
ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون
اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔
أفمن شرح الله صدره للإسلام فهو على نور من ربه
تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے
شب معراج جب میں جنت میں داخل ہوا تو حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے میرا استقبال کیا، میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کونسا عمل ہے جس کو آپ سب سے زیادہ فضیلت والا، اللہ تعالی کے دربار میں محبوب ترین اور میزان میں سب سے زیادہ وزنی سمجھتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: آپ کی خدمت میں درود پیش کرنا اور آپ کی شان و عظمت بیان کرنا‘ نیزحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں خدائے تعالی سے درخواست رحمت کرنا۔ (نزہۃ المجالس ومنتخب النفائس، باب مناقب أبی بکر وعمر جمیعا رضی اللہ عنہما، ج1 ، صفحہ 348)
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: گزشتہ شب جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ (حضرت) جعفر (رضی اللہ تعالی عنہ) جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کررہے ہیں اور (حضرت) حمزہ (رضی اللہ تعالی عنہ) ایک عظیم تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب، حدیث 4878)
آپ کی جدائی سے بڑھ کر میرے لئے کوئی اور صدمہ نہیں ہوسکتا، پھر آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اپنی پھوپھی جان حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا: خوش ہوجاؤ! ابھی جبریل امین علیہ السلام میرے پاس آئے تھے، انہوں نے مجھے خوشخبری سنائی کہ یقینا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا نام مبارک آسمان والوں میں لکھا ہوا ہے: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شیر ہیں۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب،حدیث 4869)
ہمارے قبیلہ کے ایک صاحب کو لڑکا تولد ہوا،تو انہوں نے عرض کیا کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے؟ تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے سب سے زیادہ محبوب جو نام ہے وہی اس لڑکے کا نام رکھا جائے! (مجھے سب سے پسندیدہ نام) "حمزہ بن عبد المطلب" رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے۔ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب ،حدیث 4876)
جس دن اللہ تعالی تمام مخلوق کو جمع فرمائے گا ان میں سب سے افضل انبیاء ومرسلین ہی رہیں گے اور رسولوں کے بعد سب سے افضل شہداء کرام ہوں گے اور یقینا شہداء کرام میں سب سے افضل حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ ہونگے۔
المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب،حدیث 4864
المعجم الأوسط للطبرانی، حدیث 930
جامع الأحادیث للسیوطی، حدیث 4003
کنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال، حدیث 36937
حمزہ بن عبد المطلب تمام شہیدوں کے سردار ہیں.
المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب ،حدیث 4872
المعجم الأوسط للطبرانی، باب العین من اسمہ علی، حدیث 4227
ہم نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کبھی اتنا اشک بار نہیں دیکھا جتنا کہ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر اشک بار ہوئے، آپ نے انہیں قبلہ کی جانب رکھا، پھرآپ جنازہ کے سامنے قیام فرما ہوئے، آپ اس قدر اشک بار ہوئے کہ سسکیاں بھی لینے لگے، قریب تھا کہ رنجیدگی کے سبب آپ پر بیہوشی طاری ہوجائے، آپ یہ فرماتے جاتے: اے حمزہ ! اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے چچا، اے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے شیر! اے حمزہ! اے نیکیوں کو انجام دینے والے! اے حمزہ ! اے مصیبتوں کو دور کرنے والے! اے حمزہ ! اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کی جانب سے دفاع کرنے والے، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب نماز جنازہ ادا فرماتے تو چار مرتبہ تکبیر فرماتے اور آپ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ستر (70) مرتبہ تکبیر کے ساتھ نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔ امام بغوی نے اس روایت کو اپنی معجم میں نقل کیا ہے۔
شرح مسند أبی حنیفۃ، ج1، ص 526
ذخائر العقبی۔ ج 1 ، ص 176
السیرۃ الحلبیۃ، ج 4، ص 153
المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی