Children of War (2014 film) or The Bastard Child (2014 film)

2 views
Skip to first unread message

Javed Kaleem

unread,
May 4, 2015, 9:41:57 AM5/4/15
to socialequalityfreeofpr...@googlegroups.com

 

Children of War (2014 film) or The Bastard Child (2014 film)

Movie based around the 1971 Bangladesh Liberation War and to learn the real face of Pakistani Government being a commission agents of inequality criminal servants of London England.

Also

Search and watch Movie: Brave heart (1995) to learn the real face of inequality criminal servants of London.

Fill in the Blank of deo-boond Saudi najdi Army of Pakistan with to tool of Lond-On inequality criminal England.

Birth day ceremony of India, Bangladesh and Commission agent Pakistan of Lond-on England.

British commission agent Nawaz Sharif and Shahbaz Sharif Pmln Pakistan deo-boond Saudi Najdi homosexuality Lond-on England.

Fortress Stadium Lahore Parking Stand Mafia Deo boond Najdi Homosexual army Pakistan.

Bangladesh and Scotland freedom fight from Saudi Najd Lond-on England.

Pakistani Army and Police being puppets commission agents of Saudi Najd Lond-on inequality criminal England.

Pakistani government paid homosexual servants of IMF usury Loan Scheme.

80 percent budget plus IMF Loan digester Pakistani American gayest Army commission agents of deo boond Saudi Najd Lond-on inequality criminal England.

Feudalists, Capitalist in Pakistani parliament politician are homosexual commission agents of deo boond Saudi Najd Lond-On England.

من بنگلیاں میں آگ لگی تھی پھول کہاں سے کھلتے

بنگلہ دیش کی آزادی پر بننے والی فلم چلڈرن آف وار جس کا پہلے نام دی باسٹرڈ چائلڈ رکھا گیا تھا۔ بعض میں اس فلم کا نام بدل کر چلڈرن آف وار رکھا گیا اس فلم کی کہانی درست ہے یا غلط ہے۔ اس کا فیصلہ مورخہ چھبیس اپریل دو ہزار پندرہ بوقت رات آٹھ بج کر چالیس منٹ پر ہوگیا جب فورٹریس سٹیڈیم لاہور کے وہ گیٹ جس کی سڑک دھرم پورہ کی طرف جاتی ہے۔ فورٹریس سٹیڈیم کی سڑک میں موٹر سائیکل سواروں سے پارکنگ فیس دس روپے برطانوی سعودی عرب نجد کے اغلام فوجی رضا کار جبری طور پر وصول کرتے ہیں۔ اس فورٹریس سٹیڈیم کے گیٹ پر کھڑا ایک برطانوی سعودی عرب نجد کے اغلام فوجی رضا کار تین موٹر سائیکل سواروں کو یہ دھمکا رہا تھا کہ تم یو ٹرن لے کر اس گیٹ میں کیوں آئے ہو چلے جاﺅ ورنہ تم سب کو مارپیٹ کر ایمبولینس میں ڈال کر سروسز ہسپتال کے باہر چھوڑ دوں گا۔ اس پاکستانی فوجی نے اپنی پینٹ کی دائیں جانب بیلٹ پر ایک کپڑے کی پٹی نومولود بچوں کے پہننے والے لنگوٹ کی طرح کی اور گدھے کے عضو تناسل کے سائز جتنی لمبی لٹکائی ہوئی تھی جو کہ خفیہ کیمروں کی ریکارڈنگ سے بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ غالبا ایسا طرز بیان کسی روائتی فوجی کا نہیں ہوسکتا ہے یہ وہی سعودی عرب نجد کے برطانوی اغلام رضار کار ہیں۔ جن کو مسلم لیگ ن کے راہنما برطانوی کمیشن ایجنٹ نواز شریف کشمیری اور برطانوی کمیشن ایجنت شہباز شریف کشمیری بار بار انسانوں کے قتل عام ، دہشت ، خوف سرکاری دفاتر و عدلیہ کی رشوت خوری ، بھتا خوی، نذرانے خوری کی علامت بناتے آرہے ہیں۔ جن کے لئے دعا نہیں کی جاسکتی ہے۔

واضح ہو کہ سڑکوں میں یوٹرن دائیں یا بائیں جانب تمام راستوں کو ملا دیتا ہے۔ مگر جن قوموں کے حاکم امریکی و برطانیہ کی اغلامی کے نشہ میں رہتے ہوں وہ یوٹرن کو اس طرح بناتے ہیں کہ عوام بھول بھلیوں کا شکار ہو کر غم زدہ مایوس رہے اور عوام کو اُن کا مطلوبہ درست راستہ نہ مل سکے۔ اور انیس سو تہتر کے آئین میں ٹریفک کے اصولوں کی غلطی کرنے پر چند روپے جرمانہ ہوتا ہے۔ اور ٹریفک کے اصولوں پر غلطی کرنے کی سزا سزائے موت یا ضربیں شدید نہیں ہے۔

لہذا اب سجھ آئی کہ پاکستانی امریکی و برطانوی کمیشن ایجنٹ اغلام افواج کیا ہے۔

انیس سو اکہتر میں بنگال میں بنگالیوں پر نو ماہ کا اپریشن امریکی و برطانوی اغلام افواج پاکستان نے کیا واضح ہو کہ نو ماہ میں انسانی بچہ پیدا ہوتا ہے۔ جب کہ امریکی اغلام افواج پاکستان کو برطانیہ کی جانب سے حکم ملا تھا کہ نو ماہ کا اپریشن کرو ، کم از کم تیس لاکھ بنگالیوں کا قتل عام کرنے اور پانچ لاکھ بنگالی عورتوں کو جبری حمل ٹھراﺅ اور اس حمل کے نتیجے میں نو ماہ بعد پیدا ہونے والے بچوں کی چیخ پکار سن کر یہ نعرہ لگاﺅ کہ بنگالیوں تم جہنم میں جاﺅ۔ واضح ہو کہ بنگالیوں کے خلاف اپریشن میں پاکستان اصلی روائتی فوج اپنی چھاﺅنی کیمپوں میں نو ماہ بعد پیدا ہونے والے بنگالی عورتوں کے بچوں کے سویٹر بننے اور لنگوٹ تیار کرنے میں شب و روز مصروف رہی اور امریکی و برطانوی اغلام پاکستانی افواج نے سعودی عرب نجد کے برطانوی اغلام رضا کاروں کو بنگالیوں کے قتل عام کرنے کے لئے نو ماہ تک استعمال کیا۔ تاکہ بنگالی عورتیں سعودی عرب نجد کے رضاکاروں کی پانچ لاکھ اولادیں پیدا کریں۔ تاکہ مستقبل میں بنگال سعودی عرب نجد کا ہم خیال بن کر برطانوی اغلامی اختیار کرتا رہے۔ یہی سور کی آنکھ والوں کی اولادیں پیدا کرنے کا فارمولہ برطانیہ نے سکاٹ لینڈ کے باشندوں کو کو دبانے اور سکاٹ لینڈ پر قبضہ کرنے کے لئے استعمال کیا تھا۔

بنگلہ دیش کی قوم اپنی آزادی کے دن امریکی و برطانوی سعودی عرب نجد اغلام افواج پاکستان کے آزادی لینے کے دن کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

بھارتی قوم اپنی آزادی کے دن برطانوی راج کے عدم مساوات کے شکنجے سے آزادی کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

پاکستانی رشوت خور میڈیا ، برطانوی کمیشن ایجنٹ پاکستانی فوج ، پاکستانی جاگیردار ، سرمایہ دار اپنی تاریخ آزادی کے دن اپنی مقعد پر ہاتھ پھیرتے رہتے ہیں۔ کہ آزادی کے دن کو کس تاریخ کی یاد کریں۔ جبکہ سعودی عرب نجد کے نامراد پاکستان کی سالگرہ کے موقع پر ہندوستانیوں کو گالیاں نکالنا شروع کردیتے ہیں۔ جبکہ واضح ہو کہ بھارت میں مسلمان پاکستان سے تعداد میں زیادہ ہیں۔ لہذا ثابت ہوا کہ پاکستانی قوم کی تاریخ بس امریکی و برطانوی سعودی عرب نجد کے ہم جنس پرست دلالوں کی سرکاری دفاتر و عدلیہ کی شدید بھتہ خوری ، رشوت خوری، نذرانہ خوری، مصنوعی مہنگائی، ، عدم مساوات ، آئی ایم ایف کے قرضے ادا کرنے میں گم شدہ ہوکر رہ گئی ہے۔

بریگیڈئیر جنرل ضیاءالحق خان نے برطانیہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے سعودی نجد کے مفادات کو برقرار رکھنے کے لئے بیس لاکھ فلسطینوں کا قتل عام اس لئے کیا کہ وہ پناہ لینے کے سعودی عرب جانا چاہتے تھے۔ اور اسی جنرل ضیاءالحق خان نے اپنی جبری حکومت کے دوران روس کے معاشی مساوات کے اقدام کے خلاف افغانیوں کے لئے پاکستان کے تمام سرحدیں کھول دیں۔ جس پر افغانی پاکستان میں داخل ہوئے اور انھوں نے پاکستان کی سیاست سمیت پاکستان کے تمام وسائل پر بھی قبضہ کرلیا۔ اس دوران پاکستانیوں پر عوامی راستوں اور عوامی مقامات پر پاکستانی سعودی نجد ایجنسیوں نے بے شمار بم پھاڑے اور بم سے متاثرین کو یہ جھوٹ بول کر اشتعال دلوایا کہ پاکستانیوں پر پھٹنے والے بم روسی ساختہ تھے۔ تاکہ پاکستانی عوام روس کے معاشی مساوات کے نظام سے مرحوم رہے۔ اور پاکستان میں برطانوی اغلام جاگیرداروں کی اجارہ داری قائم رہے۔ بعد ازاں جنرل ضیاءالحق خان کو ایوب خان کے وزیر خارجہ ذولفقار علی بھٹو خان نے خوش ہو کر پاکستانی آرمی چیف بنا دیا۔ مگر واضح ہو کہ سعودی عرب نجد کے برطانوی اغلاموں کے حق میں قدرت نے دعا نہیں کی ہے۔ اسی وجہ سے ضیاءالحق خان نے بعد ازاں ذولفقار علی بھٹو خان کو بددعا دی۔ اور مزید واضح ہو کہ برطانوی اغلام سعودی عرب نجد کے مابین صرف بدعا ہے۔ اور ان میں کوئی کسی کا حقیقی دوست نہیں ہے۔

پاکستانی فٹ پاتھ پر برطانوی سعودی عرب نجد کے حرام خور رضار کاروں کا قبضہ ہے۔ اور عوام فٹ پاتھ کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔ ۔ پاکستان کی عوامی مقامات پر ییت الخلاءکو استعمال کرنے کی فیس دو عدد روٹی کی قیمت کے برابر ہے۔ اور پاکستان پارکنک سٹینڈ کو استعمال کرنے پر فیس طلب کی جاتی ہے،۔ پاکستانی عوام مفت علاج معالجہ اور معاشی مساوات کے نظام کی سہولت سے محروم ہے۔ جبکہ پاکستان کا انیس سو تہتر کا آئین پاکستان کے تمام شدید رشوت خور، بھتہ خور حرام خور، نذرانہ خور سرکاری اداروں کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ جبکہ چین میں رشوت خور حرام خور سرکاری ملازموں کو سزائے موت آئین کے مطابق دی جاتی ہے۔

واضح ہو گیا کہ پاکستان کے تمام سرکاری اداروں کے اہلکار شدید رشوت خوری، بدترین بھتہ خور، نذرانہ خور حرام خور اور انتہائی غلیظ اور نیچ انداز گفتگو سے کتے کی طرح بھونک کر عوام سے گفتگو کرکے خوف ، دہشت پیدا کرکے برطانوی سعودی عرب نجد کے عدم مساوات کے نظام کی حکومت مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ جن کو تواضع جلد از جلد چین کے مطابق رشوت خور حرام خور سرکاری ملازموں کو سزائے موت دینے کا قانون پاکستان کے آئین میں درج کرکے عمل درآمد کردینا چاہے۔ مگر برطانوی کمیشن ایجنٹ حکومت پاکستان پاکستانی رشوت خور ، بھتہ خور ، نذرانہ خور سرکاری ملازموں کو ہفتہ میں دو چھٹیوں کو تحفہ اور بطور رشوت مٰیں مراعات دینے کی پالیسی پر عمل کرتی چلی آرہی ہے۔ تاکہ رشوت خور ، حرام خور، بھتہ خور، نذرانہ خور پاکستان کے تمام سرکاری ادارے پاکستان کے برطانوی کمیشن ایجنٹ جاگیرداروں، سرمایہ داروں، سیاستدانوں کے شانہ بشانہ برطانوی سعودی عرب نجد کی اغلامی کی خدمات بطور برطانوی کمیشن ایجنٹ انجام دیتے رہیں۔

 

http://en.wikipedia.org/wiki/Children_of_War_%282014_film%29

http://en.wikipedia.org/wiki/Mukti_Bahini

Children of War (2014 film) or The Bastard Child (2014 film)

Children of War is a 2014 Hindi drama film directed by Mrityunjay Devrat. The film released on 16 May 2014 in India. The film stars Riddhi Sen, Rucha Inamdar, and Victor Banerjee. Filmed in India with similar characters and places mimicking Bangladesh, The Bastard Child is an Indian movie based around the 1971 Bangladesh Liberation War.

 

Production

While writing the film's script, Devvrat researched the topic thoroughly, which included interviews with various journalists, war veterans, and refugees. Filming for The Bastard Child was supposed to take place in Bengal, but the film was forced to relocate after only 8 days of shooting due to problems with the Federation of Cine Technicians and Workers of Eastern India, as there were issues with the amount of local hands hired to work on the movie. Filming also took place around Delhi and Haryana, and overall filming for The Bastard Child occurred mostly at night. In 2013 Farooq Sheikh was confirmed to be performing in the film, only for rumors to surface that he be replacing Sabyasachi Chakraborty in the movie.[8] Devvrat addressed these rumors in June 2013, stating that Chakraborty was still part of the movie but that his original role had been split into two different characters due to the director wanting to avoid further potential issues with the Federation of Cine Technicians and Workers of Eastern India. The production for The Bastard Child experienced further issues with the film's release, as the Indian Motion Picture Producers Association did not approve of the movie's title, which included the word "bastard". Devvrat responded to the criticism over the title, stating that he did not intend for the word to be seen as offensive.

Of her role in the film, Raima Sen felt that it was "one of the toughest roles she has portrayed on screen in the recent past."

Reception & Awards

Critical reception so far has been positive. Live Mint gave a positive review for the movie, which they felt contained "beautifully filmed grief and devastation". Bollywood also gave a positive review, praising the film's acting and musical score. Subhash K. Jha also gave a positive review, he stated "It is impossible to believe that this war epic has been directed by a first-time filmmaker. How can a virgin artiste conceive such a vivid portrait of the rape of a civilization?

The Government of Bangladesh has recognized the film and has recently adopted a proposal recognizing 1971 war rape survivors as 'freedom fighters'

 

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages