چند کتابیں-نئی اور پرانی

2 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Sep 11, 2011, 5:10:17 AM9/11/11
to 5BAZMeQALAM, arif.waqar, anwer....@bbc.co.uk, Tasleem Elahi Zulfi, Mohammad Hanif, Ahmad Safi


چند نئی کتابوں کا تعارف پیش خدمت ہے

01- روداد انجمن
انجمن ترقی پسند مصنفین، شاخ بمبئی کے جلسوں کی روداد-1946 تا 1947
حمید اختر
ناشر: بک ہوم، لاہور
صفحات: 208
سن اشاعت: 2011
قیمت: 400
انتساب: "خاطر غزنوی کے نام جن کے خزانے سے یہ مال برآمد ہوا"
کراچی میں ویلکم بک پورٹ، اردو بازار پر دستیاب ہے

02- سن تو سہی
مشفق خواجہ کی منتخب تحریریں
پورب اکادمی، اسلام آباد
سن اشاعت: 2008
صفحات: 408
قیمت: 395
 
03- آپس کی بات
مرتب: ملک مقبول احمد (مالک-مقبول اکیڈمی، لاہور)
صفحات: 256
ناشر: مقبول اکیڈمی، لاہور
قیمت: 450

انور سدید کے انٹرویوز پر مبنی کتاب جو محض عبرت کے لیے خریدی گئی ہے
مفصل تبصرہ بہت جلد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آخری کتاب آج پرانی کتابوں کے اتوار بازار سے خریدی گئی

کل سہہ پہر کراچی میں بادل برسے لیکن "اتنا برسا ٹوٹ کے بادل" والا معاملہ ہرگز ہرگز نہ تھا، اندورن سندھ 400 ملی میٹر کی بارش پر میڈیا نے وہ ہنگامہ نہ کیا جو کراچی میں 17 تا 40 ملی میٹر پر بپا ہوا، آج علی الصبح ہی کتب فروش اپنی دکان سجاتے نظر آئے, اور اب یقیننا اپنی اپنی دکانیں بڑھا رہے ہوں کہ ابھی ابھی یکایک کراچی میں بارش شروع ہوگئی ہے۔


04 - چُھپائے نہ بنے
نثری مضامین کا مجموعہ
مصنف: منظر علی خان منظر
سن اشاعت: 1987
مقام اشاعت: کراچی

یہ وہی منظر علی خان منظر ہیں جن کے لتے مشفق خواجہ نے اپنے کالمز میں خوب لیے تھے لیکن خاں صاحب بے مزہ نہ ہوئے، کتابوں کے ڈھیر لگاتے چلے گئے حتی کہ زیر نظر کتاب کی اشاعت پر خواجہ صاحب نے کالم کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ " آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا، منظر علی خان منظر کی پانچویں تصنیف لطیف بھی شائع ہوگئی" - خاں صاحب پیشے کے اعتبار سے بینکار تھے!

دو مختلف کالمز سے تبصرے ملاحظہ ہوں:

اول:
اتنی تیزی سے تو کسی کو رسوائی بھی نہیں ملتی جتنی تیزی سے منظر علی خان منظر کو شہرت ملی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ان کا مجموعہ کلام ’کرب آگہی‘ کے نام سے شائع ہوا تھا جس میں ’آگہی‘ تو آٹے میں نمک کے برابر تھی اور باقی کرب ہی کرب تھا، اور وہ بھی مصنف کا نہیں، پڑھنے والوں کا۔اب مصنف کی تیسری تصنیف ’مکررکہے بغیر‘ شائع ہوئی ہے جس پر ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ تین سال کے مختصر عرصے میں تین کتابوں کا مصنف بن جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ملک میں کاغذ کی قلت کی جو شکایت پائی جاتی ہے وہ بلا سبب نہیں ۔ اگر منظر صاحب اسی رفتار سے کتابیں چھاپتے رہے تو وہ دن دور نہیں کہ دوبارہ کاغذ کی جگہ بھوج پتر کے استعمال کا رواج ہوجائے گا۔
لوگوں کو منظر صاحب کا مجموعہ نثر ’مکررکہے بغیر‘ ضرور پڑھنا چاہیے۔ یہ اتنا دلچسپ ہے کہ اگر شروع کردیا جائے تو قاری اسے ختم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ دوران مطالعہ قاری خود ہی ختم ہوجائے۔

دوم:
آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ جناب منظر علی خان منظر کی پانچویں تصنیف لطیف بھی شائع ہوگئی۔ یہ جملہ لکھنے کے بعد ایک اور اندیشہ پیدا ہوا ہے کہ کہیں کاتب صاحب لفظ ’لطیف‘ کو لطیفہ نہ لکھ دیں۔کیاتب پر فلیپ لکھنے والوں میں مشہور شاعر سلطان رشک بھی شامل ہیں۔وہ جیسی غزلیں لکھتے ہیں، ویسا ہی فلیپ لکھا ہے۔ فرماتے ہیں: ’’منظر علی خاں عنوانات کے انتخاب، الفاظ کے چناؤ اور جزئیات نگاری میں بے حد منفرد اور محتاط ہیں ۔ اچھی غزل کے مطلع کی طرح ان کا سرنامہ یا عنوان نہایت پر معنی اور ظرافت کا لحاف اوڑھے ہوئے ہوتا ہے۔ ‘‘

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ الفاظ کے چناؤ میں منظر صاحب محتاط ہیں لیکن خود جناب رشک نے احتیاط سے کام نہیں لیا۔۔ ابھی تو سردی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی کہ انہوں نے منظر صاحب کو لحاف اوڑھا دیا ہے۔ لحاف نہ ہوا، انشائیہ ہوگیا کہ جب چاہا اور جیسے چاہا اوڑھ لیا۔"
 

جی میں آیا کہ خاں صاحب سے ملاقات کی جائے، معراج جامی صاحب سے دریافت کیا، وہ کہنے لگے کہ خاں صاحب کا انتقال تو کئی برس پہلے ہوگیا تھا

وفیات اہل قلم سے علم ہوا کہ منظر علی خاں منظر 18 جنوری 1996 کو انتقال کرگئے تھے

خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے




apas ki batain.malik maqbool ahmed.jpg
chpaye na banay-manzar ali khan-1987.jpg
rodad e anjumna-hameed akhtar-book home-2011.jpg
sun to sahee.jpg

Wali Alam Shaheen

unread,
Sep 13, 2011, 2:20:11 PM9/13/11
to bazme...@googlegroups.com, Rashid Ashraf


راشد اشرف نے منظر علی خاں منظر کی کتاب "چھپائے نہ بنے"  کی اشاعتی تفصیل کے بعد مشفق خواجہ کی تحریرسے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اول الذکر کی ٹصنیفات ایسی ہیں جن کی قدر و قیمت مشکوک ہے۔ سو ایسا نہیں ہے۔ منظر علی خاں منظر کےمداحوں میں ڈاکٹر وزیرآغا، ڈاکٹر حنیف فوق، ڈاکٹر جمیل جالبی،اور ڈاکٹر اسلم فرخی جیسے مشاہیر ادب شامل ہیں۔ ماجرا یہ ہے کہ غالب کی طرح مشفق خواجہ بھی جس پر مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں منظر کے علاوہ نظیر صدیقی اور ساقی فاروقی خاص اہمیت رکھتے ہیں جن سے مشفق خواجہ کی دوستانہ چھیڑ چلتی رہتی تھی۔ منظر علی خاں، نظیر صدیقی، اور مشفق خواجہ سے میری دیرینہ ارادت اور نیازمندی تھی۔ ساقی فاروقی کو اللہ رکھے وہ ہنوز مجھے یاد رکھتے ہیں۔ اب خامہ بگوش کے ایک کالم "سفر نامہ یا تذکرۃ النسا" کے آخری چند جملے ملاحظہ فرمائیں۔ 

 

ایک طرف تو نظیر صدیقی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ وہ انگریزی شاعری پر رائے دینے کے اہل نہیں ہیں، دوسری طرف یہ رائے بھی دیتے ہیں کہ ساقی کی انگریزی نظم نہ صرف بڑی زوردار ہے بلکہ اتنا زور ان کی کسی اردو نظم میں بھی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ساقی فاروقی نے اپنی انگریزی نظم نظیر صدیقی کو خاصی زوردار آواز میں سنائی تھی، موصوف آواز کی بجائے نظم کو زوردار سمجھ بیٹھے۔ ساقی فاروقی نے لندن کی ایک ادبی محفل میں نظیر صدیقی سے شکایت کی کہ آپ نے پروین شاکر پر پچاس صفحوں کا مضمون لکھا لیکن مجھ پر پانچ صفحے بھی نہیں لکھے۔ اوپر کی پانچ سطروں میں نظیر صدیقی نے اس شکایت کا بخوبی ازالہ کردیا ہے۔

اب منظر علی خاں منظر کے ایک مضمون کا اقتباس دیکھیں جو مشفق خواجہ کے متعلق ہے:۔ 

معلوم ہوا خواجہ صاحب منوں نہیں بلکہ ٹنوں کے حساب سے کتابیں لے کر آئے ہیں۔ چونکہ کسٹم والوں کے لئے یہ نرالی سوغات تھی لہذا انہیں سمجھانے میں چار پانچ روز نکل گئے۔ ان کتابوں کا وزن چونکہ زیادہ ہو گیا تھا لہذا پتہ چلا کہ اپنی بہت سی چیزیں وہیں چھوڑ آئے۔ میں نے گھبرا کر پوچھا کہ بھابی جان تو ساتھ آئی ہیں کہ وہ بھی وہیں رہ گئیں۔ معلوم ہوا کہ ترقی پسند شعراء کے مجموعہ ہائے کلام کے عوض جو وہاں چھوڑ دئے گئےوہ آسکی ہیں اور یہ قسم کھاکر بیٹھی ہیں کہ یا تو آئندہ کتابیں آئیں گی یا وہ ہندوستان جائیں گی۔ کہہ رہی تھیں غضب خدا کا آخری وقت تک دھڑ کا لگا رہتا ہے کہ دیکھو کتابیں جہاز پر سوار ہوتی ہیں یا وہ خود قدم رکھتی ہیں (مطبوعہ "اوراق" لاہور) ۔ 

بہر نوع، میرا مقصد صرف یہ عرض کرنا تھا کہ منظر علی خاں منظر اپنے طور کے ایک ہی شخص تھے۔ ان کی تحریر، تقریر اور عام گفتگو بھی دلچسپ ہوتی تھی۔ افسوس کی ان کی ناوقت موت نے ایک قابل قدر ادیب کو ہم سے جدا کر دیا۔

 

موضوع سے ہٹ کر ایک الگ بات۔ راشد اشرف صاحب، آپ کے افسانے"خودکُش" کا آخری جملہ کہ   

حضرت! براہ کرم امیر المومنین تک یہ درخواست پہنچادیں کہ خودکُش جرسی میں بارود ذرا کم ڈالا کریں ۔۔۔ میں جنت سے پچاس کلومیٹر آگے نکل گیا ہوں  

وحدتِ تاثر کومزاح سے بھی ہمکنار کر گیا ہے۔

آصف فرخی یہاں کینیڈا آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ اتوار, یعنی ۱۱ ستمبر کو, مجھے دو مطبوعات عنایت کیں جن میں سے ایک دنیازاد کا شمارہ ۳۱ تھا میں نے آپ کا یہ افسانہ اسی رسالے میں پڑھا۔

 

شاہین

 

آٹوا۔ کینیڈا

  

   
--- On Sun, 9/11/11, Rashid Ashraf <zest...@gmail.com> wrote:

--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/
اردو سخن http://www.urdusukhan.com/
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"

Abdul Mateen Muniri

unread,
Sep 14, 2011, 1:47:33 AM9/14/11
to bazme...@googlegroups.com
ڈاکٹر مشفق خواجہ کے کالم سخن در سخن کا جہاں تک تعلق ہے اس کا شمار اردو کے اعلی مزاح کے نمونے کے طور پر ہونا چاہئے ، لیکن اسے سنجیدہ ادبی تنقید سمجھنا اس کے ساتھ زیادتی ہوگی ، کیونکہ ان کالموں میں جن نکات پر آپ نے پھلجھڑیاں چھوڑی ہے ان کی حیثیت عموما ذیلی ہے، انہوں نے اپنے کالموں میں اپنے بہت سے ایسے  دوستوں کو مزاح مزاح کا نشانہ بنایا ہے جن سے انہیں محبت تھی ان کے علم وعرفان کا وہ احترام کرتے تھے ،  ان تحریروں سے مشفق خواجہ کو جتنی مقبولیت ملی 
ہمارا احساس ہے کہ اس کالم کو مرحوم اپنی شہرت کا ذریعہ نہیں بنانا چاہتے تھے ،
لیکن خواہش کے باوجود انہیں ان کالموں سے جنتی شہرت اور مقبولیت ملی وہ ان کے دوسرے بھاری بھرکم سنجیدہ علمی کاموں سے نہ مل سکی    
یہی وجہ تھی کہ آپ نے کئی بار  درمیاں میں ان کالموں کے معیار کو سنجیدہ اور علمی نہ ہونے کہ وجہ سے   بند بھی کردیا تھا، شاید ان کالموں کا ایک مقصد ہفت روزہ تکبیر کو زندگی بخشنا تھا جس کے مدیر محمد صلاح الدین مرحوم سے آپ کو بڑی محبت تھی
محمد صلاح الدین صاحب نے اس کا تذکرہ ہم سے کیا تھا کہ عرصہ تک اس کالم کا معاوضہ بھی انہوں نے نہیں لیا تھا ، یہ مشفق خواجہ کی دوست نوازی تھی  
   
2011/9/13 Wali Alam Shaheen <waliala...@rogers.com>



--
انٹرنٹ کی دنیا میں نادر تقاریر اور شعروسخن کا منفرد سائٹ

www.bhatkallys.com

www.urduaudio.com     www.bhatkaltv.com

Audio And Video Collection Managed By

Abdul Mateen Muniri

mun...@facebook.com


Rashid Ashraf

unread,
Sep 14, 2011, 9:34:08 AM9/14/11
to bazme...@googlegroups.com, waliala...@rogers.com

شاہین صاحب!آداب

سب سے پہلے تو آپ کے تبصرے پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، اسے پڑھ کر یہ تقویت ملی کہ مشفق خواجہ مرحوم کی تحریروں کے مختلف النوع پہلووں سے آپ بخوبی واقف ہیں

 

منظر علی خاں منظر کی کتاب "چھپائے نہ بنے" کے تذکرے کے بعد ان کی تصنیفات کی قدر و قیمت کو مشکوک قرار دینے کا تاثر ہرگز نہیں دینا چاہ رہا تھا، مقصد صرف اور صرف خواجہ صاحب کے شگفتہ اسلوب کے چند حوالے پیش کرنا تھا، بلکہ سچ پوچھیے تو مذکورہ کتاب ( چھپائے نہ بنے) کے مطالعے کے بعد معاملہ اس کے برعکس نکلا۔ مشفق خواجہ پر خاں صاحب کا مضمون مجھے پسند آیا (آپ نے بھی اسی کا ایک اقتباس درج کیا ہے)، اسی طرح خاں صاحب نے پٹنہ کے سفر کا جو احوال لکھا ہے وہ بھی خاصہ دلچسپ ہے۔

گزشتہ پوسٹ میں، میرا تبصرہ یہ تھا:  


"یہ وہی منظر علی خان منظر ہیں جن کے لتے مشفق خواجہ نے اپنے کالمز میں خوب لیے تھے لیکن خاں صاحب بے مزہ نہ ہوئے، کتابوں کے ڈھیر لگاتے چلے گئے حتی کہ زیر نظر کتاب کی اشاعت پر خواجہ صاحب نے کالم کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ " آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا، منظر علی خان منظر کی پانچویں تصنیف لطیف بھی شائع ہوگئی


جیسا کہ آپ نے فرمایا (اور میں نے اپنے زیر تکمیل مضمون میں بھی لکھا ہے) کہ حضرت نظیر صدیقی، جوش ملیح آبادی، منظر علی خاں منظر، باقر مہدی، انور سدید، استاد اختر انصاری اکبر آبادی، مظہر امام وغیرہ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو خواجہ صاحب نے سب سے زیادہ تختہ مشق بنایا۔


آپ نے خوب کہا کہ "غالب کی طرح مشفق خواجہ بھی جس پر مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔

"

اردو دنیا میں ان کا کالم بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا تھا، کسی کی تحقیر ان کا مقصد کبھی نہ رہا، بقول شخصے ایک طرح سے وہ ادب کی دنیا کے محتسب اعلی تھے۔  اور بقول ڈاکٹر خلیق انجم "" خامہ بگوش نے جس ہندوستانی شاعر کے مجموعہ کلام پر تبصرہ کیا، اسے ساہیتہ اکیڈمی ایوارڈ مل گیا


استاد اختر انصاری اکبر آبادی کا ذکر تو اس طور کیا جاتا تھا کہ پڑھنے والوں کو آج تک یاد ہے۔ لیکن پھر یہ بھی ہوا کہ مشفق خواجہ نے ان کے انتقال پر 6 ستمبر 1986 کو ایک ایسا تعزیتی کالم لکھا جو پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ کالم پڑھ کر یہ بات واضح ہوائی کہ استاد مرحوم نے اپنی ساری زندگی اردو کی خدمت میں گزاری۔

استاد بہاولپور کے ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے تھے، وہ بہاولپور اپنے رسالے کے خصوصی نمبر کی اشاعت کے سلسلے میں چند اہل قلم حضرات سے ان کی تخلیقات کے حصول کے لیے گئے تھے!     

ہاں ، البتہ منظر صاحب کی شاعری چونکہ ابھی تک نظر سے نہیں گزری (اور شاید اس بارے میں خواجہ صاحب کے کالمز پڑھنے کے بعد خواہش بھی نہ رہی) ، لہذا کوئی رائے دینے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

آپ نے لکھا:


"منظر علی خاں منظر کےمداحوں میں ڈاکٹر وزیرآغا، ڈاکٹر حنیف فوق، ڈاکٹر جمیل جالبی،اور ڈاکٹر اسلم فرخی جیسے مشاہیر ادب شامل ہیں۔

"

یہ مداحوں کا معاملہ بھی عجیب ہے، خواجہ صاحب پر اپنے زیر تکمیل مضمون (اقتباسات سمیت) کے سلسلے میں ان کے سینکڑوں کالمز کا مطالعہ کرچکا ہوں، کئی مثالیں ایسی ملتی ہیں جن میں نثر یا شاعری پر مشتمل کسی نوآزمودہ مصنف کی تحریر کردہ کتاب کے بارے میں اردو ادب کی کسی جید شخصیت/شخصیات کی فلیپ پر درج آراء کے جواب میں مشفق خواجہ کا تبصرہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے - آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ایسے موقعوں پر ان کے قلم کی کاٹ کس طرح کی ہوتی تھی۔ اس سلسلے میں بھی کبھی چند دلچسپ مثالیں پیش کروں گا

!

اس موقع پر منظر علی خاں منظر صاحب سے متعلق ایک دلچسپ تبصرہ ملاحظہ ہو -- مشفق خواجہ رقم طراز ہیں:

"ڈاکٹر شاہد الوری کی کتاب ’چراغ سے چراغ‘ میں انہوں نے غالب کے مصرعوں پر مصرعے لگائے ہیں، مثلا:


نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ


گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (غالب)

آپ سے تو نہیں میں داد کا خواہاں بخدا


نہ سہی، شاعر خوش گو، بہت اچھا، نہ سہی


سن کے اشعار مرے جھوم تو جاتے ہیں عوام


گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (شاہد الوری


یہ کتاب جن ’مشاہیر‘ کی آراء سے مزین ہیں ان میں ہمارے کرم فرما منظر علی خاں منظر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ: ’’ غالب کے چراغ پر شاہد الوری کا حق یوں بنتا ہے کہ الور، شاہد کی جائے پیدائش ہے اور غالب کے والد کی جائے وفات۔‘‘
اگر منظر صاحب مزید تحقیق فرماتے تو انہیں غالب کی جائے وفات نہ سہی، سبب وفات اسی کتاب میں مل جاتا۔"

سچ تو یہ ہے کہ خواجہ صاحب کی وفات کے بعد اس شہر کا حافظہ ہی چھن گیا ہے

!

آپ نے لکھا کہ "منظر علی خاں، نظیر

صدیقی، اور مشفق خواجہ سے میری دیرینہ ارادت اور نیازمندی تھی۔ ساقی فاروقی کو اللہ رکھے وہ ہنوز مجھے یاد رکھتے ہیں۔

"

خدا آپ کو سلامت رکھے، ان شخصیات سے مراسم کے تعلق سے اپنی یادوں کو قلم بند ضرور کیجیے گا۔ یہ بھی فرمائیے کہ منظر علی خاں منظر صاحب کی وفات کیسے ہوئی کہ وفیات اہل قلم سے مجھے محض ان کی تاریخ وفات ہی کا علم ہوا ہے۔
 
افسانہ آپ کو پسند آیا، آپ کی عنایت ہے
حیدرآباد دکن سے جناب ابن صفی پر ادارہ قومی زبان نے پہلی مرتبہ خصوصی نمبر نکالا ہے، کچھ کام ان کے لیے کیا تھا، پرچہ شائع ہوچکا ہے اور اس کے نگراں کار مجھ ہی سے پوچھ رہے تھے کہ اب اسے کراچی مجھ تک کیسے پہنچایا جائے -- - - دہلی میں مقیم ایک کرم فرما نے داد رسی کی اور اب امید ہے کہ یہاں پہنچ جائے گا  ۔ ۔ ۔ ۔  تفصیل پیش کروں گا!  
 
خیر اندیش
راشد اشرف




2011/9/13 Wali Alam Shaheen <waliala...@rogers.com>

Rashid Ashraf

unread,
Sep 14, 2011, 9:57:35 AM9/14/11
to bazme...@googlegroups.com
عبدالمتین صاحب، آداب

مشفق خواجہ تکبیر میں کالم نگاری ترک کر چکے تھے، صلاح الدین صاحب کے کہنے پر بھی وہ آمادہ نہ ہوئے - مارچ 1994 میں مدیر تکبیر صلاح الدین حج کے لیے گئے، واپس آکر خواجہ صاحب سے کہا:

"" اب تک تو میں آپ ہی سے کہتا رہا ہوں کہ تکبیر کے لیے لکھیے، لیکن اس مرتبہ میں نے حرمین میں دعا کی ہے کہ آپ لکھنے کے لیے آمادہ ہوجائیں""

مشفق خواجہ ان کی یہ بات سن کر لرز اٹھے اور کہا:
"" صلاح الدین صاحب اتنے چھوٹے سے کام کے لیے اتنی بڑی بارگاہ میں دعا کرنے کی کیا ضرورت تھی، میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہوں"

یوں تکبیر  میں سخن در سخن کا یہ سلسلہ 31 مارچ 1994 کو دوبارہ شروع ہوا اور مدیر تکبیر کے قتل (دسمبر 1994) تک جاری رہا


راشد




2011/9/14 Abdul Mateen Muniri <ammu...@gmail.com>

syed maeraj jami

unread,
Sep 14, 2011, 10:26:55 AM9/14/11
to bazme...@googlegroups.com
محترم شاہین صاحب کا منظر علی خاں منظر پر خیالات پڑھے اور پھر راشد کی وضاحتیں پڑھیں
شاہین صاحب کا یہ کہنا کہ خواجہ صاحب جس پر مرتے تھے اسے مار دیتے تھے میں اس سے اس لیے اتفاق نہیں کروں گا کہ میں نے خواجہ صاحب کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور انھیں پڑھا بھی ہے وہ کسی پہ بھی نہیں مرتے تھے اور بغیر کسی پہ مرے لوگوں کومار دیتے تھے اپنے ظنز و مزاح کی تحریروں سےاتنا ضرور ہے کہ منظر علی خاں منظر ایک بے ضرر انسان تھے نہایت شریف اور پیارے انسان اور خواجہ صاحب کی دوستی اور محبت کا دم بھرتے تھے ان کی اسی بے لوث محبت کو دیکھتے ہوئے خواجہ صاحب نے ان پر کئی کالم لکھے ہیں مگر ان کے کسی بھی کالم سے ان کی محبت کا گراف بلند نہیں نظر آیا دراصل یہاں مجھے کسی شخص کا ایک جملہ یاد آ رہا ہے نام قصدا نہیں بھول رہا ہوں سہوا یاد نہيں آ رہا کہ خواجہ صاحب سب کو اپنی عینک سے دیکھتے تھے حالاں کہ یہ کوئی انوکھا جملہ نہیں ہے ہم سب دوسروں کو اپنی آنکھوں سے ہی دیکھتے ہیں مگر کہنے والے نے آنکھ کے بجائے عینک کا لفظ استعمال کر کے ایک استعارہ دیا ہے
خواجہ صاحب برے انسان نہيں تھے مگر ان کی کسوٹی ایسی سخت تھی کہ اس پر کوئی پورا نہیں اترتا تھا آج تک ہزاروں کی تعداد ميں خودنوشت لکھی گئیں ہیں مگر خواجہ صاحب کو سعیدہ احمد کی خودنوشت ڈگر سے ہٹ کر پسند تھی انھوں نے اپنے کئی دوستوں کو خط میں لکھا ہے کہ خودنوشت یہی ہے جو اس معیار پر پوری اتری ہے باقی سب جھوٹ اور سچ کا ملغوبہ ہیں اس سے اندازہ لگا لیجیے کہ کتابوں انسانوں اور تحریروں کے معاملے میں خواجہ صاحب کا معیار کس قدر کڑا اور ناقابل یقین ہو گا خواجہ صاحب کی تمام طنز و مزاح کی تحریریں ہجو ملیح ميں ہوتی ہیں اور کسی کسی کے بارے میں انھوں نے کھل کر لکھا کوئی رو رعایت نہیں برتی
ان کے بہت سے کالم اب تک کتابی شکل میں نہیں آئے ہیں
جامی


From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Cc: waliala...@rogers.com
Sent: Wednesday, 14 September 2011, 18:34
Subject: Re: {5818} چند کتابیں-نئی اور پرانی

Khadim Ali Hashmi

unread,
Sep 14, 2011, 11:52:00 AM9/14/11
to bazme...@googlegroups.com
محترم راشد اشرف صاحب
سلام مسنون۔ میں خاموشی سے آپ کی نگارشات پڑھتا رہتا ہوں۔ آپ ایک عمدہ تصنیف کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ امید ہے کہ اشاعت کے وقت اسے خوب پذیرائی ملے گی ان شاء اللہ۔ مجھے یہاں دخل دینے کی وجہ استاد اخترانصاری اکبرآبادی کا ذکر بنا۔ انتقال سے پہلے استاد لاہور آئے۔ انہوں نے مجھے اپنے پروگرام سے آگاہ کیا۔ چنانچہ ان کے انتقال سے ایک دن قبل دہلی مسلم ہوٹل انارکلی لاہورمیں ان سے میری آخری ملاقات ہوئی۔ اتفاق سے شاہد واسطی صاحب بھی اس وقت موجود تھے۔ اگلے دن استاد بہاولپور روانہ ہوگئے۔ صبح سویرے واسطی صاحب نے مجھے ٹیلی فون پر ان کے انتقال کی اطلاع دی۔ میں نے اس وقت تک اخبار نہ دیکھا تھا۔
مرحوم کم گو، وضع دار اور حفظ مراتب کا خیال رکھنے والے تھے۔ یہاں ایک واقعہ بیان کرتا چلوں۔ حیدرآباد سندھ میں ابھی ریڈیو سٹیشن کی اپنی عمارت نہیں بنی تھی۔ اور دفاتر ہوم سٹیڈ ہال کی عمارت میں گاڑی کھاتہ پر تھے۔ وہاں مشاعرہ ہو رہا تھا، مشاعرے کی نظامت سندھ یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد افتخار صاحب کر رہے تھے۔ وہ عشقی صاحب کے دوست تھے۔ ان کی ایک ٹانگ میں نقص تھا اس لیے لنگڑا کر چلتے تھے۔سامعین میں استاد کے پیچھے والی قطار میں الیاس عشقی اور دوسرے احباب کے ساتھ میں بیٹھا ہوا تھا۔ عشقی صاحب استاد پر آوازے کستے رہے، مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ جب استاد اپنا کلام سنانے کے لیے سٹیج پر گئے تو اپنی ایک مطبوعہ غزل عشقی صاحب کو مخاطب کر کے سناتے رہے، جس کا مصرع اولی تھا
جائے خدا تنگ نہیں پائے گدا لنگ نہیں۔
اللہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے خوب شخص تھا۔ عمر بھر تنگ دستی میں گزارا کیا، اردو کی خدمت سے ہاتھ نہ اٹھایا۔ ایک ملاقات پہ کہا: ہاشمی صاحب تیس برس ہوگئے ہیں حیدرآباد کی سنگلاخ زمین میں ادب کی آبیاری کرتے ہوئے مگر کوئی پذیرائی نہیں ملی، میں نے جواب میں کہا کہ ہم مردہ پرست ہیں۔ کوئی بات نہیں آپ فاقے کرتے رہیں۔ آپ کے انتقال پر کچھ لوگوں کا روزگار بن جائے گا، کوئی آپ کی شاعری پر اور کوئی دوسرا آپ کی صحافت یا تنقید پر تحقیق کر کے یونیورسٹی سے ڈگری لے کر روزگار کا بندوبست کرے گا۔
خادم علی ہاشمی
Sent: Wednesday, September 14, 2011 6:34 PM

Subject: Re: {5818} چند کتابیں-نئی اور پرانی
شاہین صاحب!آداب
سب سے پہلے تو آپ کے تبصرے پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، اسے پڑھ کر یہ تقویت ملی کہ مشفق خواجہ مرحوم کی تحریروں کے مختلف النوع پہلووں سے آپ بخوبی واقف ہیں
 
منظر علی خاں منظر کی کتاب "چھپائے نہ بنے" کے تذکرے کے بعد ان کی تصنیفات کی قدر و قیمت کو مشکوک قرار دینے کا تاثر ہرگز نہیں دینا چاہ رہا تھا، مقصد صرف اور صرف خواجہ صاحب کے شگفتہ اسلوب کے چند حوالے پیش کرنا تھا، بلکہ سچ پوچھیے تو مذکورہ کتاب ( چھپائے نہ بنے) کے مطالعے کے بعد معاملہ اس کے برعکس نکلا۔ مشفق خواجہ پر خاں صاحب کا مضمون مجھے پسند آیا (آپ نے بھی اسی کا ایک اقتباس درج کیا ہے)، اسی طرح خاں صاحب نے پٹنہ کے سفر کا جو احوال لکھا ہے وہ بھی خاصہ دلچسپ ہے۔
گزشتہ پوسٹ میں، میرا تبصرہ یہ تھا:  

"یہ وہی منظر علی خان منظر ہیں جن کے لتے مشفق خواجہ نے اپنے کالمز میں خوب لیے تھے لیکن خاں صاحب بے مزہ نہ ہوئے، کتابوں کے ڈھیر لگاتے چلے گئے حتی کہ زیر نظر کتاب کی اشاعت پر خواجہ صاحب نے کالم کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ " آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا، منظر علی خان منظر کی پانچویں تصنیف لطیف بھی شائع ہوگئی

جیسا کہ آپ نے فرمایا (اور میں نے اپنے زیر تکمیل مضمون میں بھی لکھا ہے) کہ حضرت نظیر صدیقی، جوش ملیح آبادی، منظر علی خاں منظر، باقر مہدی، انور سدید، استاد اختر انصاری اکبر آبادی، مظہر امام وغیرہ ان لوگوں میں شامل ہیں جن کو خواجہ صاحب نے سب سے زیادہ تختہ مشق بنایا۔

آپ نے خوب کہا کہ "غالب کی طرح مشفق خواجہ بھی جس پر مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔
"
اردو دنیا میں ان کا کالم بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا تھا، کسی کی تحقیر ان کا مقصد کبھی نہ رہا، بقول شخصے ایک طرح سے وہ ادب کی دنیا کے محتسب اعلی تھے۔  اور بقول ڈاکٹر خلیق انجم "" خامہ بگوش نے جس ہندوستانی شاعر کے مجموعہ کلام پر تبصرہ کیا، اسے ساہیتہ اکیڈمی ایوارڈ مل گیا

استاد اختر انصاری اکبر آبادی کا ذکر تو اس طور کیا جاتا تھا کہ پڑھنے والوں کو آج تک یاد ہے۔ لیکن پھر یہ بھی ہوا کہ مشفق خواجہ نے ان کے انتقال پر 6 ستمبر 1986 کو ایک ایسا تعزیتی کالم لکھا جو پڑھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ کالم پڑھ کر یہ بات واضح ہوائی کہ استاد مرحوم نے اپنی ساری زندگی اردو کی خدمت میں گزاری۔
استاد بہاولپور کے ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے تھے، وہ بہاولپور اپنے رسالے کے خصوصی نمبر کی اشاعت کے سلسلے میں چند اہل قلم حضرات سے ان کی تخلیقات کے حصول کے لیے گئے تھے!     
ہاں ، البتہ منظر صاحب کی شاعری چونکہ ابھی تک نظر سے نہیں گزری (اور شاید اس بارے میں خواجہ صاحب کے کالمز پڑھنے کے بعد خواہش بھی نہ رہی) ، لہذا کوئی رائے دینے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
آپ نے لکھا:

"منظر علی خاں منظر کےمداحوں میں ڈاکٹر وزیرآغا، ڈاکٹر حنیف فوق، ڈاکٹر جمیل جالبی،اور ڈاکٹر اسلم فرخی جیسے مشاہیر ادب شامل ہیں۔
"
یہ مداحوں کا معاملہ بھی عجیب ہے، خواجہ صاحب پر اپنے زیر تکمیل مضمون (اقتباسات سمیت) کے سلسلے میں ان کے سینکڑوں کالمز کا مطالعہ کرچکا ہوں، کئی مثالیں ایسی ملتی ہیں جن میں نثر یا شاعری پر مشتمل کسی نوآزمودہ مصنف کی تحریر کردہ کتاب کے بارے میں اردو ادب کی کسی جید شخصیت/شخصیات کی فلیپ پر درج آراء کے جواب میں مشفق خواجہ کا تبصرہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے - آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ایسے موقعوں پر ان کے قلم کی کاٹ کس طرح کی ہوتی تھی۔ اس سلسلے میں بھی کبھی چند دلچسپ مثالیں پیش کروں گا
!
اس موقع پر منظر علی خاں منظر صاحب سے متعلق ایک دلچسپ تبصرہ ملاحظہ ہو -- مشفق خواجہ رقم طراز ہیں:
"ڈاکٹر شاہد الوری کی کتاب ’چراغ سے چراغ‘ میں انہوں نے غالب کے مصرعوں پر مصرعے لگائے ہیں، مثلا:
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ

گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (غالب)
آپ سے تو نہیں میں داد کا خواہاں بخدا

نہ سہی، شاعر خوش گو، بہت اچھا، نہ سہی

سن کے اشعار مرے جھوم تو جاتے ہیں عوام

گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی (شاہد الوری

یہ کتاب جن ’مشاہیر‘ کی آراء سے مزین ہیں ان میں ہمارے کرم فرما منظر علی خاں منظر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یہ نکتہ نکالا ہے کہ: ’’ غالب کے چراغ پر شاہد الوری کا حق یوں بنتا ہے کہ الور، شاہد کی جائے پیدائش ہے اور غالب کے والد کی جائے وفات۔‘‘
اتنی تیزی سے تو کسی کو رسوائی بھی نہیں ملتی جتنی تیزی سے منظر علی خان منظر کو شہرت ملی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ان کا مجموعہ کلام ’کرب آگہی‘ کے نام سے شائع ہوا تھا جس میں ’آگہی‘ تو آٹے میں نمک کے برابر تھی اور باقی کرب ہی کرب تھا، اور وہ بھی مصنف کا نہیں، پڑھنے والوں کا۔اب مصنف کی تیسری تصنیف ’مکررکہے بغیر‘ شائع ہوئی ہے جس پر ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ تین سال کے مختصر عرصے میں تین کتابوں کا مصنف بن جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ملک میں کاغذ کی قلت کی جو شکایت پائی جاتی ہے وہ بلا سبب نہیں ۔ اگر منظر صاحب اسی رفتار سے کتابیں چھاپتے رہے تو وہ دن دور نہیں کہ دوبارہ کاغذ کی جگہ بھوج پتر کے استعمال کا رواج ہوجائے گا۔

لوگوں کو منظر صاحب کا مجموعہ نثر ’مکررکہے بغیر‘ ضرور پڑھنا چاہیے۔ یہ اتنا دلچسپ ہے کہ اگر شروع کردیا جائے تو قاری اسے ختم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ دوران مطالعہ قاری خود ہی ختم ہوجائے۔

دوم:
آخر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ جناب منظر علی خان منظر کی پانچویں تصنیف لطیف بھی شائع ہوگئی۔ یہ جملہ لکھنے کے بعد ایک اور اندیشہ پیدا ہوا ہے کہ کہیں کاتب صاحب لفظ ’لطیف‘ کو لطیفہ نہ لکھ دیں۔کیاتب پر فلیپ لکھنے والوں میں مشہور شاعر سلطان رشک بھی شامل ہیں۔وہ جیسی غزلیں لکھتے ہیں، ویسا ہی فلیپ لکھا ہے۔ فرماتے ہیں: ’’منظر علی خاں عنوانات کے انتخاب، الفاظ کے چناؤ اور جزئیات نگاری میں بے حد منفرد اور محتاط ہیں ۔ اچھی غزل کے مطلع کی طرح ان کا سرنامہ یا عنوان نہایت پر معنی اور ظرافت کا لحاف اوڑھے ہوئے ہوتا ہے۔ ‘‘

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ الفاظ کے چناؤ میں منظر صاحب محتاط ہیں لیکن خود جناب رشک نے احتیاط سے کام نہیں لیا۔۔ ابھی تو سردی پوری طرح شروع بھی نہیں ہوئی کہ انہوں نے منظر صاحب کو لحاف اوڑھا دیا ہے۔ لحاف نہ ہوا، انشائیہ ہوگیا کہ جب چاہا اور جیسے چاہا اوڑھ لیا۔"

Rashid Ashraf

unread,
Sep 14, 2011, 9:22:01 PM9/14/11
to bazme...@googlegroups.com
جامی صاحب

خواجہ صاحب کو سعیدہ احمد کی خودنوشت ڈگر سے ہٹ کر پسند تھی، یہ بات ہمارے علم میں نہیں تھی، اس خودنوشت کو دوبارہ پڑھوں گا، بہت شکریہ

راشد

2011/9/14 syed maeraj jami <maer...@yahoo.co.uk>

syed maeraj jami

unread,
Sep 15, 2011, 12:02:28 PM9/15/11
to bazme...@googlegroups.com
راشد سعیدہ احمد کی خودنوشت واقعی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ضرور پڑھنا
جامی

Sent: Thursday, 15 September 2011, 6:22
Subject: Re: {5840} چند کتابیں-نئی اور پرانی

Rashid Ashraf

unread,
Sep 15, 2011, 12:06:25 PM9/15/11
to bazme...@googlegroups.com, alikhad...@yahoo.com

ہاشمی صاحب! آداب
آپ نے ایک سکوت کے بعد خامشی کو توڑا اور ایسا کہ ْوہ بیان کرے اور پڑھا کرے کوئیْ 
کسی نا آشنا پر لکھنا بہ بذاتِ خود ایک تخلیقی کاروائی کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ نئی نسل استاد سے بھلا کہاں واقف ہوگی۔  

محمد آباد، تحصیل صادق آباد پنجاب میں مقیم جناب سید انیس شاہ جیلانی نے درویش شاعر حیرت شملوی کا احوال بیان کیا ہے، اسے پڑھ کر بھی دل دکھ سے بھر آتا ہے۔ حیرت شملوی ہندوستان سے افراتفری و کسمپرسی کے عالم میں پاکستان پہنچے، کلفٹن کراچی میں واقع عبداللہ شاہ غازی کی درگاہ پر دم لیا اور دیا بھی!  

آپ نے حیدرآباد کا ذکر کیا، ان دنوں پانی میں ڈوبے حیدرآباد سندھ سے ایک تعلق خاطر رہا ہے، وہاں اٹھائیس برس بسر کیے اور 4 برس قبل، بادل نخواستہ شہر کو خیر باد کہا، مستقل بنیادوں پر کراچی منتقل ہوا

استاد اختر انصاری اکبر آبادی کو اللہ تعالی غریق رحمت کرے اور آپ کو خوش باش رکھے کہ کا ذکر خیر کرکے آپ نے ہم ایسوں کو خوش کردیا۔

حیدرآباد کے مشاعرے میں استاد کی برجستگی بھی خوب تھی، عشقی صاحب بے مزہ نہ ہوئے ہوں گے

استاد اختر انصاری سے متعلق آخری پیراگراف میں لکھی باتیں حسب حال اور حقیقت پر مبنی ہیں 

مشفق خواجہ صاحب کا استاد پر تعزیتی کالم بزم قلم پر پیش کروں گا، حیدرآباد سندھ مبں مقیم صابر وسیم ان کے بڑے معتقد تھے، استاد کے ناگہانی انتقال پر ان کے اہل خانہ کی تلاش میں پہلے کراچی گئے اور پھر وہاں سے میت لینے بہاولپور پہنچے، حیدرآباد میں تدفین کا مکمل بندوبست بھی صابر وسیم ہی نے کیا تھا۔ اللہ تعالی انہیں خوش رکھے!

میرا ایمان ہے کہ دل کی گہرائیوں سے کسی کے لیے کی گئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے، آج 25 برس بعد اس شخص کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتا ہوں جو استاد اختر انصاری اکبر آبادی کہلاتے تھے 

خیر اندیش
راشد
کراچی سے

 



2011/9/14 Khadim Ali Hashmi <alikhad...@yahoo.com>

Khadim Ali Hashmi

unread,
Sep 15, 2011, 10:09:40 PM9/15/11
to bazme...@googlegroups.com
محترم راشداشرف صاحب
سلام مسنون۔ میرا حیدرآباد سے قلبی تعلق ہے۔ میں نے اپنی ملازمت کا آغاز 1956ء میں گورنمنٹ کالج حیدرآباد سے کیا تھا۔ میرا وہاں قیام 1956 تا 1958 اور پھر1964 تا1968 رہا۔چنانچہ اس "ہندوستان کے پیرس" سے بہت سی خوش گوار یادیں وابستہ ہیں۔ میرے تصور میں ہیرآباد سے زیادہ صاف ستھرا پاکستان کا کوئی اور شہری علاقہ نہیں ہے۔ استاد اخترانصاری اور سلطان جمیل تسیم سے اسی زمانے میں تعلق استوار ہوا۔ استاد لکھنے میں بہت مشاق تھے اور حقیقی معنوں میں استاد کہلانے کے مستحق۔ ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ 1965 میں ہمارے ایک ساتھی کے ہاں عبدالعزیز خالد آئے ہوئے تھے۔ ان کا قیام کالج ہی کے رہائشی علاقے میں تھا۔ میں خالد صاحب کے اعزاز میں ایک مختصر نشست کا اہتمام کرنا چاہتا تھا، مگر میری مجبوری یہ تھی کہ میں نے ان کا "معرب" کلام کبھی نہ پڑھا تھا اس لیے اس پر کوئی بات کرنے سے قاصر تھا۔ میں استاد کے پاس گیا اور ان سے درخواست کی کہ عبدالعزیزخالد کے کلام پر کوئی مقالہ تیار کریں۔ جو انہوں نے راتوں رات تیار کرلیا اور اگلے روز صدر میں رٹز ہوٹل [اب غالبا یہ ہوٹل موجود نہیں ہے] میں ہم چند احباب نے خالد صاحب کے ساتھ ایک بھرپور شام منائی جس کی کامیابی استاد کے مقالے کے باعث ممکن ہوئی۔
اللہ آپ کو خوش رکھے آپ کتابوں اور مشفق خواجہ اور دیگر اہل علم و دانش کی باتیں کرکے میری یادوں کے کئی تار چھیڑتے چلے جاتے ہیں۔
والسلام
خادم علی ہاشمی 

Cc: alikhad...@yahoo.com
Sent: Thursday, September 15, 2011 9:06 PM
Subject: Re: {5850} چند کتابیں-نئی اور پرانی

sultan khawaja

unread,
Sep 16, 2011, 8:01:15 PM9/16/11
to bazme...@googlegroups.com
Hazrat Asslam o Alikum,
main jo tar cherta hoon aap un per koi tawajjoh nahin fermatey.
ham bhi tu parey hain rahoon main
khadim ka khadim
sultan

1212-2 Hanover Road
Brampton Ontario Canada
L6S4H9


--- On Thu, 9/15/11, Khadim Ali Hashmi <alikhad...@yahoo.com> wrote:
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages