4th May 2026
_____________
UNFPA
PRESS STATEMENT
Midwives: A Critical Investment for Health and Development in Pakistan
By Dr. Luay Shabaneh,
UNFPA Representative in Pakistan
Islamabad, May 4 2025; On the International Day of the Midwife on May 5, we are reminded of a profound truth. Midwives are the guardians of life at its most critical moments, ensuring the safety of mothers, newborns and families, and supporting health and wellbeing far beyond birth. Across Pakistan, particularly in rural and underserved communities, they are often the first and most trusted point of care, standing beside women during pregnancy, childbirth and the postnatal period, providing skilled care, preventing complications, identifying risks early and ensuring timely referrals. Their presence transforms childbirth from a moment of risk into a moment of safety, dignity and hope.
Yet the reality and state of midwives is worrying. Pakistan accounts for approximately four percent of global maternal deaths. Nearly 100 women die for every 100,000 live births, most from preventable causes. At the same time, the country faces a shortage of nearly 82,000 midwives and has only 2.2 midwives per 10,000 people, half the global average. These are not just statistics, they represent lives lost, families changed forever and a gap that must and can be closed.
Midwives offer one of the most effective and proven solutions to this challenge. When properly educated, supported and integrated into the health system, they can deliver most essential maternal and newborn health services, reduce preventable deaths, improve health outcomes and strengthen primary health care. Investing in midwives is also a smart economic choice. It reduces costly emergency care, lowers pressure on hospitals, improves workforce productivity and strengthens families and communities, delivering long term returns in both human and economic development.
However, midwives in Pakistan are too often expected to carry this responsibility without adequate support, including essential equipment, medicines, supervision, safe working conditions and fair compensation.
Pakistan now has an opportunity to act by expanding midwifery education, scaling up the B.S. Midwifery Programme, strengthening training standards and ensuring recruitment and deployment where they are most needed. Midwives must be fully integrated into the health system with clear career pathways, professional recognition and leadership opportunities. Midwives must be paid fairly, protected legally and prioritized in health sector planning and budgets. Access to skilled midwifery care is a fundamental right. No woman should lose her life while giving life.
UNFPA remains firmly committed to supporting Pakistan in strengthening midwifery education, workforce development and health systems. UNFPA will continue to work in close partnership with the Government and all stakeholders to advance this agenda.
The path forward is clear, the evidence is strong and the returns are undeniable. The question is not whether we can afford to invest in midwives, but whether we can afford not to. Let us stand with our midwives by protecting them, valuing their contribution and enabling them to reach their full potential, investing not only in health, but in the dignity, prosperity and future of Pakistan.
********
For more information
Mariyam Nawaz, Communications Analyst, UNFPA Pakistan | mna...@unfpa.org
مڈوائف: پاکستان میں صحت اور ترقی کے لیے ایک ناگزیر سرمایہ کاری
ڈاکٹر لوئے شبانے،
نمائندہ یو این ایف پی اے پاکستان
پانچ مئی، مڈوائف کے عالمی دن کے موقع پر، ہمیں ایک گہری حقیقت یاد دلائی جاتی ہے۔ مڈوائف زندگی کے اہم ترین لمحات کی محافظ ہیں، جو ماؤں، نوزائیدہ بچوں اور خاندانوں کی حفاظت کو یقینی بناتی ہیں اور پیدائش کے بعد بھی صحت و تندرستی کے لیے اپنا تعاون فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان بھر میں، خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوں میں، وہ اکثر طبی امداد کا پہلا اور سب سے قابلِ اعتماد ذریعہ ہوتی ہیں۔ وہ حمل، زچگی اور پیدائش کے بعد کے مراحل میں خواتین کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں، ماہرانہ دیکھ بھال فراہم کرتی ہیں، پیچیدگیوں کو روکتی ہیں، خطرات کی جلد نشاندہی کرتی ہیں اور بروقت ہسپتال منتقلی کو یقینی بناتی ہیں۔ ان کی موجودگی زچگی کو خطرے کے لمحے سے نکال کر حفاظت، وقار اور امید کے لمحے میں بدل دیتی ہے۔
تاہم، مڈوائف کی موجودہ صورتحال اور حقیقت تشویشناک ہے۔ عالمی سطح پر ماؤں کی اموات میں سے تقریباً چار فیصد پاکستان میں ہوتی ہیں۔ یہاں ہر ایک لاکھ زندہ بچوں کی پیدائش پر ایک سو پچاس سے زائد خواتین دم توڑ دیتی ہیں، جن میں سے اکثر اموات قابلِ علاج وجوہات کی بنا پر ہوتی ہیں۔ اسی دوران، ملک کو تقریباً بیاسی ہزار مڈوائف کی کمی کا سامنا ہے اور یہاں ہر دس ہزار افراد کے لیے صرف دو اعشاریہ دو مڈوائف موجود ہیں، جو کہ عالمی اوسط سے آدھی تعداد ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں، بلکہ یہ ضائع ہونے والی زندگیوں اور بکھر جانے والے خاندانوں کی کہانی ہے؛ یہ وہ خلا ہے جسے پُر کرنا ناگزیر بھی ہے اور ممکن بھی۔
مڈوائف اس چیلنج کا سب سے مؤثر اور ثابت شدہ حل پیش کرتی ہیں۔ جب انہیں مناسب تعلیم، ریگولیشن اور تعاون فراہم کیا جائے اور انہیں نظامِ صحت کا حصہ بنایا جائے، تو وہ ماں اور نوزائیدہ بچے کی صحت سے متعلق زیادہ تر ضروری خدمات فراہم کر سکتی ہیں، روک تھام کے قابل اموات کو کم کر سکتی ہیں اور بنیادی صحت کے ڈھانچے کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔ مڈوائف پر سرمایہ کاری ایک دانشمندانہ معاشی انتخاب بھی ہے۔ یہ ہنگامی دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرتی ہے، ہسپتالوں پر دباؤ گھٹاتی ہے اور خاندانوں کو مضبوط بنا کر طویل مدتی انسانی و معاشی ترقی کو یقینی بناتی ہیں۔
تاہم، پاکستان میں مڈوائف سے اکثر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ضروری آلات، ادویات، نگرانی، محفوظ کام کے حالات اور منصفانہ معاوضے کے بغیر یہ بھاری ذمہ داری نبھائیں۔
اب وقت ہے کہ پاکستان بین الاقوامی معیار کے مطابق مڈوائفری کی تعلیم کو وسعت دے، بی ایس مڈوائفری پروگرام کو فروغ دے اور تربیت کے معیار کو بہتر بنا کر وہاں تعیناتی یقینی بنائے جہاں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ مڈوائف کو کیریئر کے واضح راستوں، پیشہ ورانہ شناخت اور قیادت کے مواقع کے ساتھ نظامِ صحت میں مکمل طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ انہیں منصفانہ تنخواہیں دی جانی چاہئیں، قانونی تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے اور صحت کے شعبے کی منصوبہ بندی اور بجٹ میں ترجیح دی جانی چاہیے۔ ماہر مڈوائفری تک رسائی ایک بنیادی حق ہے۔ کسی بھی عورت کو زندگی دیتے ہوئے اپنی زندگی نہیں ہارنی چاہیے۔
یو این ایف پی اے پاکستان میں مڈوائفری کی تعلیم، افرادی قوت کی ترقی اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں تعاون کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ یو این ایف پی اے اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی شراکت داری جاری رکھے گا۔
مستقبل کا راستہ واضح ہے، ثبوت مضبوط ہیں اور اس کے ثمرات ناقابلِ تردید ہیں۔ سوال یہ نہیں ہے کہ کیا ہم مڈوائف پر سرمایہ کاری کرنے کی سکت رکھتے ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سرمایہ کاری سے گریز کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ آئیے اپنی مڈوائف کی حفاظت کر کے، ان کی خدمات کی قدر کر کے اور انہیں اپنی مکمل صلاحیتوں کے اظہار کے قابل بنا کر ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف صحت پر ہے، بلکہ یہ پاکستان کے وقار، خوشحالی اور مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔
********
مزید معلومات کے لیے:
مریم نواز کمیونیکیشنز اینالسٹ، یو این ایف پی اے پاکستان |