Midas Corruption Story of Black Money

89 views
Skip to first unread message

sahir geo

unread,
Sep 17, 2012, 2:51:53 PM9/17/12
to PressP...@googlegroups.com
مڈاس کرپشن کہانی

پاکستان میں ایڈورٹائزنگ کا پیشہ محترم بھی ہے لیکن بے ضمیر لوگوں سے بھی بھرا پڑا ہے، آج کل میڈاس نامی ایڈورٹائزنگ کمپنی کے مالک کے کرتوتوں کا چرچا ہے، میڈاس کو گھر کے زیورات کے بیچ کر قائم کرنے والے غلام اکبر اورینٹ ایڈورٹائزنگ پر ائیویٹ لمیٹڈ لاہور برانچ کے ملازم تھے وہیں انہوں نے کرپشن کے گر سیکھے، علیحدگی اختیار کر کے میڈاس قائم کی، ذوالفقار علی بھٹو مقید تھے کردار کشی کے لئے ہر طرح سے پیشہ بہایا جا رہا تھا، غلام اکبر نے جھوٹ کا پیغمبر نامی کتاب لکھی اور رقم بٹوری، بطور انعام اشتہاری کام بھی ملا غلام اکبر نے فیض احمد فیض کے خاندان کو شیشے میں اتارا اور میڈاس میں شامل کیا، منو بھائی کو چیئرمین کے عہدہ پر بٹھا کر ان کے تعلقات کو استعمال کیا، آصف رضا میر، عظمیٰ گیلانی وغیرہ کو استعمال کیا، مجید نظامی کے ذریعے آل پاکستان نیوز پیپرز ایسوسی ایشن کا اکیریڈیشن حاصل کیا جس کے بعد کروڑوں روپے چھوٹے بڑے میڈیا کے ہضم کئے، بیٹوں انعام اکبر، آفتاب اکبر، ندیم اکبر کو شامل کیا، سالے تنویر اور نعیم کو ملازم رکھا، بہتی گنگا میں سب ہی نے ہاتھ کالے کئے، عظمی گیلانی، آصف رضا میر نے بلیزان نامی ایجنسی علیحدہ بنا لی، سالے تنویر احمد نے اپنی ایجنسی علیحدہ بنا کر میکسم نام رکھا اربوں روپے سمیٹے، انعام اکبر فراڈ میں کراچی میں گرفتار ہوا، جاپان، کوریا وغیرہ کے پھیرے لگائے، لاکھوں ڈالر کمائے، جنوبی کوریا سے ڈانس گروپ لایا گیا مال بٹورا گیا، بعد ازاں غلام اکبر نے محمود شام، سرور سکھیرا کے ذریعے بینظیر بھٹو کو رجھا لیا، پیپلزپارٹی کی پبلسٹی مہم میں اربوں روپے حاصل کئے ’’میں وزیراعظم نہیں بنوں گی‘‘ نامی کتاب لکھی، بینظیر ہٹیں تو میاں نواز شریف کے تلوے چاٹے، حسین حقانی کے ساتھ شراکت کر کے غلام اکبر نے نواز شریف سے اربوں روپے حاصل کئے، مختلف ناموں سے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں پلاٹ الاٹ کروائے۔ نواز شریف کے بعد محمد علی درانی کو قابو کیا، بیٹے انعام اکبر کو میڈاس کا سربراہ بنایا آفتاب اکبر فلم میکر بن گیا، بیٹی اور داماد کو کراچی میں کاروبار کروایا خود غلام اکبر نے زاہد ملک سے الاخبار خرید کر صحافت شروع کر دی، کمرشل پلازہ اسلام آباد میں تعمیر کیا پرنٹنگ پریس لگایا، انعام اکبر نے چوہدریوں کے توسط سے اربوں روپے کے سرکاری اشتہار حاصل کئے کل کے زیرو آج کے ہیرو بن گئے، غلام اکبر نے زندگی بھر کار ڈرائیونگ نہ کی، کار تھی ہی نہیں، مشرف کے ہٹنے کے بعد غلام اکبر نے عمران خان کو ہیرو بنا لیا، کمال ہشیاری یہ ہے کہ اپنی بیگم کو الاخبار کا چیف ایگزیکٹو بنا دیا (جس کو اردو لکھنا پڑھنا نہیں آتی)، نوعمر بیٹی کو منیجنگ ایڈیٹر مقرر کر دیا، طارق وارثی جیسے منجھے ہوئے صحافی کو تیسری پوزیشن پر ملازمت دی، غلام اکبر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینٹ میں بیٹھنا چاہتے ہیں، انعام اکبر (نان گریجویٹ) ایڈورٹائزنگ کا ملک ریاض بن بیٹھا ہے، 1990ء سے آج تک کی چھان بین یہ ثابت کر دے گی کہ میڈاس بحریہ ٹاؤن کیسے بن بیٹھی، کوڑیوں کے محتاج آج پاکستان کی سب سے بڑی اشتہاری کمپنی کے مالک کیسے بن گئے، کالا دھن کیسے بٹورا گیا، اے پی این ایس کا ریکارڈ چھان بین کے لئے بہت کافی ہے ڈاکٹر تنویر احمد کے ہاتھ گیلے ضرور ہوں گے لیکن ایف آئی اے والے سب کچھ اگلوا سکتے ہیں، حامد میر اور ابصار عالم نے ہمت کر ہی ڈالی ہے تو منو بھائی، محمود شام، عظمیٰ گیلانی، آصف رضا میر، طارق خان، میکسم ایڈورٹائزنگ کے تنویر احمد سے بھی رابطہ کر کے حقائق جمع کر کے سپریم کورٹ میں داخل کریں، گلستان پاکستان کی ہر شاخ پر کوئی نہ کوئی غلام اکبر بیٹھا ہے، میڈاس کی مکمل آزادانہ تفتیش ثابت کر دے گی کہ اشتہاری ایجنسیوں کے توسط سے کیسا کیسا سیاہ دھندہ جاری ہے۔

Syed Hussain Raza Jahfery

unread,
Sep 18, 2012, 9:04:35 AM9/18/12
to pressp...@googlegroups.com
What is a great idea about the man who used to travel on bycycle in
India before partition and was the managing Director, Printer and
Publisher and at the same time hawker of his weekly/dail. The man died
after well establishing his business empire in both the wings East and
West Pakistan and who introduced a different way of journalism by
printing what cannot be written openly.Being a youngester boy I was
the regular victimof his daily. One can witness the Files of his bloom
age during fifties. With the blessing of then Muslim Leaguersthat
kept on dragging the people from the day one he was enjoying all the
prevlleges given to him by his fellow immegrent rulers who were
awaiting for boom days.They were so able and sincer that they could
not give a constituation to this newly born state till 1956. run the
newly state for long 9/10 years and could not enshrine the
constituation for the newly 5th big Muslim State across the globe.

2012/9/17 sahir geo <sahi...@journalist.com>:

> --
> Weekly Press Pakistan - Canada --> http://weeklypresspakistan.com
> Follow Press Pakistan on Twitter --> http://twitter.com/PressPakistan
> Like Press Pakistan on Facebook --> http://www.facebook.com/PressPakistan
> ~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*
> Please write your email to: PressP...@googlegroups.com
> To contact moderators and management: PressP...@gmail.com
> To unsubscribe your email: PressPakista...@googlegroups.com
> To find other options, please visit:
> http://groups.google.com/group/PressPakistan
> ~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*~*
>
>

`Gmail

unread,
Sep 18, 2012, 8:32:36 AM9/18/12
to pressp...@googlegroups.com

Corruption is our national character so plz don’t discuses

Tahir
--

Syed Hussain Raza Jahfery

unread,
Sep 19, 2012, 2:13:59 AM9/19/12
to pressp...@googlegroups.com
But we should not be proud this notorious mence in our society for
that matter in society.

2012/9/18 `Gmail <duaa...@gmail.com>:

Qamar Ullah

unread,
Sep 19, 2012, 3:51:16 AM9/19/12
to pressp...@googlegroups.com
@ Tahir,
Yar aisey tu na kahu !! We have to discuss and debate these issues, irritate and agitate it time and again, we may change as a nation, at least may be as a person, if one turns to right path, it will be an achievement.

2012/9/18 `Gmail <duaa...@gmail.com>



--


  Muhammad Qamarullah
                  Cell : 0301 8509932


 "Do not read to contradict and refute, 
nor to believe and take it for granted,  
but to weigh and consider."


Homer

unread,
Sep 19, 2012, 3:45:16 AM9/19/12
to pressp...@googlegroups.com

میڈاس بلاشبہ ایڈورٹائزنگ کی دنیا کے بڑے ناموں میں سے ایک ہے لیکن اس پر لگائے  گئے الزامات بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔ کرپشن کا دعوٰی اگر ثبوت سمیت کیا  جائے تو کیا ہی بات ہو، لیکن اگر ثبوت موجود ہیں اور ناقابل تشہیر ہیں تو اس صورت میں بہتر یہی ہوگا کہ مدعی سرعام وادیلا کرنے یا ڈھنڈورا پیٹنے کے بجائےہمت کرکے  عدالت میں درخواست دائر کردے۔ حامد میر اور ابصار عالم کی کاوش قابل تعریف ہے لیکن آپ انصاف کے لیےزنجیرِ عدل ہلانے کی تمام تر زمہ داری اُن کے کاندھوں پر نہیں ڈال سکتے بلکہ اس مثبت روش کو برقرار رکھںے کے لیے ہمیں مزید "حامد میروں" اور "ابصار عالموں" کی ضرورت ہوگی، ہمیں خود بھی آگے بڑھنا ہوگا۔
 
Regards:

Homer Baloch

Sent: Monday, September 17, 2012 11:51 PM
Subject: Midas Corruption Story of Black Money
مڈاس کرپشن کہانی

پاکستان میں ایڈورٹائزنگ کا پیشہ محترم بھی ہے لیکن بے ضمیر لوگوں سے بھی بھرا پڑا ہے، آج کل میڈاس نامی ایڈورٹائزنگ کمپنی کے مالک کے کرتوتوں کا چرچا ہے، میڈاس کو گھر کے زیورات کے بیچ کر قائم کرنے والے غلام اکبر اورینٹ ایڈورٹائزنگ پر ائیویٹ لمیٹڈ لاہور برانچ کے ملازم تھے وہیں انہوں نے کرپشن کے گر سیکھے، علیحدگی اختیار کر کے میڈاس قائم کی، ذوالفقار علی بھٹو مقید تھے کردار کشی کے لئے ہر طرح سے پیشہ بہایا جا رہا تھا، غلام اکبر نے جھوٹ کا پیغمبر نامی کتاب لکھی اور رقم بٹوری، بطور انعام اشتہاری کام بھی ملا غلام اکبر نے فیض احمد فیض کے خاندان کو شیشے میں اتارا اور میڈاس میں شامل کیا، منو بھائی کو چیئرمین کے عہدہ پر بٹھا کر ان کے تعلقات کو استعمال کیا، آصف رضا میر، عظمیٰ گیلانی وغیرہ کو استعمال کیا، مجید نظامی کے ذریعے آل پاکستان نیوز پیپرز ایسوسی ایشن کا اکیریڈیشن حاصل کیا جس کے بعد کروڑوں روپے چھوٹے بڑے میڈیا کے ہضم کئے، بیٹوں انعام اکبر، آفتاب اکبر، ندیم اکبر کو شامل کیا، سالے تنویر اور نعیم کو ملازم رکھا، بہتی گنگا میں سب ہی نے ہاتھ کالے کئے، عظمی گیلانی، آصف رضا میر نے بلیزان نامی ایجنسی علیحدہ بنا لی، سالے تنویر احمد نے اپنی ایجنسی علیحدہ بنا کر میکسم نام رکھا اربوں روپے سمیٹے، انعام اکبر فراڈ میں کراچی میں گرفتار ہوا، جاپان، کوریا وغیرہ کے پھیرے لگائے، لاکھوں ڈالر کمائے، جنوبی کوریا سے ڈانس گروپ لایا گیا مال بٹورا گیا، بعد ازاں غلام اکبر نے محمود شام، سرور سکھیرا کے ذریعے بینظیر بھٹو کو رجھا لیا، پیپلزپارٹی کی پبلسٹی مہم میں اربوں روپے حاصل کئے ’’میں وزیراعظم نہیں بنوں گی‘‘ نامی کتاب لکھی، بینظیر ہٹیں تو میاں نواز شریف کے تلوے چاٹے، حسین حقانی کے ساتھ شراکت کر کے غلام اکبر نے نواز شریف سے اربوں روپے حاصل کئے، مختلف ناموں سے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں پلاٹ الاٹ کروائے۔ نواز شریف کے بعد محمد علی درانی کو قابو کیا، بیٹے انعام اکبر کو میڈاس کا سربراہ بنایا آفتاب اکبر فلم میکر بن گیا، بیٹی اور داماد کو کراچی میں کاروبار کروایا خود غلام اکبر نے زاہد ملک سے الاخبار خرید کر صحافت شروع کر دی، کمرشل پلازہ اسلام آباد میں تعمیر کیا پرنٹنگ پریس لگایا، انعام اکبر نے چوہدریوں کے توسط سے اربوں روپے کے سرکاری اشتہار حاصل کئے کل کے زیرو آج کے ہیرو بن گئے، غلام اکبر نے زندگی بھر کار ڈرائیونگ نہ کی، کار تھی ہی نہیں، مشرف کے ہٹنے کے بعد غلام اکبر نے عمران خان کو ہیرو بنا لیا، کمال ہشیاری یہ ہے کہ اپنی بیگم کو الاخبار کا چیف ایگزیکٹو بنا دیا (جس کو اردو لکھنا پڑھنا نہیں آتی)، نوعمر بیٹی کو منیجنگ ایڈیٹر مقرر کر دیا، طارق وارثی جیسے منجھے ہوئے صحافی کو تیسری پوزیشن پر ملازمت دی، غلام اکبر تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینٹ میں بیٹھنا چاہتے ہیں، انعام اکبر (نان گریجویٹ) ایڈورٹائزنگ کا ملک ریاض بن بیٹھا ہے، 1990ء سے آج تک کی چھان بین یہ ثابت کر دے گی کہ میڈاس بحریہ ٹاؤن کیسے بن بیٹھی، کوڑیوں کے محتاج آج پاکستان کی سب سے بڑی اشتہاری کمپنی کے مالک کیسے بن گئے، کالا دھن کیسے بٹورا گیا، اے پی این ایس کا ریکارڈ چھان بین کے لئے بہت کافی ہے ڈاکٹر تنویر احمد کے ہاتھ گیلے ضرور ہوں گے لیکن ایف آئی اے والے سب کچھ اگلوا سکتے ہیں، حامد میر اور ابصار عالم نے ہمت کر ہی ڈالی ہے تو منو بھائی، محمود شام، عظمیٰ گیلانی، آصف رضا میر، طارق خان، میکسم ایڈورٹائزنگ کے تنویر احمد سے بھی رابطہ کر کے حقائق جمع کر کے سپریم کورٹ میں داخل کریں، گلستان پاکستان کی ہر شاخ پر کوئی نہ کوئی غلام اکبر بیٹھا ہے، میڈاس کی مکمل آزادانہ تفتیش ثابت کر دے گی کہ اشتہاری ایجنسیوں کے توسط سے کیسا کیسا سیاہ دھندہ جاری ہے۔

farma...@tribune.com.pk

unread,
Sep 19, 2012, 6:44:13 AM9/19/12
to pressp...@googlegroups.com
Corruption is the tradition of right wing journos and newspaper owners and so-called custodians of Pakistan's ideology who always benefited from Establishment in the shape of ads, secret funds and declarations right from Nizamis to Shamis to Maulana Salahuddin to (late) Mir Khalilur Rehman and his sons Shamis and hundreds of dubious columnists and reporters who are on the payroll of our agencies.

FA Baig
Sent from my BlackBerry® smartphone from Warid.

From: Qamar Ullah <mqama...@gmail.com>
Date: Wed, 19 Sep 2012 12:51:16 +0500
Subject: Re: Midas Corruption Story of Black Money
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages