دعا

20 views
Skip to first unread message

khattat

unread,
Aug 13, 2009, 3:43:16 AM8/13/09
to tehrir

کسی ہجوم میں جانے میں کب سے کھویا ہوں
کوئی نہیں ہے تو صحن چمن سے گویا ہوں
رفیق ہیں تو کہیں اندروں اندھیروں میں
چھپے ہوئے ہیں اندھیرے بھی کچھ سویروں میں
شہر بلند، فضاوں میں گنبد و مینار
زباں تو رکھتے ہیں لیکن نہیں ہیں گوش گذار
فضا خموش، کہ سوئے ہوئے ہیں سب آزار
ستم نہیں کہ کھلے ہیں شہر کے سب بازار
بہل گیا ہے چراغوں کی روشنی سے غریب
کسے خبرہے کہ طوفاں کا راستہ ہے نصیب
چھٹے جو ابر تو یزداں بھی مدعا کہہ دے
ہٹے غبار تو انساں بھی مدعا کہہ دے
رہے یہ کھیل تو بہلے کسی کا دل اس سے
نمود گل کا ہوں باعث یہ آب و گل اس سے
۱۴ اگست ۲۰۰۹ پر لکھی گئی
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages