ساغر، شیشے، لعل و گوہر سے

0 views
Skip to first unread message

Rashid Ashraf

unread,
Sep 10, 2011, 9:04:53 PM9/10/11
to 5BAZMeQALAM, suhail anwar, arif.waqar, anwer....@bbc.co.uk

تم ناحق شیشے چن چن کر!
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو

سب ساغر، شیشے، لعل و گوہر
اس بازی میں بَد جاتے ہیں
اُٹھو سب خالی ہاتھوں کو
اس رَن سے بلاوے آتے ہیں


یوں تو فیض احمد فیض دہائی دے گئے ہیں کہ " شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں" لیکن شیشوں کا ایک قدردان ایسا بھی ہے جو کبھی موج میں آتا ہے تو ایک بکھرا شیشہ چن کر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے 

جی ہاں، یہ سہیل انور صاحب ہیں جو جناب آصف جیلانی کی کتاب "ساغر، شیشے، لعل و گوہر" پر فدا ہیں۔ اردو سے محبت کرتے ہیں لہذا انتخاب ہماری طرح کا نہیں کرتے کہ اسکین کر اور بزم میں لا سجایا۔ یہ خود ہی ٹائپ کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ان پیج فائل کو یونی کوڈ میں تبدیل کرنے کا کام البتہ یہ ہمیں سونپ دیتے ہیں، کبھی یہ تفاضا بھی نہیں کرتے کہ ان کا نام کہیں آنا چاہیے!

دل تو باد صبا کی مانند ہے، جس طرف بھی چل پڑے!

یہ بکھرے مضامین یوں کارگر ہوئے کہ خامہ کش ہمہ وقت ان میں غرق ہے
زیر نظر مضمون "اردو زبان کو مسخ کرنے میں اخبارات کا کردار
" موضوع کے اعتبار سے بہت اہم ہے  ---- اصل مدعا بین السطور مستور ہے!
زبان کی غلطی کس سے نہیں ہوتی لیکن اب تو یہ عالم ہے کہ بی بی سی ریڈیو سے خبریں سنتے ہوئے اکثر لوگ بیزار ہوکر ریڈیو ہی بند کردیتے ہیں، وہم و گمان میں بھی نہ تھا تلفظ کی ایسی اغلاط اس ادارے سے سننے کو ملیں گی جس کو سنوارنے میں رضا علی عابدی صاحب جیسے لوگوں کا ہاتھ ہے۔
 
لیجیے اس پر ایک لطیفہ یاد آگیا، خامہ بگوش پر ان دنوں کام کررہا ہوں لہذا ذہن میں ہمہ وقت انہی کی باتیں رہتی ہیں۔ لکھتے ہیں
:

"مجروح سلطان پوری اردو شاعری کی صحت مند روایات کے امین اور زبان و بیان کے معاملے میں درجہ استناد رکھتے ہیں لیکن ان کے حالیہ انٹرویو میں معاملہ برعکس نظر آتا ہے۔ چند جملے بطور نمونہ کلام پیش کیے جاتے ہیں:

’’ فلموں کا معیار اتنا کمرشلائزڈ ہوگیا ہے کہ انہوں نے ہیومن ریسپانسیبیلٹی کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ پوئٹری اور میوزک کا فرق ہمیشہ رہے گا۔ ہمارا ملک چونکہ بڑا ملک ہے۔مختلف سبجکٹ ہیں، اس وجہ سے ورائٹی ہمارے ہاں زیادہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کے اندر سیلف ریسپکٹ پیدا ہو۔ کوالٹی اور کوانٹٹی دونوں ہوں۔‘‘

اتنی زیادہ انگریزی جناب مجروح سلطان پوری کی زبان سے اچھی نہیں لگتی۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں جدیدیے مجروح صاحب کو پیروی میں
WOUNDED
سلطان پوری نہ کہنے لگیں۔"


مضمون پیش خدمت ہے:


آصف جیلانی
اردو زبان کو مسخ کرنے میں اخبارات کا کردار

اردو ادب اور صحافت کا اوائل ہی سے ایک دوسرے کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ رہا ہے اور بلاشبہ اردو زبان کی ترقی اور فروغ میں اردو اخبارات کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ اسی زمانہ میں جب کہ اردو زبان کم سنی کے عہد سے نکل کر بلوغت کی شعوری منزلوں کو چھو رہی تھی اردو صحافت کا آغاز ہوا تھا۔ یہ انیسویں صدی کا اوائیلی دور تھا۔ کلکتہ سے مارچ سن اٹھارہ سو بائیس میں شایع ہونے والا جام جہاں نما بر صغیر کا اردو کا پہلا ہفت روزہ اخبار تھا۔ اس کے بعد اٹھارہ سو چھتیس کے آس پاس محمدباقر صاحب نے دلی سے اردو اخبار نکالا اور اکبر آباد سے منشی سدا سکھ لال کی سرپرستی میں اخبار نورالبصار نکلا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بر صغیر میں اردو نثر کی ترقی کے لئے شعوری اقدامات کئے جارہے تھے اور اردو کتابوں کے لئے چھاپے خانے قائم ہورہے تھے ۔ اردو طباعت کے شعبہ میں یہ انقلاب اردو صحافت کی ترقی کا نقیب ثابت ہوا اوریہ حقیقت ہے کہ اردو صحافت نے اپنے اوائل ہی سے اردو ادب اور اردو ادیبوں کو عوام سے روشناس کرایا اور یہ مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ اردو ادب صحافت ہی کے ذریعہ عوام میں مقبول ہوااور پروان چڑھا۔
اردو شاعری کے بارے میں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے جو فروغ ہوا اور عوام میں جو مقبولیت حاصل ہوئی اس میں شاہی درباروں۔‘ نوابوں کے ڈیروں اور مشاعروں کی پرانی روایت کا بڑا ہاتھ تھا لیکن اردو نثر کی ترقی خالصتاً صحافت کی مرہون منت رہی ہے۔

مولانا محمد علی جوہر کے ہمدرد ‘ سرسید کے رسالے تہذیب الاخلاق ‘ مولانا ابوالکلام آزاد کے اخبار الہلال او ر البلاغ‘ بنارس کے اردو اخبار آوازہ اخلاق ‘ کانپور کے زمانہ ‘ حسرت موہانی کے رسالہ اردوئے معلی اور امتیاز علی تاج کے کہکشاں اور مولانا ظفر علی خان کے اخبار زمیندار نے اردو شاعری کے فروغ کے ساتھ نثر کی ترقی اور ترویج میں جو اہم حصہ ادا کیا ہے وہ اردو ادب کی تاریخ کے لئے قابل فخر ہے۔

سر سید نے تہذیب الاخلاق کے ذریعہ اردو کے ادیبوں کی ایک کہکشاں سجائی تھی جس میں مولانا حالی‘ مولانا شبلی‘ ڈپٹی نذیر احمد‘ ذکا اللہ خان ‘ محسن الملک اور چراخ علی نمایاں ہیں۔

سر سید نے مولانا حالی کو مسدس لکھنے کی ترغیب دی تھی اور اس کو مقبول عام کرنے کے لئے انہوں نے اپنے رسالہ تہذیب الاخلاق میں یہ مسدس شایع کی اور ادب کا یہ شہہ پارہ عوام تک پہنچا یا ۔ مولانا محمد علی جوہر کے ہمدرد نے جہاں ایک طرف عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا اور ان کی آزادی کی جدوجہد میں مدد کی وہاں اردو نثر کو بھی مالا مال کیا۔ پریم چند کا پہلا ناول‘ اسرار معابد‘ بنارس کے آوازہ اخلاق میں قسط وار شایع ہوا تھا اور اسی طرح ان کے دوسرے ناول اور افسانے کانپور کے رسالہ زمانہ میں شایع ہوئے۔

اردو ادب میں نثر کا وہ ابتدائی دور جب کہ رومانیت اپنے عروج پر تھی اور ادب لطیف کی اصطلاح عام تھی اس کو خان بہادر ناصر علی کے اخبار ‘ صلاح عام ‘ دلی اور نیاز فتح پوری کے نگار نے بڑھاوا دیا۔ یہ زمانہ انیس سو بیس اور اکیس کا تھا۔ اسی زمانہ میں سجاد حیدر یلدرم‘ نواب نصیر حسین خیال اور مجنوں گورکھپوری کے مجلہ ایوان نے جو انہوں نے انیس سو تیس میں گورکھپور سے جاری کیا تھا ‘ اردو ناول اور افسانہ نگاری کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

اردو میں طنزومزاح کو جو فروغ حاصل ہوا وہ خاص طور پر اردو صحافت کی دین ہے۔ اس صنف کا آغاز سر شار اور سجاد حسین سے ہوتا ہے جنہوں نے اپنے مزاحیہ مضامین کی ابتدا اودھ پنچ سے کی۔ خود سجاد حسین اس زمانہ میں اودھ پنچ کے مدیر تھے۔ مرزا مچھو بیگ ستم ظریف ‘ پنڈت ہجر ‘ منشی احمد علی کسمنڈوی اور جوالا پرشاد برق اسی زمانہ کے نامور مزاح نگار تھے۔ بعد کے مزاح نگار رشید احمد صدیقی ‘ ملا رموزی ‘ پطرس ‘ فرحت اللہ بیگ‘ عظیم بیگ چغتائی اور کنہیا لال کپور کتابی مزاح نگار ہیں لیکن بعد کی مزاح نگار نسل میں چراخ حسن حسرت‘ مجید لاہوری‘ حاجی لق لق ‘ طفیل احمد جمالی ‘ ابراہیم جلیس ‘ ابن انشاء نصر اللہ خان ‘ فکر تونسوی ‘ شوکت تھانوی مشفق خواجہ اور عطا الحق قاسمی‘ ان سبھوں نے اردو صحافت کے ذریعہ اپنی تخلیقات کو جلا دی اور عوام تک پہنچایا ۔اس نسل کے مزاح نگاروں میں ایک بڑا نام مشتاق احمد یوسفی کا ہے لیکن وہ براہ راست حساب کتاب سے کتاب تک آئے ہیں۔

یہ اردو صحافت کی خوش قسمتی ہے کہ اردو ادب کے ممتاز دانشوروں اور شاعروں نے اردو صحافت کی عملی رہنمائی کی ہے جن میں مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا ابوالکلام آزاد ‘ مولانا ظفر علی خان ‘ حیات اللہ انصاری ‘ غلام رسول مہر اور مولانا جالب نمایاں ہیں اور آزادی کے بعد فیض احمد فیض ‘ احمد ندیم قاسمی اور چراخ حسن حسرت اردو اخبارات کے مدیر رہے لیکن اسے بدقسمتی کہہ لیں یا بدلتے ہوئے حالات کے تقاضے کہ جب سے اردو صحافت نے تجارت کا لبادہ اوڑھا ہے ایڈیٹری خاندانی میراث بنتی جارہی ہے۔ اب یہ عہدہ محض اخبارات کے مالکوں کے بیٹوں اور بھتیجوں کے لئے مخصوص ہوکر رہ گیا ہے اور حقیقی ایڈیٹر مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔
میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میں نے جب سن پچاس کی دہائی کے آغاز میں اپنے صحافتی سفر کی شروعات روزنامہ امروز سے کی تو اس وقت فیض صاحب ‘ چراغ حسن حسرت ‘ احمد ندیم قاسمی‘ سید سبط حسن ایسے جید صحافی اس ادارہ سے وابستہ تھے اور واقعی یہ اخبار ہر اعتبار سے مثالی اخبار تھا آج کل کے اخبارات سے بالکل مختلف۔ ان ممتاز ادیبوں کی چھاپ اخبار پر نمایاںتھی جنہوں نے اردو زبان پر اپنی دست رس اور مہارت کے ذریعہ اخبار کو معیاری اور شستہ زبان سے مزین کیا ۔
پھر اس زمانہ میں اخبارات میں کالم نگاروں کا اتنا مجمع نہیں تھا جتنا آج کل ہے۔ آج کل توکالم نگاروں کی فوج ظفر موج ہے جن کی نہ تو زبان میں چاشنی اور مزہ ہے اور نہ وہ گہرائی میں جا کر کوئی ٹھوس بات کہتے ہیں ‘نہ پڑھنے والوں کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں اور نہ کوئی ایسی رائے ظاہر کرتے ہیں کہ جس سے نئے ذہنی دریچے کھلیں ۔ پھر عالم یہ ہے کہ کوئی کالم نگار کسی کے لئے زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے او کوئی کسی کے لئے مردہ باد کہتاہے۔ ہر کالم نگار اپنی اپنی ڈفلی بجاتا دکھائی دیتا ہے۔ بیچ کی پرکھی اور تلی رائے خال خال ہی کہیں نظر آتی ہے ۔ غرض اخبار کی الول جلول خبریں پڑھنے کے بعد ادارتی صفحہ قارئین کے لئے اور زیادہ ذہنی خلفشار کا سبب بنتا ہے۔

سب سے زیادہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ کمپیوٹر اور ٹیکنولوجی کی زبردست ترقی کے باوجود اخبارات کے ادارتی معیار اور خاص طور پر زبان میں ایسی گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اردو اخبارات جنہوں نے اب تک اردو ادب اور اردو زبان کی ترقی اور فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اب یہی ‘ اردو زبان کی ہئیت بگاڑنے اور اسے مسخ کرنے میں سب سے آگے آگے ہیں۔ مایوسی کے عالم میں بہت سے سنجیدہ اور اہل فکر لوگ یہ کہتے ہیں کہ صاحب پاکستان کے پورے معاشرے میں پچھلے چالیس پینتالیس برس میں معیار کی پستی کی شکایت ہے اور صحافت بھی اس ے مبرا نہیںکیونکہ یہ بھی تو آخر معاشرہ کا ایک حصہ ہے۔ میں اس استدلال سے متفق نہیں۔ میرے خیال میں صحافت ‘ حیات انسانی کی منجھدار کی سمت متعین کرتی ہے اور اس کے مختلف پہلوں کی نشاندہی اور ترجمانی کرتی ہے اس لئے اس کے فرایض اور ذمہ داریاں معاشرہ کے دوسرے اداروں سے قطعی مختلف ہیں۔

ایک زمانہ تک پاکستان میں صحافت کو زبان بندی کے مسئلہ کا سامنا رہا تھا لیکن اب اردو اخبارات کو زبان کی ابتری کے سنگین مسئلہ نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ سائنس اور دوسرے علوم کی فنی اصطلاحات کے اردو میں مناسب ترجموں کی کوشش کو فوقیت دی جاتی تھی لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ یکسر مفقود ہوگیا ہے۔ انگریزی الفاظ کا ایک سیل بے کراں ہے کہ وہ اردوزبان میں اور اس کے راستہ اخبارات میں درآیا ہے۔ سائنس اور ٹیکنولوجی کی نئی اصطلاحات یعنی کمپیوٹر ‘ سافٹ ویر‘ ڈسک‘ ماؤس ‘ مانیٹر‘ کی بورڈ‘ کنکشن‘ ہارڈ ڈرائیو‘ براڈ بینڈ‘ انٹینا‘ ٹرانسسٹر اور ایسے ہی بے شمار الفاظ اور اصطلاحات ہیں جن کے ترجمے کے کوئی کوشش نہیں کی گئی اور یہی مستعمل ہوگئے ہیں لیکن بدقسمتی تو یہ ہے کہ اردو اخبارات ‘ اردو کے اچھے اور مقبول الفاظ ترک کر کے ان کی جگہ انگریزی کے الفاظ ٹھونس رہے ہیں۔ مثلاً رو برو یا تخلیہ میں ملاقات کے لئے انگریزی کی اصطلاح ‘ ون ٹو ون استعمال کی جارہی ہے حالانکہ انگریزی کی صحیح اصطلاح ون آن ون ہے۔ اسی طرح تعطل اردو کا اتنا اچھا لفظ ہے اس کی جگہ سینہ تان کر ڈیڈ لاک استعمال کیا جارہا ہے ۔ انتخاب کی جگہ الیکشن ‘ عام انتخابات کی جگہ جنرل الیکشن ‘ جوہری طاقت کی جگہ ایٹامک انرجی‘ کاوائی کی جگہ آپریشن‘ حزب مخالف کی جگہ اپوزیشن‘بدعنوانی کی جگہ کرپشن‘ استاد کی جگہ ٹیچر ‘ مجلس قایمہ کی جگہ اسڈینڈنگ کمیٹی‘ جلسہ کو میٹنگ اور پارلیمان کے اجلاس کو سیشن لکھاجاتا ہے۔

سن انیس سو چھپن میں جب پاکستان کے پہلے آئین کے تحت صدر مقرر ہوا تو ہم نے امروز میں پریزیڈنٹ ہاؤس کی جگہ ایوان صدر کی اصطلاح رایج کی تھی ۔ ایک عرصہ تک سب نے یہی اصطلاح استعمال کی لیکن پچھلے چند برسوں سے پھر اخبارات پریزیڈنٹ ہاوس کو ترجیع دے رہے ہیں نہ جانے کیوں؟۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ چھاپہ مار جنگ کو اخبارات گوریلا جنگ کیوں لکھتے ہیں ۔ وہ انگریزی کے لفظ گوریلا اور گریلا میں فرق نہیں سمجھتے۔ چرس جو خاص طور پر اپنے ہاں کی سوغات ہے اسے اخبارات کینیبیز لکھتے ہیں۔ محصول کو ڈیوٹی کہتے ہیں قرطاس ابیض اتنا اچھا لفظ ہے اب اخبارات اس کی جگہ وایٹ پیپر لکھتے ہیں اور ہوا[L:4 R:183] اڈہ کو ایرپورٹ ۔ پچھلے دنوں قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے کچھ اراکین گرفتار کر لئے گئے ان کو ایوان میں طلبی کے حکم کے لئے بے دھڑک پروڈکشن آرڈر لکھا جاتا رہا اور تو اور پیپلز پارٹی کے اراکین نے بغاوت کرکے اقتدار میں شمولیت کے لئے اپنا الگ دھڑا بنایا اور نام انہوں نے اسے پیٹریاٹ گروپ کا دیا ۔ اب ان سے کون پوچھے کہ پیٹریاٹ کے لئے محب وطن یا وفادار کے اتنے خوبصورت لفظ کو انہوں نے کیوں ترک کیا۔ کیا انگریزی کا لفظ استعمال کر کے وہ اپنے آپ کو اعلی و ارفع ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں یا جتن عوام کو بے وقوف بنانے کے ہیں۔

پچھلے دنوں ایک اخبار میں جلی سرخی دیکھ کر بے ساختہ ہنسی آگئی۔ سرخی تھی۔۔فری ہینڈ ملنے کے باوجود حکومت نے کوئی لیجسلیشن نہیں کی۔ ایک اخبار میں سرخی تھی۔۔۔یورپی یونین کی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی لگانے کی دھمکی دی ہے۔ اس خبر میں لکھا تھا کہ پی وی سی کی ڈمپنگ کی انویسٹی گیشن کے لئے انکوایری ٹیم بھیجی جائے اگر ہماری بیڈ لینن پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی لگائی گئی تو ہماری ایکسپورڈ متاثر ہوگی۔ ہماری چھپن ہزار بیڈ لینن کی ایکسپورٹ یورپ کی مارکٹ میں جاتی ہیں جو کہ اٹھائیس فی صد شئیر ہے۔ اب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ کیا یہ اردو ہے؟ کیا ہماری زبان اتنی تہی دامن اور بے بس ہے کہ اس بات کو سیدھی سادی زبان میں نہیں کہا جا سکتا۔ پنو عاقل کے دوردراز گاؤں میں یا چیچہ وطنی کے قصبہ میں ‘ جنوبی وزیرستان کے دور افتادہ دیہات میں اور پنچگور کے گاؤں میں اخبار پڑھنے والے اس عبارت سے کیا سمجھ پائیں گے؟۔
بہت سوچا کہ اس رجحان کی وجہ کیا ہے؟ کیا یہ اخبارات میں کام کرنے والے صحافیوں کی کاہلی ہے کہ وہ انگریزی سے ترجمہ کرنے اور نئی اصطلاحات وضع کرنے کا کشت اٹھانا نہیں چاہتے اور یوں انگریزی کے الفاظ ٹھونس دیتے ہیں یا پھر قابلیت کی کمی ہے۔

کیا وجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح آج کل پاکستان میں ہر شخص اپنے آپ کو پڑھا لکھا ثابت کرنے کے لئے گفتگو میں جا بجا انگریزی کے الفاظ استعمال کرتا ہے اخبار میں کام کرنے والے بھی اپنی بقراطیت ظاہر کرنے کے لئے تحریر میں یوں انگریزی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ انگریزوں سے آزادی تو حاصل کر لی لیکن ایسا لگتا ہے کہ خود اپنے آپ اپنے اوپر مغربی ذہنی غلامی طاری کر لی۔ اس زمانہ میں جب ملک انگریزوں کا غلام تھا اردو زبان کی ایسی غلامانہ درگت نہیں بنی تھی۔

پاکستان کے قیام کے بعد امید تھی کہ اردو ‘ پاکستان کی علاقائی زبانوں سے مالامال ہوگی‘ اردو ان کے محاوروں ‘ تشبیہوں اور طرز اظہار سے فیض حاصل کرے گی لیکن انگریزی کی فصیل اردو اور ان علاقائی زبانوں کے درمیان دیوار چین کی طرح حائل ہو گئی ہے۔ ہر بات میں سازشوں پر یقین رکھنے والے بہت سے لوگ اسے اردو کے خلاف سازش تصور کرتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ قیام پاکستان کے بعد اردو نے سامراجی انداز سے جس طرح علاقائی زبانوں کی راہ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی یہ اس کا انتقامی ردعمل ہے اور اسی مقصد کے لئے کوشش کی جارہی ہے کہ اردو کی ہئیت اتنی بدل دی جائے کہ کوئی اسے اردو کہہ کر اس پر فخر نہ کر سکے۔ یا پھر خالص اردو کو لاطینی یا سنسکرت کی طرح چند حلقوں میں محدود کردیا جائے اور یوں اس کے ناطے عوام سے کٹ جائیں اور اس کے سوتے خشک ہو جائیں۔

اردو پر انگریزی مسلط کرنے کی کوشش کے حق میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ انگریزی بین الاقوامی رابطہ اور سائنس تجارت صنعت اور ٹیکنولوجی کی زبان ہے اور اردو سے چمٹے رہنے سے ان شعبوں میں پسماندگی کی راہ اختیار کرنا ہے۔ لیکن اس دلیل کے حامی اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ چین ‘ روس ‘ جرمنی اور فرانس ایسے ترقی یافتہ ملکوں نے بھی آخر ترقی کی ہے اپنی زبانوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دے کر اور اپنی زبان کو زندہ رکھ کر۔

غرض موجودہ صورت حال بہت مایوس کن نظر آتی ہے ۔ اردو زبان کے ابتدائی دور میں ادب اور صحافت میں ایک دوسرے کو سہارہ دینے کا جو رجحان اور رویہ تھا اور اس میں جو رومانی مقصدیت تھی وہ اب عنقا ہوتی جارہی ہے ۔

Abdul Mateen Muniri

unread,
Sep 11, 2011, 12:15:47 AM9/11/11
to bazme...@googlegroups.com, Rashid Ashraf
راشد اشرف صاحب
برایے مہربانی یونیکود کے ساتھ ان پیج فائل بھی ارسال کریں
گژشتہ ان پیج فائلوں کا انتظار ہے
2011/9/11 Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
--
زبان اور ادب کی بے لوث خدمت میں مصروف چند ادارے
کسوٹی جد http://www.kasautijadeed.com/cms/
اردو آڈیو اور ویڈیوکا دنیا میں سب سے بڑا ذخیرہ www.urduaudio.com
سہ ماہی اثبات http://www.esbaat.com/
اردو سخن http://www.urdusukhan.com/
کمپیوٹرانٹرنیٹ پر مائکروسوفٹ ورڈ میں اور ای میل میں اردو تحریر کے لیےwww.urdu.ca - www.mbilalm.com
http://www.wadi-e-urdu.com/urdu-autobiographies-part-1/
راشد اشرف کی تحریروں کے لیے
http://www.hamariweb.com/articles/userarticles.aspx?id=4760
To read the archives https://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/topics
 
To receive an invitation to JOIN send mail to bazme...@gmail.com
 
To invite your friends to Bazm e Qalam group http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM/members_invite
 
To UNSUBSCRIBE please send a blank mail to bazme...@googlegroups.com with subject "UNSUBSCRIBE"



--
انٹرنٹ کی دنیا میں نادر تقاریر اور شعروسخن کا منفرد سائٹ

www.bhatkallys.com

www.urduaudio.com     www.bhatkaltv.com

Audio And Video Collection Managed By

Abdul Mateen Muniri

mun...@facebook.com


Khadim Ali Hashmi

unread,
Sep 11, 2011, 12:44:07 AM9/11/11
to bazme...@googlegroups.com
آصف جیلانی صاحب کا فکرانگیز مضمون توجہ طلب ہے۔ میں ایک معلم کی حیثیت سے اس ڈرامے کا عینی شاہد ہوں جس میں انگریزی کے الفاظ کو اردو میں دخیل کیا گیا۔ اصل غلطی اس وقت ہوئی جب  مغربی پاکستان میں سرکاری طور پر درسی کتب تیار کرکے ایک ہی کتاب ملک بھر میں رائج کر دی گئی۔ اس کے دو اہداف بیان کیے گئے: اول تو یہ  دعوی کیا گیا کہ طلبہ کو سستی اور معیاری کتب فراہم ہوں گی؛ دوم یہ کہ معیار تعلیم یکساں اور اونچا ہو گا۔ہر دو خواہشات بظاہر نیک تھیں، مگر بیوروکریسی کا کام کرنے کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے۔ چنانچہ عملا صورت حال یہ ہوئی کہ درسی کتب کے سرکاری ادارے[ٹیکسٹ بک بورڈ] میں متعین افراد جو  کتابوں کی تیاری کے ذمہ دار تھے اور سرکاری عہدے کی بنا پر اچانک "مصنف" اور "مدیر" بن بیٹھے، کا اپنا غالبا اردو میں چند سطریں بھی لکھنے کا تجربہ نہ تھا۔ میں سائنس اور ریاضی کی کتب کی تدوین کی بات کر رہا ہوں۔ چنانچہ ان "مصنفین" و "مرتبین" نے انگریزی کی اصطلاحات کے علاوہ عام الفاظ بھی لکھنے شروع کر دیے۔ ایک مثال دینا کافی ہوگا کہ 1970ء کی دہائی میں جماعت چہارم کی سائنس کی کتاب جسے میٹرک پاس استاد پڑھا تا تھا، میں انگریزی رسم الخط میں
verteberate
کا لفظ بغیر کسی وضاحت کے درج کر دیا گیا۔ پاکستان بننے کے وقت اور سرکاری کتب کی تیاری تک ریاضی میں مساوات دائیں سے بائیں لکھی جاتی تھیں اور یہ عمل دسویں جماعت تک تھا، بعد کی جماعتوں میں البتہ انگریزی ذریعہ تعلیم ہی تھا۔ نئے نظام میں یہ سلسلہ سراسر موقوف کر دیا گیا اور ریاضی کی مساوات انگریزی رسم الخط کی مانند بائیں سے دائیں جانب لکھی جانے لگیں۔
اس کے بعد تو انگریزی کے الفاظ کو بطور فیشن اردو کی تحریروں میں دخیل کیا جانے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جامعہ پنجاب، جامعہ کراچی اور دیگر اداروں کی کاوشیں جن میں جامعہ عثمانیہ کا کلیدی کردار تھا،یکسر موقوف ہوگئیں اور جن لوگوں نے اور اداروں نے عمر بھر اردو کی خدمت کا بیڑا اٹھائے رکھنے کا عزم کیا ہوا تھا، ان کی جملہ مساعی حرف غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔
جب اس نظام سے پڑھ کر کوئی بچہ میدان عمل میں آئے گا تو خواہ وہ صحافت میں جائے یا کسی اور میدان میں ، اس سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟
جناب آصف جیلانی صاحب یقینا یہ بات سن کر محظوظ ہوں گے کہ ایک جامعہ کا دورہ کرتے ہوئے جامعہ کے چانسلر صاحب جب شعبہ اردو میں پہنچے اور انہوں نے کسی استاد کو لیکچر دیتے سنا تو حیران ہو کر بولے "آپ کے یہاں تدریس اردو میں ہوتی ہے؟" یعنی روشن خیال ترقی پسند پاکستان میں اردو کا کیا کام۔
لہذا خرابی صحافت میں نہیں طریقہ تعلیم میں ہوئی جس نے پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
خادم علی ہاشمی 


From: Rashid Ashraf <zest...@gmail.com>
To: 5BAZMeQALAM <bazme...@googlegroups.com>
Cc: suhail anwar <suha...@yahoo.co.uk>; arif.waqar <arif....@gmail.com>; anwer....@bbc.co.uk
Sent: Sunday, September 11, 2011 6:04 AM
Subject: {5736} ساغر، شیشے، لعل و گوہر سے


تم ناحق شیشے چن چن کر!
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو

سب ساغر، شیشے، لعل و گوہر
اس بازی میں بَد جاتے ہیں
اُٹھو سب خالی ہاتھوں کو
اس رَن سے بلاوے آتے ہیں


یوں تو فیض احمد فیض دہائی دے گئے ہیں کہ " شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں" لیکن شیشوں کا ایک قدردان ایسا بھی ہے جو کبھی موج میں آتا ہے تو ایک بکھرا شیشہ چن کر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے 

جی ہاں، یہ سہیل انور صاحب ہیں جو جناب آصف جیلانی کی کتاب "ساغر، شیشے، لعل و گوہر" پر فدا ہیں۔ اردو سے محبت کرتے ہیں لہذا انتخاب ہماری طرح کا نہیں کرتے کہ اسکین کر اور بزم میں لا سجایا۔ یہ خود ہی ٹائپ کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ان پیج فائل کو یونی کوڈ میں تبدیل کرنے کا کام البتہ یہ ہمیں سونپ دیتے ہیں، کبھی یہ تفاضا بھی نہیں کرتے کہ ان کا نام کہیں آنا چاہیے!

دل تو باد صبا کی مانند ہے، جس طرف بھی چل پڑے!

یہ بکھرے مضامین یوں کارگر ہوئے کہ خامہ کش ہمہ وقت ان میں غرق ہے
زیر نظر مضمون "اردو زبان کو مسخ کرنے میں اخبارات کا کردار
" موضوع کے اعتبار سے بہت اہم ہے  ---- اصل مدعا بین السطور مستور ہے!
زبان کی غلطی کس سے نہیں ہوتی لیکن اب تو یہ عالم ہے کہ بی بی سی ریڈیو سے خبریں سنتے ہوئے اکثر لوگ بیزار ہوکر ریڈیو ہی بند کردیتے ہیں، وہم و گمان میں بھی نہ تھا تلفظ کی ایسی اغلاط اس ادارے سے سننے کو ملیں گی جس کو سنوارنے میں رضا علی عابدی صاحب جیسے لوگوں کا ہاتھ ہے۔
 
لیجیے اس پر ایک لطیفہ یاد آگیا، خامہ بگوش پر ان دنوں کام کررہا ہوں لہذا ذہن میں ہمہ وقت انہی کی باتیں رہتی ہیں۔ لکھتے ہیں
:

"مجروح سلطان پوری اردو شاعری کی صحت مند روایات کے امین اور زبان و بیان کے معاملے میں درجہ استناد رکھتے ہیں لیکن ان کے حالیہ انٹرویو میں معاملہ برعکس نظر آتا ہے۔ چند جملے بطور نمونہ کلام پیش کیے جاتے ہیں:


مضمون پیش خدمت ہے:

anis deen

unread,
Sep 12, 2011, 12:47:33 PM9/12/11
to bazme...@googlegroups.com, alikhad...@yahoo.com
Khadim ali Hashmi sahab assalam o Alaikum Wa Rahmatullahi Wa Barkata-hu

main urdu ka ek adna khadim hoon. aasif Jilani sahab ka fikar angez mazmoon "اردو زبان کو مسخ کرنے میں  Agar pdf mein ho to irsal karen nawazish hogi. unicode word document mein copy-paste nahin hota. aap rahnumee karen. jazakallah

اخبارات کا کردار
Anees Aaftab Anis...@yahoo.com BSNL, khamgaon 444303 india

From: Khadim Ali Hashmi <alikhad...@yahoo.com>
To: "bazme...@googlegroups.com" <bazme...@googlegroups.com>
Sent: Sunday, 11 September 2011 10:14 AM
Subject: Re: {5740} ساغر، شیشے، لعل و گوہر سے

Bazm e Qalam

unread,
Sep 12, 2011, 4:14:41 PM9/12/11
to bazme...@googlegroups.com
جناب من
پی ڈی ایف میں اسے  آپ خود بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔طریقہ میں بتادوں گا۔مگر یہ تو پتہ چلے کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ جس فارمیٹ میں یہ مضمون ہے وہ  سب سے اچھا فارمیٹ ہے
اعجاز شاہین

2011/9/12 anis deen <anis...@yahoo.com>



--

aadil rasheed

unread,
Sep 12, 2011, 4:38:45 PM9/12/11
to bazme...@googlegroups.com
bahut hi achchha mazmoon hai


2011/9/13 Bazm e Qalam <bazme...@googlegroups.com>



--
Aadil Rasheed
New Delhi
INDIA
Link For My Blog  

http://aadil-rasheed.blogspot.com/ 

Maqsood Sheikh

unread,
Sep 12, 2011, 6:32:32 PM9/12/11
to bazme...@googlegroups.com

جناب بہتر تو یہی تھا کہ آپ سائل کوایک ہی بار مطلوبہ طریقہ بتا دیتے ! 
Message has been deleted
Message has been deleted

Bakhtiar Ahmad Sheikh

unread,
Sep 14, 2011, 6:55:24 PM9/14/11
to bazme...@googlegroups.com
cKindly help me in decoding the word "SHUROOAAT" used by Mr. Asif Jilani in his essay. I wonder whether it is Urdu or its distortion. I request to also specify the gender, singular/plural of this word. 
Moreover, what about those Urdu writers, journalists, speakers, anchors etc. who use word "AWAAM" in feminine gender? What about the use of "JAB KEH" by news reporters?
I am afraid Urdu is being massacred by all and sundry.
Bakhtiar Ahmed
 
 

Date: Tue, 13 Sep 2011 13:57:33 +0530
Subject: Re: {5802} اردو زبان کو مسخ کرنے میں اخبارات کا کردار
From: raeesam...@gmail.com
To: bazme...@googlegroups.com

 اردو زبان کو مسخ کرنے میں  اخبارات کے  کردار سے زیادہ  ماحول اور گھر ہیں ۔ آپ خود دیکھئے کہ لوگ بات اردو کی کرتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو انگریزی ذریعہ تعلیم  کے اسکولوں میں  داخلے کے لئے حیران و پریشان ہوتے ہیں۔ پھر اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ گھروں میں اردو کا ناطقہ بند ہوجاتا ہے ، یعنی اگر بالفرض اردو اخبارات آتے بھی ہوں تو ’’بچوں کی خوشی اور سہولت‘‘ کے لئے انگریزی  اخبارات منگوائے جاتے ہیں ، اس کو اسٹیٹس بھی سمجھا جاتا ہے ، ۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اردو داں افراد بھی رفتہ رفتہ عام بول چال میں انگریزی کا استعمال کرنے لگتے ہیں ، مثلاً جاہل ماں بھی بچے کو کسی چیز کے لئے مناتی ہے تو ’’پلیز‘‘ کا استعمال کرنے لگتی ہے ۔  کسی بھی زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے  جتنے ذمے دار اخبارات ہیں اتنے ہی قاری بھی ہیں ۔ اب تو یہ حال ہے کہ اردو اخبارات میں کہیں کوئی جملہ فصیح و بلیغ ہوجاتا ہے تو قارئین شکایت کرتے ہیں کہ آپ کے اخبار کی زبان بہت مشکل ہے ۔  پھر آپ ٹیلی ویژن اور فلموں کو کیوں بھول رہے ہیں جہاں زبان کی ایسی تیسی ہورہی ہے ، ٹی وی سیریئلوں میں اردو کم انگریزی زیادہ نظر آتی ہے ، غالب گالب بن گئے ہیں اور قتیل شفائی، قاتل سپاہی ۔  اس لئے صرف اخبارات کو موردِ  الزام ٹھہرانا ، اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا ۔

2011/9/12 anis deen <anis...@yahoo.com>

anis deen

unread,
Sep 14, 2011, 10:55:53 PM9/14/11
to bazme...@googlegroups.com
Janab Ejaz shaheen Sahab... salam Masnoon

main urdu ke ahem aur fikr angez mazameen ke prints hard file mein printouts lekar mehfooz rakhne ka aadi hoon isliye yeh zaroorat pesh ayee.

Aapki Nazre inayat ka talib anees


From: Bazm e Qalam <bazme...@googlegroups.com>
To: bazme...@googlegroups.com
Sent: Tuesday, 13 September 2011 1:44 AM
Subject: Re: {5790} اردو زبان کو مسخ کرنے میں اخبارات کا کردار
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages