You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to tehrir
جمالیات
دو نظریے
.1حسن subjectiveہے تصور کی حیثیت سے۔
.2حسنobjective ہے اس تصور کی ضابطہ بندی سے
prior, object.3ہےsubjectivity پہ
.4حسن کی formal settingحسن کے ادراک میں مدد یتی ہے لیکن حسن ایک ایسی
presenceضرورconvey کرتا ہے جسےobjectify نہیں کیا جا سکتا جسکیrandom
objectification ممکن نہیں ، ضروری نہیں ۔
.5حسن کچھ قوانین سےmatch کرنا ضروری ہے لیکن ان قوانین تک محدود نہیں
ہے۔
Beauty = Subjectivity objectified
Beauty = Object Subjectivised
جو چیز زندگی کے mechanics اورconstitution کا حصہ ہو وہ innateہوتی ہے
اس کاinstinctive آئیڈیل ہونا innateہوتا ہے ، یہ ایک قاعدہ ہے، ایکlaw
ہے۔
object کی موجودگی کے بغیر انسان کو حسن کی پہچانinstinctively حاصل نہیں
ہوتی۔
حسن کو دیکھ لینے سے پیدا ہونے والا احساس غیر معنی نہیں ہے
حسن کو دیکھ لینے سے پیدا ہونے والا شعور نیا ہے
حسن کی جبلی طلب حسن کے شعور کے لیے ناکافی ہے
subjectivity objectifiedاس جبلی طلب کو شعور بنا لینے کا نام ہے
یا
innateزوق جمال کو باقاعدہ شعور جمال بنا لینے کا نام ہے
objectivity subjectivisedحسن نام ہی اپنے شعور کا ہے
حسن objectifiedنہ ہو تو یہ شعور حاصل ہو ہی نہیں سکتااور جس کو طلب حسن
کہا جا رہا ہے، اسکا طلب حسن ہونا ہی موقوف ہے۔ حسن کے تجربے یعنی دید
naming by instinctکا عمل ہی حقیقی ہے جو خارجی تجربات کے بغیر حاصل نہیں
ہو سکتااور خود یہ عملinstinctive نہیں ہے اس لیے حسن کا تصور کی سطح پر
بھی principially(جس سے پہلے کچھ نہ ہو) subjectiveہونا ایک بے معنی
دعویٰ ہے۔
Beautiful is an object generalized
Beauty is the form / beauty generalized
Beauty is the object reformalized
کسی چیز کی خوبصورتی اسی وقت مانی جائیگی، جب وہ سب کے لیے خوبصورت ہو
Reformalizing of an object is individual
ّّ_______________________________________________________________
ess....beauty beautifullnہے یاbeautification؟
اپنی generalized formیا standard systemizationمیں حسن ادراک کا نام ہے
اپنیcreative domain میں حسن beautificationہے
جو تصور حسن تہذیبی اقدار کو functionalرکھتا ہے وہ formہے یعنی حسن
کاgeneralized version
اور جو حسن فنون لطیفہ کی تشکیل کرتا ہے وہ اظہار کا نا م ہے یعنی
beautification
_______________________________________________________________
حسن کیا ہے؟
یونانی کہتے ہیں:
یہtransformed order of things ہے اور اسکی ماہیئتideal + rational ہے
ہندو کہتے ہیں:
حسن transcendence / beyondness ہے اور اسکی بناوٹgnosticہے
چینی کہتے ہیں:
حسن sequence of the forms ہے اور اسکی بناوٹ یا structureمحسوساتی ہے
مسلمان کہتے ہیں:
حسنpure presence of a beyond manifestation object ہے، اور اسکی بناوٹ
metaphysicalہے
عیسائی کہتے ہیں:
حسن principle manifestationہے اور اسکی ساختreincarnated /
anthropromorphic ہے
modernsکہتے ہیں:
حسنsober pleasure ہے
حسن اظہار ہے
حسن احساس ہے
حسن reformationہے
post modernsکہتے ہیں:
حسن ایک رنگین خلاءکا نام ہے جس میں صرف perceptionحقیقی ہے اور
perceivedغیر موجود یا غیر حاضر ہے یا غیر مطلوب ہے
_______________________________________________________________
Karl Marx کے تصور جمال کی بنیاد:
س۔ حسن پہلے ہے یا بصارت؟
ج۔ بصارت
س۔ حسن کے تصور کی تشکیل کیسے ہوتی ہے؟
ج۔ غیر محدود افادیت اور فرحت سے۔ کسی چیز کا مفید ہونا اس طرح ثابت ہو
جائے کہ اسمیں ضرر رسانی کا کوئی امکان نہ پایا جائے، تو اگر وہ چیز حاصل
ہو جائے تو بھی فرحت بخش ہوتی ہے اور نہ حاصل ہو سکے تو بھی اسکا تصور
فرحت فراہم کرتا رہتا ہے۔
س۔ تصور حسن کےsubjective ہونے کا کیا مطلب ہے؟
ج۔ حسن کو پہچاننے اور اس سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت جو دیکھی جانے
والی چیزوں پرapply ہونے کے بعد خوبصورتی کی اندیکھی generate /create /
perceive...formsکرسکتی ہو۔
س۔ کیا یہ سارا عملabstraction ہے؟
ج۔ فلسفیانہ معنوں میں نہیں اور جمالیاتی معنوں میں ہاں ۔
فلسفیانہabstraction غیر موجود کو حقیقی بناتی ہے، جبکہ جمالیاتی
abstractionموجود چیز کو دیکھنے کے نئے اسالیب ایجاد کرتی ہے۔
س۔ کیا تصور حسن innateہے؟
ج۔Caantian معنی میں نہیں اور dialectical materialismکی رو سے ہاں،
caantianمعنی میں subjectمقدم ہے objectپر اور ایسا تصور محض ایک مفروضہ
ہے، جبکہdialectical materialism میںmatter کا conciousnessمیں
generateہونے کا مجموعی عملgiven objects تک محدود نہیں ہوتا اور
matterکیobjectification کے عمل سے بہت زیادہ تیز رفتار ہوتا ہے، لہٰذا
یہ عین ممکن ہے کہ
حسن کی زہنی objectificationاسکی خارجیobjectification سے زائد ہو۔ یعنی
حسن کے بعض ذہنیobjects ایسے ہوں جو فالحال خارج میں موجود نہ ہوں
یہmatter کی شعور میں conversionکے مراحل میں ہونے والی ایک ہمہ گیرself
perception کا جزو ہے۔
س۔ کیا حسن کا حقیقت اور واقعیت کے مطابق ہونا ضروری ہے؟
ج۔ بالکل نہیں ۔ انسان میں فرحت حاصل کرنے کی ساری طاقتidealistic اور
تصوراتی ہے حسن میں تصوریت زائل کر دینے سے حسن حسن نہیں رہے گااور شعور
انسانی کا ایک بہت بنیادی مطالبہ پورا نہ ہوسکے گا۔ یہ ٹھیک ہے کہ حسن کا
وہ تصور جو حقائق کے انکار پر اکسائے قابل قبول نہیں ہے کیوں کہ یہ انسان
کی حقیقی جمالیاتی urgeسے پیدا نہیں ہوتا جسکا paradigmفرحت کے ساتھ ساتھ
فلاح بھی ہے ۔
_______________________________________________________________
Beatification / Art / Creativity should not be theorize. Marx
JUSTIFICATIONS
.1آرٹ میں eventuality dialecticalتو ہوتی ہے مگرhistorical نہیں
Theory Ideal.2کی actualizationہے اسکے ذریعے سےconcept کوhistorisize
کیا جاتا ہے
.3آرٹ کو historisizeکرنا اسکی معنویت کی اصلی بناوٹ کو مسخ کر دیتا ہے
کیونکہ historisizeہو جانے کے بعد چیزیں معمول کے شعور کی تحویل میں چلی
جاتی ہیں، جمالیاتی شعور کا حصہ بننے کی صلاحیت ان میں سے ختم ہو جاتی
ہے۔
.4جمالیاتی شعور کا ambiguity structure of mind...meaningاور
fullfillment for art کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔historisization ان دونوں
بنیادوں کو منہدم کر دیتی ہے، کیونکہ چیزوں کی تاریخی ساخت dialectical
perceptionمیں بھیambigious اورfulfilling نہیں ہوتی۔
.5آرٹ کی سب سے بڑی طاقتa-temporality اور a-specialityہے۔ a-
temporalityسے noncaused meaningتخلیق ہوتی ہے اور a-
specialityسےdelimited اورdeorganized images ایجاد ہوتے ہیں ۔ معنویت
اور تخیل کی اس غیر زمانی اور غیر مکانی اساس کو theory givingکے عمل میں
پہلے ہی قدم پر گرانا پڑتا ہے۔
.6آرٹ ایک collective individuity purifiedکی تشکیل کے درپے ہوتا
ہےtheorization individuality کوکسی بھی معنی میں اصول بنانے کی اجازت
نہیں دیتی۔
_______________________________________________________________
جمالیاتی حس کی ضرورت کیوں؟
.1جمالیات اس دور میں ہماری سب سے بڑی اخلاقی ضرورت ہے کیونکہ ہم اخلاقی
نہیں جمالیاتی بحران سے دوچار ہیں۔
.2ساری اخلاقیاتurge to transcend کا نا م ہے۔ یہ urge to
transcendenceپیدا ہی نہیں ہوتی جمالیاتی حس کے بغیرکیونکہ جمالیاتی
حسtranscendence کو تجربہ بنا تی ہے۔
Transcendence.3ایک اخلاقی ضرورت ہے جو جمالیاتی حس کے بغیر نہیں پوری ہو
سکتی ہے۔
.4جمالیاتی حس اور اخلاقیات اپنے essenceمیں ایک ہی ہیں۔
جمالیات کیا ہے؟
Formکوpresence of the real میںconvert کرنے کا نام جمالیات ہے
presence of the realکوformalize کرناجمالیات ہے
جمالیات science of presenceہے
جمالیات آپ کے عقلی اور اخلاقی پہلوئوںکوpresent کر کے دکھا دیتی ہے
جمالیاتی شعور چیزوں کے تجربے کو ان کے فہم سے زیادہ با معنی بنا دیتا ہے
Definition of Creativity
جمالیاتی شعور، عقلی شعور کو معطل کیے بغیر اس پر غالب آ جائے یا اس کی
بھی مکمل تسکین کا باعث بن جائے۔
A great peice of art is a combination of height of perception and
height of expression.
Subjectifying a certain object is "perception"
Objectifying the same subjectivity is "expression"
جسکا علم عام ہو اور تجربہ مشترک
Transcending the actual object is perception
Transcending the percieved object is expression
The achievemnet of a new meaning is the highest aesthetics.
Law of Creativity
Law of creativity depends upon two things, Creative Inspiration and
Creative Craft.