You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to Bazm e Qalam
Ainee Niazi
غزل مرزا رفیع سودا
وے صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں
آیا تھا کیوں عدم سے کیا کر چلا جہاں میں یہ مرگ وزیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں
کیوں کر نہ ہو مسخر شیشہ سا دل ہمارا اُس شخص کی نگا ہیں پتھر میں دھنستیاں ہیں
برسات کا تو موسم کب کا نکل گیا پر مژگاں کی یہ گھٹاییں اب تک برستیاں ہیں
لیتے ہیں چھین کردل عاشق کا پل میں دیکھو خوباں کی عاشقوں پر کیا پیش دستیاں ہیں
اس واسطے کہ ہیں یہ وحشی نکل نہ جاویں آنکھوں کو میری مژگاں دونوں سے کستیاں ہیں
قیمت میں ان کی گو ہم دو جگ کو دے چکے اب اس یار کی نگاہیں تس پر بھی سستیاں ہیں
جب میں کہا یہ اس سے: سودا: سے اپنے مل کے اس سال تو ہے ساقی اور مے پرستیاں ہیں اُس نے کہا یہ مجھ سے :اب چھوڑ دُخت رز کو پیری میںاے دوانے یہ کون مستیاں ہیں