You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to tehrir
الماری
دیکھنے میں ہموار اور پرسکون لیکن خود میں سمٹی ہوئی خوفزدہ لکڑی؛چاک
گریبان سے شرمندہ ،ہینڈل کا طوق پہنے رکھتی ہے۔اس طوق کا تالا انسانوں پر
بداعتمادی کی دلیل۔ فطرت سے صرف نظر کر کے انسان نے اسے کھوکھلا کر دیا
ہے جس میں سائے اور بھول بھلیاں پروان چڑھتی رہتی ہیں۔کواڑوں پر ابھارے
گئے نقش ایک نظر میں الٹا پیا لہ اور دھیان لگانے پر سرپٹ دوڑتے ہنہناتے
گھوڑوں کاہجوم دکھائی دیتے ہیں۔یہ منقش وجود اپنے اندر سے امڈتی کریہہ
چیخوں کیلئے خاموشی کا پردہ تھامے کھڑا ہے۔
کاغذ
ثمر ارض پہ نمو پانے والا ایک خون آشام درندہ؛ ماضی بریدہ آنکھوں کے
قرنیے، اس کا سفید رنگ۔ اس کی لچک، دلدل میں ڈوبتے جسم کی کراہیں۔ سانپ
حرفوں کو اسی کی گود ملی ہے ۔نیرنگ خیال یہاں جاں بلب، رفعت پروازدیوانے
کی للکار،حسن کلام بھنور کا پیامبر اور ابلاغ جیسے بہتا سیسہ۔ اس کی
پیشانی کی لکیروں میںسراب سراغ پکارتے ہیں۔ ان چاہے معرکوں کی خیالی رزم
گاہ یہ کاغذ۔ ۔لیکن ۔۔ایک کاغذ، سچ کا امین
حامد مسعود