SHAMSURRAHMAN FAROOQUI BY DR.MAULA BAKHSH

19 views
Skip to first unread message

fariyad azer

unread,
Sep 9, 2011, 12:10:54 PM9/9/11
to urdu-onl...@googlegroups.com


 شمس الرحمن فاروقی کا شرمناک سرقہ

ایک بین الاقوامی انگریزی ویب سائٹ کا انکشاف
ڈاکٹر مولا بخش


جناب شمس الرحمن فاروقی اردو کے جید ادیب ہیں اور ہم ان کی مختلف النوع خدمات کے لیے ان کا بے حد احترام کرتے ہیں لیکن حال ہی میں جب ان کے ایک بدترین ادبی سرقہ کی خبر ملی تو ہمیں بے حد رنج و افسوس ہوا۔ قارئین اس بارے میں دستاویزی شواہد کو خود اپنی نظر سے دیکھ سکتے ہیں۔ ہماری خواہش تھی کہ کاش یہ سب غلط ہو لیکن جب ہم نے لائبریری میں جاکر متعلقہ اردو رسالہ ’’انتساب‘‘ سرونج کے پچھلے شماروں کو تلاش کرکے اس متن کا مطالعہ کیا، مدیر ’’انتساب‘‘ سیفی سرونجی کا تبصرہ اور شمس الرحمن فاروقی کا اعتراف پڑھا، اور پھر مدھیہ پردیش کے سینیئر اور معتبر ادیب ڈاکٹر مختار شمیم کے حالیہ مضمون کے متن کو بھی پڑھا جو رسالہ ’’تحریرنو‘‘ ممبئی کے شمارہ 21 میں شائع ہوا اور ان کی کتاب میں بھی موجود ہے، تو ہمیں بے حد رنج و افسوس ہوا۔ ذیل میں سب سے پہلے ہم انگریزی ویب سائٹ کا متن پیش کررہے ہیں جس نے سب سے پہلے اس سرقہ کا انکشاف کیا ہے۔ اس کے بعد ہم رسالہ ’’انتساب‘‘ سے ایڈیٹر سیفی سرونجی کے تبصرے کا ضروری حصہ نقل کررہے ہیں اور جناب شمس الرحمن فاروقی نے سرقہ پکڑے جانے کے بعد جو اعتراف کیا ہے اس کا متن بھی من و عن دے رہے ہیں اور تیسرے ڈاکٹر مختار شمیم نے اپنی کتاب ’’سوادِ حرف‘‘ میں اس مسئلے پر جو کچھ لکھا ہے اس کو بھی جوں کا توں پیش کررہے ہیں۔ قارئین خود اندازہ لگا لیں گے کہ حقیقت کیا ہے اور ڈاکٹر ابومحمد سحر کے ساتھ محترم شمس الرحمن فاروقی نے کیسی شدید بے انصافی کی ہے۔ 
(1) 
Social Mirror said :
"
Shamsur Rahman Faruqui may be a big name in Urdu criticism but a new book has exposed him over the matters lifted by him to write his books and articles. It is alleged Shamsur Rahman Faruqui has been lifting material from various articles and books and then presenting them in somewhat new shape to own credit of the original idea. The most glaring example, is lifting of matter from the famous book of Dr Abu Mohammad Sahar titled 147Urdu Imla Aur Uski Islaah146 (In fact 'Hindi-Hindavi par ek Nazar aur Dosre Mazamin'). The plagiarism came to light when Shamsur Rehman Faruqui146s book 147Urdu Ka Ibtidai Zamana148 was published. Soon after, literary persons of Bhopal raised a hue and cry over the matter. Some people even wanted to sue Shamsur Rehman Faruqui for copyright infringement but Dr Abu Mohammad Sahar, who was a saintly person, prevented them from doing so. Interestingly, Shamsur Rehman Faruqui had admitted that his book 147Urdu Ka Ibtidai Zamana148 is akin to the book of Dr Abu Mohammad Sahar. He had made this admission in the year 2003 in a letter to Dr Saifi Sironji, the editor of trimonthly Intesab, published from Sirong. This letter has been published in Sada-e-Urdu, Bhopal, edited by short-story writer Naeem Kausar. In the letter, Faruqui had written that he did not know that a similar book by Dr. Abu Mohammad Sahar was in existence and he came to know of it only after publication of his (Faruqui146s) book. He said that he would make a mention of it in the book being published in English (Which he later did, though under pressure after being exposed). Here is the transliteration of the letter by Faruqui, admitting his plagiarism, which throws light on plagiarism-like activities of Faruqui, who has been unfortunately bestowed with top Urdu literary awards in India, Pakistan and abroad. Due to his manipulations and manoevring Faruqui has established himself as a 145great146 writer and critic. But in the process he has stooped too low. This is despite the fact that he (Faruqui) was most vocal against Gopichand Narnag, whom he had alleged of plagiarism."
(
http://urduadab4u.blogspot.com)
(2) 
"133
It was Faruqui in the forefront of the campaign against Narang. Now that he has himself been exposed, all his awards and honours should be withdrawn by Indian and Pakistani governments. Afaq Ahmad, Patna, Bihar, India"
(
http://urduadab4u.blogspot.com)
151151151
’’رسالہ ’انتساب‘ کے ایڈیٹر سیفی سرونجی نے ڈاکٹر ابومحمد سحر کی کتاب ’ہندی/ہندوی پر ایک نظر اور دوسرے مضامین‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
’’ہندی ہندوی پر ایک نظر اور دوسرے مضامین‘‘ ڈاکٹر ابومحمد سحر صاحب کی عالمانہ کتاب ہے۔ امرت رائے کی کتاب
A House Divided کا مدلل اور مفصل جواب اس کتاب کے پہلے مضمون میں موجود ہے۔ اسی عنوان کو اس کتاب کا نام بھی دیا گیا ہے۔ اصل میں یہ گراں قدر مضمون بہت پہلے ’ہماری زبان‘ کے عام شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اس کے بعد ’ہماری زبان‘ کا خاص شمارہ ’’اردو نمبر‘‘ شائع ہوا۔ چنانچہ ڈاکٹر ابومحمد سحر کا مضمون دوبارہ اس خاص نمبر کی زینت بنا۔ مجھے حیرت ہے کہ شمس الرحمن فاروقی کے حوالے اردو کی تنقید اور ارتقا کے ضمن میں تو ہمارے اردو کے قارئین بہت شدومد کے ساتھ پیش کرتے ہیں لیکن ابومحمد سحر صاحب ان تاریخی حقائق کو عالمانہ انداز میں ان سے بہت پہلے اپنے مضمون میں پیش کرچکے ہیں۔‘‘ (سہ ماہی انتساب، سرونج، شمارہ 42، ستمبر 2000، ص 204)
اس تبصرہ کو پڑھ کر فاروقی صاحب ظاہر ہے گھبراگئے ہوں گے۔ لہٰذا انھوں نے اس کے بعد کے شمارے میں ایک طویل خط سیفی سرونجی کو لکھا جسے انھوں نے ’انتساب‘ کے شمارہ 43 میں شائع کیا ہے۔ قارئین اس خط کی قرأت کریں اور اندازہ لگائیں کہ انھوں نے ازخود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان سے سرقے کی غلطی ہوئی ہے۔ خط ملاحظہ فرمائیں :
’’اس شمارے کے صفحہ 204 پر آپ نے برادرِمکرم پروفیسر ابومحمد سحر کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے بالکل درست لکھا ہے کہ انھوں نے اس کتاب میں اردو ہندی کے مسئلے سے متعلق بعض حقائق میری کتاب ’’اردو کا ابتدائی زمانہ‘‘ کے شائع ہونے سے بہت پہلے اپنی تحریروں میں بیان کردیے تھے۔ کوئی شک نہیں کہ بعض باتوں میں ان کو اولیت حاصل ہے۔ میری کوتاہی اور لاعلمی کہ میں نے ان کا مضمون اس وقت نہ پڑھا تھا جب وہ اولاً شائع ہوا تھا اور کتاب میں نے ان کی تب دیکھی جب میری اپنی کتاب چھپ چکی تھی۔ میں نے اپنی کتاب کے انگریزی روپ جو زیرطبع ہے ابومحمد سحر صاحب کو مناسب خراج عقیدت پیش کردیا ہے۔ میری کتاب کا زیربحث حصہ ’شب خون‘ میں چھپ چکا تھا لیکن ابومحمد سحر صاحب کی بے نیازی دیکھیے کہ انھوں نے مجھے اس وقت متوجہ نہیں کیا کہ تم میری تحریر بھی تو دیکھ لو۔ اب کتاب ملنے پر میں نے ان سے احتجاج کیا تو اس مردِ درویش نے کہا کوئی بات نہیں آپ مناسب موقع پر اعتراف کردیں، اعتذار غیرضروری ہے۔‘‘ (سہ ماہی انتساب، سرونج، شمارہ 43، دسمبر 2000، ص 236)
151151151
ڈاکٹر مختار شمیم کی کتاب کا عنوان ہے ’’سوادِ حرف‘‘ (یہ کتاب بھوپال سے اسی سال یعنی 2011 میں شائع ہوئی ہے) اس میں شامل مضمون ’ڈاکٹر ابومحمد سحر اور ان کے مہربان معاصرین‘، (ص 216 تا 228) سے متعلقہ حصے کو ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔
’’اس میں دو رائے نہیں کہ ذاتی صلاحیت اور قابلیت ہی کسی ادیب / شاعر / محقق و نقاد کی شناخت کے لیے اولین شرط ہے لیکن ہم عصر ادب اور ادیب کی شناخت کا ایک اور وسیلہ ہے، وہ ہے خود کو پروجیکٹ کرنے کے لیے مختلف وسائل سے کام لینا۔ قاضی عبدالودود، رشید احمد صدیقی، مسعود حسن رضوی ادیب، مجاز، بیدی، جذبی، آل احمد سرور اور احتشام حسین وغیرہ محض اپنی قابلیت کی بنیاد پر ادب کی تاریخ میں نمایاں نام ہوئے ہیں لیکن ان کے فوراً بعد کی نسلیں ’’نئے نام‘‘ کے سلسلہ میں منصوبہ بندی کا وہ طریقہ اختیار کیا کہ آج تک وہی ریت چلی آرہی ہے۔ بشیر بدر کی مثال دینے کی کیا ضرورت ہے۔ اپنے آپ کو منصوبہ بند طریقے سے خود کو پروجیکٹ کرکے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والوں میں اردو کے نامور ادیب شمس الرحمن فاروقی بھی ہیں۔ انھیں منصوبہ بندی کے بھی سارے ہنر آتے ہیں اور اپنی لابی تیار کرنے کی دانش مندی بھی ان میں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ زبردست عالم ہیں اور موجودہ عہد میں اردو کے دانشوروں میں سرفہرست ہے لیکن انھوں نے جب چاہا ادب کی کسی صنف، کسی تحریک، کسی تصور کو اپنے عین تصور کے مطابق بڑی ذہانت کے ساتھ الٹ پلٹ کر رکھ دیا اور جب چاہا اپنے ہی نظریے کی نفی کرکے پرانی بات دہرادی۔ یہ ذہانت کے کرشمے ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ڈاکٹر ابومحمد سحر بہت پہلے سے شمس الرحمن فاروقی کے علمی جوہر کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے تھے لیکن ان کی ہر بات سے اتفاق نہیں رکھتے تھے۔ مثلاً وہ کہتے تھے کہ میر کا سارا کلام ’’شورانگیز‘‘ نہیں ہے محض چند اشعار کی بنیاد پر ’’شعر شور انگیز‘‘ کا حشر اٹھانا مناسب نہیں۔ اسی طرح ان کی شرحوں اور بعض تنقیدی تحریروں سے متفق نہ ہوتے ہوئے بھی کبھی فاروقی صاحب کے خلاف ایک لفظ بھی انھوں نے نہیں لکھا۔ مقامی اخبار میں میری ایک معمولی سی غزل شائع ہوئی جس میں ایک شعر تھا :
شعر غالب کے ہیں معنی آفریں
میر کا بھی شعر شور انگیز ہے
سحر صاحب نے اپنے خط کے ذریعے میری اصلاح کی کہ میر کا کلام اس شرط پر پورا نہیں اترتا اور یہ کہ شاید یہ شعر میں نے فاروقی صاحب سے متاثر ہوکر کہا ہے۔ امرت رائے کی کتاب ’’اے ہاؤس ڈیوائیڈیڈ‘‘ کا سیرحاصل جائزہ پہلی بار ڈاکٹر ابومحمد سحر نے پیش کیا۔ اسی کے ساتھ اردو دنیا کو ان خطروں سے آگاہ کیا جو اس کتاب کے باعث اردو زبان و ادب کو لاحق ہونے والے تھے۔ ’’گھر جو تقسیم ہوگیا‘‘ پر سحر صاحب کا مدلل علمی و ادبی مضمون ڈاکٹر خلیق انجم نے دو بار ’’ہماری زبان‘‘ میں شائع کیا۔ ایک بار عام شمارہ میں دوسری بار خاص شمارہ میں۔ حیرت اس وقت ہوئی جب جناب شمس الرحمن فاروقی کی کتاب اسی موضوع سے متعلق انگریزی اور اردو میں شائع ہوئی تو اردو ایڈیشن میں سحر صاحب کا کہیں حوالہ نہیں تھا۔ ادارہ سہ ماہی ’’انتساب‘‘ کے ذریعے جب اس طرف ان کی توجہ دلائی گئی تو ان کا اعتذار نامہ بھی آیا کہ نہ تو اس ’’مردِ درویش‘‘ نے ہی اپنے مضمون کی طرف متوجہ کیا اور نہ ہی ابومحمد سحر صاحب کا مضمون ان کی نظر سے گزرا۔ ادبی بددیاتی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ اپنے ایک معاصر صاحب قلم کی تحریروں کو یکسر نظرانداز کرکے صرف اپنے قلم کی شہرت کا پرچم لہرایا جائے۔ آج نہ تو ’’بابائے ادب‘‘ شمس الرحمن فاروقی نے اور نہ ان کے ہم وطن اور ہم خیال شمیم حنفی نے ڈاکٹر ابومحمد سحر کی تنقیدی و تخلیقی مزاج کو سمجھا ہے اور نہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے قد تو خود ان کی نظر میں بہت بلند ہیں۔‘‘ (سوادِ حرف، ص 223-224)
151151151
قارئین ان تینوں شواہد کی روشنی میں خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اردو کے جید ادیب شمس الرحمن فاروقی خود کو بدترین سرقہ کے الزام سے کس طرح بری الذمہ قرار دے سکتے ہیں! یہ بھی حقیقت ہے کہ شروع کے دور میں وہ اکثر جدیدیت کے مغربی مصنفین اور ماہرین کے خیالات کا چربہ پیش کرتے رہے ہیں، کبھی نام دیا کبھی نہیں دیا، تصورات وہی سبھی مغرب کا مال مسروقہ تھا۔ بعد کے دور میں ’’شب خون‘‘ کے ’پہلا صفحہ‘ کا شمارہ بہ شمارہ جائزہ لیاجائے تو ایسے کئی گھپلوں کا انکشاف ہوگا کہ وہ دوسروں کے خیالات کو توڑ مروڑ کر اور اپنی ترجیحات سے مطابقت دینے کے لیے کبھی بہ حوالہ کبھی بغیرحوالہ اور کبھی تناظر سے قطع کرکے ادھورے حوالوں کے ساتھ پیش کرتے رہے ہیں۔ ایسے قبیح ’’جلی و خفی سرقوں‘‘ سے ان کا ایوانِ تنقید جگمگا رہا ہے۔ اب وہ قدیم تاریخی کتابوں سے معلومات اخذ کر کرکے تاریخی افسانے اور ناول رقم کرتے ہیں، بیشک فکشن میں سرقہ کا وہ خطرہ نہیں ہے جو
علمی کام میں ہے۔ اب وہ کھلے عام دوسروں سے لیے گئے مال کو ’’طبع
زاد‘‘ بناکر پیش کرسکتے ہیں اور کوئی روک ٹوک بھی نہیں کرسکتا۔
***


Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages