صحیح بخاری در ۹۷ کتاب و ۳۴۵۰ باب تدوین شده و تعداد احادیث آن با احتساب احادیث مکرّر به گفتهٔ ابن صلاح ۷۲۷۵ حدیث و با حذف مکرّرات ۴۰۰۰ حدیث است.[۱]
تعدادی از علما با حذف سند و انتساب مستقیم حدیث به صحابه یا حذف احادیث مکرر در باب کتاب را کوتاه کردند که از جمله این اختصارات عبارتند از:
صحیح البخاری برای اولین بار توسط عبدالعلی نوراحراری به زبان فارسی ترجمه شده که توسط انتشارات شیخ السلام احمد جام به زیر طبع رفته با مشخصات ذیل:
صحیح بخاری کا اصل نام الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسننہ و ایامہ ہے جو صحیح البخاری کے نام سے مشہور ہے یہ اہل سنت وجماعت کے مسلمانوں کی سب سے مشہور حدیث کی کتاب ہے اس کو امام محمد بن اسماعیل بخاری نے سولہ سال کی مدت میں بڑی جانفشانی اور محنت کے ساتھ تدوین کیا ہے [1] اس کتاب کو انھوں نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کر کے جمع کیا ہے[2] اہل سنت کے یہاں اس کتاب کو ایک خاص مرتبہ و حیثیت حاصل ہے اور ان کی حدیث میں چھ امہات الکتب (صحاح ستہ) میں اول مقام حاصل ہے خالص صحیح احادیث میں لکھی جانی والی پہلی کتاب شمار ہوتی ہے [3] اسی طرح اہل سنت میں قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح کتاب مانی جاتی ہے[ح 1][6][7] اسی طرح صحیح بخاری کا شمار کتب الجوامع میں بھی ہوتا ہے یعنی ایسی کتاب جو اپنے فن حدیث میں تمام ابواب عقائد احکام تفسیر تاریخ زہد اور آداب وغیرہ پر مشتمل اور جامع ہو[8]
اس کتاب نے امام بخاری کی زندگی ہی میں بڑی شہرت و مقبولیت حاصل کر لی تھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس کتاب کو تقریباً ستر ہزار سے زائد لوگوں نے ان سے پڑھا اور سماعت کی [9] اس کی شہرت اس زمانہ میں عام ہو گئی تھی ہر چہار جانب خصوصاً اس زمانے کے علما میں اس کتاب کو توجہ اور مقبولیت حاصل ہو گئی تھی چنانچہ بے شمار کتابیں اس کی شرح مختصر تعلیق مستدرک تخریج اور علومِ حدیث وغیرہ پر بھی لکھی گئیں یہاں تک کہ بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس کی شروحات کی تعداد بیاسی (82) سے زیادہ ہو گئی تھی[10]
پورا نام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بَرْدِزبَہ[ح 2] جعفی بخاری اہل سنت والجماعت کے مشہور محدث رجال حدیث جرح و تعدیل اور علل کے امام[13] اور بڑے حافظ حدیث[ح 3] اور فقیہ[16] ہیں بخارا میں جمعہ کی رات 13 شوال سنہ 194 ہجری مطابق 20 جولائی سنہ 810 عیسوی میں پیدا ہوئے [17][18] علمی گھرانہ میں پرورش پائی جہاں ان کے والد خود حدیث کے بڑے عالم تھے [19] والد امام بخاری کے بچپن ہی میں وفات پا گئے اور امام بخاری نے یتیمی کی حالت میں ماں کی کفالت و تربیت میں پروان چڑھے [20][21] بچپن ہی سے طلب علم میں مشغول ہوئے چنانچہ بچپن ہی میں قرآن مجید اور اس زمانہ کی امہات الکتب کو حفظ کر لیا یہاں تک کہ جب عمر دس سال ہوئی تو حدیث حفظ کرنا شروع کیا شیوخ اور علما کے پاس آنے جانے لگے دورس حدیث کے حلقوں میں شریک ہونے لگے [22] اور سولہ برس کی عمر میں عبد اللہ بن مبارک اور وکیع بن جراح کی کتابوں کو حفظ کر لیا[23] طلب حدیث اور شیوخ سے ملاقات کی غرض سے اسلامی دنیا کے اکثر ملکوں اور شہروں کا سفر کیا وہاں کے تقریباً ایک ہزار علما و شیوخ سے استفادہ کیا[24] اور تقریباً چھ لاکھ احادیث کو جمع کیا[2]
امام بخاری نے خوب شہرت و مقبولیت حاصل کی ان کے ہم عصروں حتی کہ ان کے شیوخ تک نے ان کا اعتراف کیا ان کے بعد کے علما نے حدیث و علوم حدیث میں ان امامت کا لوہا مانا [25] یہاں تک کہ انھیں امیر المومنین فی الحدیث کے لقب سے یاد کیا گیا[ح 4][28][29] امام بخاری سے بہت سے کبار علما و محدثین نے علم حاصل کیا مثلا: مسلم ابن خزیمہ ترمذی اور دوسرے ائمہ محدثین اس کے علاوہ طلاب علم روات اور محدثین کی ایک بڑی تعداد نے ان سے سماعت اور استفادہ کیا امام بخاری کی صحیح بخاری کے علاوہ دیگر کئی تصنیفات ہیں جس میں سب سے مشہور التاریخ الکبیر الادب المفرد رفع الیدین فی الصلاۃ اور قرات خلف الامام وغیرہ ہے اخیر عمر میں امام بخاری پر آزمائش کا آغاز ہوا ان پر بہت ظلم ڈھایا گیا یہاں تک کہ انھیں نیشاپور اور بخارا سے شہر بدر کر دیا گیا چنانچہ وہاں سے سمرقند کے ایک دیہات میں چلے گئے وہیں آخری سانس تک بیماری کی حالت میں مقیم رہے اور عید الفطر کی رات سنیچر کے دن 256 ہجری مطابق 1 ستمبر 870 عیسوی میں وفات ہو گئی[30]
کتاب کو کئی بڑے اور بہت سے چھوٹے حِصّوں میں موضوع وار ترتیب دیا گیا بڑے حصوں کو کتاب اور چھوٹے حصوں کو باب کے نام سے پیش کیا گیا ہے بڑے موضوعات مندرجۂ ذیل ہیں
استعمال کی ہیں?اور پھر اگر چھوٹے چھوٹے احادیث مبارکہ کے ٹکڑے بطور جز کے بھی شامل کر لیں تو پھر یہ تعداد نو ہزار بیاسی (9082) بنتی ہے
علامہ قسطلانیؒ فرماتے ہیں کہ فربری کے علاوہ بھی بخاری کے دوسرے رواۃ موجود ہیں جیسا کہ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ صحیح بخاری ہم تک پانچ طریق سے پہنچی ہے وہ طرق خمسہ مندرجہ ذیل ہیں :
صحیح بخاری در ۹۷ کتاب و ۳۴۵۰ باب تدوین شده و تعداد احادیث آن با احتساب احادیث تکراری به گفتهٔ ابن صلاح ۷۲۷۵ حدیث و با حذف مکرّرات چهار هزار حدیث است.
جد پدریش (مغیره) توسط حاکم بخارا مسلمان شده و در آنجا ساکن شد. بخاری در سن ۱۶ سالگی به مکه مسافرت نمود و علم حدیث را فرا گرفت. سپس مصر و دیگر کشورهای اسلامی را برای جمع حدیث طی کرد و چون به بخارا بازگشت ششصد هزار حدیث باخود آورد و فقط ۷۲۷۵ حدیث را معتبر دانسته در تألیف مشهور خود موسوم به صحیح بخاری جای داد.[۴]
بخاری چون کتابِ خود را به پایان رساند آن را به بزرگان و ائمهٔ حدیث اهل سنت مانند احمد بن حنبل علی بن مَدینی و یحیی بن معین عرضه داشت و آنها به صحّت و درستی آن جز چهار حدیث شهادت دادند.[۱۶]
حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کے مرتب کردہ مجموعہ احادیث کو قرآن کریم کے بعد صحیح ترین کتاب مانا جاتا ہے سولہ سال کی محنت شاقہ اور خاص تائید الٰہی سے مکمل ہونے والی اس کتاب میں اقوال و افعال رسولﷺ کی انسانی حد تک درست ترین معلومات جمع ہیں اس مایہ ناز مجموعہ کے اردو ترجمہ اور شرح کا غیر معمولی کام حضرت سید ولی اللہ زین العابدین شاہ صاحب رضی اللہ عنہ نے حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کی ہدائیت اور رہنمائی میں 1926ء میں شروع کیا لیکن آپؓ خلافت کے سلطان نصیر بن کر اپنی ساری زندگی طرح طرح کی جماعتی مہمات میں بھی دن رات مصروف کار رہے اور ساتھ ساتھ اس علمی ذمہ داری کو بھی نبھاتے رہے اور اپنی وفات 16مئی 1967ءتک آپ نے صحیح بخاری کا اردو ترجمہ مکمل کرلیا تھا اور 30 میں سے 19 پاروں کی شرح بھی لکھ لی تھی جس کی طباعت کا الگ سے اہتمام ہوتا رہا
1. حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى المِنْبَرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ.
03c5feb9e7