Fwd: Collection: شیر

6 views
Skip to first unread message

Mehere Rubab

unread,
Sep 5, 2011, 4:09:44 AM9/5/11
to

Collection: شیر


شیر

Posted: 04 Sep 2011 04:13 AM PDT


شیر آئے، شیر آئے، دوڑنا
آج کل ہر طرف شیر گھوم رہے ہیں۔
دھاڑ رہے ہیں۔
!یہ شیرِ بنگال ہے
!!یہ شیرِسرحد ہے
!!یہ شیرِپنجاب ہے
لوگ بھڑیں بنے اپنے اپنے باڑوں میں دبکے ہوئے ہیں
بابا حفیظ جالندھری کا شعر پڑھ رہے ہیں
” شیروں کو آزادی ہے
آزادی کے پابند رہیں
جس کو چاہیں، چیریں پھاڑیں
کھائیں پئیں آنند رہیں”
شیر یا تو جنگل میں ہوتے ہیں
!یا چڑیا گھر میں
،یہ مُلک یا تو جنگل ہے
Click to Read more »
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages