Re: جمال ثریا

0 views
Skip to first unread message
Message has been deleted

Aquilino Neadstine

unread,
Jul 10, 2024, 10:07:23 PM7/10/24
to threadwicostha

ما امروز در سایت ادبی و هنری روزانه قصد داریم اشعار جمال ثریا را برای شما عزیزان قرار دهیم. پس با ما باشید تا گلچین شعرهای عاشقانه و اجتماعی را از این شاعر بخوانید.

جمال ثریا


Download File https://vittuv.com/2yS7zc



تخرج من كلية العلوم السياسية في جامعة أنقرة. كان رئيس تحرير مجلة بابيروس الأدبية. يعد جمال ثريا عضو بارز في الجيل الثاني الجديد من الشعر التركي وقد نُشرت قصائد ثريا ومقالاته في مجلات عديدة مثل مجلة يدي تبه و يازكو و بازار بوستاسي و يني أولوي و أولموش و تركيا يازلاري و بوليتيكا و آيدينلك و سوموت. ومن المعروف أنه كان له تأثير أساسي على قصائد الشاعر سوناي أكين.

شغل منصب المستشار المالي في وزارة المالية التركية. وكان عضو المؤسسة الاستشارية للمنشورات الثقافية في وزارة الثقافة عام 1978م. وكان أيضًا عضو المؤسسة الإدارية لبنك اقتصاد الشرق الأوسط. كما أنه كان عضو فعال في مؤسسة اللغة التركية. وشغل منصب رئيس تحرير مجلة بابيروس.[2]

ما در زمانه ای زندگی میکنیم که هرکسی درجهان میخواهد ارزش و اعتبار کشورش را به دیگران نشان بدهد. ایران عزیز ما هم از دیرباز فرهنگ ارزشمندی داشته اما در این روزها کمتر
از دانشمندان و عارفان ایرانی میشنویم. آنقدر از آنها دور شده ایم که انگار باید با تلسکوپستاره های ثریایِ ایران زمین را مشاهده کنیم.
کتاب ستاره ی ثریا اثری مزین به داستانها و افتخارات ایرانیان است. جناب آقای محسن نعما این کتاب را برای همه فرزندان و دوستداران ایران و اسلام نوشته است.

آقای دکتر نعیمی جمال عضو هیئت علمی دانشکده شیمی شانزدهم مهرماه در ویژه برنامه زنده ی تلویزیونی ثریا با موضوع نانو از شبکه یک سیما حضور یافتند و به تشریح ابعاد گوناگون طرح "تولید نانوکامپوزیت های دندانپزشکی تقویت شده با الیاف و نانوذرات سیلیکا" پرداختند. این طرح که با همکاری آقای دکتر محمد عطایی از پژوهشگاه پلیمر و پتروشیمی ایران انجام شده است به عنوان یکی از طرح های برگزیده در مسابقه ساخت Prototype از سوی ستاد ویژه توسعه فناوری نانو در غرفه طرح های نوآورانه فناوری نانو به نمایش درآمده بود.

1936ء سے 1963ء کے درمیان میں ثریا نے 67 فلموں میں اداکاری کی اور 338 گانے گائے وہ ہندی سنیما کی عظیم اداکاراؤں میں سے ایک تھیں اور 1940ء اور 1950ء کی دہائی میں ہندی و اردو زبان کی فلموں کی ایک معروف خاتون تھیں[4] وہ ایک مشہور پس پردہ گلوکارہ بھی تھیں جنھوں نے زیادہ تر اپنی فلموں میں اپنے لیے گایا تھا جب ثریا صرف 12 سال کی تھیں تب انھوں نے گلوکاری کا آغاز فلم نئی دنیا (1942ء ) میں ایک گانے سے کیا[5]

ثریا 15 جون 1929ء کو برطانوی ہند کے لاہور میں عزیز جمال شیخ اور ممتاز شیخ کے ہاں پیدا ہوئیں ان کا اصلی نام ثریا جمال شیخ تھا ثریا ایک سال کی تھیں جب ان کا خاندان ممبئی چلا گیا اور وہاں پر میرین ڈرائیو کے کرشنا محل میں مقیم تھا جلد ہی ان کے ساتھ ان کے ماموں ایم ظہور بھی شامل ہو گئے جو 1930ء کی دہائی کی بمبئی فلم انڈسٹری میں ایک معروف کھلنایک بنے[6][7][3]

دیو آنند اور ثریا کے درمیان میں محبت کا رشتہ 1948ء سے 1951ء تک چار سال تک جاری رہادیو آنند ثریا کو "نوسی" کے نام سے پکارتے تھے جبکہ ثریا دیو آنندد کو "اسٹیو" کے نام سے پکارتی تھیں اسٹیونام ایک کتاب سے لیا گیا تھا جو دیو آنند نے ثریا کو دی تھی[8]

وہ ممبئی میں اپنے بڑے سے فلیٹ میں تنہا رہتی تھی کیونکہ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں انھوں نے شادی نہیں کی اور ان کے تمام رشتہ دار پاکستان چلے گئے تھے آخری ایام میں ان کی دیکھ بھال ان کے پڑوسی کر رہے تھے اسی فلیٹ میں ان کا انتقال ہوا

59fb9ae87f
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages