یہ جو رمضان شریف میں چینلز پر طوفان بدتمیزی چل رہا ہے
رمضان کوئی فیسٹیول نہیں ہے۔ وہ اوقات جو اللہ کی رحمتیں لوٹنے کے ہیں، سب ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔۔۔
وہ گھڑیاں جو دعائیں مانگنے کی ہوتی ہیں ہم کیا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔۔۔؟
سراسر لہو و لعب، کھیل تماشہ اور رنگ بازی، نام اس کا رمضان اسپیشل ہوتا ہے۔
اللہ پاک ہم پر رحم کرے۔۔۔
ایک ویڈیو دیکھی. دو سنگرز کچھ گا رہی ہیں۔ حاضرین تالیاں پیٹ رہے ہیں۔ کہیں انعامات کی بارش ہو رہی ہے اور کہیں موبائل بانٹے جارہے ہیں اور اس کے ساتھ کچھ دین فروش مولوی بھی ہائر کر لئے جاتے ہیں تاکہ اس پروگرام کو اسلامی کہا جا سکے۔۔۔
جہالت کے پاس حق سے زیادہ دلیلیں ہوتی ہیں. یہ تو ہمیں شوگر کوٹڈ زہر کی گولیاں دی جارہی ہیں۔ ہماری عبادات کے تقدس کو برباد کرنے کا پروگرام ہے کہ ہماری مذہبی روایات و اقدار کی روح مار دی جائے۔ یہ شیطان ہی ہے جو حیلوں اور بہانوں سے ہماری خواہشات پر ڈھلے ہوئے کاموں کو دین بنا دیتا ہے۔ وہ گناہ کے کاموں کو نہایت دلفریب اور خوب صورت بنا دیتا ہے مثلاً اچھے اچھے شاعر اپنے تئیں کئی گانوں کو مشرف بہ نعت کرتے رہے کہ گانوں کی دھنوں پر نعتیں کہتے رہے۔
اللہ معاف کرے، نعت سن کر دھیان فلم کے سین پر چلا جاتا ہے۔۔۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح ٹی وی کی لغویات سنتے ہوئے روزہ اچھی طرح گزر جاتا ہے حالانکہ روزہ انہی شیطانی کاموں سے بچنے کا نام ہے وگرنہ اللہ کو ہمارے بھوکا رکھنے سے کیا مطلب !!!
روزہ اللہ کے لئے ہے اور اس کا بدلہ بھی اللہ کے پاس ہے بلکہ وہ خود اس کا اجر دے گا۔ روزہ سحری سے افطار تک عبادت ہی تو ہے بلکہ اس کا اہتمام بھی عبادت ہے۔۔۔
یہ مہینہ اللہ کے لئے سرنڈر کرنے اور خود سپردگی کا نام ہے۔ سحری سے پہلے تلاوت کی جائے، افطار کے بعد تراویح کی فکر کی جائے نہ کہ کھیل تماشہ دیکھے جائیں۔۔۔
روزہ محسوس کرنے کا نام ہے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کا نام۔۔۔