سورۃیٰس مع اردو ترجمہ سورہ یس مکی سورہ ہے جو کہ ۸۳ آیات اور ۵ رکوع پر مشتمل ہے ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
تم تو صرف اس شخص کو خبردار کر سکتے ہو جو اس نصیحت یعنی قرآن کی پیروی کرے اور رحمٰن سے غائبانہ ڈرے سو اسکو مغفرت اور بڑے ثواب کی بشارت سنا دو
بیشک ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے اور جو انکے نشان پیچھے رہ گئے ہم انکو قلم بند کر لیتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے کتاب روشن یعنی لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے
یعنی جب ہم نے انکی طرف دو پیغمبر بھیجے تو انہوں نے انکو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں
وہ بولے کہ ہم تمکو اپنے لئے منحوس سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے اور تمکو ہم سے دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا
انہوں نے کہا کہ تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے کیا اس لئے کہ تمکو نصیحت کی گئ نہیں بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو حد سے تجاوز کر گئے ہو
کیا میں اسکو چھوڑ کر اوروں کو معبود بناؤں کہ اگر رحمٰن مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو انکی سفارش مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکیں
اور ایک نشانی انکے لئے زمین مردہ ہے کہ ہم نے اسکو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اگایا پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں
نہ تو سورج ہی سے یہ ہو سکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آ سکتی ہے اور سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو رزق اللہ نے تمکو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو تو کافر مومنوں کے متعلق کہتے ہیں کہ بھلا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں جنکو اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا تم تو کھلی گمراہی میں ہو
کہیں گے ہائے بربادی ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے جگا اٹھایا یہ وہی تو ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا
آج ہم انکے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے انکے ہاتھ ہم سے بیان کر دیں گے اور انکے پاؤں اسکی گواہی دیں گے
اور جسکو ہم بڑی عمر دیتے ہیں تو اسے تخلیق میں اوندھا دیتے ہیں یعنی اسے بچپن کی کمزوری والی حالت کی طرف لوٹا دیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے نہیں
اور ہم نے ان کو یعنی اپنے پیغمبر ﷺ کو شعرگوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ انکو شایاں ہی ہے یہ تو محض نصیحت ہے اور صاف صاف قرآن ہے
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے انکے لئے مویشی پیدا کر دیئے اور یہ انکے مالک ہیں
اور ہمارے بارے میں مثالیں بیان کرنے لگا اور اپنی پیدائش کو بھول گیا کہنے لگا کہ جب ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی تو انکو کون زندہ کرے گا
بھلا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ انکو پھر ویسے ہی پیدا کر دے کیوں نہیں اور وہ تو سب کچھ پیدا کرنے والا کامل علم والا ہے
اگر ہمیں سورہ یسین حفظ ہو تو کیا ہم اپنے والدین کے قبور پر اس کی تلاوت کر کے دعا مانگ سکتے ہیں اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے
بصورت مسئولہ قبرستان میں قبر کےساتھ سورہ یاسین پڑھ کردعا مانگنامردوں کے لئے باعث مغفرت اور شرعی طور پر ایک مستحب عمل ہے حدیث شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: جوشخص قبرستان میں داخل ہوجائے اور سورہ یاسین پڑھے تو اللہ تعالی اس دن مردوں سے عذاب ہلکا فرمادیتے ہیں اور جو شخص اپنے والدین کی قبر کی زیارت کریں پھر انکی قبر کے پاس سورہ یاسین پڑھے تو انکی مغفرت بخشش ہوجاتی ہے
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
اس سورہ مبارکہ کا نام یٰسین ہے جو اس کی پہلی آیت ہے اس میں پانچ رکوع تراسی آیات کلمات سات سو انتیس اور حروف تین ہزار ہیں
ترمذی کی حدیث شریف میں ہے کہ ہر چیز کے لئے قلب ہے اور قرآن کا قلب یٰسین ہے ابو داؤد کی حدیث میں ہے سید عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنے اموات پر یٰسین پڑھو اسی قرب المرگ اور حالت نزع میں مرنے والے کے پاس یٰسین پڑھی جاتی ہے
مضامین میں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سورہ اس وقت نازل ہوئی جب اہل مکہ بڑی شدت اور پوری قوت سے اسلام کی تعلیمات سے انکار کرنے لگے تھے اور اسلامی دعوت اپنے فطری حسن و جمال کے باعث سعادت مند روحوں کو اپنی طرف تیزی سے کھینچنے لگی تھی اسلام کی روز افزوں مقبولیت سے مشرکین گھبرا گئے تھے
اس میں اسلام دعوت کے تین بنیادی اصولوں پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے یعنی توحید رسالت اور قیامت سب سے پہلے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو قرآن کی قسم کھا کر بیان کیا گیا اور یہ بھی بتا دیا کہ آپ صراط مستقیم پر ہیں
مدت دراز سے سرزمین عرب نورِ نبوت سے محروم چلی آرہی تھی صدیاں بیت گئی تھیں اس علاقہ میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا تھا عرصہ دراز تک گمراہ رہنے کے باعث فہم و فکر کی قوتیں بانجھ ہو گئیں اس لئے انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے سے انکار کر دیا ان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے ایک تباہ شدہ بستی کا حال انہیں سنایا گیا انہیں بتایا کہ اس بستی کے رہنے والوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور وہ برباد ہوگئے تھے تم ان کی روش اختیار نہ کرنا اس ضمن میں ایک بندہ مومن کا تذکرہ بھی آگیا ہے جس کی قوت ایمانی اور جذبہ جانفروشی آج بھی ہمارے مردہ دلوں کو نئی زندگی بخش رہا ہے
اس کے بعد اپنی توحید اپنی قدرت اور حکمت پر تکوینی دلائل پیش فرمائے بنجر زمین پر کون مینہ برساتا ہے کس کے حکم کے غذائی اجناس اور رنگ برنگے پھل بکثرت پیدا ہوتے ہیں سورج اور چاند کے طلوع وغروب اور ان کی مقررہ رفتار کی طرف متوجہ کیا اور بتایا کہ سب اپنے اپنے مدار میں محو خرام ہیں نہ کبھی باہمی ٹکر ہوئی ہے اور نہ کوئی اپنے مقررہ وقت سے ایک لمحہ بھر لیٹ ہوا ہے اور نہ کبھی کسی نے آگے گزرنے کی کوشش کی ہے یہ پیچیدہ نظم ونسق اس عمدگی سے کس کی تدبیر سے مصروف عمل ہے دریاؤں اور سمندروں میں کشتیاں کس کے حکم سے سامان اور مسافروں کو اٹھائے ہوئے ایک ملک سے دوسرے ملک کو جا رہی ہیں
اس سورہ میں دو چیزیں آپ کی خصوصی توجہ کی مستحق ہیں آیت 47 میں سرمایہ دارانہ ذہنیت کو بےنقال کیا گیا ہے کہ جب انہیں اپنے ان ضرورت مندر بھائیوں کی ضرورتیں پوری کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے رزق نہیں دیا ہم کون ہیں ان کو رزق دینے والے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے والے درحقیقت ان کا یہ جواب محض اپنی کنجوسی اور بخل پر پردہ ڈالنے کی ایک بھوندی کوشش ہے اگر وہ ایسے ہی بقضا ہیں تو پھر کیوں کسب معاش میں وہ کسی ضابطے اور قانون کی پابندی کو بھی گراں سمجھتے ہیں دولت کے لالچ میں تمام حدود کو روندتے چلے جاتے ہیں انہیں بھلا ایسی بات کرنے کا کیسے حق پہنچتا ہے ان کے دلوں میں اپنی دولت کی اتنی محبت ہے کہ وہ اس سے بچھڑنا نہیں چاہتا اور کسی محروم کی محرومی پر انہیں ذرا ترس نہیں آتا کسی یتیم اور بیوہ کی حالت زار کو دیکھ کر ان کے دل میں رحم کا جذبہ نہیں ابھرتا
3a8082e126