You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to tehrir
کسی ہجوم میں جانے میں کب سے کھویا ہوں کوئی نہیں ہے تو صحن چمن سے گویا ہوں رفیق ہیں تو کہیں اندروں اندھیروں میں چھپے ہوئے ہیں اندھیرے بھی کچھ سویروں میں شہر بلند، فضاوں میں گنبد و مینار زباں تو رکھتے ہیں لیکن نہیں ہیں گوش گذار فضا خموش، کہ سوئے ہوئے ہیں سب آزار ستم نہیں کہ کھلے ہیں شہر کے سب بازار بہل گیا ہے چراغوں کی روشنی سے غریب کسے خبرہے کہ طوفاں کا راستہ ہے نصیب چھٹے جو ابر تو یزداں بھی مدعا کہہ دے ہٹے غبار تو انساں بھی مدعا کہہ دے رہے یہ کھیل تو بہلے کسی کا دل اس سے نمود گل کا ہوں باعث یہ آب و گل اس سے ۱۴ اگست ۲۰۰۹ پر لکھی گئی