آج پوری افغان قوم اللہ کے فضل سے طالبان کے پیچھے کھڑی ہے۔ طالبان کا جہاد پوری قوت، پورے اعتماد اور پورے حوصلے کے ساتھ اپنے دشمن کے سینے پر مونگ دل رہا ہے۔ یہ جہاد اللہ کی مدد اور توفیق سے وہ بے قابو طوفان بننے جا رہا ہے جس کے راستے میں دنیا کی کوئی چیز کھڑی نہ رہ سکے گی۔ اس کا دشمن ایک عالمی دشمن ہے۔ سب جانتے ہیں اِس افعیٰ کا سر کہاں ہے۔ یہ سانپ جو پوری دنیا پر کنڈلی مار کر بیٹھا ہے، سب کے علم میں ہے، اس کی چھپی ہوئی سری تل ابیب میں ہی ہے۔ سبھی کو معلوم ہے، اس کا پھن وہیں پر ہے۔
دیکھنے کو یہ متعدد محاذ ہیں جو مسلمانوں کو آج مختلف خطوں میں لڑنے پڑ رہے ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک ہی جنگ ہے۔ جیسے ہی اس جنگ کا فیصلہ افغانستان کے میدانوں اور پہاڑوں میں ہوتا ہے، آپ دیکھیں گے اس سے اگلے ہی لمحے یہ اپنے طبعی انجام کو پہنچنے کیلئے ارضِ مقدس میں اپنے آخری راؤنڈ میں داخل ہونے لگی ہے۔ وہ دن بھی ذرا تصور کرنے کا ہے! ہمارے بیت المقدس اور ہماری مسجد اقصیٰ پر قابض یہود آج کسی چیز سے سب سے بڑھ کر خائف ہیں تو وہ یہی ”کالے جھنڈے“ ہیں جو پشتون شیروں کے دم سے اب بہت اونچا ہو کر لہرانے لگے ہیں۔ ”کالے جھنڈوں“ کی لہراہٹ ارضِ بیت المقدس پر براجمان صیہونی قبضہ کار کا خون خشک کر ر ہی ہے۔ مجاہد پشتونوں کی سرزمین کو ان شاءاللہ وہ اعزاز ملنے والا ہے کہ پوری امت کا سر فخر سے اونچا کر دینے کا سہرا اِسی کے سر بندھے۔ ایک جہادِ فلسطین ہی کیا، دنیا کے ہر خطے میں ہونے والا جہاد آج افغان بازؤوں کی قوت پر انحصار کرنے لگا ہے۔ پوری امت کی آبرو کا سوال شاید یہیں پر آ رکا ہے۔ کیا امت کے دردمند جو عشروں سے اس امت کا سر اونچا دیکھنا چاہتے ہیں، اِس لحظہ کی نزاکت سے واقف ہیں؟ دامے درمے سخنے قدمے مدد کا وقت اب نہیں تو کب ہے؟
خبردار! یہ لحظہ جو کوئی صدی بھر کا کلائمکس ہے، ہماری کسی کوتاہی یا کسی بے احتیاطی کی نذر نہ ہو جائے!
خدایا! اِن ”کالے جھنڈوں“ کی لاج رکھ! خدایا! ان جھنڈوں کے لہرانے کیلئے وہ خوش گوار ہوائیں بھیج جن کی مہک پانے کیلئے امت عشروں سے اپنے بیٹے قربان کروا رہی ہے!خدایا! صیہونی صلیبی پھریرے افغانستان سے تار تار ہو کر یوں واپس ہوں کہ آئندہ وہ کسی ایسے دیس کی جانب میلی آنکھ کے ساتھ دیکھنے کی جراُت نہ کریں جس کی محرابوں میں تجھ کو سجدے ہوتے ہیں اور جس کے میناروں سے تیری تکبیریں اور اذانیں بلند ہوتی ہیں۔