چوبیسویں رجب 1438 ہجری فتحِ خیبر

220 views
Skip to first unread message

Syed-Rizwan Rizvi

unread,
Apr 22, 2017, 8:52:33 AM4/22/17
to ziaraa...@googlegroups.com
پڑھنے میں دشواری؟ ویب ماسٹر کو مطلع کریں? webm...@ziaraat.com
Ziaraat.Com زیارات
مسلمانوں کے مقدّس مقامات - اور مزید بہت کچھ
مرکزی صفحہ | لَوک اِن | رہنمائی | کیلنڈر | فاتحہ | تاثراتی کتاب

زیارات


مندرجات


مخصوص

چوبیسویں رجب 1438 ہجری
فتحِ خیبر


السلامُ علیکم

چوبیس رجب جنگِ خیبر میں مسلمانوں کی یہودیوں کے مقابل فتح کا دن ہے۔ یہ جنگ 7 ہجری ہں لڑی گئی

جنگِ خیبر کا پس منظر

خیبر کا علاقہ مدینہ سے 160 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ اِس میں آٹھ (یا دس) بہت مضبوط اور مشہور قلعے تھے جہاں یہودی بستے تھے اور مسلمانوں کے دشمنوں کو پناہ بھی دیتے تھے۔ یہ علاقہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا عملی مرکز بھی بن چکا تھا۔ 7 ہجری میں رسول اللہؐ کو اطلاع ملی کہ خیبر کے یہودیوں نے اسلام دشمن عناصر کے ساتھ مل کر سازشیں تیار کی ہیں۔ رسول اللہؐ نے اِن شازسوں کا قلع قمع کرنے کا قصد کر لیا۔

جنگ کی تیاریاں

مسلمانوں کی فوج نے خیبر کا محاصرہ کیا جو 40 دن تک جاری رہا۔ اِس دوران کچھ چھوٹی جھڑپیں ہوئیں لیکن کوئی حتمی نتیجہ نہ نکل سکا۔ اِس کی وجہ یہ بھی تھی کی رسول اللہؐ خود جنگی حکمت عملی میں شامل نہیں تھے اور نہ ہی امام علیؑ نے ابھی جنگ میں شرکت کی تھی۔

جنگ کا آغاز

مشہور "مجاہدینِ اسلام" جو ہمیشہ شکایت کرتے تھے کہ اُن کو اپنے جنگی جوہر دکھانے کا موقع نہیں ملتا، جنگ کرنے جاتے رہے لیکن ناکام واپس آتے رہے۔ اُن کے لشکری اُن کی بزدلی اور وہ لشکریوں کی بزدلی کی شکایت کرتے تھے لیکن کچھ کامیابی ہاتھ نہیں آتی تھی۔

تاریخِ ابوالفدا میں درج ہے کہ "رسول اللہؐ کی علالت کے باعث خیلفہءِ اوّل نے علم اپنے ہاتھ میں لیا اور جنگ کرنے چلے گئے مگر ناکام لوٹے۔ اِس کے بعد خلیفہءِ دوئم کا بھی یہی قصّہ رہا۔ اِس کے بعد کسی نے رسول اللہؐ کو اِس ماجرے کی خبر دی۔"۔ اِس روایت سے واضح ہے کہ اِن حضرات کو رسول اللہؐ نے علم نہیں دیا تھا بلکہ یہ خود ہی علم لے کر جنگ کرنے نکل گئے تھے اور ناکام لوٹے۔

پانچ روز کی مسلسل غیر نتیجہ جنگ کے بعد رسول اللہؐ نے اعلان فرمایا کہ "کل میں عَلم اُسے دوں گا جو خدا اور رسولؐ سے محبت کرتا ہے اور خدا اور رسولؐ اُس سے محبت کرتے ہیں۔ وہ مرد ہو گا اور بڑھ بڑھ کر حملے کرے گا اور میدانِ جنگ سے فرار نہیں کرے گا۔ اور میدانِ جنگ سے نہیں لوٹے گا جب تک کہ خدا اُس کے ہاتھ پر کامیابی نہیں عطا فرما دیتا۔" تمام اصحاب رات بھر جاگتے رہے اور خواہش کرتے رہے کہ کل علم اُن کو مل جائے۔

اگلے دن رسول اللہؐ نے امام علیؑ کو بلوایا۔ لوگوں نے بتایا کہ علیؑ آشوبِ چشم کی تکلیف میں مبتلا ہیں مگر رسول اللہؐ نے اصرار فرمایا کہ اُن کو بلوایا جائے۔ جب امام علیؑ تشریف لائے تو رسول اللہؐ نے اپنا لعابِ دھن اُن کی آنکھوں پر لگایا تو وہ فوراَ ٹھیک ہو گئیں۔ اِس کے بعد رسول اللہؐ نے آپ کے لئے دُعا فرمائی اور اُن کو اسلام کا عَلم عطا فرمایا۔

امام علیؑ کی جنگ

امام علیؑ نے عَلم ہاتھن میں لِیا اور گھوڑے پر بیٹھ کر قلعہءِ خیبر کی جانب اتنی تیزی سے روانہ ہُوئے کہ سارے لشکری پیچھے رہ گئے۔ جب اآپ خیبر کے سب سے مضبوط قلعے قامُوس پر پہنچے تو وہاں حارث نامی پہلوان نے اآپ کو مقابلے کے کئے للکارا۔حارث اِس سے قبل دو مسلمانوں کو شہید کر چُکا تھا امام علیؑ نے ایک ہی وار میں اُس کا واصلِ جہنم کر دیا۔اِس کے ساتھ ہی خیبر میں ہل چل مچ گئی اور اُنہوں نے سب سے بڑے پہلوان مرحب کو لڑنے کے لئے بھیجا۔

مرحب نے اپنے رجس میں کہا کہ خیبر مجھے مرحب کے نام سے جانتا ہےاور میرے مقابلے میں اآج تک کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکاامام علیؑ نے اپنے رجزمیں کہاکہ مَیں وہ ہُوں کہ جس کی ماں نے اُس کا بنام حیدرؑ رکھا اِس کے بعد جنگ شروع ہُوئی اور امام علیؑ نے کچھ ہی دیر میں ذوالفقار کا اَیسا وار کِیا کہ مرحب کا جسم اُس کی سواری سمیت سر سے زمین تک دو ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ اِس کے بعد یہودیوں کے حوصلے پست ہو گئے اور عمومی جنگ میں یہودیوں کو شکست ہونا شروع ہوئی۔ اِس کو محسوس کرتے ہوئے یہودیوں نے خود کو قلعے میں محصور کرلیا۔ قلعے کا آہنی دروازہ اتنا وزنی تھا کہ چالیس پہلوان مل کر اُسے کھولا اور بند کیا کرتے تھے۔ اما علیؑ نے آگے پڑھ کے ایک ہی جھٹکے میں درِ خیبر کو اکھاڑ پھینکا اور مسلم فوج قلعے میں داخل ہو گئی۔

باقی یہودیوں نے رحم کی التجا کی اور امام علیؑ نے سپاہیوں کو جنگ بیدی کا حکم دے دیا۔ ایک کے بعد ایک قلعے کو اِسی طرح مسلمان فتح کرتے چلے گئے اور یوں امام علیؑ کی سپہ سالاری میں مسلمان فاتح ہوئے۔

پتھر پہ علم دین کا گاڑا کس نے
للکار کے مرحب کو پکارا کس نے
اصحابِ پیمبرؐ سبھی تھے موجود
بولو بولو درِ خیبر کو اکھاڑا کس نے



التماسِ دُعا
سید رضون رضا رضوی
 ویب ماسٹر، http://www.ziaraat.com

 

ہمارے فیس بُک گروپ میں شامل ہو جائیں: https://www.facebook.com/groups/ZiaraatDotCom/
ہمارے فیس بُک صفحے کو پسند فرمائیں : https://www.facebook.com/ZiaraatDotCom/

یہ مراسلہ ویب سائٹ زیارات ڈوٹ کوم کے 20,451 ممبران
اور فیس بُک کے 64,484 ممبران کو اِرسال کیا جاتا ہے

کو عطیہ دیجئے Ziaraat.Com

آپ کا عطیہ معصومینؑ کے پیغام کو بہت سے افراد تک پہنچانے میں مددگار ہو گا۔

اگر اوپر دیا گیا لنک کام نہ کرے تو نیچے دئے گئے لنک پر جائیں
https://www.paypal.com/cgi-bin/webscr?cmd=_s-xclick&hosted_button_id=XM826597CGP5Q
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages