تو مر جاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا
لوگ کہتے ہیں سایہ تیرے پیکر کا نہ تھا
میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیرا
تو بشر بھی ہے مگر فخرِ بشر بھی تو ہے
مجھ کو تو یاد ہے بس اتنا سراپا تیرا
میں تجھے عالمِ اشیاء میں بھی پا لیتا ہوں
لوگ کہتے ہیں کہ ہے عالمِ بالا تیرا
میری آنکھوں سے جو ڈھونڈیں تجھے ہر سو دیکھیں
صرف خلوت میں جو کرتے ہیں نظارا تیرا
وہ اندھیروں سے بھی درّانہ گزر جاتے ہیں
جن کے ماتھے میں چمکتا ہے ستارا تیرا
ندیاں بن کے پہاڑوں میں تو سب گھومتے ہیں
ریگزاروں میں بھی بہتا رہا دریا تیرا
شرق اور غرب میں نکھرے ہوئے گلزاروں کو
نکہتیں بانٹتا ہے آج بھی صحرا تیرا
اب بھی ظلمات فروشوں کو گلہ ہے تجھ سے
رات باقی تھی کہ سورج نکل آیا تیرا
تجھ سے پہلے کا جو ماضی تھا ہزاروں کا سہی
اب جو تا حشر کا فردا ہے وہ تنہا تیرا
ایک بار اور بھی بطحا سے فلسطین میں آ
راستہ دیکھتی ہے مسجدِ اقصی تیرا
<http://www.facebook.com/photo.php?fbid=210282922369853&set=a.165218313542981.43514.165213430210136&type=1&ref=nf>
*
<http://www.facebook.com/media/set/?set=a.165218313542981.43514.165213430210136&type=1>
*
SALMAN FAISAL <sfais...@yahoo.co.in> Sep 14 05:36PM +0530
^
خامہ بگوش کا تحقیق نامہ
سلمان فیصل
ریسرچ اسکالر، شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ
اس جہان آب و گل کے ہر میدان میں ایسی بے شمار شخصیتیں پیدا ہوئیں جو مختلف النوع صفات کی حامل تھیں۔ اسی طرح اردو زبان و ادب کے ہر شعبے میں بھی ایسے ماہرین نظر آئیں گے جو ہرفن مولا کہے جاسکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت مشفق خواجہ کی ہے ۔ وہ بیک وقت ادیب، انشا پرداز، ناقد، محقق، شاعر اور مزاح نگار تھے۔ یوں تو مشفق خواجہ اپنے طنزیہ مزاحیہ ادبی کالم نگاری کے لیے بہت مشہور ہیں لیکن انھوں نے تحقیق کے میدان میں قدم رکھا تو یہاں بھی ان مٹ نقوش چھوڑگئے۔تحقیق کے میدان میں محمود شیرانی، مولوی عبد الحق، مسعود حسن رضوی ادیب، امتیاز علی عرشی،رشید حسن
خاں، محی الدین قادری زور، قاضی عبدالودود ، مسعود حسین خاں اور گیان چند جین جیسے نابغہ فن پیش پیش ہیں، اسی صف میں مشفق خواجہ بھی نظر آتے ہیں۔ مشفق خواجہ کو تحقیق و تنقید سے بہت لگاؤ تھا ۔ ان کی تحقیقی کتابوں میں سعادت خاں ناصرکے ’’تذکرہ خوش معرکہ زیبا‘‘ اور احمد دین کی تصنیف ’’اقبال‘‘ کی تدین کے علاوہ’’ کلیات یگانہ‘‘ اور ’’جائزہ مخطوطات اردو‘‘(جلد اول)شامل ہیں۔ ’’تحقیق نامہ ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
تحقیق نامہ مشفق خواجہ کے چھ طویل تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے ۔ ابتدائی تین مضامین تین قدیم شعرا پر مشتمل ہے:محمد رضا قزلباش خاں امید، شاہ قدرت اللہ قدرت اور مرزا جعفر علی حسرت۔ چوتھا مضمون ’’تذکرہ گلشن مشتاق‘‘ پر ہے اور پانچواں و چھٹا مضمون ان کی دو مدوَّن کتابوں پران کا لکھا ہوا مقدمہ ہے۔ ایک سعادت خاں ناصر کے تذکرہ ’’خوش معرکہ زیبا‘‘ اور دوسرا احمد دین کی کی تصنیف ’’اقبال‘‘ پر۔
مشفق خواجہ نے تحقیق نامہ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ان چھ مضامین کو ا س کتاب میں شامل کرنے کے وقت ان میں سے کچھ میں خاصی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور کچھ میں نظر ثانی کا عمل زبان و بیان کی حد تک رہا ہے ۔ نیز پانچواں مضمون سعادت خاں ناصر کو بقول مشفق خواجہ انھوں نے از سر نو لکھا ہے ۔
تحقیق نامہ میں مستعمل زبان یکسر تحقیقی ہے۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ خامہ بگوش کے نام سے طنزیہ ومزاحیہ ادبی کالم لکھنے والے مشفق خواجہ کی تحریر ہے۔ دونوں کا اسلوب جداگانہ ہے۔ ابتدائی تین مضامین میں تین قدیم شاعروں کے حالات زندگی اور ان کی شاعری کے بارے میں خامہ فرسائی کی گئی ہے ۔ ہر بات کو دلیل اور مختلف تذکروں کے حوالے کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ اگر کسی بات پر مختلف تذکرہ نگاروں کے درمیان اختلاف ہے تو تمام اختلافات کا ذکر کرنے کے بعد ترجیح کی صورت مع دلیل درج کی ہے۔ مشفق خواجہ نے کئی جگہ کثرت سے اختلافات کا ذکر کیا ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ
انھوں نے بہت زیادہ تذکروں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اور ترجیح کی صورت سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مشفق خواجہ کو تذکرہ نگاروں سے بہت زیادہ واقفیت تھی۔ مشفق خواجہ جب بھی کوئی بات یا حقیقت درج کرتے ہیں تو اس کو کن کن تذکرہ نگاروں نے بیان کیا ہے ، بریکٹ میں سبھی تذکروں کے اسماء اور کبھی تذکرہ نگاروں کے نام بھی درج کرتے جاتے ہیں، جس سے معلو م ہوتا ہے کہ یہ بات فلاں فلاں تذکروں میں موجود ہے۔
مشفق خواجہ صاحب جب اقتباسات نقل کرتے ہیں تو اس بات کاضرور اہتمام کرتے ہیں کہ اگر اقتباس میں کسی شخصیت کا ذکر ہے جس کے بارے میں وضاحت ضروری ہے یا کوئی ایسی بات جس کے قاری کی فہم تک نہ پہنچ سکنے کا اندیشہ ہے تو اس کی وضاحت حاشیہ میں ضرور کرتے ہیں جس سے پوری طرح اقتباس کا مفہوم واضح ہو جاتاہے۔ اقتباسات کے حوالے دینے کا انداز بھی جداگانہ ہے۔ کبھی تو اقتباس کے آخر میں ہی حوالہ درج کردیتے ہیں جس میں کتاب کا نام اور صفحہ نمبر شامل ہوتا ہے اور کبھی سنہ اشاعت۔۔۔ دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اقتباس کے آخر میں نمبر درج کرکے مضمون کے آخر میں حواشی میں
حوالہ درج کرتے ہیں جس میں کتاب کا نام، مصنف کا نام، سنہ اشاعت اور صفحہ نمبر شامل ہوتاہے۔
مشفق خواجہ کی یہ کتاب تحقیق نامہ ان چھ لوگوں کے حالات زندگی پر ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جن کا ذکر اس کتاب میں کیا گیا ہے ۔ بقول مشفق خواجہ اس سے پہلے ان لوگوں پر کبھی بھی یکجا تفصیل سے کچھ نہیں لکھا گیا۔ اس طرح یہ کتاب ان پر ثانوی مآخذ میں سب سے اہم، قوی اور قابل تقلید کتاب کا درجہ رکھتی ہے ۔
تحقیق نامہ کا پہلا مضمون’’مرزا محمد رضاقزلباش خاں امید‘‘ پر ہے جن کی سوانح، شخصیت اور شاعری کے بارے میں احوال پیش کرنے کے لیے مشفق خواجہ نے متعدد تذکروں کے علاوہ چار مخطوطات سے بھی استفادہ کیا ہے ۔ قزلباش خاں امید کے احوال درج کرتے وقت تمام تذکروں کے اختلافات کا ذکر کرنے کے بعد ترجیح کی صورت بھی پیش کی ہے جو اس کتاب کی بڑی خوبی ہے۔ قزلباش خاں کے نام کے سلسلے میں مشفق خواجہ لکھتے ہیں:
’’امید کانام تذکروں میں محتلف طرح آیا ہے۔ ’’محمد رضا‘‘ (مجمع النفائس، ریاض الشعرا، صحف ابراہیم، گلشن ہندلطف، سفینہ ہندی،) ’’مرزامحمد رضا‘‘ (سرو آزاد) ’’قزلباش خان‘‘ ( سفینہ خوش گو، مخزن نکات، گلشن ہند حیدری، تذکرہ عشقی، عمدہ منتخبہ، ریاض الفصحا، مجموعۂ نغز) ’’محمد رضا قزلباش خان‘‘ ( تحفۃ الشعرا) ’’آقا رضا‘‘ ( آتش کدۂ آذر، سفینۃ الحمود)۔
صحیح نام’’ محمد رضا‘‘ ہے جو امید سے ذاتی واقفیت رکھنے والے تمام تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے۔ مغل ہونے کی بنا پر ’’میرزا‘‘ خاندانی نام ہے۔ اور پورے نام کا جزو اول ہے۔ (جیسا کہ آزاد بلگرامی نے لکھا ہے) ’’قزلباش خان‘‘ جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہوگا ، خطاب ہے‘‘ (ص:۱۱)
اس اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ مشفق خواجہ حقائق کو پیش کرنے میں کتنی احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ اس مضمون میں امید کے اصل وطن کے بارے میں بتایا گیاہے کہ وہ ہمدان میں پیدا ہوئے، وہاں سے اصفہان آئے اور پھر ہندوستان آمد ہوئی۔ ہندوستان میں کہاں کہاں قیام رہا اس کی بھی تفصیل موجود ہے۔ متعدد تذکر وں اور مخطوطوں کے حوالے سے شخصیت کی عکاسی کی گئی ہے کہ وہ رنگین شخصیت کے مالک تھے۔ یارباشی، حسن پرستی اور مجالس آرائی کی صفات رکھتے تھے اور ساتھ ساتھ غریبوں اور ضرورت مندوں کے بھی کام آتے تھے۔ امید کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے مشفق خواجہ نے ان کے فارسی
کلام کے آٹھ نسخوں کی تفصیل پیش کی ہے ۔ مضمون کے آخر میں مشفق خواجہ نے ’’پس نوشت‘‘ کے عنوان کے تحت تین تذکروں کا ذکر کیا ہے جن سے وہ استفادہ نہیں کر سکے ۔
اس کتاب کا دوسرا مضمون ’’شاہ قدرت اللہ قدرت‘‘ پر ہے۔ اس مضمون میں بھی واقعات و حقائق کو پیش کرنے کا وہی طریقہ کا ر ہے جو پہلے مضمون میں تھا۔ شاہ قدرت کے خاندان کے بارے میں قدرے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ شاہ قدرت دہلی کے رہنے والے تھے ۔ انھوں نے یہاں سے نکل کر لکھنؤ، پٹنہ اور مرشدآباد کا بھی سفر کیااور آخری دنوں میں وہ مرشدآباد میں قیام پذیر رہے۔ تمام اسفار کے احوال قلمبند کیے گئے ہیں۔ تذکرو ں کے اقتباسات کے ذریعہ شاہ قدرت کی سیرت اور کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
میر حسن:’’ بلند پایہ وقوی مایہ.....درویش وضع، خلیق طبع، رتبہ قدرش وسیع....مردے خوب است‘‘
(شعرائے اردو، ص:۱۳۳)
علی ابراہیم خلیل:’’در آشنا پرستی و آزادہ حالی از اماثل خویش ممتاز‘‘ (گلزار ابراہیم، ص:۳۵۹)
قاسم:’’مرد درویش نہاد، والانژاد، آزاد منش، پاکیزہ روش، ذکی الطبع، صاحب فکر سلیم، قویم الفکر، مالک طبع مستقیم بود‘‘ ۔( مجموعہ نغز،دوم، ص:۱۲۳)
شاہ قدرت نے رواج کے مطابق ابتدائی مشق سخن فارسی میں ہی کی۔ لیکن ان کے فارسی اشعار میں سے صرف آٹھ ہی محفوظ رہ گئے جو ریاض الوفاق میں موجود ہیں۔ شاہ قدرت کی شاعری کے بارے میں تقریباً سبھی تذکرہ نگاروں نے اچھی رائے کا اظہار کیاہے۔ تمام اقتباسات مندرج ہیں۔ بقول مشفق خواجہ دیوان قدرت کے چار نسخے دریافت ہوئے ہیں جن کی تفضیل مضمون میں موجود ہے۔ تذکرہ نگاروں نے قدرت کے ایک ہی دیوان کا ذکر کیا ہے مگر مشفق خواجہ کو دوسرا دیوان بھی دستیاب ہوا جس کو شاہ قدرت نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں مرتب کیا تھا۔ بقول مشفق خواجہ یہ بھی اہم دیوان ہے کیونکہ اس
میں جا بجا اصلاحات اور اضافے ہیں جو قدرتؔ کی طرف سے ہیں۔ اس مضمون کے آخر میں شاہ قدرت کے آٹھ شاگردوں کے نام بھی ذکر کیے گئے ہیں۔
تحقیق نامہ میں شامل تیسرا مضمون مرزا جعفر علی حسرت کی زندگی اور ان کی شاعری پر مشتمل ہے۔ اس مضمون میں عنوانات کے تحت احوال قلمبند کیے گئے ہیں۔ جیسے نام اور خاندان، پیدائش، تعلیم، استاد، ترک قیام دہلی، حسن علی خاں سے تعلق، مرزا جہاں دار سے تعلق، سودا سے معرکہ آرائی، مصحفی سے معرکہ آرائی، پیشہ، معاشی حالات ، ترک دنیا، وفات، کردار وشخصیت، شاگرد، شاعری،کلام حسرت کے مخطوطے، مطبوعہ کلیات،فارسی گوئی وغیرہ وغیرہ۔۔ بقول مشفق خواجہ حسرت دبستان لکھنؤ کے بانیوں میں شمار کیے جاسکتے ہیں اور لکھنؤ کے ادبی ماحول کی تعمیر وتشکیل میں ان کا اہم
کردار ہے۔ لیکن بعد کے زمانوں میں حسرت طاق نسیاں ہی کی زینت بنے رہے۔ حسرت کی پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے۔ کسی بھی تذکرہ نگار نے قطعیت سے تاریخ نہیں بیان کی ہے۔ حسرت دہلی سے نکل کر فیض آباد اور لکھنؤ میں بھی قیام پذیر رہے۔ لکھنؤ کے ادبی ماحول کی پرورش و پرداخت کے ساتھ سودا اور مصحفی سے معرکہ آرائیاں بھی کیں، جن کی تفصیل مضمون میں موجود ہے۔ رائے سر ب سکھ دیوانہ اور مرزا فاخر مکیں حسرت کے اساتذہ میں سے ہیں اور ان کے شاگردو ں میں ۱۸ لوگوں کے نام بتائے گئے ہیں۔ حسرت کے خوش گو شاعر اور استادِ فن ہونے کے بارے میں تقریباً سبھی تذکرہ نگارمتفق
ہیں۔ مشفق خواجہ نے کلام حسرت کے ۹ قلمی نسخوں کی تفصیل بیان کی ہے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی نے ایک کلیات مرتب کی ہے جو ۱۹۶۶ میں سرفراز پریس لکھنؤ سے شائع ہوئی ہے ۔ حسرت نے طوطی نامہ کے نام سے ڈھائی ہزار اشعار پر مشتمل ایک مثنوی بھی لکھی ہے ۔ ا س مثنوی کے بار ے میں مشفق خواجہ نے تفصیل سے خامہ فرسائی کی ہے۔
تحقیق نامہ کا چوتھا مضمون ’’تذکرہ گلشن مشتاق ‘‘ہے۔ بقول مصنف تحقیق نامہ تذکرہ گلشن مشتاق سے متعلق مشفق خواجہ کا مضمون پہلی مرتبہ ۱۹۷۴ میں شائع ہوا تھا۔ یہی مضمون خاصی تبدیل شدہ صورت میں تحقیق نامہ میں شامل ہے۔ اس مضمون کے دو حصے کیے جا سکتے ہیں۔ ایک حصے میں مشتاق کے احوال زندگی، ان کے خاندان، ان کے دواوینِ اردو اور فارسی کے بارے میں قدرے تفصیل سے بیان کیاگیاہے۔ نیز اسی حصے میں ’’چمنستان افکار‘‘ کے نام سے شعرائے فارسی کے ایک انتخاب کا ذکر ہے ۔ بقول مشفق خواجہ اس مجموعے میں مشتا ق نے ایران و ہند کے جدید و قدیم اساتذہ کی ہم طرح غزلوں
کو ردیف وار مرتب کیاہے اور ہر زمین کی غزلیات کے آخر میں اپنی بھی ایک غزل درج کی ہے۔ اس انتخاب میں تقریباً ۱۰۰ شعرا کی غزلیں ملتی ہیں اور بعض شعرا کی متعدد غزلیں شامل ہیں۔اس مضمون کا دوسرا حصہ تذکرہ گلشن مشتاق پر مبنی ہے۔ مشفق خواجہ نے اس تذکرے کی
Yousuf Reaz <yr...@hotmail.com> Sep 14 08:25AM
^
Is it possible on our part to avoid writing AOA for Assalamu alaykum? O stands for و here which is not and never part of Assalamu alaykum. It is السلامُ علیکم and not and never السلام و علیکم. This 'common' mistake changes the meaning. Again, Assalamu alaykum is dua and dua should not be 'shortened'. Hope friends won't mind it.Yousuf Reaz Date: Tue, 13 Sep 2011 02:50:34 -1200
Subject: Re: {5809} خامہ بگوش - ترقی پسندوں کے تعاقب میں
From: andle...@gmail.com
To: bazme...@googlegroups.com
AOA, bohot zabardast article hai khan khan sai dhond latai hain chizain yai bhi lagta hai patal sai otha laey hain khair kabhi urdu falak pai bhi jana hoa or nhi to os pai bhi apna tabsara likh dain os k browser ap ka intzar ka rhai hain.or han mojhai is article ki inpage file bhaijna na bhoolain.
Thanks Allah hafizShazia Andleeb
2011/9/13 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلےمشفق خواجہ کا نام ہی کچھ ایسا ہے، اہل ذوق ان کا نام سنتے ہی ادب سے سر جھکا لیتے ہیں
علیم خان فلکی صاحب کو مبارکباد، ساتھ ہی یہ استفسار کہ کیا زیر نظر مضمون ہنوز غیر مطبوعہ ہے ?
خواجہ صاحب ترقی پسندوں کے ساتھ ساتھ، نظیر صدیقی، انور سدید، منظر علی خاں منظر، جوش ملیح آبادی اور ساقی فاروقی کے بھی تعاقب میں رہے
محمد مختار عالم نے "مشفق من خواجہ من" نامی کتاب 2006 میں مرتب کی تھی جس میں خواجہ صاحب پر 50 کے لگ بھگ مضامین شامل ہیں، سو پہلے تو میں اس کتاب میں یہ مضمون تلاش کرتا رہا
خواجہ صاحب کے کالمز سے اقتباسات نکالنے میں مصروف ہوں، تاحال ساٹھ کے لگ بھگ ہوچکے ہیں، شامید ہے کہ بیس اور ہوجائیں گے، ایک مضمون کے ہمراہ جلد پیش کروں گا
خیر اندیشراشد اشرف
2011/9/13 Bazm e Qalam <bazme...@googlegroups.com>
خامہ بگوش - ترقی پسندوں کے تعاقب میں ازعلیم خان فلکی
عجیب شخص تھا !!ایک ہی نشست میں ساری کی ساری کتاب پڑھ جاتا۔ ایک ہی نشست میں ساری کتاب پڑھ ڈالنے سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے والا صرف تحریر ہی نہیں تحریررقم کرنے والے کا پورا ذہن پڑھ لیتا ہے۔ اسلئے شاعر و ادیب تو درکنار بڑے بڑے تنقید نگار بھی خامہ بگوش کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے۔ اگر تنقید نگاری ، بِلی کی دُم پر پیر رکھنے کا ہنر ہے توبِلا شبہ خامہ بگوش شیر کی دم پر پاؤں رکھنے والے عظیم قلمکار تھے۔
مروت تو انہیں کبھی چھو کر بھی نہیں گزری ۔ اسلئے کسی شاعر نے نہ کبھی انہیں اپنے کلام کے رسمِ اجراء پر مقالہ پڑھنے کی دعوت دی اور نہ کسی ادیب نے ان سے پیش لفظ یا فلیپر لکھانے کی ہمت کی۔ خامہ بگوش نے نہ صرف شعرو ادب پر بھر پور تنقید کی ، بلکہ تاریخ ،عمرانیات ، دینیات وغیرہ پر بھی چونکہ انہیں مہارت حاصل تھی ان شعبوں میں بھی لکھی جانے والی کتابوں اور ان کے لکھنے والوں کی کسی غلطی کو نہیں بخشا۔ پھر بھلا وہ ترقی پسند تحریک یا اس کے اسقاط سے پیدا ہونے والی آزاد شاعری یا نثری شاعری کو کیسے بخشتے؟ ترقی پسندی کیا تھی یہ تو خامہ بگوش کے اپنے الفاظ میں آگے واضح ہو جائے
گا۔ اس تحریک نے کمیونزم کے چڑھتے سورج کے آگے بے شمار ذہنوں کو جھکا دیا۔
غربت و افلاس کے مارے ہندوستان میں جس میں کبھی پاکستان بھی شامل تھا کسی شاعر یا ادیب کا کسی اخبار یا رسالہ میں شائع ہو جانا یا ریڈیو پر اسے موقع مل جانا اس کے لیئے حاصلِ حیات تھا۔ اور اگر کسی کو ماسکو کا ٹکٹ مل جائے تو واہ، سونے پہ سہاگا، یہ بے چاروں کی تومعراج تھی۔
جلسے اور جلوس ترقی پسند تحریک کا خاصہ تھے۔ اس لیے شاعر و ادیب کی اس بہانے دلی مراد پوری ہوجاتی۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ اسٹیج پر آنے اور داد پانے سے زیادہ اور کیا ترقی ہو سکتی ہے؟ یہی تھی وہ ترقی پسندی جس میں لاکھوں سادہ لوح بہہ گئے ۔ ظاہر ہے کہ روایتی ادب اور روایتی شاعری میں آدمی غالب کی طرح جیتے جی تو قرضدار ہی رہتا ہے اور مرنے کے بعد اس کی قدر ہوتی ہے۔ لیکن ترقی پسندوں نے جیتے جی قدردانی کے ایسے ایسے مواقع فراہم کر دیئے کہ ہر ایرے غیرے نے اس گنگا میں ہاتھ دھو لینے کی آرزو کی۔ ادھر نہرو جی نے اور ادھر بھٹو نے سوشلزم کا نعرہ کیا دیا کہ سارے ترقی پسندوں
کو گویا لائسنس مل گیا اور اخبار ، رسائل ، ریڈیو اور ٹی وی پر ان کی اجارہ داری قائم ہوگئی۔ کوئی فلم لائین میں گھس پڑا تو کسی نے صحافتی اداروں میں خوب کمائی کی۔ ترقی پسندی کی دوکان کو تو خیر شکست و ریخت سے دو چار ہونا ہی تھا لیکن ان کی دوکانیں ان کی حیات تک تو خوب چل پڑیں ۔
لیکن تاریخ کے اس تیس چالیس سالہ ترقی پسندی کے عروج و زوال پر جس طرح خامہ بگوش نے ہر دور میں بھرپور گرفت کی ہے ایسا لگتا ہے کہ خامہ بگوش ایک مبصر ہے جو حال کا نہیں مستقبل کے کھیل اور اس کے انجام کی کامنٹری دے رہا ہے۔
خامہ بگوش نے ترقی پسند ادب ہی کا نہیں پورے نظریئے کا وقتاً فوقتاً جو تنقیدی جائزہ لیا ہے وہ مزاحیہ ہوتے ہوئے بھی سنجیدہ ادب کا ایک شاہکار کہلایا جا سکتا ہے۔ ذیل میں موصوف کی تین کتابوں " خامہ بگوش کا انتخاب " سخن ہائے گفتنی " اور " سخن در سخن " سے کچھ اقتباسات پیش کیئے جاتے ہیں۔
اگر کوئی شخص ہر وقت یہی کہتا رہے میں عاقل و بالغ ہوں تو اس کا عاقل و بالغ ہونا مشکوک ہو جائے گا۔ یہی حال ترقی پسندوں کا ہے جن کی ترقی پسندی کی عمارت دعوؤں پر قائم ہے ۔ ہم نے آج تک نہیں دیکھا کہ کوئی ایسا رجعت پسندی یا زوال پسندی کا ڈھنڈورا پیٹے ۔
زبانی جمع خرچ سے ترقی پسندوں کو کچھ ایسی محبت ہے کہ ایک عرصہ سے انہوں نے لکھنے لکھانے کا کام شروع کرنے سے پہلے ہی چھوڑ رکھا ہے۔ " گفتگو " تحریر کا نعم البدل بن چکی ہے حد تو یہ ہے کہ گفتگو کے نام سے کتاب بھی چھپ گئی ہے جس کے سرِ ورق پر درج ہے " ترقی پسند تحریک کے نظری مسائل ، اثرات اور مخالفین کے اعتراضات مشاہرینِ ادب سے بات چیت "۔
ہم نے استاد لاغر مرادآبادی سے عرض کیا کہ اس میں کچھ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے استاد نے فرمایا " ہاں اس کا بھی امکان ہے آخر خود ترقی پسند تحریک بھی تو ہماری تاریخِ ادب میں کتابت کی ایک غلطی ہی تو ہے"۔
کتابت کی غلطیوں کی بات چل نکلی ہے تو یہ عرض کر دینا مناسب نہ ہوگا کہ زیرِ نظر کتاب " گفتگو " کا شائد ہی کوئی ایسا صفحہ ہوگا جس پر کتابت کی دس یا بارہ غلطیاں نہ ہوں، خصوصاً شعروں پر تو وہ ظلم ڈھائے گئے ہیں کہ اچھے خاصے شعر بھی کیفی اعظمی کے شعر بن کر رہ گئے ہیں"۔
( ترقی پسند تحریک کی لٹیا )یہ تبصرہ دراصل سردار جعفری اور سید سبط حسن کے ایک انٹرویو پر تھا۔ اسی انٹرویو میں علی سردار جعفری نے کہا کہ
" فیض نے یا میں نے آزاد شاعری میں جو آہنگ اختیار کیا ہے وہ جدید لکھنے والوں تک پہنچتا ہے لیکن راشد اور میرا جی کی شاعری اپنی شناخت کھو چکی ہے"۔
ممکن ہے بعض لوگ یہ کہیں کہ اگر راشد اور میرا جی کی شاعری اپنی شناخت کھو چکی ہے تو پھر ترقی پسند شاعری تو اپنا سب کچھ کھو چکی ہے۔ لیکن ہمیں اس قسم کی انتہا پسندانہ رائے سے اتفاق نہیں ہے۔ راشد جی اور میرا جی کی اپنی شناخت تھی تو انہوں نے کھوئی ۔ ترقی پسند شاعری کے پاس کیا تھا جو کھوئے گی؟
سردار جعفری نے دورانِ گفتگو کہا :
" برنارڈ شاہ نے ایک مرتبہ بڑی دلچسپ بات کہی تھی کہ میرا درزی ہر سال آ کے میرا ناپ لے جاتا ہے تو یہ بات حالات اور ہمارے رشتہ پر منطبق ہوتی ہے۔ حالات برنارڈ شاہ ہیں اور ہم درزی " ۔
عرض ہے کہ درزیوں کی انجمن بنانے کیلئے درزی کا کام آنا ضروری ہے جبکہ مصنفین کی انجمن بنانے کیلیئے اس قسم کے کسی تکلف کی ضرورت نہیں ۔اسی گفتگو میں سید سبط حسن کا بھی ایک انٹرویو شامل ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ :
" ترقی کا تصور اقبال سے پہلے ہمارے ہاں موجود نہیں تھا ، اقبال نے ان تمام جدید تصورات سے ہمارے فکر و اد ب کو متعارف کروایا اور جس کمالِ خوبی سے شعری قالب میں ڈھالا وہ بجائے خود ایک مثال ہے بلکہ مجھے معاف رکھیں تو عرض کروں کہ ترقی پسند شاعری اپنی تمام توانائی ، دلکشی اور حقیقت آفرینی کے باوجود ملوکیت ، سرمایہ داری اور سامراج پر جو کچھ اقبال نے لکھ دیا اس کے پاسنگ برابر ایک نظم بھی اپنے ہاں سے پیش نہیں کر سکتی"۔
ترقی پسند ادب میں اکابر کا درجہ رکھنے والے ترقی پسند سید سبط حسن کے ترقی پسند ادب پر اس تبصرے پر خامہ بگوش کا یہ تبصرہ ملاحظہ فرمائیے ۔
"لیجیئے سید صاحب نے تو ترقی پسند شاعروں کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ بیچارے نصف صدی سے شاعری کر رہے ہیں اور شاعری کا ایک بھی ایسا نمونہ پیش نہ کر سکے جو اقبال کی کسی نظم کا پاسنگ ہوتا ۔ سید صاحب کو اتنی بے مروتی سے کام نہیں لینا چاہئے تھا۔ حوصلہ افزائی کے خیال سے کم از کم یہی کہہ دینا چاہئے تھا کہ اگلی نصف صدی میں اس کا امکان ہے کہ ترقی پسند ایک آدھ ایسی نظم ضرور لکھ دیں گے جسے کلامِ اقبال کا ' پاسنگ برابر ' قرار دیا جا سکے"۔
پوری ترقی پسند شاعری پڑھ ڈالیئے چاہے سجاد ظہیر ہوں ، مخدوم ، احمد ندیم قاسمی، جان نثار اختر کہ اخترالایمان، چند ایک بہترین غزلوں کے علاوہ جو ملے گا وہ دار و رسن، سلاسل ، روزنِ زنداں ، کسان، دھاتی ، مقتل، مظلوم و محکوم وغیرہ جیسے الفاظ پر باندھے گئے اشعار سے بھرے ہوئے کلام ملیں گے۔ اس پر خامہ بگوش کا تبصرہ ملاحظہ ہو۔
"ترقی پسند شاعروں کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے زنجیر لفظوں کے استعمال سے آفاقی شاعری کی ہے۔ کسی ترقی پسند سے غلط کام کی توقع نہیں کی جا سکتی سوائے شاعری کے۔ اور شاعری بھی ایسا کوئی غلط کام نہیں ہے جس پر شرمانے کی ضرورت ہو ۔ شرمانے کا کام پڑھنے والے بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں
( بائیں ہاتھ کی شاعری از مسلم شمیم)ایسا بھی نہیں ہے کہ خامہ بگوش نے نظریئے سے اختلاف کرتے ہوئے نظریہ رکھنے والے کو بھی مکمل رد کر دیا ہو شاعری اور ادبی نقطۂ نظر سے اگر شاعر یا ادیب داد کا مستحق ہو تو اس کی بھرپور داد بھی دی ہے مگر یوں کہ پڑھنے والے کے سامنے نظریئے اور نظریہ رکھنے والے کا فرق عیاں رہے۔ مثلاً پاکستان ہی کے مشہور ترقی پسند شاعر حسن عابدی کو انتہائی خوبصورت خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں کہ :
" ترقی پسندوں کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ان کی شاعری میں نظریہ تو ہوتا ہے نظر نہیں ہوتی حسن عابدی نے اس الزام کو بڑی خوبصورتی سے مسترد کر دیا ہے اور وہ اس طرح کہ ان کے ہاں نظریہ شاعری کو مسخ نہیں کرتا بلکہ بین السطور میں اپنا جادو جگاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عام ترقی پسندوں کی طرح وہ شعروں سے سمع خراشی نہیں کرتے دل و دماغ دونوں کو نہائت شائستہ پیرائے میں متاثر کرتے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ واحد ترقی پسند شاعر ہیں جن کا نام فیض کے نام کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔
( سوزتنی نہ فرختنی تبصرہ بر " نوشتِ نور " حسن عابدی )ادب کی تخلیق ، فکر و شعور کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کی پختگی کی محتاج ہے لیکن چونکہ ترقی پسندوں نے روزِ ازل سے ہی "ادب برائے مقصد " کے فریضے کا انکار کر دیا تھا۔ نتیجتاً سطحی جذبات و احساسات رکھنے والے عام تخلیق کاروں کو ادبی دنیا میں سستی دکانیں کھولنے کی آزادی مل گئی۔ ایسی ایسی چیزیں تخلیق ہونے لگیں جن کو آدمی پنی بیٹی یا بہو کے سامنے پیش کرتے ہوئے تو شرمائے لیکن محفل میں خوب داد حاصل کرے ۔ سہل پسندی ، آوارگئ طبع یا نا پختگی
Syed Qamar Hasan <qamarh...@hotmail.com> Sep 14 07:43PM +0400
^
Islamic clerics against music and buffet.
One may call it a good start. Let's go step by step.Once music and buffet dinning is discouraged and people begin to
avoid these two expensive items from marriages, other such frivolous events may follow suit.
qamar hasan
To: BAZMe...@googlegroups.com
From: BAZMe...@googlegroups.com
Subject: {5817} Abridged summary of BAZMe...@googlegroups.com - 16 Messages in 10 Topics
Date: Wed, 14 Sep 2011 11:34:27 +0000
Today's Topic Summary
Group: http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
Muslims most civilised- 29 Islam the Best Basis of Civilisation - 1 [1 Update]
جامی صاحب ،،کیسی ھے یہ نثری شاعری [4 Updates]
یم راج کا رقصِ مرگ تو جاری ہے [1 Update]
{5750} چند کتابیں-نئی اور پرانی [2 Updates]
Islamic clerics against music and buffets [1 Update]
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثروت حسین [1 Update]
رحم کر اے خدائے بحروبر [1 Update]
داستان ایمان [1 Update]
وفا کے راستے لمبے بہت ہیں [1 Update]
{5804} خامہ بگوش - ترقی پسندوں کے تعاقب میں [3 Updates]
Topic: Muslims most civilised- 29 Islam the Best Basis of Civilisation - 1
javed jamil <doctor...@yahoo.com> Sep 14 03:19AM -0700
^
Muslims most civilised- 29 Islam the Best Basis of Civilisation - 1
Despite shortcomings, Muslims Most Civilised in the World – 29
Dr Javed Jamil*
Islam the Best Basis of
more...
Topic: جامی صاحب ،،کیسی ھے یہ نثری شاعری
SUBAAN GUL <suba...@hotmail.com> Sep 13 11:18AM
^
جامی صاحب
آپ نے جو لکھا اس سے اتفاق کرتا ھوں
------------------------------------------
میں کل سرکاری ہسپتال گیا دوائ لینے
more...
Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> Sep 13 07:56PM +0500
^
روز محشر جو میں اٹھایا گیا داور حشر مسکرا اٹھا
مجھے شعر و سخن کا چسکہ تھا اس خطا پر مجھے
more...
Majalla Dastavez <dasta...@gmail.com> Sep 14 01:54AM +0900
^
بھائی راشد اشرف
ایک شعر اور قطعہ انور مسعود صاحب کا بھی ملاحظہ کریں
کس ناز سے وہ نظم کو کہہ دیتے ہیں نثری
more...
mohd saleem <suh...@yahoo.com> Sep 13 11:47PM -0700
^
اہل دوزخ کو نثری نظم سنا"
" اور لگاتار ہی سناتا جا
اور وہ بھی ترنم سے
From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
more...
Topic: یم راج کا رقصِ مرگ تو جاری ہے
Bazm e Qalam <bazme...@googlegroups.com> Sep 14 10:03AM +0400
^
یم راج کا رقصِ مرگ تو جاری ہے
وسعت اللہ خان
کولمبس نائن الیون سے پانچ سو نو برس پہلے امریکی ساحل پر اترا
more...
Topic: {5750} چند کتابیں-نئی اور پرانی
Wali Alam Shaheen <waliala...@rogers.com> Sep 13 11:20AM -0700
^
راشد اشرف نے منظر علی خاں منظر کی کتاب "چھپائے نہ بنے" کی اشاعتی تفصیل کے بعد مشفق خواجہ کی تحریرسے یہ تاثر
more...
Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com> Sep 14 09:47AM +0400
^
ڈاکٹر مشفق خواجہ کے کالم سخن در سخن کا جہاں تک تعلق ہے اس کا شمار اردو کے
اعلی مزاح کے نمونے کے طور پر ہونا
more...
Topic: Islamic clerics against music and buffets
smsreza30 <smsr...@gmail.com> Sep 14 02:59AM +0300
^
*Why only Music and buffets? *
*What about exchange of dowry and extravaganzas? *
*Why not they dissuade to cut down expenses and unlimited invitees (mostly
rich and well off ignoring poor
more...
Topic: شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثروت حسین
Syed Aijaz Shaheen <aijazs...@gmail.com> Sep 14 02:55AM +0400
^
ثروت حسین
کتابِ سبز و درِ داستان بند کئے
وہ آنکھ سو گئی خوابوں کو ارجمند کئے
گزر گیا ہے وہ سیلابِ آتشِ امروز
more...
Topic: رحم کر اے خدائے بحروبر
Mahmood Shaam <mahmoo...@gmail.com> Sep 13 10:13PM +0500
^
Sent from my iPad
Begin forwarded message:
more...
Topic: داستان ایمان
Ainee Niazi <ainee...@gmail.com> Sep 13 04:55PM +0430
^
**
داستان ایمان فروشوں کی
ایک بہت خو ب صورت کتا ب جس میں سلطا ن صلا ح الدین ایوبی کا انصا ف رحمد لی
مسلما نوں
more...
Topic: وفا کے راستے لمبے بہت ہیں
"مهتا ب قدر" <mahta...@gmail.com> Sep 13 03:21PM +0300
^
وفا کے راستے لمبے بہت ہیں
بھٹک جانے کے اندیشے بہت ہیں
زوال آمادہ قوموں کے ہیںیہ لوگ
عمل کم ،گفتگو کرتے بہت
more...
Topic: {5804} خامہ بگوش - ترقی پسندوں کے تعاقب میں
Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> Sep 13 06:55PM +0500
^
تمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے
مشفق خواجہ کا نام ہی کچھ ایسا ہے، اہل ذوق ان کا نام سنتے ہی ادب سے سر جھکا
more...
Ainee Niazi <ainee...@gmail.com> Sep 13 06:04PM +0430
^
Excellant sentiments with So beautiful articles ...Thanks for
sharing...Ainee Niazi
2011/9/13 Bazm e Qalam <bazme...@googlegroups.com>
more...
shazia andleeb <andle...@gmail.com> Sep 13 02:50AM -1200
^
AOA, bohot zabardast article hai khan khan sai dhond latai hain chizain yai
bhi lagta hai patal sai otha laey hain khair kabhi urdu falak pai bhi jana
hoa or nhi to os pai bhi apna tabsara likh dain
more...
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/
اردو سخن http://www.urdusukhan.com/
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"
Asif Muzaffar <asifmu...@gmail.com> Sep 14 09:34PM +0300
^
Third novel of Qaiser Saleem has been digitized and now available on
amazon.com for Kindle, iPad, and other digital book readers.
Inqalabi AaGaye انقلابی آگئے
http://www.amazon.com/dp/B005MTB3KU
The other two novels are:
Genghis Khan of 21st Century اکیسویں صدی کا چنگیز خان
http://www.amazon.com/dp/B0057P9JKA
Naya Nagar Basa Liya Hum Ne (نیا نگر بسا لیا ہم نے)
http://www.amazon.com/dp/B004QS93KU
Insha-Allah all novels of Qaiser Saleem will be digitized and be made
available on amazon.com
Inqalabi AaGaye [Kindle Edition]
Qaiser Saleem (Author)
Be the first to review this item | Like (0)
Pricing information not available.
Text-to-Speech: Enabled
Don't have a Kindle? Get your Kindle here.
Editorial Reviews
Product Description
Inqalabi Aagae (آگئے انقلابی) is Qaiser Saleem’s (سلیم قیصر) fifth novel.
The printed novel first published in 2000 is 199 pages long. The Kindle
edition is 233 pages long.
This story is fictional but the author without being descriptive has
skillfully set the scene and characters in this story such that the reader
feels that he or she is either living in the story or watching a movie.
However, the story is not far from reality. Many nations have lived or are
going through this “revolutionary process”.
Just listen to how Tariq, the main character of this novel, tells us;
“I am a destitute inhabitant of a third world country, ‘Abjadia,’ who has
lost whole world; … seventeen family members, countless friends and
acquaintances…, and everything that I cared about. All I am left with are
the memories. I am alive, perhaps, because my father said… son, you have to
stay alive!!
I am writing down these recollections in a book to keep them alive. I want
to tell the world that my wife, my children, my parents, my brothers and
sisters, nephews and nieces have all been slayed. The world should also see
that the pain and suffering of my family are mere depictions of other
hundreds of thousands of people who no one knows how they were devastated
and where they were killed. Perhaps in history, this has happened many times
before and as it is said history is the mirror of the future but my prayers
are that this should not happen again. My supplications are that this book
help stop such barbarism and those in power have the wisdom to better the
world before the arrival of such revolutionaries. Hence give them no reason
to entice youngsters to killings and destructions.”
Qaiser Saleem’s vision and approach in novel writing is unlike others. The
language is simple yet very powerful. The dialogues are short yet leave
profound effects on sensitive hearts. In this novel, Saleem takes his
readers to places and environs that may not be familiar to them but he
skillfully set the scenario to captivate them. At times it becomes difficult
for a reader to disengage from the novel. Despite the theme of the novel
being political, Inqalabi Aagae (آگئے انقلابی) is purely literary.
--
Asif Muzaffar
Saudi Aramco
Dhahran
+966-55-175-7552
+966-3-878-1377
Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> Sep 14 07:23PM +0500
^
ڈاکیہ ہری پور ہزارہ سے آیا تھیلا اٹھائے ہانپتا کانپتا آیا اور جاتے جاتے پوچھ
بیٹھا کہ صاحب، اس وزنی بنڈل میں آخر ہے کیا ?
سوائے کتابوں کے اور کیا ہوسکتا تھا، لیکن واقعی اس بار وزن کچھ زیادہ ہی ہے،
سوچ میں پڑ گیا کہ حال ہی میں کوئی ایسی بات تو نہیں کہہ دی جو ہمارے دوست
زاہد کاظمی کو بری لگ گئی ہو لہذا جواب میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کتاب کے تعلق سے گروہ عاشقاں و ہجوم دلبراں میں زاہد کاظمی اول اول جگہ پاتے
ہیں، کتاب کراچی سے شائع ہو اور خبر 1500 کلومیٹر دور بیٹھے زاہد کی طرف سے آتی
ہے لیکن زور خودنوشت سوانح عمریوں ہی ہر ہے، شاعری پسند ہے لیکن شرطیکہ اس میں
بھی آپ بیتی ہی غالب ہونی چاہیے لہذا حمایت علی شاعر، رشیدہ عیاں وغیرہ کی
‘منظوم‘ خودنوشتوں کا خوب علم ہے!
لیکن نہیں صاحب، بنڈل سے چھ عدد کتابیں ہی تھیں جو برآمد ہوئیں
لیجیے، آپ بھی ان سے ملاقات کیجیے:
غلام اسحق خان-شخصیت-کردار-خدمات
سحر صدیقی
سن اشاعت: دسمبر 2008
صفحات: 472
ناشر: علی پبلشنگ بیورو، اسلام آباد (051-2606876)
قیمت: 450 تعداد: 2000
قائد اعظم محمد علی جناح
شریف فاروق
سن اشاعت: 2011
قیمت: 925
صفحات: 532
ناشر: مکتبہ اتحاد، پشاور (091-2210522)
جدوجہد حیات -دہلی سے پاکستان آج تک کا سفر
چوہدری جلیل احمد خان
قیمت: 899
صفحات: 700
ناشر: جہانگیر بکس، لاہور (042-37220879)
کیہو جیا سی جیون (پنجابی)
خودنوشت
بلیر سنگھ مومی
ناشر: سانجھ پبلشر، لاہور (042-37323950)
قیمت: 260
صفحات: 350
میرے آپنے (پنجابی)
خودنوشت
مصنف : سکھدیو سدھو
سن اشاعت: 2011
ناشر: سانجھ پبلشر، لاہور (042-37323950)
قیمت: 250
صفحات: 184
عمر رواں
محمد شفیع نیاز
نیشنل بک فاونڈیشن ، اسلام آباد (92-51-9261125)
قیمت: 500
سن اشاعت: دسمبر 2009
صفحات: 340
خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد
http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ
www.urduaudio.com
سہ ماہی اثبات
http://www.esbaat.com/
اردو سخن
http://www.urdusukhan.com/
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیے
www.urdu.ca -
www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives
https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
To receive an invitation to JOIN send mail to
bazme...@gmail.com
To invite your friends to Bazm e Qalam group
http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to
bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"