From VOANEWS.COM

0 views
Skip to first unread message

KABB...@gmail.com

unread,
Feb 21, 2007, 11:39:00 AM2/21/07
to TERE-NA...@googlegroups.com
From FAHEEM ALI:

NICE INFORMATION


Article:
 

 Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن

تلاش کیجیئے

اسٹوڈنٹ اینڈ ایکس چینج وزیٹر انفارمیشن سسٹم  (SEVIS)
یاسمین جمیل
January 25, 2007

John Hopkins University

جانز ہاپکنز یونی ورسٹی

امریکہ میں بیرونِ ملک سے آنے والے تمام  طالب علموں اور ایکس چینج وزیٹرز کے بارے میں معلومات ایک کمپیوٹر سسٹم میں موجود ہوتی ہیں جسے Student and Exchange Visitor Information System یا SEVIS کہا جاتا ہے۔ یہ سسٹم جنوری 2003ءمیں متعارف ہوا تھا۔

 امریکہ میں تمام تعلیمی اداروں کے لیے لازمی ہے کہ وہ ہر اس غیر ملکی طالب علم کے بارے میں معلومات درج کرائیں جسے وہ داخلہ دیتے ہیں۔ SEVISدس ہزار سے زیادہ امریکی تعلیمی اداروں اور ایکس چینج وزیٹر پروگراموں کی دیکھ ریکھ کرتا ہے ۔یہ انہیں ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے کے سب سے بڑے تفتیشی ادارے  امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایجنسی ( Immigration and Customs Enfordement Agency ) سے منسلک کرتا ہے ۔

 

 حکومت اس سسٹم کی مدد سے تعلیمی اداروں کو یہ معلومات فراہم کرتی ہے کہ ان کا کوئی غیر ملکی طالب علم کب ملک میں کب داخل ہوا۔ جس کے بعد تعلیمی ادارےکے لیے لازمی ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اندریہ رپورٹ دے کہ کیا متعلقہ طالب علم اسکول میں کلاسوں میں حاضری دے رہا ہے یا نہیں ۔ اور اگر طالب علم یونی ورسٹی چھوڑ دے تب بھی یونی ورسٹی کے لیے لازمی ہے کہ وہ اس بارے میں مطلع کرے۔

 

2005 ءمیں قانون نافذ کرنے والے عہدے داروں نے85 ہزار سے زیادہ ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں چھان بین کی ۔ ان میں سے تقریباً 600 کو بعد میں اسٹوڈنٹ اینڈ ایکس چینج وزیٹر رولز کی خلاف ورزی کرنے کی بنا پر گرفتار کیا گیا ۔ ان خلاف ورزیوں میں کلاسز اٹینڈ نہ کرنا ، اسکول سے مستقل طور پر یا عارضی طور پر خارج کر دیا جانا یا مسلسل کل وقتی طالب علم کے طور پر نہ رہنا شامل ہیں ۔

 

 ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے نے کہا ہے کہ  SEVIS  میں اس وقت امریکہ میں موجود 77لاکھ طالب علموں او ر ایکسچینج وزیٹرز کی فہرست موجود ہے۔ اس سسٹم میں ان کے ساتھ آنے والے اہل خانہ کے نام بھی درج کیے گئے ہیں ۔ SEVIS میں طالب علموں اور ایکس چینج وزیٹر ز کے خاندانوں کے ساڑھے گیارہ لاکھ سے زیادہ ارکان کے ناموں کا ریکارڈ موجودہے۔

 

 2004ء میں ہر طالب علم اور ایکس چینج وزیٹر نے اس سسٹم پر اٹھنے والے اخراجات میں مدد کے لیے ایک سو ڈالر وصول کرنا شروع کیے تھے۔ یہ رقم SEVIS کی ویب سائٹ بنانے کے بھی کام آئی۔ یہ ویب سائٹ اب طالب علموں اور ایکس چینج وزیٹرز کو اپنے SEVIS کے بارے میں معلومات اور اپنی مالی ادائیگیوں کا ریکارڈ آن لائن دیکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

 

SEVIS کے بارے میں معلومات Immigration and Customs Enfordement Agency ،امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورس منٹ کی ویب سائٹ پر بھی مل سکتی ہیں۔ ایڈریس ہے ،www.ice.gov ۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ
  اہم ترین خبر

  مزید خبریں
جنوبی ایشیا  معاشی روابط  میں سب سے  پیچھے: عالمی بینک
امریکہ کا عراق میں نیا سکیورٹی منصوبہ
ٹرین کے دروازے بند تھے جس کی وجہ سے اتنی ہلاکتیں ہوئیں: شیخ رشید
اسلام آباد کے چڑیا گھر میں برڈ فلو کی وبا
پنجاب کی وزیر برائے سماجی بہبود کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا
نیویارک کے بلدیاتی انتخابات میں پاکستانی امیدوار
پاکستانی اور بھارتی لیڈروں نے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں کی مذمت کی ہے
مشرقِ وسطیٰ کے رہنماؤں سے امریکی وزیرِ خارجہ کی ملاقاتیں: علاقے کے معاملات پر بات چیت
ایرانی صدر  کا  ایٹمی پروگرام  بند  کرنے سے ایک بار پھر انکار
بغداد میں  خودکش  حملے میں سات افراد ہلاک
نیٹو نے  افغانستان کے  شہر  پر دوبارہ قبضہ حاصل کرلیا
پولیس نے ٹرین دھماکوں کے دو مشتبہ افراد کے خاکے جاری کر دیے
ممتاز مسلم تنظیموں نے سمجھوتا ایکسپریس میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے
ڈھاکہ اور کلکتہ کے درمیان ٹرین سروس جلد ہی شروع ہو گی
ممبئی بم دھماکوں کے مجرموں کو سزا دینے کی حتمی تاریخ کا اعلان 23 فروری کو متوقع
میران شاہ کے نواحی علاقے  میں ذبح شدہ  افغانی شخص کی لاش ملی ہے: پاکستانی حکام 
کانگریس میں پاکستان  کے لیے  بہتر  کام  کی  ضرورت: کمیونیٹی  لیڈرز
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages