میرا مسجود جو سنگ در حیدر ہو جائے
قد میرا میثم و قنبر کے برابر ہو جائے
بغض حیدر ہو تو انسان بھی پتھر ہو جائے
دین سے دور رہے ظلم کا پیکر ہو جائے
مدحت حیدر کرّار کو بس یوں سمجھیں
ایک قطرہ جو اٹھا لوں تو سمندر ہو جائے
نور حیدر نے عطا کی ہے وہ بینائی مجھے
میں اگر چاند کو دیکھوں تو منوّر ہو جائے
ٹوٹے پھوٹے سے ان الفاظ کو مولا سن لیں
تھوڑا چھوٹا ہے سہی خلد میں "گھر ور" ہو جائے
میری اولاد ہو پابند شریعت مولا
میرا ہر بچہ ترے بچوں کا نوکر ہو جائے
جشن مولود حرم خوب مناؤ فرحت
شاید اسطرح فنا ظلم کا دفتر ہو جائے
--
Farhat
________________________________
Farhat Mahdi
Patliputra Colony