You do not have permission to delete messages in this group
Copy link
Report message
Show original message
Either email addresses are anonymous for this group or you need the view member email addresses permission to view the original message
to Shakeel Ahmed
جب کبھی میں پریشان ہوا کرتا تھاتو کراچی کی ایک بندرگاہ پر چلا جاتا وہاں جا کر مجھے بہت سکون ملتا تھا ایسا لگتا تھا جیسے کوئی انجانی طاقت مجھے اپنی جانب کھینچ رہی ہے کئی گھنٹوں بیٹھا سمندر کو تکتا رہتا کبھی خاموش سمندر میں پھیلا سکوت تو کبھی شور مچاتی لہروں کی بے چینی۔ ایسا ہی سکوت اور بے چینی مجھے بھی اپنے اندر محسوس ہوتی تھی ۔ میں ایک پڑھا لکھا اور معاشرے کے فرسٹ کلاس لوگوں کی فہرست میں شامل انسان تھا۔میرا اپنا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس تھاکام کی نوعیت یہ تھی کہ اپنے بارے میں بھی سوچنے کا ٹائم نہیں ملتا تھا۔اور شاید یہی وجہ تھی تھی کہ مجھے ساحلِ سمندر پر جا کر سکون ملتا تھا اچانک سے یہ دنیا فانی محسوس ہونے گتی تھی دل کرتا تھا سب کچھ چھوڑ کر کہیں دور چلا جائوں ۔ کسی ایسی زندگی میں جہاں سکون ہی سکون ہو۔ مگر یہ زندگی مجھے کیسے مل سکتی ہے؟ کیا دنیامیں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں یہ سب موجود ہو؟ جہاں حوس نہ ہو کچھ بھی پانے کی بس سکون ہو اور میرا قلب مطمئن ہو۔ ایسے کئی سوال یک دم میرے ذہن میں آتے اور مجھے سمندر کی لہروں کی طرح بے چین کر دیتے۔