تین جمادی الثانی 1438 ہجری شہادت حضرت فاطمہ زہراؑ - 11 ہجری

180 views
Skip to first unread message

Syed-Rizwan Rizvi

unread,
Mar 1, 2017, 10:05:03 AM3/1/17
to ziaraa...@googlegroups.com
پڑھنے میں دشواری؟ ویب ماسٹر کو مطلع کریں? webm...@ziaraat.com
Ziaraat.Com زیارات
مسلمانوں کے مقدّس مقامات - اور مزید بہت کچھ
مرکزی صفحہ | لَوک اِن | رہنمائی | کیلنڈر | فاتحہ | تاثراتی کتاب

زیارات


مندرجات


مخصوص

تین جمادی الثانی 1438 ہجری
شہادت حضرت فاطمہ زہراؑ - 11 ہجری


السلامُ علیکم

اس غمناک موقع پر ہم رسول اللہؐ، امامِ زمانہؑ، اہلبیتؑ اور تمام مومنین و مومنات کی خدمت میں ہدیہ تعزیت پیش کرتے ہیں۔

حضرت فاطمہ زہراؑ کی شہادت

معروف روایات کے مطابق تیرہ جمادی الاول کو جنابِ فاطمہ زہراؑ کی شھادت ہے۔ ایک اور تاریخ جو روایات میں ملتی ہے وہ 13 جمادی الاول کی ہے۔

جناب فاطمہؑ کی شھادت رسولِ خداِ کی شھادت کے 75 یا 90 دن کے بعد ہوئی ہے۔ یہ تو مسلّم امر ہے کہ رسول اللہؐ کی شھادت 28 صفر کو ہوئی ہے۔ اگر 75 دن کی روایت صحیح ہے تو جنابِ سیدہؑ کی شھادت 13 جمادی الاول کو بنتی ہے اور اگر 90 دن کی روایت درست ہے تو 3 جمادی الثانی بنتی ہے۔ اسی بناء پر محبانِ اہلبیتؑ ان تمام دنوں میں عزائے جنابِ سیدہؑ منعقد کرتے ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک میں ان دنوں میں مجالس اور ماتم و نوحہ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

محبان اہلبیتؑ کو چاہیے کہ اِن دنوں میں نذر و نیاز اور فاتحہ کا اہتمام کریں اور زیارت جنبِ فاطمہ زہراؑ پڑھیں۔ زیارت آپ کو بائیں ہاتھ کی فہرست میں مل جائے گی۔

مصائب حضرت فاطمہ زہراؑ

آپ ہر مجلس میں حسینؑ کا پرسہ جناب فاطمہؑ کو دیتے ہیں، آج مجھے یقین ہے کہ میرے مولا و آقا حسینؑ آئے ہوں گے اپنی ماں کا پرسہ لینے۔ صرف حسینؑ ہی نہیں، علیؑ بھی آئے ہوں گے، حسنؑ بھی آئے ہوں گے، زینبؑ و امِؑ کلثومؑ بھی آئی ہوں گی، ارے خود رسولِ خداؐ بھی تشریف لائے ہوں گے۔

مومنو جی بھر کے پرسہ دیجئے۔
اے شہیدِ کربلا حسینؑ،    اے مظلومِ جفا حسنؑ،    اے مظلومئہ شام زینبؑ
اے شہیدِ کوفہ علیؑ،    اے شہنشہاہِ کائنات رسولِ خداؐ
آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں آب کی بیٹی کا پرسہ دینے۔ آپ ہم سے فاطمہ زہراؑ کا پرسہ قبول کر لیجئے۔

اے خاکِ مدینہ تیری گلیوں میں ابھی تک
ہم بنتِ پیمبر کی لحد ڈھونڈ رہے ہیں

آج بھی رسول کی بیٹی کی قبر پر فوجی تازیانے لے کر کھڑے ہیں۔ کوئی ماتم نہیں کر سکتا۔ مومن دوسرے مومن سے ڈرتے ڈرتے کان میں کہتے ہیں کہ وہ جو پتھروں کے پیچھے ہے نا وہی زہراؑ کی قبر ہے۔ گلے مل کے خاموشی سے ایک دوسرے کو پرسہ دے لیتے ہیں۔ ایک ایرانی ذاکر نے روتے ہوئے روضئہ رسولؐ کی طرف رخ کر کے کہا "اے رسولِ خدا اگر آپ کی بیٹی ایران آ جاتی تو ہم اپنی ماؤں بیٹیوں کا زیور بیچ کر اِسکا روضہ بنواتے جیسا کہ آپ کے بیٹے رضاؑ کا بنایا ہے۔"

فاطمہ زہراؑ کی وصیت تھی کہ میرے جنازے کو رات میں اٹھانا – اے ابوالحسنؑ میرے جنازے پر کوئی میرے حق کا غاصب نہ آنے پائے، میرے جنازے کو کوئی نہ دیکھے۔ فلان فلان فلان میرے جنازے میں شریک نہ ہونے پائیں۔ جب تسبیح و تحلیل کی آواز آنا بند ہو جائے تو سمجھ جانا کہ اللہ کی کنیز اللہ کے پاس چلی گئی۔ میرے بچوں کو بتانا نہیں۔ مہلے کھانا کھلانا۔ بچے واپس آئے تو سوگوار ماحول دیکھا۔ "اسما، فضؑہ ہماری اماں کہاں ہیں، یہ کیسی اداسی ہے"۔ بچوں پہلے کھانا تو کھا لو۔ ارے اسما، اماں فضؑہ ایسا کبھی ہوا ہے کہ بغیر اماں جان کے ہم نے کھانا کھایا ہو۔ اسما بتاؤ ہماری اماں جان کہاں ہیں۔ یہ تمہاری آنکھیں سرخ کیوں ہیں، آنکھوں سے اشک کیوں رواں ہیں، بال بکھرے کیوں ہیں، بتاؤ کیا واقعہ یے۔ نہ ضبط ہو سکا اسما سے، فضؑہ سے، کہا بچوں تمہاری ماں نہیں رہیں، تمہارے ناز اٹھانے والی نہیں رہیں۔

رسولؐ کے بعد زہراؑ صرف 75 دن زیدہ رہیں جن میں سے 72 دن دائیں ہاتھ میں تسبیح لے کے نہیں پڑھ سکیں۔ اللہ جانے کیسا تازیانہ لگا یے حسینؑ کی ماں کو۔ سیدھا ہاتھ تیسرے دن سے زخمی پہلو پہ رہتا تھا۔ اپنے بابا سے شکایت بیان کرنے جاتی تھیں۔ کہتی تھیں "بابا جس دروازے پر آ کر آپ صبح سلام کرتے تھے نا وہ دروازہ مسلمانوں نے جلا دیا۔ جس در پر فجر سے پہلے آ کر آپ آیت تطہیر پڑھتے تھے نا اس در پر آگ لے کر پہونچ گئے۔ بابا جس بیٹی کے آنے پر آپ کھڑے ہو جاتے تھے نا، دربار میں سب بیٹھے رہے اور آپ کی اس بیٹی کو گھنٹوں کھڑے رکھا۔ بابا آپ کے بعد آپ کی بیٹی پر صرف چند دنوں میں اتنی مصیبتیں پڑیں کہ اگر دنوں پر پڑتیں تو وہ مثلِ شب کے سیاہ ہو جاتے"۔ 

غسل کا وقت آیا۔ علیؑ نے فضؑہ سے کہا فضؑہ رات بڑی کم ہے میں نے بہت سے کام کرنے ہیں ذرا جلدی کر۔ میں نے زہراؑ کو غسل دینا ہے، 40 قبریں بنانی ہیں، بنا کر نشان مٹانے ہیں، زہراؑ کو کفن دینا ہے، نمازِ جنازہ پڑھنی ہے، زہراؑ کو دفن کرنا ہے ذرا جلدی کر۔ فضؑہ کہتی ہیں مولا میں کیا کروں سیؑدہ کی تین پسلیاں نہیں مل رہی ہیں۔ زہراؑ کی وہ بے کس موت ہے کہ جس پر علیؑ جیسا صابر چیخیں مار کر رویا جب فضؑہ نے بتایا کہ مولا زہراؑ کے ایسے ایسے زخم ہیں کہ مجھ سے بھی چھپائے رکھے۔

علیؑ نے جنازے کو گھر کے بیچ میں لا کے رکھا۔ ایک ایک کر کے سب نے بین کیا، رخصت لی کہ اب قیامت میں ہی ملاقات ہو گی۔ سب زہراؑ سے مل چکے۔ علیؑ نے دیکھا کہ حسینؑ دور الگ کھڑے ہیں۔ کہا بیٹا ماں کا آخری دیدار کر لو پھر اب قیامت میں ہی ملو گے۔ حسینؑ نے کہا بابا نانا سے سنا ہے کہ عیسی مریم کے جنازے پر نہیں گئے تھے جب تک مریم نے نہیں بلایا تھا۔ میں فخرِ عیسی ہوں اور میری ماں فخرِ مریم ہیں۔ میں تب تک جنازے پر نہیں جاؤں گا جب تک اماں ہاتھ اٹھا کر نہیں بلائیں گی۔ یہ سنتے ہی سیؑدہ کے بندِ کفن ٹوٹے، بائاں ہاتھ تو فورا ہی کفن سے باہر نکل آیا، دائیں ہاتھ کو نکلنے میں ذرا دیر لگی۔ علیؑ نے عمامہ سر سے پھینکا، ارے بیٹا حسینؑ ماں ابھی زخمی ہے۔ زہراؑ کے شکستہ پہلو سے خون کا فوارہ بلند ہوا ۔۔۔۔۔۔

جنازہ اٹھا رات کی تاریکی میں، جنت البقیع کی طرف جنازہ چلا، یکدم علیؑ نے محسوس کیا کہ پیچھے پیچھے کوئی آ رہا ہے۔ مڑ کر دیکھا تو ننھی سی زینبؑ سر پہ چھوٹی سی ردا ڈالے اماں اماں کہتی ہوئی روتی چلی آتی ہے۔ پریشانی کے عالم میں ردا کبھی سرک رہی ہے کبھی اس کو سہی کر رہی ہے۔ ارے علیؑ نے گود میں اٹھایا، پیار کیا، گھر میں پہنچایا اور کہا بیٹی گھر سے باہر نہ نکلنا، ابھی میں زندہ ہوں۔ ارے وہی زینبؑ شامِ غریباں میں علیؑ کو پکارتی رہی بابا بابا میری چادر میری چادر۔۔۔۔

علی لعنت اللہ علی القوم الظالمین



التماسِ دُعا
سید رضون رضا رضوی
 ویب ماسٹر، http://www.ziaraat.com

 

ہمارے فیس بُک گروپ میں شامل ہو جائیں: https://www.facebook.com/groups/ZiaraatDotCom/
ہمارے فیس بُک صفحے کو پسند فرمائیں : https://www.facebook.com/ZiaraatDotCom/

یہ مراسلہ ویب سائٹ زیارات ڈوٹ کوم کے 20,432 ممبران
اور فیس بُک کے 64,411 ممبران کو اِرسال کیا جاتا ہے

کو عطیہ دیجئے Ziaraat.Com

آپ کا عطیہ معصومینؑ کے پیغام کو بہت سے افراد تک پہنچانے میں مددگار ہو گا۔

اگر اوپر دیا گیا لنک کام نہ کرے تو نیچے دئے گئے لنک پر جائیں
https://www.paypal.com/cgi-bin/webscr?cmd=_s-xclick&hosted_button_id=XM826597CGP5Q
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages