Ghazal

2 views
Skip to first unread message

Fariyad Azer@gmail.com

unread,
Sep 6, 2011, 12:11:21 AM9/6/11
to Urdu Online Media
غزل ۔۔۔ڈاکٹر فریاد آزر

تمام عمر ہوا کے دباؤ میں رہنا
بہت کٹھن تھا مسلسل تناؤ میں رہنا

نکلنا قید سے باہر تو صرف خوابوں میں
پھر اس کے بعدغموں کے الاؤمیں رہنا

نہ جانے کیسا حسد ہے کہ ختم ہوتا نہیں
مرے خلاف زمانہ کا داؤ میں رہنا

میں وہ پہاڑ تھرکتی ہیں ندّیاں جس پر
مرا نصیب ہے ہر دم کٹاؤ میں رہنا

عجیب شرط تھی تن کر کھڑے نہ ہونے کی
جہاں کے سامنے پیہم جھکاؤ میں رہنا

ہوا نہ مجھ سے کبھی دشمنوں پہ بھی حملہ
ہے جنگ لڑنے کا مقصد بچاؤ میں رہنا

نہ اب لباس کی پروا نہ تن کی زیبائش
عجیب دور تھا بس رکھ رکھاؤ میں رہنا

لٹکتے رہنا سدا سر پہ موت کا آزرؔ
تمام عمر اسی چل چلاؤ میں رہنا

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages