Pause, Ponder and Then Proceed // ہمارے حقیقی ہیرو

0 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Feb 21, 2026, 4:18:56 AM (5 days ago) Feb 21
to

A horse running at top speed in the wrong direction will never reach the destination. Not only this, he will mislead all the follower...


A horse running at top speed in the wrong direction will never reach the destination. Not only this, he will mislead all the followers. When there is a situation to stop, be sure to take a break, assess the situation and move on. Do not run blindly. Life keeps guiding you with speed breakers. Learn to learn the lessons from these set-backs. Practice the principle: Pause, Ponder and Proceed.


_________________________________________________________

 نیوز پر چلنے والی اس خبر نے من کا برہما شانت کر دیا۔ دلِ زار نے ہجومِ بلا کے فسانے تو بہت کہہ لیے ، اب کچھ جامِ فرحت فزا کی بات ہ...



 نیوز پر چلنے والی اس خبر نے من کا برہما شانت کر دیا۔
دلِ زار نے ہجومِ بلا کے فسانے تو بہت کہہ لیے ، اب کچھ جامِ فرحت فزا کی بات ہو جائے؟
یہ فیصل آباد کی ایک دکان کا منظر ہے ۔ دکان اتنی بڑی نہیں مگر تاجر کا دل کشادہ ہے۔ اعلان عام ہے:
"عید کے لیے بچوں کے کپڑے رکھے ہیں ، جو خرید سکتا ہے خرید لے جو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا وہ مفت میں لے جائے اور اپنے بچوں کی عید میں خوشیاں بھرلے۔"
ایک غریب سا ، حالات کا مارا بچہ ایک سوٹ اٹھاتا ہے اور اس کے وجود میں پھوٹتے جلترنگ میں یہاں میلوں دور بیٹھ کر محسوس کر سکتا ہوں۔ اس ننھے وجود پر اس لمحے جو خوشی اتری ، کاش بیان کی جا سکتی ۔
ایک ماں کرسی پر بیٹھی ہے، اس کی ننھی سی بیٹی جا کر ایک فراک پسند کرتی ہے۔ فراک ہاتھ میں آتے ہی یہ ننھا وجود خوشی سے گویا تتلی بن جاتا ہے۔ تتلی اڑتی ہوئی ماں کے پاس آتی ہے۔ کسی کو کیا معلوم کتنے موسم تتلی نے اپنی خواہشات کا گلا گھونٹا ہو۔ کون جانے اس دوران ماں پر کیا قیامتیں بیت چکی ہوں ۔
ذرا سنیے یہ بیٹی کیا کہہ رہی ہے :
’’میں نے اپنی مما سے کہا تھا کہ مجھے نا ، مجھے نا ، فراک لے کر دیں ، مما نے کہا میرے پاس پیسے نہیں ہیں‘‘۔
کیا آپ نے غور کیا بیٹی نے یہ سب مما سے کیوں کہا؟
بابا سے کیوں نہ کہا؟
شاید وہ یتیم ہو ۔
نوجوان تاجر اسے فراک تھماتا ہے اور بچی کہتی ہے:
"اللہ انہیں خوش رکھے."
تاجر تو یہاں بہت ہوں گے اور اس ماہ مقدس میں دولت بھی کمائیں گے لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا کوئی اس تاجر سا بھی ہو گا؟
معلوم نہیں یہ تاجر کون ہے ۔ لیکن یہ ہمارا ہیرو ہے۔
ہمارے معاشرے کا حقیقی ہیرو۔
یہ ایک اور منظر ہے۔رمضان المبارک کا چاند طلوع ہو چکا ہے ۔ شام ڈھل رہی ہے ۔ راولپنڈی سیٹلائٹ ٹائون میں ایک سڑک کنارے میں گاڑی میں بیٹھا ہوں ۔ دائیں طرف ایک گھر ہے ۔ ایک بوڑھی خاتون آتی ہے ، ڈور بیل بجاتی ہے ۔ دروازہ کھلتا ہے اور خاموشی سے اس عورت کو سامان پکڑا دیا جاتا ہے ۔ آٹے کا ایک بڑا سا توڑا ، چینی کا قریبا دس کلو کا پیکٹ ۔ گھی کا ایک بڑا ڈبہ ، جام شیریں کا ایک فیملی پیک، کچھ اور پیکٹ جن میں معلوم نہیں کیا ہے ۔ دینے والا کوئی احسان نہیں جتاتا ۔ خاموشی سے چیزیں بڑھیا کے حوالے کر کے دروازہ بند کر دیتا ہے۔ پھر ایک اور عورت آتی ہے اور یہی عمل دہرایا جاتا ہے ۔ پھر ایک اور ، پھر ایک اور ، پھر ایک اور۔۔۔میں نہیں جانتا یہ کس کا گھر ہے۔ کچھ خبر نہیں دینے والا کون ہے لیکن یہ جو کوئی بھی ہے یہ ہمارا ہیرو ہے۔ ہمارا حقیقی ہیرو۔

Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages