Real True Sunni Muslims Reality Volume 1

3 views
Skip to first unread message

Javed Kaleem

unread,
May 25, 2015, 2:43:24 PM5/25/15
to socialequalityfreeofpr...@googlegroups.com

 

اَلصَّلوٰۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ ﷲ ۔

اے اﷲ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم آپ پر درود اور سلام ہو۔

……………………………………

Muslims , Ahl-Sunnat-Wa-Jamaat, Shiaism, Shia, Indian Film : Laila Majnu 1976 , Indian Film : Heer Raanjha 1970, Kharjees , Wahabees , Wahabism , Najd, Deo-Bund, Homosexuality, Political Actor , Political Artists, Religious Actor, Religious Artists, Modeling, Model, Drama, Commission agents, Boutiques for religious Uniform, inequality criminal, Marriage System in Saudi Arabia, Ameer -e- Najad of London England, Ameer Saudi Arab of London England.

 

You will find following from this Article.

Real True Sunni Muslims Reality Volume.

Religious Actors Artists and Real True Sunni Muslims Reality.

Real True Sunni Muslims and Religious Actors Artists Reality.

Difference between Sunni Muslims and Shia and Wahabees Hypocrites by London England.

List of Political Actor as well as Political Artists modeling inequality criminal commission agents of Saudi Najd London England

List of Religious Actor as well as Religious Artists modeling inequality criminal commission agents of Saudi Najd London England

National Boutiques Pakistan army academy for new Uniform for Religious Actor as well as Religious Artists commission agents inequality criminal of Saudi Najd London England.

Award winning designers for new Uniform for Religious Actor as well as Religious Artists commission agents inequality criminal of Saudi Najd London England.

Pakistan and Afghanistan border illegal trafficking Homosexual ISI Afghan Colony Pakistan.

Dual Citizen ship holder homosexual Political Mafia in Pakistan.

The Real Face of Saudi Arabia King. Real face of the Saudi Arabs King.

Pakistani official speaks just like bribe barking dog or bad black mailer monkey.

Hygienic principles absent in the worship places of Pakistan.

Toilet fees equal to the price of two breads in the public places of Pakistan.

 

سنی اور شیعہ اور منافقین

 

اﷲ ایک ہے۔ ہم مسلمان ہیں۔ ہم شرک بدعت نہیں کرتے، پاکستان کا مطلب مسلمانوں کا کلمہ ہے، یہ وہ نعرے ہیں کو پاکستان کے سرکاری مذہبی راہنما ، امام ، قاری، خطیب، حافظ، سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین اپنی عبادت گاہوں میں اور تقریروں میں بیان کرتے ہیں۔ مگر یہی برطانوی کمیشن ایجنٹ اداکار ، سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین سود خور آئی ایم سے قرضے لینے والی حکومت پاکستان سے آئی ایم ایف سود خور تنظیم کے قرضوں سے اپنی تنخواہ بھی حاصل کرتے ہیں۔ اور پوری قوم کو سود کے قرضوں کے شکنجوں میں ڈال کر اپنی شکم پرستی کرکے قوم کو مصنوعی مہنگائی میں دھکیل دیتے ہیں۔ ہاں یہی وہ برطانوی کمیشن ایجنٹ سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین ہیں کو کہ اپنی لکھائی یا تقریر بیان میں ہرگز جملہ اسلامی تصور مساوات نہیں پیش کرتے ہیں کیونکہ ان کے عدم مساوات کے نظام ملک برطانیہ کی جانب سے ان کو بطور برطانوی کمیشن ایجنٹ رشوت دے کر منع کیا گیا کہ عوام کے سامنے لفظ مساوات کسی لکھائی یا تقریر کی صورت میں ہرگز پیش نہیں کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے نجد کے نجدیوں کے کسی بھی مفتی ، امام مذہبی راہنما نے آج تک کبھی بھی اپنے خطبہ یا تقریر یا لکھائی میں لفظ مساوات کو شامل نہیں کیا ہے۔ کہ پاکستان میں بچوں ، عورتوں، انسانوں سے عوامی مقامات پر بیت الخلاءکے استعمال کرنے کی فیس دو عدد روٹیوں کی قیمت کے برابر جبری آئینی فوجی و پولیس کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اسلحے کے زور سے طلب کرتے ہیں۔ یہ وہ منافق ہیں جنھوں نے معاشرے کو طوائف، کنجڑی ، کنجڑکا نام دیا جس کا فائدہ پاکستانی برسر اقتدار برطانوی کیمشن ایجنٹوں کو مالی نفع کی صورت میں متواتر ہوتا آرہا ہے۔ اور خود ہم جنس پرست پاکستانی برسر اقتدار برطانوی کیمشن ایجنٹ، سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین شریف بن کر عورتوں کی طرح سر پر مختلف ڈیزائن کے ڈوپٹوں کی طرز کا کپڑا ڈال کر نکاح کے آسان ترین باب کے آسان ترین طریقوں کو بے حد مشکل بنا کر نکاح خواں بن کر نکاح کے قانونی کاغذات اپنے قبضے میں لے کر عوام سے نقدی روپے نذرانے بٹور رہے ہیں۔ اور پاکستان کے سرکاری دفاتر و عدلیہ میں شدید ترین بھتاخوری، رشوت خوری، نذرانہ خوری خوف ، دہشت ، مایوسی کا رواج قیام پاکسان سے تاحال پاکستانی عام شہریوں پر نافذ کررکھا ہے۔ جبکہ چین میں رشوت خور نذرانہ خور، بھتہ خور سرکاری ملازمین کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ یہ تو تھا ان برطانوی کمیشن ایجنٹ سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین منافقوں کا احوال اب غور کریں کہ اصلی سنی کون ہیں۔

برطانوی غلام سعودی عرب نجد کے حکم کے تحت پاکستان کے کی سرحدیں افغانیوں کے لئے ہر قسم کی ٹریفک کے لئے کھلی رہتی ہیں۔ اور پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں کے ذریعے کوئی بھی افغانی کسی بھی وقت پاکستان آجاسکتا ہے۔ اور کوئی بھی پاکستانی سفر کرکے افغانستان میں بغیر قانونی کاغذات کے نہیں جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تمام شہروں میں خان کالونیاں درحقیقت افغان کالونیاں قائم ہیں۔ ان منافقین کے پاس دوہری شہریت یعنی افغانی اور پاکستانی شناختی کارڈ وغیرہ بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر افغان کالونی ، خان کالونی پرانا ائیرپورٹ گلبرگ تھری لاہور وغیرہ جہاں افغانی شہری برطانوی سعودی عرب نجد کے حکم کے مطابق منافقت کے اصولوں پر رہائش پذیر ہیں۔ اور ان خان کالونیوں میں رہائش پذیر سر پر ڈوپٹہ اوڑھے ہوئے باریش اہم جنس پرست منافقین افغانیوں کو پاکستان کی سرکاری خفیہ ایجنسیوں کے رشوت خور منافق اکثر جعلی جلسے جلوسوں، قومی الیکشن وغیرہ میں منفی پالیسوں کو مثبت بنانے کے لئے شرکت کرواتے ہیں۔ تاکہ پاکستان میں اسی فیصد عوامی بجٹ بمعہ آئی ایم ایف کا قرضہ ہڑپ کرنے والی برطانوی اغلام افواج پاکستان اور پاکستان کے سرکاری دفاتر و عدلیہ کی شدید بھتا خوری،رشوت خوری، بلیک میلنگ ، نذرانہ خوری کا سلسلہ قائم رہے۔ تاکہ پاکستان کے سرکاری ملازم عوام کے ساتھ کتے کی طرح بھونک کر اور بندر کی طرح غرا کر بطور برطانوی اغلام ہم جنس پرست پیش آتے رہیں۔ جب کہ چین میں رشوت لینے والے سرکاری ملازموں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔

 

اسلامی تصور مساوات

Islamic Concept of Equality

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کلاس ہفتم اسلامیات مضمون سخاوت کا مفہوم اور فضیلت میں درج کیا گیا ہے کہ آخری نبی حضرت محمد صلی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر ( رضی اﷲ عنہ ) مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرے دن تک اس میں سے ایک اشرفی بھی میرے پاس رہ جائے۔ میں چاہوں گا کہ اس کو اﷲ کے بندوں میں دائیں بائیں اور آگے پیچھے بانٹ دوں۔

 

It is written in essay "The Meaning and Importance of Generosity" of Islamiat of Punjab Text Book Board Class 7th that The Last Holly Prophet Muhammad (Peace be upon him) said to Abu Zar that I dislike that I would have gold equal to Mountain Ahad and still retain even a single penny up till third day. I would like to give it to people of God all around me.

 

آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲعلیہ وسلم کے صحابی خلیفہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ہر عامل کو حکم دیتے کہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا۔ مہنگے کپڑے نہ پہنے گا۔ چھنا ہوا آٹا ( میدہ ) نہ کھائے گا۔ دوازے پر دربان نہ رکھے گا۔ اہل حاجت کے لئے دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا۔

Caliph Hazrat Umer the companion of Last Holy Prophet Hazrat Muhammad (peace be upon him) used to give orders to each appointed governor that he shall not ride on a Turkey horse (expensive horse), he shall not wear expensive clothes, he shall not eat superfine flour, he shall not keep a peon on his door and he shall always keep his doors open for the needy persons.

حضرت ابوبکر صدیق ( حضرت عبداﷲ) رضی اﷲ تعالی عنہ اور اسلامی تصور مُساوات اور مفت سماجھی انصاف

لنگر لگا ہوا تھا اور لاتعداد لوگ اس کے اچھے کھانے سے مستفید ہورہے تھے۔ہر شخص اپنا حصہ لے کر آگے بڑھ جاتا تھا۔ ایک شخص نے دو انسانوں کا لنگر مانگا تو تقسیم کرنے والے نے پوچھا کہ دو انسانوں کا لنگر کیوں مانگ رہے ہو۔ اس نے کہا ایک اپنے لئے اور ایک اس غریب اور مسکین آدمی کے لئے جو دور بیٹھا روکھی روٹی پانی سے کھا رہا ہے۔ لنگر تقسیم کرنے والے نے کہا جو یہ لنگر سب کھا رہے ہیں وہ اس شخص کی جانب سے تقسیم کیا جارہا ہے وہ ہمارا خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق ( حضرت عبداﷲ) رضی اﷲ تعالی عنہ ہے۔

Hazrat Abdullah (Aboo Bakr Sadiq) First Caliph of Islam The concept of Islamic Equality and Gratis Social Justice.

 

Once there was being distributed free very tasty food for all the public and people were coming and getting their share. A person came and asked food for two persons. The person distributing food asked why two people, the person pointed towards another person who was sitting at far end and eating old bread by dipping it into water. The person distributing the food said that all of this tasty food is being distributed on that persons behalf who is actually the first caliph of Muslims Hazrat Abdullah (Aboo Bakr Sadiq).

 

 

اسلامی تصور مُساوات اور سماجھی مفت انصاف حضرت ابوبکر صدیق حضرت عبداﷲ خلیفہ اول

حضرت ابوبکر صدیق ( حضرت عبداﷲ) رضی اﷲ تعالی عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ کی تنخواہ (وظیفہ) کا مسئلہ پیدا ھوا، آپ نے فرمایا، مدینہ میں ایک محنت کش کو جو یومیہ اجرت دی جاتی ھے اتنی ھی اجرت میرے لئے بھی مقرر کی جائے، پوچھا گیا اتنی اجرت میں اپ کا گزارہ کیسے ھو گا،آپ نے فرمایا کہ میرا گزارہ اسی طرح ھو گا جس طرح مدینہ کے ایک محنت کش کا ھوتا ھے، ہاں اگر گزارہ نہ ھوا تو محنت کش کی یومیہ اجرت بڑھا دوں گا۔

Hazrat Abdullah (Aboo Bakr Sadiq) First Caliph of Islam Income equality Gratis Justice and Islamic Concept of Equality.

When Hazrat Abdullah (Aboo Bakr Sadiq) were designated as the caliph of Muslims a problem arose as to what should be their pay for this service. Hazrat Abu Bakar Siddique replied that what ever daily wage is given to a simple labour man of Madina I should also get the same daily wage. People asked how would you manage your day to day needs. Hazrat Abdullah (Aboo Bakr Sadiq) replied just as that simple labour man will do and if he will not be able to meet his needs then I will raise the daily wage of the simple labour man.

حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ جب خلیفہ بنے تو حضرت علی کی تنخواہ کا مسئلہ پھر اٹھایا گیا۔ تو حضرت علی نے فرمایا کہ اگر میرا بڑا بھائی ( حضرت ابوبکر صدیق ( حضرت عبداﷲ) خلیفہ اول ) ایک محنت کش کی تنخواہ پر گذارہ کرسکتا ہے۔ تو میں بھی محنت کش کی تنخواہ پر گذارہ کرسکتا ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

The Last Holy Prophet Muhammad Peace be upon him said: Bani Israel was divided in to seventy two sects; my Ummah will be divided in to seventy three sects and all of them will go to hell, expecting one.

آخری نبی حضرت محمد صلی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی تھی اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی جس میں سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔

کی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جہان چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں                  ( ڈاکٹر اقبال مرحوم )

 

خبردار سنی یا اہلسنت والجماعت یا حقیقی اصلی مسلمان وہی ہے۔ جن کے لبوں اور دل میں نعرہ ہے۔

 اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیکَ یاَ رَسُولَ اﷲ ۔

اے اﷲ کے رسول حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم آپ پر درود اور سلام ہو۔

 

لہذا

 نقلی سنی یا جعلی اہلسنت ولجماعت کا لیبل استعمال کرنے والے سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین سے ہوشیار رہیں۔

پیغمبروں کو بشر کہنے والے فوراً کافر ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔

سورہ تغابن ۔۔۔۔۔

( Tagabun ) Mutuual Loss and gain۔۔۔۔۔۔۔

کیا تم کو اُن لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے تو اُنھوں نے اپے کاموں کی سزا کا مزا چکھ لیا اور ابھی دُکھ دینے والا عذاب اور ہونا ہے۔ یہ اس لئے کہ اُن کے پاس پیغمبر کھلے معجزے لے کرآتے تو یہ کہتے کہ کیا بشر ہم کو ہدایت دینے آئے ہیں ؟ تو وہ ( پیغمبر کو بشر کہنے پر) فوراً کافر ہوئے اور منہ پھیر لیا اور خدا نے بھی بے پروائی کی اور اﷲ بے پروا اور اﷲ غنی حمید ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اﷲ تعالیٰ قرآن میں سورة الاحزاب میں ارشاد فرماتا ہے۔ خدا اور اُس کے فرشتے آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو، تم بھی آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر درُود اور سلام بھیجا کرو۔ جو لوگ خدا اور اُس کے آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو رنج پہنچاتے ہیں اُن پر خدا دُنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے۔ اور اُن کے لئے خدا نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

 

It is ordered in Holy Quran in Surah The Confederates or Al- Ahzab that Allah and His Angels, send blessings on The Last Holy Prophet Muhammad (Peace be upon him), O ye that believe, send ye blessings on him and salute him with all respect. Those who annoy Allah and His Messenger The Last Holy Prophet Muhammad (Peace be upon him)..... Allah has cursed them in this world and in the Hereafter, and has prepared for them a humiliating Punishment.

 

مقدمہ :: سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ میں جنت البقع میں صحابہ اکرام کی قبروں کی صدیوں پرانی مقدس نشانیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کی سازش اسلام کی خدمت کرنے کا دھوکہ دے کر چند سال پہلے برطانوی عرب نجد کی طرف سے کی گئی۔۔۔۔۔۔

 

تمام فتنوں میں زبردست فتنہ اور تمام مصیبتوں میں خطرناک مصیبت وہابیوں نجدیوں کا فتنہ ہے۔ جس کی خبر صادق نبی آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے پہلے دے دی تھی۔ اور طرح طرح سے اس فتنہ سے مسلمانوں کو آگاہ کردیا تھا۔ چنانچہ مشکوة جلد دوم باب ذکر الیمن و الشام میں بخاری کے حوالہ سے روایت ہے۔ کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں۔ کہ ایک دن دریائے رحمت آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم جوش میں ہے۔ بارگاہ الہی میں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی جارہی ہے۔ اللھم بارک لنا فی شامنا اے اﷲ ہمارے لئے ہمارے شام میںبرکت دے ۔ اللھم بارک لنا فی یمننا ۔ اے اﷲ ہم کو یمن میں برکت دے۔ حاضرین میں سے بعض نے عرض کیا فی نجدنا ۔ یارسول اﷲ دعا فرمائیں کہ ہمارے نجد میں برکت دے پھر حضور علیہ السلام نے وہ ہی دوا فرمائی۔ شام اور یمن کا ذکر فرمایا۔ مگر نجد کا نام نہ لیا۔انھوں نے پھر توجہ دلائی کہ وفی نجدنا حضور یہ بھی دعا فرمائیں کہ نجد میں برکت ہو ۔ غرض تین بار یمن اور شام کے لئے دعائیں فرمائیں ۔ بار بار توجہ دلانے پر نجد کو دعا نہ فرمائی بلکہ آخر میں فرمایا۔

ھناک الزلازل والفتن و بھا یطلع قرن الشیطن ۔

میں اس ازلی محروم خطہ کو دعا کس طرح فرماﺅں وہاں تو زلزلے اور فتنے ہونگے۔ اور وہاں شیطانی گروہ پیدا ہوگا۔

اس سے معلوم ہوا کہ آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲعلیہ والہ وسلم کی نگاہ پاک میں دجال کے فتنہ کے بعد نجد کا فتنہ تھا۔ جس کی اس طرح خبر دی۔

 

The most wicked mischief and the most intriguing persecution was that of Najadee Wahabees, about which the Last Holy Prophet had already warned in different ways. Bukhari has related in Mishkat Vol. II, See Zikr-ul-Yaman-wa- Sham that Hadrat Abdullah ibne-e-Umar said : one day , the Last Holy Prophet was seen mercifully stretching his hands before Almighty Allah and praying in the following words:

O, Allah Bless us in our 'Sham" ( Syria ).

O, Allah Bless us in our ' Yaman'.

Some of those present said to the Last Holy Prophet,

O. Last Holy Prophet of Allah ! Pray that Allah bless us in our Najad.

The Last Holy Prophet repeated the same prayer, mentioning Sham ( Syria ) and Yaman, without naming Najad. They once again drew his attention to this request.

Kindly pray that Allah blesses Najad.

In short , the Last Holy Prophet prayed three times for Sham and Yaman, and despite repeated supplication , he did not pray for Najad; rather, he said in the end :

How should I pray for this eternally "deprived' area; it would face earthquakes and mischief's; a devilish group ( of People) would rise from there.

In naturally mean that the Last Holy Prophet was observing the mischief of 'Najad' as the mischief of ' Dajjal, and adopted the above way of expressing it.

 

مزید تفصیلات کے لئے کرو مطالعہ کتاب : جاءالحق اردو یا انگریزی زبان میں

مصنف : مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اﷲ علیہ

For more information Reference Book : JA,Al- HAQ ( In Urdu or English )

By : Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi

 

____________________________________________________

 

مقدمہ : سعودی عرب کے مفتیوں کا فتوی ہے کہ سعودی عرب نجد کی خواتین کا نکاح سعودی عرب کے علاوہ دنیا کے کسی بھی مسلمان مرد سے حرام اور غیر قانونی ہے۔ اور سعودی نجد کی کسی بھی لیلہ خواتین سے نکاح کرنے پر مسلمان قیص مرد حضرات کو لیلہ سمیت قتل کردیا جائے۔

 

قیس پیدا ہوں تیری محفل میں یہ ممکن نہیں

تنگ ہے صحرا تیرا محمل ہے بے لیلیٰ تیرا

 شعیہ مفکر ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم کتاب بانگ درا

 

اہل محبت اہل سخاوت کو مجنوں کہتے ہیں۔

برطانوی اغلام سعودی نجد کا بادشاہ اور نجد روز اول سے محبت مساوات سے محروم ہے۔ قیس ( مجنوں ) اور لیلی کو قتل کروانے والے وہی برطانوی اغلام سعودی بادشاہ نجد اور بادشاہ نجد کے منافق فنکار سیاسی اداکار ہیں۔ صدیوں سے سعودی بادشاہ نجد ( نجد کا بادشاہ ) ہمیشہ سے لازمی برطانوی اغلام تعینات ہوتا آرہا ہے۔ چونکہ برطانوی اغلام سعودی بادشاہ نجد ہم جنس پرستی کا شوقین ہوتا ہے۔ لہذا بادشاہ نجد کو عورت اور مرد کی محبت فطری تعلق سے شدید نفرت ہے۔ اور وہ ہمیشہ سے محبت کرنے والوں کو قتل کرکے اپنی پتھر دل قلب کو تسکین دیتا آرہا ہے۔ اسی لئے ڈاکٹر علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا کہ سعودی بادشاہ نجد کے دربار یا نجد میں قیس پیدا ہی نہیں ہوسکتے ہیں۔ اور برطانوی اغلام سعودی نجد کا بادشاہ کے صحرا میں ہمیشہ لیلی سے محروم رہے گا۔ اسی لئے قدرت الہی نے بھی فرمایا کہ نجد کے بادشاہ کے دربار میں اور نجد میں ہمیشہ فتنے اور زلزلے ہی پیدا ہونگے۔ اور نجد کے بادشاہ کے دربار اور نجد میں کبھی بھی قیس یا لیلی پیدا نہیں ہونگے۔ برطانوی اغلام سعودی نجد کا بادشاہ اور نجد روز اول سے محبت مساوات سے محروم ہے۔ مزید تفصیلات کے لئے آپ دیکھ سکتے ہیں بھارتی سنسر بورڈ سے منظور شدہ فلم

Indian Film : Laila Majnu 1976

اس فلم کو دیکھنے کے بعد آپ واقعی یقین کرلیں گے کہ برطانوی اغلام سعودی بادشاہ نجد اور نجد روز اول سے دنیا کی محبت و مساوات کے لئے ایک برطانوی فتنہ اور برطانوی زلزلہ ہے۔

_________________________________________________

Indian Film : Heer Raanjha 1970

 پاکستان کے رشوت خور دلال قاضیوں کی برطانوی سعودی عرب نجدیوں کے پران کیدو پادریوں سے عدم مساوات کی ملی بھگت

اسلام میں چار شادیوں کی مسلمان مردوں کو اجازت ہے۔ مگر برطانوی سعودی نجد کے ہم جنس پرست پران پادری پاکستان کے رشوت خور ، نذرانہ خور، برطانوی اغلام ہم جنس پرست سرکاری قاضیوں دلالوں کی ملی بھگت سے پاکستان میں نکاح کا باب سخت ترین کرتے آرہے ہیں جبکہ اسلام میں نکاح کا باب تمام مذہبوں میں سب سے زیادہ آسان ہے۔

دیکھے ہیرا رانجھا فلم انیس سو ستر میں برطانوی سعودی عرب نجد کا کافر پران کیدو پادری جب اسلام کے آسان ترین نکاح کے اصولوں سے انکاری کافر ہونے کے بعد کیا کہتا ہے۔

Indian Film : Heer Raanjha 1970

سب کو دیکھ لوں گا دیکھتے رہنا کچل دونگا، مسل دونگا، جلا دونگا ، مٹا دونگا ۔ رلایا مجھ کو قسمت نے ۔۔۔ میں دنیا کو رلا دونگا۔

دیا کہیں میرا پیغام تم نے چھیڑی بات  ۔     ذرا بھی کی کبھی کوشش سجے میری بارات

صدا کہیں سے جو شہنائیوں کی آتی ہے۔    میرے کلیجے سے ساگر سی لوٹ آتی ہے۔

آگئے کیدو ، آگیا قاضی۔ کیا خبر لائے ہو۔

 شادی کی تمنا تھی کنوارے چلے آئے۔        جیسے گئے بیچارے ویسے ہی چلے آئے۔

دکھے کلیجے میں نشتر کالونی لگانے آیا ہوں۔    ہماری راکھ ہمیں پہ اڑانے آیا ہوں۔

ہمیں لگی ہے جو ٹھوکر نجدی مسکراتا ہے۔    یہ وقت وہ ہے کہ دشمن بھی رحم کھاتا ہے۔

نہ تم کو فکر نہ نجدیوں کو غم گھرانے کا ۔     خیال آیا کبھی میرا گھر مُساوات سے بسانے کا

دیا کہیں میرا پیغام تم نے چھیڑی بات  ۔     ذرا بھی کی کبھی کوشش سجے میری بارات

صدا کہیں سے جو شہنائیوں کی آتی ہے۔    میرے کلیجے سے ساگر سی لوٹ آتی ہے۔

سب اپنی سوچتے ہیں سب کو دھیان ہے اپنا ۔  یہی ہے رنگ تو پورا نہ ہوگا مساوات کا سپنا

 

لہذا سعودی عرب نجد کے حاکم برطانوی پران پادری کو مشورہ دیا جاتا ہے۔ کہ اب وہ پہچانا جاچکا ہے لہذا وہ اپنے اصل وطن برطانیہ واپس چلاجائے یا  وہ اسلام کے نکاح کے آسان ترین اصولوں پر ایمان لے آئے۔ اور اپنی ذاتی جاگیرداری برادری کے اصولوں کو آئینی قانون سازی کے ذریعے اسلام کے آسان ترین نکاح کے اصولوں میں دخل اندازی کرنے سے باز رہے۔ اسی وجہ سے پاکستان بھر کے سرکاری دفاتر و عدلیہ میں سرکاری خفیہ ایجنسیوں کی شدید ترین ہم جنس پرستی، نذرانہ خوری، رشوت خوری بھتا خوری بلیک میلنگ کا رواج زور پکڑتا جارہا ہے۔ جب کہ چین میں رشوت خور سرکاری ملازموں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔

_________________________________________________

غور کرو سورة القلم

Al-Qalam

سورة القلم میں آپ مختلف مزاجوں کے بارے میں تفصیل معلوم کریں گے۔

_________________________________________________

برطانوی سعودی عرب نجد کے جاگیرداروں کی اہم خصوصیات کمینے ، بخیل ، ضندی ۔ متکبر،

برطانوی اغلام سعودی عرب نجدیوں کی نشانی یہ ہے کہ ان کا مزاج ضدی ہوتا ہے۔ اچانک بہترین ذہین عقل مند اور پھر اچانک مفتون نیم پاگل، خبطی جیسے ابوجہل ہو۔ اور بہترین سماعت کا دعوا اور پھر اچانک بہرہ جیسے سنا ہی نہیں۔ اچانک بہترین بصارت آنکھوں کی تیزی دکھتا ہے۔ اور پھر اچانک جیسے اندھا جیسے کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اور شاندارسخی رحیم کریم نظر ہی نہیں آتا۔ اور جیسے اندھا بد نظرگستاخ بن جاتا ہے۔ اس کی نشانی یہ بھی ہے۔ کہ یہ داڑھی اور مونچھوں کے رعب سے خود کو مرد ظاہر کرتا ہے۔ اور مردانگی کے بلند و بالا دعوے کرتا ہے۔ مگر حقیقت مٰیں اس کا نچلہ دھڑ سن بے حس ہوچکا ہوتا ہے۔ اور اعضائے تناسل نیم مردہ ہوتے ہیں ، مگر اس کی آنکھ میں شدید جنسی خواہش ہوتی ہے۔ اور خواتین کے ساتھ بہترین نرم خوشگوار ٹھر ٹہر کر مٹھاس سے بھرپور انداز گفتگو کرتا ہے۔ مگر جنسی تسکین کے لئے مردوں سے لواطت یعنی ہم جنس پرستی کرواتا رہتا ہے۔ اور عام انسانوں کے ساتھ چیخ مار کر انداز گفتگو کرتے ہیں جیسے کتا بھونک رہا ہو یا بندر غرا تا ہو۔ یہ مذکورہ خوبیاں برطانوی اغلام پولیس پاکستان اور برطانوی اغلام افواج پاکستان اور برطانوی اغلام پاکستانی کی خفیہ سرکاری ایجنسیوں اور پاکستان کے تمام سرکاری دفاتر و عدلیہ کے شدید بھتا خوروں بلیک میلروں ، رشوت خوروں، نذرانہ خوروں میں خاص طور پر پائی جاتی ہیں۔ جب کہ چین میں رشوت لینے والے سرکاری ملازموں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔

 

اہل محبت اہل سخاوت کو مجنون کہتے ہیں۔

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ہمیشہ انسانوں سے ملتے وقت انسانوں میں ، اپنی روئتی تکبر اور بات چیت کے دہشت پیدا کرنے والے انداز اختیار کرتے ہیں۔

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ہمیشہ عام انسانوں کو کم تر دیکھتے ہیں۔ ذات، برادری کا تکبر ان کی اہم شناخت ہے۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار مفتون یعنی روحانی طور پر محروم ہوتا ہے۔ اور جسم اور مال و دولت جاگیرداری اور جاگیرداری نظام کو برقرار رکھنے کے لئے شہزادوں کی تمنا ان کی روح کی کل طاقت ہوتی ہے۔ لہذا یہ مکمل انسان نہیں ہوتے ان کی عقل خونخوار غرانے چلانے والے بندر اور بھوکنے والے کتے جانور سے بھی کم ہوتی ہے۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروںکا مذہب نہیں ہوتا جیسے کہ تجربات سے آزمایا جاچکا ہے کہ دہشت گرد جاگیرداروں،سرمایہ داروں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ہمیشہ سے ہی روحانی طاقت والے باکمال انسانوں کی روحانیت کے کمال کے زوال کی شدید تمنا رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں نے صحابہ اکرام کی مقدس نشانیوں کو مٹانے کی بار بار جرات کی ہے۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار کی روایت ہے کہ وہ جس عمل کے کرنے کا اعلان یا وعدہ کریں تو دانشور یقین کرلیتے ہیں کہ ان کے اعلان کردہ بیان کے الٹ متضاد ہی کچھ ہونے والا ہے۔ جیسے کہ پاکستان کے سیاست دان اپنی تقریروں میں جو کچھ کہتے ہیں حقیقت میں اس کے متضاد ، الٹ ہی وہ بعد میں عمل کرگذرتے ہیں۔ یعنی برطانوی عرب نجد اور ان کے سیاسی دلال، سیاسی فنکار دنیا بھر میں زبردست جھوٹ بولنے والے پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار اگر خود کو خادم الحرمین شریفین کہیں تو دانشور یہی سمجھتے ہیں کہ یہ مذہبی فنکار اور مذہبی اداکار اب کچھ مزید اسلام کو نقصان پہنچانے کی سازش اور صحابہ اکرام کی قبروں کی نشانیوں کو مٹانے کی گستاخیاں کریں گے۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ہمیشہ سے ہی روحانی طاقت والے انسانوں کی روحانیت کے کمال کے زوال کی شدید تمنا رکھتے ہیں۔ اور روحانیت کے کمال والے انسانوں کی نشانیاں مٹانے سے ان کے دردندہ صفت دل کو تکسین ملتی ہے۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ، عشق و محبت ، خلوص و مساوات کے الفاظ کی تذلیل اپنے جسم کے تمام اعضاءکے ذریعے کتے کی طرح بھونک کر اور بندر کی طرح شرارتیں اشارے کرکے مذاق کرکے اپنے مذہبی اداکاروں کے ذریعے زمین کے کونے کونے میں جاکر کے تمسخر بناتے ہیں۔۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار سخاوت، لنگرخانوں ، معاشی مساوات اور انسانوں کے بنیادی حقوق کا انسانوں کو مفت ملنے کو سختی کے ساتھ قانونی آئینی طور پر منع کرتے ہیں۔ اور اسی لئے پاکستان میں بھی برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکاروں، سیاسی فنکاروں کمینوں ، بخیلوں نے عوامی مقامات پر بیت الخلاءکو استعمال کرنے کی فیس دو عدد روٹیوں کی قیمت کے برابر رکھی ہوئی ہے۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار لفظ معاشی مساوات یا اسلامی مساوات کا بیان اپنی تقریر یا لکھائی میں نہیں کرتے ہیں۔ اور معاشی مساوات یا اسلامی مساوات کے نظام کے خلاف وہ بدترین گناہ کی سرگرمیاں بھی کرجاتے ہیں۔ جبکہ برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار برطانوی امریکی عدم مساوات کے نطام ، انسانوں میں برادریوں ، قوموں کی تقسیم، امیر و غریب کا فرق ہر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں نافذ کرنے میں اپنی جاگیردارنہ دہشت کی بقا سمجھتے ہیں۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار کی سیاست یہ ہے کہ انسانوں کو سرکاری اداروں کی بھتا خوری، نذرانہ خوری، رشوت خوری میں پریشان ، مایوس ، غم زدہ کرکے حکومت کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں نے تمام سرکاری اداروں کو شدید بھتا خور، رشوت خور، بھتہ خور، حرام خور بنایا ہوا ہے۔ تاکہ عوام مایوسی کی دلدل میں پھنس کر برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار جاگیرداروں سے نجات لینے کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ہمیشہ جب بھی انسانوں سے گفتگو کرتا ہے کہ تو وہ چلا کر یا چیخ کر یا کتے کی طرح بھونک کر یا بندر کی طرح غرا کر بات کرتا ہے۔ لہذا پاکستانی غریب عوام کو تجربہ ہوچکا ہے کہ پاکستانی پولیس اور پاکستانی فوج ہمیشہ عام شہریوں سے بات کرتے وقت غیر انسانی غلیظ ، نیچ انداز گفتگو کرتی آرہی ہے۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں کے شہزادوں کی پیدائش کچھ اس طرح ہوتی ہے۔ جب ان شہزادوں کا آغاز حمل بنتا ہے تو خبیث روحانی اثر پر مبنی سفلس یا سائیکوسس کا جراثیم یا قدرت کی لعنت بھی اس حمل سے بوئے طفلی الحاق کرجاتی ہے۔ جس سے پیدا ہونے والے برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں کے شہزادے بچے اپنی روح میں خبیث ملعون روح کا بھی الحاق پا لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے صدیوں سے برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار برطانیہ کے عدم مساوت کے نظام کی خبیث بدروح شہزادے ہیں۔ یعنی برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں کے شہزادوں کو انسان نہیں کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ انسان روح اور جسم کی پاکیزگی ، بلند اخلاق سخاوت، مساوات کا نام ہے۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار کی سب سے بڑی خوشی ہم جنس پرست باریش ہو کر سر پر عورتوں کی طرح مختلف ڈیزائن کے ڈوپٹے اوڑھ کر جاگیردارنہ نظام اور جاگیردارنہ نظام کو مستقبل میں برقرار رکھنے کے لئے بوئے طفلی ملعون خبیث غیر انسانی روح والے شہزادوں کی چاہت میں صرف ہوجاتی ہے۔

 

برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں کو سب سے زیادہ ناک کے ناقابل علاج خبیث امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور ان کی عمر کا کثیر حصہ ناک کے ناقبل علاج خبیث امراض کا علاج کرانے میں خرچ ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں کی عبادت گاہوں میں سجدہ کرنے والے ہر کسی کو نہایت آسانی سے ناک کے ناقابل علاج خبیث امراض فوری قدرت کی طرف سے انعام میں مل جاتے ہیں۔ اور ان کی عبادت گاہوں میں ایک سجدہ کرنے والا بھی فوری طور پر مزاج ، امراض، روحانی طور پر ان کی مثل ہوجاتا ہے۔ لہذا خبردار کیا جاتا ہے۔ کہ ان کی عبادت گاہوں کی دریوں، صفوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کرایا جائے اور میڈیکل جیورس اور ہائی جین کے کے اصولوں میں معیاری عبادت خانے کی خصوصیات کے قوانین بھی جاری کردیئے جانے چاہیں۔

 

_________________________________________________

 

 

 

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages