گاؤں میں بات چلتی ہے اور اطاعت ہوتی ہے تو بڑوں کی۔ وہ بڑا شخص صاحبِ
اقتدار بھی ہوسکتا ہے، آبادی کا شیخ بھی، قبیلہ کا سردار بھی اور بستی
کا عالم بھی۔ لیکن شہر ، یہاں تو ہر شخص خود بڑا ہوتا ہے، وہی اپنے آپ
میں قائد اور سربراہ ہوتا ہے، وہی میئر ، شیخ، سیّد اور مفتی سب کچھ ہوتا
ہے۔ وہاں کسی پر کسی کا زور نہیں چلتا۔ وہاں کسی کے لئے کوئی دوسرا بڑا
نہیں ہوتا۔
گاؤں میں مناروں کی بلندی کے سامنے عمارتوں کی بلندی ماند ہوتی ہے۔
عمارتوں کے اطراف میں درخت، کھیتیاں، پھول اور پھل بھرے ہوتے ہیں۔ فضا
گلاب کی خوشبوسے معطر ہوتی ہے، گوریوں کی چہچہاٹ اور پالتو بلّیوں کی
آوازیں بھی ہوتی ہیں۔ جب کہ شہر میں منارے عمارتوں کی بلندی سے چھُپ جاتے
ہیں، مساجد سے زیادہ بلند سینیما گھر بھی دکھائی دیتے ہیں، یہاں چہچہانے
والے گوریّوں کی نہیں بلکہ رکھوالی کے کتّوں کی کثرت ہوتی ہے۔ قندیلِ
راہنما پر صنم خانے بھاری ہوتے ہیں۔
گاؤں میں بچّے ، ماں ، باپ، چچا، ماموں، پڑوسی ، رشتہ دار اور دور کے
افراد سب سے سیکھتا ہے۔ بستی کے سب لوگ تمام بچّوں کی تربیت کرتے ہیں۔
چنانچہ ان بچوں کی نشوونما اس طرح ہوتی ہے کہ ان کے اندر سماجی شعور ہوتا
ہے ، وہ شریف اور سخی ہوتے ہیں۔ البتّہ شہر کے بچّے وہ مساکین ہیں جن کی
تربیت ٹی وی سے ہوتی ہے اور فلموں اور اسپورٹس کے ہیرووں سے۔ ڈرامے کے
اسٹیج پر اُبھرنے والے نجوم وکواکب ، آزاد اور پابند کھیل کے سورماوں سے
ان کی تربیت ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر بچّہ ایک منفرد جزیرہ ہوتا ہے، وہ
دوسروں سے الگ تھلگ ہو جاتا ہےحتی کہ اپنے خاندان سے بھی۔ لیکن یہ المیہ
اس وقت اور شدید ہو جاتا ہے جب جب گلوبلائزیشن کے سخت ہاتھ بستیوں اور
آبادیوں کو آلودہ کرنے کے لئے آگے بڑھتے ہیں۔ یہ ذلّت و رسوائی پھیلاتے
ہیں، انسانوں کو خواہشِ نفس اور شیطان کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ البتّہ
امّید کی ایک کِرن بھی ہے، مومن مرد اور عورتیں ان سب کے باوجود بھی گاؤں
کے اخلاق، اصول، اس کی روایات کو باقی رکھنے کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔ وہ
اس بات کے لئے کوشاں ہیں کہ قرآن اور سنّت کے نور کو امّ القریٰ سے لے کر
ہر چہار جانب شہروں ، بستیوں، بلکہ پوری دنیا میں پھیلا دیں تاکہ یہ چیز
سارے انسانوں کے لئے رحمت بن جائے اور مفسدین کے گلوبلائزیشن کا یہ جواب
ہو۔ ٭٭٭٭