شب برأت و ولادت با سعادت حضرت صاحب العصر والزمان عج کے موقع پر خصوصی آرٹیکل

201 views
Skip to first unread message

Perawan-e-Wilayat

unread,
Jun 2, 2015, 7:52:15 AM6/2/15
to perawan-...@googlegroups.com


image


image



عزیز برادران و خواہران


السلام علیکم و رحمۃاللہ
 


بمناسبت شب برأت و ولادت با سعادت حضرت صاحب العصر والزمان عج کے موقع پر تمام مومنین ومومنات بالخصوص تمام علمائے کرام و مجتہدین عظام و بالاخص رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی خدمت میں ہدیہ تبریک و تہنیت عرض ہے۔اسی مناسبت سے تحریر پیش خدمت ہے۔


تحریر کے عنوانات:
ماہ شعبان کی فضیلت و اہمیت،مفہوم شب برأت،شب برأت تقدیر ساز رات،پیدائش امام زمانہ عج میں حکمت الہی،مفہوم و انتظار و فرج ،حقیقی منتظرین۔۔۔۔ یہ سب جاننے کیلئے ضررو پڑھیں۔


اقتباس از خطاب استاد محترم آغا سید جواد نقوی


رسول اللہ ص کا ارشادِ گرامی ہے

''افضل الاعمال انتظار الفرج''

ہم اس حدیث کے معنی و مفہوم پر بحث کرینگے لیکن اس سے پہلے میں ماہ شعبان کی فضیلت پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں۔


شب ِنیمۂ شعبان، شب ِ میلادِ مسعودِ حضرتِ حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور پاکستان یا بعض دینی تعبیرات میں شب ِ برأت کے نام سے معروف یہ شب ایک ایسے مہینے یعنی شعبانِ معظم میں قرار پائی ہے جس کو رسول اللہ ۖنے اپنا مہینہ قرار دیا ہے۔

حضرت رسول اللہ ۖکا فرمان ہے
''الشعبان شہر و رمضان شہر اللہ''
شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔

ماہِ شعبان ، ماہِ مبارک ِرمضان میں جانے کے لئے دالان ہے۔اللہ تعالیٰ نے شہر اللہ میں پہنچنے کے لئے رجب و شعبان کو آمادگی کا مہینہ قرار دیاہے ہے اور رسول اللہ ۖ کا فرمان تھا کہ مجھے شعبان بہت پسند ہے۔ روایات میں ہے کہ بعض صحابہ اور بعض ازوجاتِ رسول اللہ ۖ نے آپ ۖسے سوال کیا کہ ایامِ سال میں آپ ۖ کو کون سے ایام سب سے زیادہ پسند ہیں؟ تو حضرت ۖ نے فرمایا کہ رمضان کے بعد مجھے شعبان سب سے زیادہ پسند ہے اور حضرت ۖ کا یہ فرمان ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ پورا شعبان حالت ِروزہ میں گزاروں اور ایسا ہی تھا۔ رسول اللہ ۖ کی حیاتِ مبارک میں جتنے شعبان آئے ، روایات میں ہے کہ حضرت ۖنے اکثر ایامِ شعبان حالت ِروزہ و صوم میں بسر کئے اور یہی توفیق تھی جس کے نتیجے میں انسان کے لئے لیلة القدر کا ادراک ممکن ہوتا ہے اور انسان حقیقت و سرِّ لیلة القدر کو پانے کے قابل و لائق ہو جاتا ہے۔ شعبان کا ہر دن ، ہر رات اورہر لمحہ انسان کی آمادگی کے لئے غنیمت اور فرصت ہے۔


شعبان کے اہم اعمال:
بعض اعمال جنہیں تاکید کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ یہ ماہِ شعبان میں انجام پائیں اُن میں ایک استغفار ہے کہ انسان خداوند تبارک و تعالیٰ سے بکثرت مغفرت و بخشش طلب کرے اور بارگاہِ خدا میں توبہ کرے۔
دوسرا عمل روزہ ہے۔ حتیٰ کہا گیاہے کہ اگر پورا ماہ روزہ نہیں رکھ سکتے تو شعبان کاایک روزہ ضرور رکھو بلکہ بعض روایات میں ہے کہ شعبان کے روزے کو رمضان کے روزے سے متصل کردو یعنی روزے کی حالت میں رمضان میں داخل ہو۔ایک اور عمل جس کی روایات میں تاکید کی گئی ہے وہ صدقہ ہے کہ انسان بارگاہِ خدا میں زیادہ صدقہ دے۔

مفہومِ شبِ برأت:
شب ِنیمۂ شعبان کو شب ِبرأت کہتے ہیں۔ شب ِبرأت کاوہی لیلة القدر والا معنی ہے۔ برأت بھی اصل میں عربی لفظ ہے اور قرآن مجید سے لیا گیا ہے جو استعمال ہوتے ہوتے برأت سے برات بن گیا ہے( اس کا ہمزہ غائب ہوگیا ہے اور الف کے ساتھ تلفظ ہونے لگا ہے)۔ہم اس کو فارسی اور اردو میں برات کہتے ہیں ۔ 'بارات' اور' برأت' میں فرق ہے۔ بارات یعنی شادی کا جلوس جو دلہن کو ساتھ لے جانے کے لئے ہوتا ہے جبکہ برات، عربی لفظ برأت سے لیا گیا ہے جس سے تبریٰ بنا ہے۔

پاکستان میں جس طرح باقی ہر یوم کے لئے ہندی رسومات اور طور طریقے ہیں اور بچپن سے ہم دیکھتے آئے ہیں کہ شب ِ برأت پٹاخوں سے گزاری جاتی ہے۔ شب ِبرأت کا نام آتے ہی ذہن میں پٹاخے آجاتے ہیں اوربچے، جوان سب اس کے لئے تیاری کرتے ہیں اور جو پٹاخے نہیں چھوڑ سکتے وہ حلوہ یا کوئی اور انتظام کرلیتے ہیں لیکن جوانوں کی دلچسپی پٹاخے چھوڑنا ہے۔

پاکستان پہنچتے پہنچتے دین ِاسلام اپنی روح کھو بیٹھا ہے اور شب ِ برأت بھی پاکستان پہنچتے پہنچتے پٹاخوں کی حد تک آگئی ہے حالانکہ یہ بہت عظیم شب ہے اور اس کا عنوان' شبِ برأت' بھی بہت عظیم عنوان ہے۔

برأت' نجات' کو کہتے ہیں یعنی شبِ برأت، شب ِنجات ہے! نیمۂ شعبان میں مومنین کی قبور پر جاکر اُن کے لئے دعا مانگنا ایک تاکیدی عمل ہے ۔یہ شبِ نجات ہے لیکن کچھ نے اس کو پٹاخوں کی رات بنادیا ہے اور کچھ نے اس کو عریضوں کی رات بنا دیا ہے کہ عریضے لکھیں اور جاکر پانی میں ڈالیں، اپنی حاجتیں امام ـتک پہنچائیں اور پھر امام ـ ان کوآگے اللہ تک پہنچائیں۔


عریضۂ حاجت ،دعا کا پیچیدہ طریقہ:
ہم نے امام ـ تک اپنی آواز پہنچانے کا ایک پیچیدہ طریقہ اپنایا ہے کہ پہلے اپنی حاجتیں کاغذپر لکھیں پھر اس کو آٹے میں بند کریں،اس کی گولی بنائیں، پھر اس کو جاکر کسی ، سمندر ،دریا یا نہر میں ڈالیں پھر اس کے بعد یہ سارے حضرت خضر ـتک پہنچیں گے (اگر انہیں مچھلیاں نہ کھا ئیں)۔ پھر حضرت خضر ـاس ساری ڈاک کو چیک کریں گے اور لے کر وہ ساری امام ِ زمانہ ـتک پہنچائیں گے، پھر امامِ زمانہـ اسے اللہ کی ذات تک پہنچائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت آسان طریقے بتائے ہیں۔ عریضے پیش کرنے کا آسان طریقہ اللہ نے 'دعا' مقرر کیا ہے ۔شبِ برأت، شب ِدعا ہے اور شعبانِ معظم و رمضانِ کریم کا ہر دن دعا کے لئے مقرر ہے۔ آپ بارگاہِ خدا میں دعا کریں اور اولیائے خدا و آئمہ اطہار کو بارگاہِ خدا میں بطور وسیلہ پیش کریں،براہِ راست اللہ سے بات کریں۔ دعا خدا سے رابطے کا نام ہے اور شبِ برأت ،دعا کی شب ہے۔

شب ِبرأت تقدیر ساز رات
معصومین نے فرمایا کہ یہ نیمۂ شعبان لیلة القدر ہے۔اپنی تقدیر، قوم کی تقدیر، مملکت اور ملت سب کی تقدیر ساز رات ہے۔ اس لمحے کو غنیمت سمجھنا ہے، یعنی وہ لمحے جو بہت کم میسر آتے ہیں اور بہت جلدی گزر جاتے ہیں لیکن بیدار، آگاہ اور ہوشیار انسان اُن لمحوں سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ اصل ساری بات اس ایک گھڑی کی ہوتی ہے جو انسان کو مل جائے اور جس میں انسان اپنا دل خدا کے سپرد کرے اور اپنے دل میں اللہ کو لے آئے اور اس لحظے انسان کی تقدیر بن جاتی ہے، اس لحظے انسان کو راستہ مل جاتا ہے۔ اس شب خداوند تبارک و تعالیٰ سے امیدوار رہنا چاہئے اور چونکہ لیلة القدر کے بارے میں قرآن نے فرمایا ہے کہ
''خیر من الف شہر''
یعنی ہزار مہینوں کا سفر اس ایک رات میں کیا جاسکتا ہے۔ اتنی گنجائش اس شب اور ان لمحات کے اندر موجود ہے۔

پیدائشِ امام زمانہ ـمیں حکمتِ الٰہی
حکمت ِخدا یہ ہے کہ جس طرح لیلة القدر میں اس ذاتِ حکیم نے قرآن مجید اتارا،اسی طرح نیمۂ شعبان میں خداوند تبارک وتعالیٰ نے قرآنِ ناطق اتارا یعنی ہادیٔ اُمت، حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا وجودِ مبارک اس دنیا میں اسی شب یعنی لیلة القدر یا نیمۂ شعبان کو عطا ہوا ہے اور اس وقت ہم زمانہ ٔغیبت و زمانۂ انتظار میں رہ رہے ہیں۔
ہم زمانۂ انتظار میں شعبان و رمضان اور ہر دن گزارتے جارہے ہیں لیکن زیادہ توجہ کے ساتھ نہیں گزار رہے۔ مختلف امور اور مسائل نے ہمیں غافل کردیا ہے اور ہم لہو کی حالت میں ہیں۔ لہو ایسی سرگرمی کو کہتے ہیں جو انسان کو مقصد سے دور کر دے اور اسے مقصد فراموش کرا دے۔

مفہوم انتظار و مفہوم فرج 
آج ہم کہتے ہیں کہ ہم حالت انتظار میں ہیں اور اپنے امام کا انتظار کر رہے ہیں جیسا اوپر رسول اللہ ﷺ کی حدیث بھی بیان کی گئی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ افضل عبادت انتظار فرج ہے لیکن کیا ہم انتظار اور فرج کے معنی سے بھی آشنا ہیں کیا ہم امام زمانہ عجل اللہ فرجہ شریف کے انتظار کا حق ادا کررہے ہیں۔

انتظار ۔۔ایک قرآنی اصطلاح جس کا تصور ہماری عام سادہ زبان میں نظارہ کرنا لیا جاتا ہے یعنی آپ بس بیٹھ کر نظارہ کرو کسی شہ کا کہ کیا ہورہا ہے یعنی جیسے کوئی میچ ہوتا ہے تو ہم بیٹھ کر تماشہ دیکھ رہے ہو نظارہ کر رہے اس میچ میں ہم کر نہی سکتے کچھ۔ہم نے انتظار کا معنی نظارہ کرنا لیا ہے۔یہ زہن سے نکال لیں کہ انتظار کا معنی نظارہ کرنا ہے ۔بلکہ لفظ انتظار نظر سے نکلا ہے ۔نظر یعنی روئیت کے بعد بصیرت و عقل کے زریعے جستجو و کوشش کر کے حقیقت تک پہنچنا۔مثلا جیسے ہم دکان پر کوئی چیز خریدنے جاتے ہیں تو دو کام کرتے ہیں جو چیز خریدنی ہو پہلے اسکو آنکھوں سے دیکھتے ہیں اس کے بعد اس کو عقل و بصیرت کیساتھ شعور کیساتھ اس چیز کی جانچ پڑتال کرتے ہیں کہ چیز ٹھیک ہے یا نہی اصلی ہے یا نقلی اچھی طرح تسلی کرتے ہیں اور پھر خریدتے ہیں یہ تسلی کرنا صرف چیز کو دیکھنے سے پتہ نہی چلتا چیز کو پرکھنے کیلئے آپ کے پاس آنکھ کی نظر نہی بلکہ بصیرت و عقل کی نگاہ ہونی چاہیے ۔انتظار یعنی انتھک کوشش جستجو کے زریعے اپنے اندر کسی شہ کے معائنے کی صلاحیت کا پیدا کرلینا تا کہ جس حقیقت کے انتظار کا کہا گیا ہے اس تک پہنچ جانا اسے تلاش کرلینا ،اسکو انتظار کہتے ہیں۔


فرج۔۔۔انتظار کے بعد لفظ فرج ہے ۔زمانہ غیبت میں افضل عمل انتظار فرج ہے ۔وہ چیز جو ملی ہوئی ہو جڑی ہوئی ہو اسمیں اگر دراڑ پڑجائے اس کو فرج کہتے ہیں۔مثلا ہماری جلد جڑی ہوئی ہے اگر اسکو تیز دھار آلے سے کاٹین تو اسمیں رخنہ یا دراڑ آجائے گی اسی کو فرج کہتے ہیں ۔فرج کا ایک اور معنی بھی ہے کشائش ۔۔یعنی ایس صورتحال جس میں ہر چیز بند ہوجائے فکر بند ہوجائے،نظر بند ہوجائے،سوچ بند ہوجائے آگے بڑھنے کے راستے بند ہوجائیں جیسے اکثر پولیس سڑک بند کردیتی ہے راستہ بند کردیتی اس بند راستے کو کھولنا اس بند سڑک کو کھولنا فرج کہلاتا ہے۔یعنی بند راہوں کو کھولنا ،بند سوچ کو کھولنا،بند نظروں کو کھولنا یہ سب فرج کہلاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ امتوں پر کبھی کبھی یہ وقت آجاتا ہے کہ امتوں کے نجات کے راستے بند کردیئے جاتے ہیں یا امتوں کے اعمال کی وجہ سے راستے بند ہوجاتے ہیں ۔آج مسلمانوں کی غلطیوں ،اعمالوں اور رویوں کی وجہ سے اللہ تعالی کا بنایا ہوا نجات کا راستہ بند ہوگیا ہے ۔ظالموں اور اقتدار پرست حکمرانوں ،بنو امیہ و بنو عباس وغیرہ نے مسلمانوں کیلئے یہ راستہ بند کردیا ہے اور امت مسلمہ کو ولایت سے محروم کردیا ہے،کیونکہ ہمارا ولی زمان امام زمانہ بظاہر ہم میں موجود ہ نہی ہیں ۔ان کے ظہور کے لیئے اس بند راستے کو کھولنا یہ فرج ہے ۔اور اس کیلئے کوشش و جدوجہد کرنا یہ انتظار ہے اگر ہم یہ کوشش و جدوجہد کر رہے ہیں کہ تو پھر ہم رسول کی اس حدیث پر عمل پیرا ہیں کہ جس پر بحث کی جارہی ہے اور اپنے آپکو منتظرین کہلانے کا حق رکھتے ہیں ۔اور اگر ہم ایسا نہی کر رہے تو ہم فقط نظارہ گر ہیں اور نظارہ کر رہے ہیں۔کیونکہ امامت و ولایت پر بند راستے کھولنے کی کوشش کرنا کہلاتا ہے انتظار الفرج۔


منتظرین کون ہیں:
منتظرین وہ ہیں جنہونے سارے بند دروازے توڑ دیئے اور توڑ کر اپنے امام کو کہ رہا ہے العجل العجل۔منتظر جب بند دروازے توڑ کر رستے بنا کر العجل کہے گا تب خدا بقیۃ اللہ یعنی اپنے ذخیرے کو بھیجے گا۔کیوں اسلیئے کہ خدا اپنے ذخیرہ کو تماشہ دیکھنے والوں اور نظارہ کرنے والوں میں بھیج کر ذبح نہی کروانا چاہتا ۔چونکہ اس سے پہلے بھی خدا نے ایک کشتی نجات امام حسین ؑ کی شکل میں کوفہ بھیجی تھی کہ جن کو العجل العجل یا امام کہ کر کوفہ کی قوم نے بلایا تھا لیکن بلا کر ان کے ساتھ کیا کیا ۔امام حسین ؑ ان کی العجل کی صدا پر کوفہ چلے گئے اور ان جھوٹے منتظرین نے امام حسین ؑ کو بے دردی کیساتھ شہید کرادیا۔اس لیئے خدا نے فرمایا کہ اب فقط العجل العجل کرنے سے امام نہی آئیگا بلکہ اب امام انتظار کرنے سے آئیگا فرج کو توڑنے سے امام آئیگا ۔لہذا ہمیں حقیقی انتظار کرنا ہے اور راستے کو فرج کو ختم کرنا ہے۔تب جا کر ظہور امام ہوگا یعنی غلبہ امام ہوگا۔ہم ظہور کی دعا اس وقت مانگ سکتے ہیں جب یہ سارے بند دروازے ہم نے کھول دیئے ہو ں تب ہم خدا سے کہ سکتے ہیں کہ اے پروردگار نجات دہندہ امت کو روانہ فرما کہ زمین ان کیلئے آمادہ ہے۔

پروردگار ہم سب کو حقیقی انتظار امام کرنے اور حقیقی منتظرین و پیروئے امام بننے کی قوت ،طاقت،صلاحیت و استطاعت عطا فرما ۔الہی آمین یا رب العالمین بحق محمد و آلہ الطاھرین و المعصومین۔

التماس دعا برائے

پیروانِ ولایت کویت

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages