مرزا رفیع سودا

0 views
Skip to first unread message

Ainee Niazi

unread,
Sep 14, 2011, 4:07:59 PM9/14/11
to Bazm e Qalam
Ainee Niazi
غزل
مرزا رفیع سودا

وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

آیا تھا کیوں عدم سے کیا کر چلا جہاں میں
یہ مرگ وزیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں

کیوں کر نہ ہو مسخر شیشہ سا دل ہمارا
اُس شخص کی نگا ہیں پتھر میں دھنستیاں ہیں

برسات کا تو موسم کب کا نکل گیا پر
مژگاں کی یہ گھٹاییں اب تک برستیاں ہیں

لیتے ہیں چھین کردل عاشق کا پل میں دیکھو
خوباں کی عاشقوں پر کیا پیش دستیاں ہیں

اس واسطے کہ ہیں یہ وحشی نکل نہ جاویں
آنکھوں کو میری مژگاں دونوں سے کستیاں ہیں

قیمت میں ان کی گو ہم دو جگ کو دے چکے اب
اس یار کی نگاہیں تس پر بھی سستیاں ہیں

جب میں کہا یہ اس سے: سودا: سے اپنے مل کے
اس سال تو ہے ساقی اور مے پرستیاں ہیں
اُس نے کہا یہ مجھ سے :اب چھوڑ دُخت رز کو
پیری میںاے دوانے یہ کون مستیاں ہیں

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages