10 Deadly Signs of Negative Thinking

0 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Jan 31, 2026, 10:40:17 AM (5 days ago) Jan 31
to

10 Deadly Signs of Negative Thinking

  10 Deadly Signs of Negative Thinking Negative thinking can be a silent saboteur, undermining your mental health, relationships, and ...

 

10 Deadly Signs of Negative Thinking

Negative thinking can be a silent saboteur, undermining your mental health, relationships, and overall quality of life. Recognizing the signs of negative thinking is the first step toward breaking free from its grip. Here are ten deadly signs of negative thinking to watch out for:

1. Catastrophizing

What It Is:

Catastrophizing involves expecting the worst possible outcome in any given situation, often blowing minor issues out of proportion.

Example:

You make a small mistake at work and immediately think you’re going to be fired.

Impact:

This can lead to chronic anxiety and prevent you from taking risks or trying new things.

2. Overgeneralizing

What It Is:

Drawing broad conclusions based on a single event or experience, leading to a pessimistic view of the future.

Example:

You have one bad meeting and conclude that you’ll never find success.

Impact:

Overgeneralizing can limit your opportunities and contribute to feelings of hopelessness.

3. Mental Filtering

What It Is:

Focusing exclusively on the negative aspects of a situation while ignoring the positive.

Example:

You receive positive feedback on a project but fixate on one small criticism.

Impact:

This can erode your self-esteem and create a skewed perception of reality.

4. Personalization

What It Is:

Blaming yourself for events outside your control, leading to unnecessary guilt and shame.

Example:

A friend cancels plans, and you immediately think it’s because they don’t like you.

Impact:

Personalization can damage your self-worth and strain relationships.


10 Deadly Signs of Negative Thinking - Learn Something New !

 شیر، لومڑی اور گدھا



انتخاب و اضافہ: محمد عمران خان ایک مرتبہ قدرت نے گناہوں کی کثرت کے سبب اہلِ دنیا کو مہلک وبا میں مبتلا کر دیا۔ اور ہر زی روح اپنی...




انتخاب و اضافہ: محمد عمران خان
ایک مرتبہ قدرت نے گناہوں کی کثرت کے سبب اہلِ دنیا کو مہلک وبا میں مبتلا کر دیا۔ اور ہر زی روح اپنی جان سے بیزار ہوگیا جنگل کے جانور بھی اس سے نہ بچ سکے۔ جانوروں میں ہلاک تو کوئی نہ ہوا مگر انکی حالت مُردوں سے بدتر تھی۔ زندہ رہنے کی خواہش کسی میں نہ رہی۔ چھوٹے جانورو ں کو درندوں کا کوئی خوف نہ رہا۔ دراصل کسی کو خوراک کی پرواہ تھی نہ جینے کی آرزو۔ سب اپنی اپنی جگہ پڑے موت کا انتظار کر رہے تھے۔ پرندوں کی جان فرا سریلی  آوازیں اب خاموش ہوگئی تھیں۔ کیونکہ پیار اور خوشی تو دور جاچکی تھی۔

جنگل کے بادشاہ شیر سے نہ رہا گیا اور اسنے کراہتے ہوئے جانوروں سے مخاطب ہو کر کہا بھائیو ! خدا کی طرف سے نازل ہونے والا یہ عذاب مجھے تو کس کی شامتِ اعمال نظر آتی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ ہم میں سے جو سب سے زیادہ گناہگار ہے وہ خود کو قربانی کے لئے پیش کردے۔ مجھے یقین ہے کہ اسکے خون کے عوض یہ عذابِ خداوندی جسمیں ہم سب مبتلا ہیں ٹل جائے گا۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اس قسم کی مصیبتیں قربانی سے دور ہوتی ہیں۔ ہمیں غیر جانبدار اور کڑی احتسابی نگاہ سے اپنے ضمیر کو ٹٹولنا ہوگا۔

سب سے پہلے میں اپنا کچا چٹھا آپ سب کے سامنے کھولتا ہوں۔ میں اپنے پاپی پیٹ کی خاطر بے شمار معصوم بھیڑیں کھا چکا ہوں۔ اور مجھے یہ بھی یاد پڑتا ہے کہ ایک روز مجھے شکار نہ ملا تو میں نے اپنی بھوک مٹانے کے لئے ایک چرواہے کو ہلاک کرڈالا تھا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے یہ گناہ خدا کے عذاب کو دعوت دینے کے لئے کافی ہیں۔ لہذا قربانی کے لئے میں خود کو بارضا و رغبت پیش کر نے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن ایک خیال یہ بھی آتا ہے کہ ہم میں اور بھی ایسے ہوں گے کہ ان سے بھی گناہوں کا ارتکاب ہوا ہوگا۔  چنانچہ اتمامِ حجت اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب اپنے اپنے گناہوں کو بیان کریں تاکہ سب سے بڑے خطا کار کو قربانی کے لئے الگ کیا جاسکے۔

شیر کی یہ بات سنکر لومڑ بول پڑا ۔ عالم پناہ! خدا آپکا اقبال بلند کرے۔ آپ جیسے باضمیر بادشاہ کہاں ملتے ہیں۔ آپ خود کو خطاکار کیوں سمجھتے ہیں۔ الگ سے پیدل اور دھرتی کے بوجھ ان بھیڑوں کو اگر آپ نے تناول فرمایا تو اسمیں گناہ کی کونسی بات ہے۔ سچ پوچھئے تو بھیڑ جیسے بے وقعت جانور کے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ بادشاہ سلامت اسے اپنی خوراک بنانے کا شرف بخشیں۔ رہی بات گڈریے کی تو اسکا تعلق انسانوں کی قبیل سے تھا۔ انکے ساتھ تو جتنا برا کی جائے وہ کم ہے کہ یہ خود کو اشرف سمجھتی ہے۔ او رہم پر حکمرانی کو اپنا حق سمجھتی ہے۔ اور مختلف حیلوں سے ہم پر قابو بھی پالیتی ہے۔ لہذا حضور یہ خیال بھی دل میں نہ لائیں کہ آپ سے کوئی برا فعل سرزد ہوا ہے ۔ قربانی دیں آپکے دشمن ۔ اتنا کہہ چکنے کے بعد لومڑ نے جنگل کے دیگر جانوروں سے تائید طلب لہجے میں پوچھا کیوں دوستو ! کیا میں غلط کہہ رہا ہوں! ہر گز ہر گز نہیں۔ بادشاہ سلامت تو بہت اچھے ہیں۔ چاروں طرف سے خوش آمدی صدائیں بلند ہونے لگیں۔

اسی طرح چیتے ، ریچھ اور دیگر خونی درندوں کو بھی پارسا  اور بزرگ ٹھہرایا گیا۔ انکے بیان کئے گئے گناہ خواہ کتنے ہی گھناؤنے ہوتے تمام جانور انھیں اوصاف شمار کرتے۔ پھر گدھے کی باری آئی ۔ اسنے اپنا گناہ بیان کرنا شروع کیا:
ایک مرتبہ کسی گرجے (church) کے پچھواڑے اُگے سبزہ زار سے میر گزر ہوا مجھےچونکہ بھوک لگی ہوئی تھی۔ لہذا لہلہاتی گھاس دیکھ کر میں اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھ سکا اور پیٹ بھر کر تو نہیں تاہم تھوڑا سا گھاس ضرور چر لیاتھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ گرجے کی گھاس چرنے کا مجھے کوئی حق نہیں تھا۔  اسکی بات ختم ہوتے ہی سب جانور اسے لعنت ملامت کرنے لگے ۔ بھیڑیئے نے اسے سب سے بڑا پاپ قرار دیا اور بولا: یہ مصیبت جو ہم پر نازل ہوئی ہے گدھے کے اس قبیح فعل کی وجہ سے ہے بتایئے تو بغیر اجازت اسے کسی جگہ گھاس چرنے میں ذرا شرم نہیں آئی۔ اسنے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ کتنا عظیم گناہ ہے۔ قربانی کے لئے گدھا سب سے موزوں قرار پایا۔
 ( The best fables of Lafontaine, Gen De La Fontaine 1621-95)
*حاصلِ حکایت:*
کمزور ہونا یوں تو ایک عیب ہے ہی لیکن  یہ عیب اس صورت میں  مزید قبیح ہوجاتا ہے جب  دشمن اس ضعف و ناتوانی سے بھرپور فائدہ  اٹھاتا ہو۔ تقسیمِ برصغیر کے بعد کی پاک و ہند کی  تاریخ اسی حقیقت کو بیان کرتی نظرآتی ہے۔  پاکستان سے کئی گنا بڑے بھارت کو جب بھی موقع ملا اس نے پاکستان کو ہر محاظ پر  زچ  اور تنگ کرنے اور اسکی پیٹھ میں چھُرا گھونپنے کا  موقع تراشا ہے۔  چاہے وہ 1998 کے ایٹمی ہتھیاروں کے ٹیسٹ ہوں یا ریاست جموں و کشمیر کا معاملہ ۔ بھارت ہمیشہ  پاکستان کو اسکے جرمِ ضعیفی کی سزا دینے کو تیار رہتا ہے۔ 

Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages