حقوقِ
نسواں کی حامی ایک خاتون کے شوہر ہر وقت کی نصیحتیں اور تقریر سن سن کر
تنگ آ چکے تھے ، یہی حال خاتون کے ساتھ سوشل ورک کرنے والی خواتین کے
شوہروں کا بھی تھا ۔۔ ایک دن سب نے مل کر سوچا اور طے پایا کہ اب کوئی
تقریر اور نصیحت برداشت نہیں کی جائے گی ۔۔
شام کو خاتون گھر آئیں اور حسبِ معمول بک بک شروع ہوئی ، کچھ دیر گزری تھی
کہ کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی خاتون نے حیران ہو کے دیکھا شوہر صاحب نے دیوار
پہ گلاس دے مارا تھا ۔۔۔ کچھ بولنے کے لیئے منہ کھولا ہی تھا کہ پیروں کے
پاس کوئی چیز آکے گری ۔۔۔ بچپن میں کھیلی گئی برف پانی کی مہارت کام آئی
اچھل کے سوفے پہ جا کھڑی ہوئیں ۔۔۔۔ اور سوچا ۔۔۔۔ میرے شوہر میں ماسی
بشیراں کی روح کیسے حلول کر گئی ۔۔۔۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ماسی ماتھے پہ
لگنے والا گومڑ اور سوجی ہوئی کھبّی آنکھ کی ٹکور کرتے ہوئے اپنے شوہر کے
ظلم کی داستان سنا رہی تھی ۔۔۔
اور میں گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہی تھی تم سے ایک شوہر قابو نہیں ہوتا ۔۔۔
اس سے پہلے کہ سوچ کا سفر آگے بڑھتا ۔۔ چنگھاڑتی ہوئی آواز آئی آئندہ زبان
قابو میں رکھنا ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاک کی حالت میں رات گزری ، دوسرے دن آفس پہنچتے ہی ارجنٹ میٹنگ کال کی گئی
۔۔۔ اسی وقت ماسی آگئی ، پریشان دیکھ کر پوچھا ! باجی ، تُسی ٹھیک تو ہو
؟؟؟ باجی نے سارا قصّہ کہہ سنایا ۔۔
بشیراں بولی !! یہ تو کوئی مسئلہ ہی نئیں ۔۔۔ لگتا ہے آج میاں نے سر پر
مارا ہے دماغ چل گیا تمہارا ۔۔۔۔ ناں باجی ناں ، اب وہ نئیں مارتا گھر میں
سکون ہی سکون ہے ۔
ایسا کیا کردیا تم نے کہ شوہر سیدھا ہوگیا ؟؟؟
بشیراں بولی !!! باجی جی میں تعویذ لینے کے پاس گئی تھی ، انہوں نے
پانی دم کر کے دیا اور کہا جب تمہارا شوہر تم کو مارے ، چیخ پکار مچائے
۔۔۔ اس پانی کا ایک گھونٹ منہ میں لے کر اپنا کام کرتی رہنا ۔۔۔۔
لیکن !!!!!! یاد رہے پانی گلے میں نہ جائے ورنہ اثر جاتا رہے گا ۔۔۔۔ اس دن کے بعد باجی یقین کرو میرا گھر والا سیدھا ہوگیا ۔۔۔
اس دن بابا جی کے آستانے پہ شام تک رونق لگی رہی ۔۔۔ تمام باجیاں جن کے
شوہروں کا دماغ پِھر گیا تھا دم کیا ہوا پانی لے کر خوشی خوشی گھر آئیں ۔۔۔
اُس دن کے بعد سے تمام حقوقِ نسواں کی حامی باجیاں گھر سے باہر بول کر دل
کی بھڑاس نکال لیتی ہیں اور گھر پہنچتے ہی منہ میں پانی لے کر خوشی خوشی
اپنے کام نمٹاتے ہوئے یہ سوچ کر خوش رہتی ہیں کہ انہوں نے ایک مرد کی بولتی
بند کردی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عورت جاہل ہو یا پڑھی لکھی ملازمت کرتی ہو گھر میں دن گزارتی ہو شوہر کے
معاملے میں ایک جیسی سوچ رکھتی ہے جبھی تو خوشی خوشی بے وقوف بن جاتی ہے
۔۔۔۔۔۔ کوئی مانے ناں مانے سانوں کی :P