جو بنا لے منزلِ مقصود کو راہِ خیا
منتظر ہے آج بھی اس کی، گزر
گاہِ خیال
وقت نے دھندلا دئے سارے
حقیقت کے نقوش
بس گیا ہے جب سے آنکھوں میں کوئی ماہِ خیال
کاش میں جس کو بھی لے آؤں تخیل میں کبھی
خود بخو د
کھنچتا چلا آئے وہ ہمراہِ
خیال
ہو چکا لازم کہ
ہو اب پھر حقیقت
کا ظہور
دل سے لب تک آ
گئی پھر شدتِ آہِ خیال
پھر تخیل میں کوئی انگڑائیاں لینے لگا
درد پھر دینے لگا
دستک سرِ راہِ
خیال
جان لیوہ بن چکا ہوتا
وفورِ تشنگی
گر نہیں ر
کھتے نظر میں ہم کوئی چاہِ خیال
آج بھی خوش
فہمیوں میں قید ہے ہر آدمی
کوئی گمراہِ حقیقت، کوئی گمراہِ خیال
لن ترانی کا نہ گر الزام آئے تو کہوں
شاعری تخئیل ہے، آز ر ؔ شہنشاہِ خیال
Ghazal By
–Dr Fariyad Azer