نکل کر خانقاھوں سے ادا کر رسم شبیری
استاد محترم سید جواد نقوی حفظہ اللہ
''…لَّوْ کُنْتُمْ فِی بُیُوتِکُمْ لَبَرَزَ الَّذِینَ کُتِبَ عَلَیْہِمْ الْقَتْلُ ِلٰی مَضَاجِعِہِمْ ''
(آل عمران:١٥٤)
خداوندتبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
''لَوْ کُنْتُمْ فِی بُیُوتِکُم''
اگر تم گھروںمیںجابیٹھو
''لَبَرَزَ الَّذِینَ کُتِبَ عَلَیْہِمْ الْقَتْلُ ِلٰی مَضَاجِعِہِمْ ''
خدا ایک ایسی قوم پیدا کرے گاکہ جس کے حق میں خدا نے شہادت لکھ دی ہے،وہ اپنے قدموں سے چل کر اپنے مقتل میں جائیںگے اوردین کا دفاع کریں گے۔
اُمت کی اجتماعی زبوں حالی:
اگرچہ بعض جگہوں پر اسلام کو کچھ کامیابیاں نصیب ہورہی ہیں اور یہ کامیابیاں اس مجموعی صورتحال کو توڑنے میں موافق ثابت ہوں گی اور دن بہ دن ہمارے قدم روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں،لیکن مجموعی طور پر آج جہانِ اسلام ودنیائے اسلام جس صورتحال سے دوچار ہے اورجو کچھ اس کے ساتھ ہورہا ہے،اُمت مسلمہ کی یہ حالت شاید تاریخ میںکبھی نہیں تھی، اس قدر افسوسناک ذلت و رسوائی جہانِ اسلام کو نصیب نہیں ہوئی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ناصرف اس لئے کہ دشمنِ دین تمام مقدساتِ دین کو پائمال کررہا ہے بلکہ اُس سے بڑھ کر یہ کہ اس کے مقابلے میں دنیائے اسلام کا رویہ کہیں زیادہ افسوسناک تر ہے۔کیا وجہ ہے اس کی کہ مسلمان اس قدر پست،رسوااورزبوںحال ہیں ؟تاریخ اس قسم کا چہرہ بتانے سے قاصر ہے،البتہ ایسے ادوار اورایسے مراحل جن میں مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑاتاریخ میں کئی بار آئے،خفت و زبونی و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا لیکن جوذلت آج مسلمانوں کے دامن گیر ہے کہیں بھی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ہے کہ پورا جہانِ اسلام اس قدر رُسوائی کا شکار ہوا ہو۔اس کی مشکل کہاں ہے،بنیاد کہاں ہے؟ہماری ساری توجہ یہ ہے کہ دشمن کیاکررہاہے؟ دشمن تودشمن ہوتاہے،دشمنی نہ کرے تواورکیا کرے ! ہماراساراشکوہ اورگلہ یہ ہوتا ہے کہ شیطان شیطانیت کررہاہے، آخرشیطان شیطانیت نہ کرے تواورکیا کرے؟شیطان تو شیطانیت کرسکتا ہے،شیطان کو خدا نے بنایا ہی گمراہی اور شیطانیت کے لئے ہے۔جس قوم کی توقع اپنے دشمن سے یہ ہوجائے کہ دشمن ہم پہ رحم کھائے،دشمن دشمنی چھوڑ دے،دشمن سے مطالبہ کرتی رہے کہ دشمنی چھوڑ دے،اس قوم کو ذلت سے کوئی نہیںبچاسکتا۔یہ نہیں ہوسکتا کہ عدو عداوت چھوڑ دے،دشمن دشمنی چھوڑدے،شیطان شیطانیت چھوڑ دے اور گمراہ گمراہی چھوڑدے، یہ مطالبہ اگر ہزار سال بھی تکرار ہوتا رہے کبھی پورا نہیں ہوگا۔ہم روزانہ خداکی بارگاہ میںجھک جھک کر،سجد ے کرکے اورروروکر گڑگڑا کر یہ دُعا کریں،کہ پروردگار ا !شیطان کو شیطانیت سے باز رکھ،تویہ دُعا کبھی پوری نہیں ہوگی۔خدا نے کہیں یہ نہیں فرمایاکہ جب بھی شیطان تم پہ حملہ آور ہوگا میں شیطان کو جکڑ دوں گا،میںشیطان کو شیطانیت نہیں کرنے دوںگا،بلکہ خدانے ہمیںشیطان کی شیطانیت سے آگاہ فرمادیا،متنبہ کیا،ہوشیار کیا، بیدارکیا بلکہ انبیاء اورمعصومین کے ذریعے یہ بتایا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔سب سے پہلے انسان آدم ابوالبشر کو زمین پر بھیجنے سے پہلے خداوند تبارک وتعالیٰ نے فرمایا !شیطان تیرا دشمن ہے اورآدم نے بھی خدا سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ میرے دشمن کو دشمنی نہ کرنے دے،نہ شیطان سے مطالبہ کیا کہ تو دشمنی ترک کردے اورنہ خداسے چاہا کہ شیطان دشمنی چھوڑدے بلکہ خدا سے یہ دُعا مانگی کہ خدایا! اگر تو نے اسے شیطان بنایا ہے اور وہ میرا دشمن ہے تو مجھے اتنی بصیرت عطا فرما کہ اپنے دشمن کو پہچان سکوں اوراُس کی دشمنی کو پہچان سکوں اوراُس کے دشمنانہ حیلوں کو سمجھ سکوں اورمجھے اتنی استقامت عطافرما،مجھے اتنی قوت عطا فرما کہ میں دشمن کے سامنے دب نہ جاؤں،شکست نہ کھاجاؤں،جھک نہ جاؤں،تسلیم نہ ہوجاؤں۔معصومین کی سیرت بھی اسی بات کی نشاندہی کرتی ہے،سید الشہداء نے کربلا میں ہمیںجو درس دیا،جسے ہم نے عزاء کی شکل میںزندہ رکھا ہواہے وہ درس یہ نہیں ہے کہ خدایا! زمانے میں کوئی یزید پیدا نہ ہو،وہ درس یہ ہے کہ پرودگار!جب بھی زمانے میں یزید پیدا ہو ہمیں حُسینیت کی توفیق عطافرما۔چونکہ یہ تو پید اہوتے رہیں گے،یہ عمل کبھی رُکنے والا نہیں ہے۔
رسمِ شبیری حقیقت ِ ابدی:
حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری
بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی!
(علامہ اقبال،بالِ جبریل،غزل نمبر٥٤)
رسم شبیری ایک حقیقت ِابدی ہے جسے ہر دور کے یزید کے مقابلے میں خدا نے ایک سُنّت کے طور پر قائم کیا،اگرچہ اندازِ کوفی اورشامی بدلتے رہیں گے اوربدل رہے ہیںلیکن حُسینیت اور شبیریت حقیقت ِ ابدی ہے۔دین شبیری ایک خاص دین ہے۔جس قوم کا دشمن بیدارہو اوروہ قوم غافل ہو،بے توجہ و لاپرواہ اوربے حس ہو،اسکا انجام بخیر نہیں ہوتا،رسمِ شبیری دشمن کے مقابل اقدام بیداری کا تقاضہ کرتی ہے۔
ہمارا موضوع کیونکہ علامہ اقبال کے شعرکاایک مصرعہ ''نکل کر خانقاہوں سے ادا کررسم شبیری'' ہے،اس لیے پہلے معلوم ہونا چاہئے کہ رسم شبیری ہے کیا؟اورخانقاہی سے کیامُراد ہے؟ یہ خانقاہ آئی کہاں سے ہے؟ جس خانقاہ سے باہر آنے کی ضرورت ہے وہ خانقاہ ہے کیا؟اور رسمِ شبیری کیا ہے؟جسے ادا کرنا ضروری ہے۔
اُمت کیلئے ابلیس کا منشور:
علامہ اقبال کی ایک نظم '' ارمغانِ حجاز (اُردو)'' میںہے جسکا عنوان ہے: ''ابلیس کی مجلسِ شوریٰ ''، یعنی ابلیس کی پارلیمنٹ،ابلیس نے اُس میں تمام جہان میںموجود اپنے نمائندوں کو طلب کیا،سالانہ اجلاس میں،مسلم و غیر مسلم ممالک سے،دینداروںاوربے دینیوں کے اندر، دنیاداروں کے اندر، مذہبیوں اورغیر مذہبیوں کے اندرجتنے شیطانی طبقے تھے سب کو بُلایا! چونکہ ہر طبقے میںشیطانی چیلے ہیں اورجو طبقہ جتنا حق کے زیادہ قریب ہوتا ہے اُس کے اندر شیطانی چیلے زیادہ ہوتے ہیں، جو راہ ِمستقیم کے زیاد ہ قریب ہووہ زیادہ شیطان کی دسترس میں ہوتا ہے،شیطان کی معرض خطر میں ہوتاہے،جوحق سے دُور ہو شیطان اُس کی طرف سے مطمئن ہے،شیطان اُس پہ اپنا وقت ضائع نہیں کرتا،پس یہ نہ کہنا کہ شیاطین اُن گمراہوں کے اندر موجود ہوں گے، وہ تو ہیںہی شیطانی چیلے،وہاں شیطان کو اپنا وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ شیطان توجہ وہاں دیتا ہے جہاں اسکی ضرورت ہو،جہاں اسکے بغیر ہی کام چل رہاہووہاں نہیں جاتا۔ایک عام سادہ سی بات ہے،ہر حکومت کا دارومدار اُس کے جاسوسی ارادے پر ہوتاہے۔حکومتی جاسوس اُن لوگوںمیں نہیں جاتے جو حکومت کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہوتے،وہاں وقت ضائع نہیں کرتے۔کسی کرکٹ کے اسٹیڈیم میںجاسوس نہیں جائیںگے،کہ کونسی گیند حکومت کے خلاف پھینکی جاتی ہے،کونسا بَلّاحکومت کے خلاف ماراجاتاہے۔اگر کوئی حکومت اپنے جاسوسوںکوکرکٹ اسٹیڈیم میں بھیج دے، یہ بیوقوف حکومت ہے،اپنی توانائیاں ضائع کررہی ہے وہ کہاں پر اپنے جاسوس بھیجے گی؟جہاں پر اُس کو خطرہ ہو کہ اس مجلس و محفل میں ممکن ہے حکومت خلاف کوئی قدم اُٹھتاہو۔شیطان بھی اپنے چیلے اُن گمراہوں کے اندر نہیں بھیجتا، بس اڈے پر شیطان کے چیلے نہیں موجود ہوتے،کیوں؟اس لئے کہ اڈے پر موجود لوگ پہلے ہی اُس کے ساتھی ہیں،اُن میںاپنا نمائندہ بھیج کر اُس کا وقت ضائع نہیں کرتا۔شیطان اپنے نمائندے اُس نسل اوراُس قوم میں بھیجتاہے،اُ ن کی صفوںمیں بھیجتا ہے کہ جن کے بارے میں اُس کو احتمال ہو کہ شاید یہ راہِ حق پر آجائیں،ممکن ہے یہ راہِ حق پر آجائیں، اُن کو دُور رکھنے کے لئے اپنے نمائندے بھیجتا ہے۔شیطانی نمائندے،ابلیس کے نمائندے انسانی شکل میں زیادہ ہیں ! جنوں کی شکل میںکم ہیں،چونکہ جن کی صورت میں شیطانی نمائندہ انسانوں کے اندر اتنا کامیاب نہیں جتنا انسانی شیطان انسانوںمیں کامیاب ہے، انسانی شیطان انسانوں میں زیادہ کامیاب ہے۔ کیونکہ اُس کا چہرہ مہرہ ان سے ملتا جلتا ہے،وہ انہی جیسا اپناحلیہ بنا سکتا ہے،انہی جیسی اپنی شکل بناسکتا ہے، ان کی صفوںمیںاندر گھس سکتا ہے، ان کاہم مسلک و ہم مذہب بن سکتا ہے اوران کے اندر جاکر ان کو بہکاسکتاہے۔ کامیاب نمائندہ وہی ہوتا ہے جو دشمن کی صفوںمیں گھس جائے اورانہی جیسا بن جائے۔
بہترین نفوذکار:
اگر پاکستان انڈیامیں اپنے جاسوس بھیجے تووہ انسان چُن کے بھیجے گا جس کی شکل انڈین سے ملتی جلتی ہے۔ جو اپنے آپ کو ہندوؤں کے اندرڈھال سکے اور انہی جیسابناسکے،انہی میں سماجائے اور پرکھا نہ جاسکے۔کبھی بھی پشتو بولنے والاانسان جس کو اُردو نہ آتی ہو ہندوستان میں جاسوسی نہیں کرسکتا،کوئی بلتی،گلگتی بولنے والا ہندوستان میں جاکر جاسوسی نہیں کرسکتا،وہی کرسکتا ہے جواُن کی زبان جانتا ہو،اُن کے لہجے میں بول سکتا ہو۔مسلمانوں کے اندرشیطانی کرنے والا، شیطانیت کرنے والاانہی جیسا ہوگا، کبھی بھی کوئی یہودی آکریہ کام نہیں کرے گا بلکہ وہی آئے گا جومسلمانوں کی بولی جانتا ہے اُن کے مذہب سے آشنا ہے،اُن کے دین سے آشنا ہے،اُن کی صفوںمیں گھس سکتا ہے،انہی جیسا چہرہ بناسکتا ہے،وہی شیطان کا نمائندہ مسلمانوں کے اندر گھس سکتا ہے۔ اگرشیعہ کے اندر کوئی شیطانی چیلا آئے توکبھی بھی وہابی بن کر نہیں آسکتا چونکہ وہابی کبھی شیعہ کی شکل بنا نہیں سکتا۔اگر شیعہ کے اندر شیطانی چیلا آئے تویقیناشیعہ بن کر آئے گا،وہ تو یہودی بن کر نہیں آسکتاکیونکہ بہت جلدی پہچاناجائے گا اورشیطان اتنا احمق نہیں کہ جس نسل میں اپنے نمائندے بھیجے وہ فوراًپکڑے جائیں،یہ بہت نااہلی ہے،ایسے نمائندے بھیجے جوفوراًپکڑے جائیں،یاد رکھنا چاہئے کہ شیطانی نمائندے پکڑے نہیں جاتے۔
ایسے ہی نمائندوںپر مشتمل اجلاس شیطان نے بُلایا اور اُن سے انکیعلاقوں کی رپورٹ مانگی،جن جن علاقوںمیں،جن جن قوموںمیں،جن جن مذاہب میں،جن جن شہروںمیں اُس نے مامور کیا ہوا تھااُس کی رپورٹ مانگی۔کہا بتاؤ تمہارے شہر میں کیا ہورہا ہے؟آیا شیطانی حیلے کامیاب ہورہے ہیں یا نہیں؟،آیا شیطان کے لئے کوئی خطرہ تونہیں؟،شیطان کوکوئی مشکل تو نہیں پیش آرہی؟، شیطانی نظام کے لئے کوئی مشکل تو نہیں کھڑی ہوگئی؟ کچھ نمائندوں کے بڑی اُمید افزاء خبریں سنائیں اورکچھنے مایوس کن،جن نمائندوںنے مایوس وپریشان کن خبریں شیطان کو سنائیں، اُن میں سے چند نمائندے کھڑے ہوئے اوراپنی اپنی باری پہ تقریر کی۔اگر ہم نے یہ نظم پڑھی ہوتو بات بڑی آسانی سے سمجھائی جاسکتی ہے،ابلیس کی مجلس شوریٰ ضرب کلیم میں،ضرور مطالعہ کریں۔
جمہوریت آمریت کا شیطانی لبادہ:
ایک نمائندے نے اُٹھ کر کھڑے ہوکر کہا کہ شیطانی نظام کو ایک بڑا خطرہ لاحق ہوگیا ہے،کونسا خطرہ؟کہا جموریت کا خطرہ،جموریت ایک نظام ہے جس میں انسان کو آزادی ہے،جس میں انسان کو کرامت حاصل ہے، جس میں انسان کو حقوق مل رہے ہیں،جس میں انسان کو حق حاکمیت مل رہی ہے، جس میں انسان جو چاہے کرسکتا ہے،جس میں عوام کی حکومت ہے،پبلک کی حکومت ہے اوراگر لوگوں کو آزادی مل جائے،لوگوں کو اُن کے حقوق مل جائیں،لوگوں کواُن کی کرامت و شرافت مل جائے تو شیطانی نظام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔شیطان نے اُسے ٹوکا اور روک کر اسے جھڑکا،سرزنش کی، کس طرح سے سرزنش کی؟کہا کہ تو بہت ظاہر بین ہے شیطان کو اُس پرافسوس ہوا کہ توشیطان کانمائندہ ہوکر اتنا ظاہر بین ہے،اتنا سادہ ہے کہ جموریت کو دیکھ کر پریشان ہوگیا،جموریت کا نعرہ سن کرپریشان ہوگیا تجھے معلوم نہیںکہ اصل ماجراکیا ہے۔پوچھنے لگا کیا ماجرا ہے؟شیطان نے کہا چونکہ تیری نظر میں شیطانی نظام کا نام آمریت ہے،شیطانی نظام کا نام یزیدیتہے،شیطانی نظام کا نام فرعونیت ہے،شیطانی نظام کانام استبدادہے،شیطانی نظام کانام ڈکٹیٹرشپ ہے،جموریت خطرہ ہے استبداد کے لئے،جموریت خطرہ ہے آمریت کے لئے۔شیطان نے اس کو جھڑک دیا کہ تو بہت ظاہربین ہے،اندر سے نہیں دیکھتا،پردے کے پیچھے تجھے کچھ نظر نہیں آیا،شیطان نے اسے سمجھایاکہ یہ جموریت کوئی خطرہ نہیں ہے،کیوں؟ شیطان کے بقول کہ یہ جموریت وہ لبادہ ہے جو میں نے خود اپنے ہاتھوں سے سی کر آمریت کے تن پر پہنادیا ہے۔ شیطان نے اپنی پارلیمنٹ میںسمجھایا اپنے نمائندے کو کہ جموریت سے گھبرانا نہیںہے،کیوںنہیں گھبرانا؟چونکہ جموریت میرے اپنے ہاتھوںکاسلا ہوا لبادہ ہے جو میں نے آمریت کے تن پر چڑھادیا ہے پس آمریت کو جموریت سے کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا،ہو نابھی نہیںچاہیے۔
شیطانی لبادے اور بصیرت:
ذرادُنیامیں نگاہیں دوڑا کر دیکھیں اپنے ملک سے شروع کریں پھر آہستہ آہستہ دور جاتے جائیں،اپنے ملک میں دیکھیں آیا آمریت کے تن پر جموریت کا لبادہ چڑھا ہوا ہے یا نہیں ؟استبداد کے تن پر جموریت کا لبادہ اورکتنا بے ڈھنگا لگتا ہے۔ یہ شیطان کی چال ہے،یہ شیطانی نظام ہے یعنی جہاں پر لوگ آمریت سے اُکتا گئے ہوںلفظ آمر سے تھک گئے ہوں،وہاں پر جمہوریت کانام استعمال کرو،نظام وہی نظام ہے لباس بدل دیا،لبادہ بدل دیا۔اگرلبادہ بدل کر کوئی آجائے تو سادہ قومیںدھوکہکھا جاتی ہیں،فریب میں پڑجاتی ہیں وہ یہ سمجھتی ہیں کہ شاید یہ جولبادہ بدل کر آیاہے کوئی اور ہے،سابقہ سے بہترہے ! توجہ فرمائیں! مومن کون ہوتاہے؟صاحب فراست کون ہوتاہے،مومن صاحب ذہانت ہوتاہے،مومن صاحب فطانت ہوتاہے، مومن وہ ہے کہ جس کے بارے میں معصوم نے فرمایا کہ :
''اتقوا فراسة المومن فانہ ینظر بنور اﷲ''
مومن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ نورِ خدا سے دیکھتاہے۔
مومن نورِ خدا سے دیکھتاہے،مومن کبھی دھوکے میں نہیں آتا اورمومنوں کے امیر کا یہ بیان نہج البلاغہ اُٹھا کردیکھئے،مومنوں کے امیر کا یہ بیان ہے :
''یادنیا غری غیری''
اے دنیا! بھیس بدل بدل کر علی کے سامنے نہ آتو جس لباس میں آئے گی علی تجھے پہچان لے گا،تو بھیس بدل بدل کر علی کے سامنے نہ آ،تو اُن لوگوں کے سامنے جا جنہیں تو دھوکہ دے سکتی ہے جو صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں جو صرف لبادوں کو دیکھتے ہیں، جو لبادوں کے اندر نظر نہیں کرسکتے تو انہیں تو دھوکہ دے سکتی ہے لیکن علی ہزار پردوں کے پیچھے چھُپی ہوئی دنیا کو دیکھ لیتا ہے۔توچاہے دین کا لبادہ اوڑھ کے آتجھے پہچان جاؤں گا،تودُنیا کا لبادہ اوڑھ کے آ تجھے پہچان جاؤں گا، توکسی کا بھی لبادہ اوڑھ کے آ میں تجھے پہچان جاؤںگا۔
جموریت ایک لبادہ ہے تنِ آمریت پہ چڑھا ہوالبادہ۔کچھ ملک ہوتے ہیں جواپنی ضرورت سے زیادہ پیداوار بنا لیتے ہیں اور پیداوار کو باہر ایکسپورٹ کرتے ہیں،کچھ ملک ایسے ہیں،کچھ طاقتیں ایسی ہیںجو ضرورت سے زیادہ جموریت بن گئی،لہٰذا اب اُس کو ایکسپورٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا کریں اس جمہوریت کا کوئی بھیخریدار نہیں ہے چونکہ دنیا سب جانتی ہے یہ کونسی جموریت ہے۔ اوراگر کوئی نہ خریدے تواس جموریت کو اس پر ٹھونستے ہیں لہٰذا اسلحہ وفوج لے کر، طیارے وٹینک لے کر،میزائل وبم لے کرقوموں کے اوپر برس پڑتے ہیںکہ لو ہمارے ہاتھو ں سے جموریت لے لو،اگر جموریت نہیں لی تو ہم تمہیں نابود کردیں گے،یہ جموریت ان پر ٹھونس رہے ہیں فوج کے ذریعے جموریت دے رہے ہیں! آمریت کے تن پر چڑھاہوا جموری لبادہ ہے اوربعض ایسے ہوتے ہیں جو ان لبادوں کے اندر چھُپی ہوئی دنیا کویا آمریت کو دیکھ نہیں سکتے،بہت سادہ ہوتے ہیں۔
سادگی یا بنی اسرائیلیت:
سادہ لوح کون ہیں قرآن نے ان کی مثا ل دی ہے، قرآن نے بنی اسرائیل کی مثال دی،جنہیں حضرت موسیٰ نے آکر شیطانی نظام سے نجات دی،فرعو ن کے نظام سے آگاہ کیا اورنجات دی، مصر سے نکالا معجزے کے ذریعے سے سمندر کو شق کیا اُس کے اندر بارہ قبیلوں کے لئے بارہ راستے بنائے اُس قوم کو سمندر عبور کروایا،عبور کرواکے سمندر کے اس طرف لاکر وادیٔ کنعان میں بٹھا کراُن سے کہا کہ اب خدا نے مجھے معراج پہ بلایا ہے۔
بنی اسرائیل کو وادیٔ کنعان میں لے آئے اورخود معراج پر چالیس دن کے لئے پردۂ غیبت میںچلے گئے،چالیس دن کے لئے پردۂ غبیت میں گئے،ایک مہینہ دس دن،حجتِ خدا،ولی و رہبر،نبی و امام اُس قوم کا پردۂ غیبت میں چلاگیا جب لوٹ کر آیا عجیب منظر تھا،منظریہ تھا کہ اُس کاوصی،جانشین تنہا سہما ہوا کھڑا ہے اور ساری اُمت سامری کے گوسالے کے گرد دھمال میں مشغول ہے۔ توجہ فرمائیں موسیٰ نے اُن کو سالہاسال تبلیغ دین کی،سالہا سال موسیٰ کی بات سمجھ میں نہیں آئی،موسیٰ کاخدا سمجھ میں نہیں آیا،ایک ہفتے میں سامری کا گوسالہ سمجھ میں آگیا۔ جب موسیٰ لوٹ کرآئے دیکھاکہ پوری اُمت گوسالے کے گرد دھمال ڈال رہی ہے ہارون،وصی موسیٰ،جانشینِ موسیٰ،نائب موسیٰ،سہما ہوا کھڑا ہے۔موسیٰ آئے پریشان ہوئے توریت کو پھینک کر پہلے ہارون سے پوچھا کہ اے ہارون! کہیں آپ کی سستی کی وجہ سے سامری نے فائدہ تو نہیں اُٹھالیا یوں تو نہیں کہ جس کو میں نائب بناگیاتھااُس نائب نے نیابت نہیں کی،ہارون کے پاس عذر موجود تھا کہا نہیں بھیّا!میں نے سب کچھ کیا،میں نے ہدایت بھی کی،میں نے روکا بھی لیکن قوم نے مجھے گھیر لیااورکہا کہ اگر سامری یاگوسالے کے متعلق کوئی بات بھی کی تو ہم تجھے قتل کردیں گے،یہ سب سادگی کا کمال ہے،سادہ لوح ہمیشہ سامریوں کے جادو میں آجاتے ہیں،آ ج بھی بہت سے ایسے لوگ ہیں جو سامری کے گوسالے جمہوریت کو انسانی فلا ح کا باعث گردانتے ہیں۔
موسیٰ نے آکر کہا کہ اے قوم! تمہاری مقدس سرزمینوں پر دشمن کا قبضہ ہے:
'' یٰقَوْمِ ادْخُلُوا الَْرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِی کَتَبَ اﷲُ لَکُمْ…'' (سورةمائدہ:آیت٢١)
اے قومِ بنی اسرائیل! اے انبیاء کی اولاد!اے بنی یعقوب ! اے ابراہیم کی اولاد! اے اسحاق کی اولاد!تمہاری مقدسات پر دشمن نے قبضہ کرلیا ہے۔وہ مقدس سرزمینیں جوخدانے تمہارے لئے مقرر کی ہیںاُن پر دشمن نے قبضہ کرلیا جاؤ اپنی مقدس سرزمینوں کو آزاد کراؤ۔جواب دیا اے موسیٰ:
''قَالُوْا یٰمُوْسیٰ اِنَّ فِیْھَا قَوْماً جَبِّارِیْنَ وَاِنَّا لَنْ نَّدْخُلَھَاحَتّٰی یَخْرُجُوْا مِنْھَا…''
(سورةمائدہ:٢٢)
اے موسیٰ ! جس قوم کا،جس طاقت کا،جس پاور کاان مقدس سرزمینوں پر قبضہ ہے، وہ بہت جبار طاقت ہے،وہ بڑی قہار طاقت ہے،وہ بڑی مسلح طاقت ہے،وہ بڑی ظالم طاقت ہے اُس کے پاس فوج بھی عظیم ہے،اُس کے پاس ٹیکنالوجی عظیم ہے،ہمیں کس جنگ میں دھکیل رہے ہو،موسیٰ ان چیزوں کو چھوڑو رفاہ کی بات کرو،ویلیفیئر کی بات کرو، جنگی مسائل مت چھیڑو! موسیٰ کیا کہہ رہے ہیں؟
''یٰقَوْمِ ادْخُلُواالْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ ...''(سورة مائدہ:٢١)
''اے میری قوم اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجائو''
انہوں نے موسیٰ سے کہا کہ: انبیاء کو جنگوں کی بات کرنا نہیں جچتاہے، آپ تو نبیء خدا ہو یہ کیا جھگڑے کی باتیں کررہے ہو،یہ کیا ایذا کی باتیں کررہے ہو،یہ کیا الجھنے کی باتیں کررہے ہو، پھر کیا باتیں کریں ؟کہا ویلیفیئر کے کام کرو، ہم بتاتے ہیں کیا کام کرو، این جی او بناؤ،ویلفئیر کے کام کرو،ہم بتاتے ہیں کیاکام کریں؟ کہا کہ من وسلویٰ لاؤچھوڑو جنگ کی باتیں یہ سب چھوڑواور من وسلویٰ لاؤ۔من وسلویٰ لے آئے کہ شاید یہ کھا کر تیار ہوجائیںمن السلویٰ کھاکے پھر کیاکہا ؟
''وَاِذْقُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نِّصبِرَ عَلیٰ طَعَامٍ وَّاحِدٍ...''(بقرہ:٦١)
اے موسیٰ ! ہم من وسلویٰ کھا کھاکے تھک گئے اب ہمارے لئے کیا کرو،یہ ٹوکری لو اورہمارے لئے پیاز،ٹماٹر اوردالیں خرید کر لاؤ کہ ہمارے پیٹ خراب ہورہے ہیں۔موسیٰ چھوڑو جنگ کی باتیں نہ کرو،مقدس سرزمینوں کی باتیں نہ کرو،کھانے پینے کی باتیں کرو،من سلویٰ لے کر آؤ،ٹماٹر پیاز لے کر آؤ۔یہ قرآن کہہ رہا ہے میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا!
ایک قوم جس پرایک ہادی آیا،ہادیٔ خدا حجتِ خدا، نبی ء خدا،ولی خدا شیطانی نظام سے نجات دے کر سمندر کو شک کرکے اس طرف لے کر آیا لیکن قوم کی حالت یہ ہے کہ،اس قدر سادہ ہے کہ سامریت کے بھیس میں چھپا ہوا شیطان اُس کو نظر نہیں آتا،گوسالے کے لبادے میں چھپا ہوا بُت اور مورتی اس کو نظر نہیں آتی،موسیٰ خداکی طرف بلاتا ہے،سامری بُت کی طرف بلاتاہے۔اس کو سامری کی بات سمجھ میں آتی ہے موسیٰ کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔یہ قوموں کا مزاج ہے،یہ قوموں کی دین داری ہے،ہر زمانے کا موسیٰ اسی طرح سے چیختا رہا اورہر زمانے کے موسیٰ کے مقابلے میں ایک سامری بھی رہا۔اگر ایک مہینہ دس دن موسیٰ پردۂ غیبت میں گئے،معراج پہ گئے،توایک سامری پیدا ہوگیا۔ تو جس اُمت کا ولی بارہ سو سال سے پردۂ غیبت میں ہو آیا اُس اُمت کو ہوشیار نہیں ہونا چاہیے کہ اس اُمت کے اندر تو سینکڑوں سامری پیدا ہوسکتے ہیں۔کیا اُس اُمت کو ڈرنا نہیں چاہیے،اُس اُمت کو ہوش میں نہیں آنا چاہیے۔سامری کے پیدائش ک لئے ایک مہینہ دس دن کافی ہیں،لوگ کہتے ہیںکس طرح ہواکہ اگر اٹھارہ ذالحجہ کو رسول اللہ ۖ نے میدانِ غدیر میں ولی کا اعلان کردیا اورپھر اٹھائیس صفر کو رسول اللہ ۖ کی رحلت ہوگئی،دو مہینہ دس دن کی بات ہے، آج تک تعجب کرتے ہیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ۖ نے ولی نصب کیا ہو دومہینہ دس دن بعد اُمت بھول گئی ہو،ذرا قرآن اٹھا کر دیکھو دو مہینہ دس دن تو بڑی بات ہے ایک مہینہ دس دن میں اُمت ولی کو بھول گئی۔ موسیٰ کو چھوڑ دیا،ہارون کو چھوڑ دیا، سامری کو لے لیا،سامریوں کے لبادے میں چھپے ہوئے شیطانی چیلے جس اُمت کو نظر نہ آئیں اُسے جموریت توکیا،اُسے ہر لبادے سے دھوکہ دیاجاسکتا ہے۔
دینِ کوفی:
کوفہ کے اندر بھی لوگ سید الشہداء کے منتظر تھے،ہروقت ورد کرتے تھے کہ امام حسین کوفہ آرہے ہیں، خط لکھ لکھ کرامام کو بُلایا۔ اس سے پہلے کہ سید الشہداء آئیں یزیدنے اپنا جرنیل عبید اللہ ابن زیاد بھیج دیا،کہا کہ حسین ابن علی سے پہلے تو کوفہ میں چلاجا،وہ نقاب اوڑھ کے کوفہ میں آگیا،کوفہ کے میدان میں گھوڑا دوڑاتا رہا،کوفی اس کو یا امام،یا امام کہتے رہے،چونکہ نقاب پڑی ہوئی تھی، کہاگھوڑے سے نیچے اترئیے تاکہ ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں ہم آپ کے قدموں کوچومیں،جس کو پردے کے نیچے،جس کو نقاب کے نیچے چھُپا ہوا عبید اللہ نظر نہ آئے وہ کوفی دین ہوتاہے،جس کی بصیرت پر پردے پڑ جائیںوہ کوفی قوم ہوتی ہے۔عبید اللہ ابن زیاد نقاب اوڑھ کر آیا کوفیوں کو سمجھ میں نہیں آیا عبید اللہ کو حسین ابن علی سمجھ رہے تھے۔لیکن جب اُس نے نقاب الٹی،تو سکتے میں آگئے،سروں پر پرندے بیٹھ گئے اُلٹے پاؤں واپس ہوگئے،پھر کبھی امام حسین کا نام نہیں لیا،یہ نقاب کے پیچھے چھُپے ہوئے آمرکا کمال ہے۔کوفی یہ سمجھے تھے کہ ہماری مدد کو کوئی امام آگیا ہے، ہمیں تحفظ دینے والا کوئی آگیا ہے،یاد رکھیں کہ آمریت کبھی بھی نہ تشیع بچاسکتی ہے نہ دین بچاسکتی ہے نہ اسلام بچا سکتی ہے،آمریت اسلام کے لئے خطرہ ہے آمریت درحقیقت دشمنِ اسلام ہے اوراسلام کا دشمن کبھی تشیع کا مدافع نہیں ہوسکتا۔ عبید اللہ جیسا جرنیل کبھی تشیع کے مدافع نہیںہوسکتا صرف نقاب اُلٹنے کی دیر ہے نقاب اُلٹے تو پتہ چلے گا یہ کون ہے۔
سوشل ازم شیطانی لبادہ:
شیطان نے دوسرے نمائندے سے پوچھا،کہ تم بتاؤ،اپنے علاقے کی رپورٹ بتاؤ وہاں کیا ہوا ؟دوسرا نمائندہ کھڑا ہوا، اس نے رپورٹ بنائی اورپیش کی کہا کہ ہمارے علاقے میں بھی حالات خطرناک ہیں،شیطانی سسٹم کے خلاف ایک نیا نعرہ اور نئی بات ہورہی ہے کون سی بات ہو رہی ہے؟ کہ آزادی کی باتیںہو رہی ہیں،مساوات کی باتیں ہورہی ہیں، سوشل ازم کی باتیں ہورہی ہیں،کیمو نزم کی باتیں ہورہی ہیں،انقلاب کی باتیں ہورہی ہیں کہا یہ بھی شیطانی نظام کے لئے خطرہ ہے آمریت کو سوشل ازم سے خطرہ ہے،شیطان نے اُس کو بھی بٹھایا اور اُس کو بھی جھڑکا اُس کو بھی ڈانٹا کہا تو بھی کوتاہ نظر ہے،تو بھی باریک بین نہیں ہے،یہاںوہ مصرعہ عرض کرنے سے پہلے آپ کی خدمت میں عرض کروں کہ یہاں جو مزدک کا ذکر آیا ہے،وہ مزدک ایک شخص کانام ہے جواسلام سے پہلے یعنی آج سے اڑھائی،تین ہزار سال پہلے پیدا ہوا تھااورسب سے پہلے جس نے اشتراکیت کا نعرہ لگایا،سوشل ازم کا نعرہ جو بعد میں کارل مارکس نے یا اینگل و لینن نے اُس کو ایک سسٹم بناکرروس پر نافذ کیا اور پھر اُس کے بعد چین اوردوسرے ممالک میں نافذ ہوا،مزدک سب سے پہلاشخص ہے جسکے ذہن سے یہ سسٹم اختراع ہوا ہے جس نے اسکی طرح ڈالی،جس نے اس کی بنیاد ڈالی۔غرض شیطان نے سمجھایا کہ یوں نہیں ہے، تم بھی ظاہر بین ہو،تمہاری نگاہ بھی دقیق نہیں ہے۔
شیطان کو اصل خطرہ آئین ِ پیغمبر ۖسے:
جانتا ہے جس پہ روشن باطن ایام ہے
یعنی ہر وہ شخص جانتا ہے جو ایام کی حقیقت کو جانتا ہے،جو باطن کو جانتا ہے،جو لبادوں سے دھوکے میں نہیںکھاتا بلکہ لبادوں کے اندر چھپی ہوئی چیزوں کو دیکھتاہے،اُس پر یہ روشن ہے :
جانتا ہے جس پہ روشن باطن ایام ہے
مزدکیت فتنۂ فردا نہیں اسلام ہے
شیطان کی تشخیص یہ ہے اپنے چیلوں کو بتارہا ہے کہ مزدکیت خطرہ نہیں،جموریت شیطانی نظام کے لئے خطرہ نہیں،کچھ بھی خطرہ نہیں،مزدکیت و اشتراکیت خطر ہ نہیں،اگر کوئی چیزخطرہ ہے تو اسلام ہے۔
شیطان کا نمائندہ اُٹھا اُس نے کہا کہ تو جس خطرے کی بابت ہمیںڈرارہا ہے وہ بھی کوئی خاص خطر ہ نہیں ہے،کیوں؟اس لئے کہ مسلمان کے پاس اسلام کہاں،اس کے پاس قرآن کہاںہے،شیطان نے جواب دیاکہ میں جانتا ہوں یہ اُمت حاملِ قرآن نہیں،مجھے معلوم ہے یہ اپنے رہبر و پیامبر کی سیرت پر کاربند نہیں،اُس کی سنت پر کاربند نہیں،اُس کے اصولوں پر کاربند نہیںہے یہ میں جانتا ہوں، لیکن اُس کے باوجود اسلام ایک ایسا خطر ہے کہ جب بھی یہ اُمت بیدار ہوئی،جب بھی یہ اُمت آگاہ ہوئی تو اسلام میں اتنی طاقت موجود ہے کہ وہ اس اُمت کو آمریت کے مقابلے میں لاکھڑا کرے گا۔
الحذر! آئین پیغمبرۖ سے سو بار الحذر
شیطان نے اپنے چیلوں کو الحذرکیا یعنی خبردار،ہوشیار، کس سے ہوشیار؟آئینِ پیامبر سے ہوشیار کہ یہ آئین جب زندہ ہوگا اس آئین کو اگر کسی نے سمجھ لیا توآمریت زندہ نہیں رہ سکے گی۔
''خانقاہی دین'' شیطانی نسخہ
اب اسکے لیے کیا کیاجائے ؟ کہ کبھی اسلام خطرہ نہ بنے،پس کیا کریں؟شیطان نے راستہ بتایا۔شیطان نے جو راہ حل بتایا اُس کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ شیطانی نمائندے ہر قوم میں موجود ہیں اورخصوصاً اُن کے اندر موجود ہیں جو حق سے زیادہ قریب ہے،اُن لبادوں کو پہچانیں،اُن چہروں کو پہچانیں،اُن مقامات کو پہچانیں کون شیطانی نمائندے ہیں۔
یہ کسی معمولی شخص کی بات نہیں ہورہی،مصّور پاکستان جس نے پاکستان کا تصور دیا،تصور دے کر پاکستانیوں کو خطرات سے آگاہ کیا کہ شیطان تمہاری کمین گاہ میں بیٹھا ہوا ہے،شیطان نے تمہارے لئے منصوبہ بنا کے رکھا ہوا ہے،تُم نے اسلام کے نام پر ملک تو بنالیا لیکن بتاؤ،اسلام تک پہنچو گے کیسے؟اسلام تک کیسے پہنچو گے؟اسلام کے نام پرملک بنالینا آسان ہے اسلام تک پہنچنا مشکل ہے،شیطان نے اپنے نمائندوں کو طریقہ سکھایا۔ایک طریقہ مؤثر جو صدیوں سے شیطانی حیلہ اور شیطانی حربہ اُمت مسلمہ کو اسلام سے دُور رکھے ہوئے ہے،وہی آزمانے کی تلقین کی،شیطان بیووقوف اوراحمق نہیں بڑا چالاک ہے، اپنے نمائندوں کویہ نہیں کہا کہ جگہ جگہ تقریریں کرواورلوگوںسے کہو کہ اسلام کی طرف نہیں آنا اسلام اچھا مذہب نہیں،قرآن کی طرف نہیں آناکہ قرآن اچھی کتاب نہیں،سُنتِ نبیۖ کی طرف نہیں آنا کہ یہ سنّت اچھی نہیں،آئمہ کی طرف نہیں آنا کہ آئمہ کی اتباع اچھی نہیں۔ شیطان اتنا بیووقوف نہیں کہ اس لب و لہجے میں آکر اُمت مسلمہسے خطاب کرے۔ایک عربی ضرب المثل ہے کہجوچیز ممنوع ہوتی ہے وہ زیادہ دل پسند ہوتی ہے،وہی اچھی لگتی ہے۔مثلاً لوگ جب شوگر کے مریض ہو جاتے ہیںاور ڈاکٹرچینی منع کردیتا ہے تو ان کا جی زردہ،حلوہ اور مٹھائی کھانے کو چاہتا ہے۔چونکہ ڈاکٹر نے کہہ دیا نہیں کھانالہٰذا اب کھائے گا۔شیطان اس مزاج کوجانتا ہے کہ اگر میں نے یہ کہہ دیا کہ قرآن کی طرف نہیں آنا تو یہ سب کچھ چھوڑ کر قرآن ہی کی طرف آئیں گے۔اگر میں نے انہیں کہہ دیا کہ امامت و ولایت کی طرف نہیں آنا تو یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر امامت کی طرف آئیں گے۔جو چیز ممنوع ہوجائے وہ دل پسند ہوجاتی ہے لہٰذا شیطان روکتا نہیں،منع نہیں کرتا بلکہ اس نے ایک اور پیچیدہ نسخہ بنایا،اُس پارلمینٹ میں اپنے نمائندوں کو کہا کہ جاؤ اُمت مسلمہ کے اندرجاکر پھیل جاؤ،اس کے ہر فرقے کے اندر جاکر پھیل جاؤاورکیا کرو ؟ کہا میں جو نسخہ بتاتاہوں بس اُسی پر عمل کرو پھر دیکھ لینا کہ یہ اُمت کبھی اسلام کے قریب نہیں آئے گی اوریہ اسلام کبھی بھی شیطانی نظام کے لئے خطرہ نہیںبن سکتا۔کیا نسخہ ہے؟ نسخہ یہ تھا؟
مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے
اسے یہ نہ کہو کہ مسجدوںمیںنہ آئوبلکہ کہو کہ پہلے سے زیادہ آؤ،لیکن مسجدوں میں آکر فقط ذکر و فکرِ صبح گاہی میں مشغول ہوجاؤاورمسجدوں کو خانقاہ بنادو
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے
اس کے دینی مراکز کو خانقاہیںبنادو،اس کی مسجدوں کی خانقاہیں بنادو، ان کے مدرسوں کو خانقاہ بنادو، اس کی امام بارگاہوں کو خانقاہیں بنادو، اس کے جلسوں کو خانقاہ بنادو، اس کے جلوسوں کو خانقاہ بنادو،اس کی عزاداریوں کو خانقاہیں بنادواورفقط ذکر وفکر میں مشغول رکھو،مزاجِ خانقاہی میںاس کو پختہ تر کردو اورجب تک یہ قوم مزاجِ خانقاہی بناکر ذکر وفکر وورد میں لگی رہے گی، شیطان کاکچھ نہیں بگاڑ سکتی،آمریت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔اسکا مزاجِ خانقاہی اتناپختہ تر ہوجائے کہ یہ کعبہ کو بھی خانقاہ بنادے۔اُس کعبہ میں پچیس لاکھ اُمت مسلمہ ہر سال اکٹھی ہوکر چکر کاٹ کے آجائے تو بھی آمریت کو کوئی خطرہ پیش نہ آئے۔اس کی مسجد الحرام کو خانقاہ بنادو،اس کے کعبے کو خانقاہ بنادو۔کیا کریںکعبہ میں جاکر؟ذکر و فکر صبح گاہی کرتے رہیں،وہاں بھی فقط تسبیحاں پڑھتے رہیں،وہاں پر بھی فقط کنٹھے رولتے رہیں۔
اسلام دستورِ عمل یا دستور خانقاہی
توجہ فرمائیں !شیطان نے ہمارے لیے کیا نسخہ بنایا،اقبال کی نظر نے اسے جانچ لیاکہ شیطان نے اُمت مسلمہ کے لئے کیا نقشہ بنایاہے،اس طرح پتہ چل جائے گا کہ کونسا شیطانی چیلہ کس قوم کے اندر رہتا ہے۔کون شیطان کا نمائندہ ہوگیا؟ وہی شیطان کا نمائندہ ہے جس نے آکر مسجدوں کو خانقاہ بنادیا،جس نے آکر عزاداریوں کو خانقاہ بنادیا،جس نے آکر اُمتِ مسلمہ کو ذکر و فکر صبح گاہی میں مشغول کردیا اور اُسے بتادیاکہ محراب میں آؤ لیکن حرب کی بات نہیں کرنا ! محراب کس سے بنا ہے؟ آپ کہیں گے کہ ہمارا محراب تواینٹوں سے بنا ہے،نہیں محراب اینٹوں سے نہیں بنا محراب ''حرب'' سے بنا ہے! حرب کس کو کہتے ہیں؟جنگ کو کہتے ہیں۔محراب حرب سے بنا ہے،اسی لئے امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے یہ فرمایاتھا کہ مسجدیںاسلام کے لئے سنگرہیں،یعنی مسجدیں مورچہ ہیں اسلام کے لئے، نہ کہ کنٹھے رولنے کے لئے ہیں۔
مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے
خانقاہ کیا ہے؟
خانقاہ کیاہے؟ خانقاہوں میں جاکر دیکھیں! البتہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ جہاں بھی خانقاہ کی بات ہوتی ہے،تو پہلے ہی پوچھتے ہیں کہ خانقاہ کس کو کہتے ہیں؟ خانقاہ یعنی وہ عبادت خانہ جو آبادیوں سے باہر بنا لیاجاتاہے،جس میں چلے کاٹے جاتے ہیں،جس کا انسان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،جس کا معاشرے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،جس کا انسانی دردوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا،انسانیت نابود ہوجائے خانقاہ پہ کوئی اثر نہیں پڑتا،یعنی وہ لاتعلق دین جس کا انسان سے،جس کا مسلمان سے،جس کا اُس کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو۔وہ مسجد بھی خانقاہ ہوجاتی ہے کہ جس کے اندر نمازیںتو ہوں،جس کے اندر بیشک نمازِ جمعہ ہولیکن اُس نمازِ جمعہ میں مسلمین کی کوئی بات نہ کی جائے،اُمور مسلمین نہ بیان کئے جائیں،اُس میں مسلمانوں کے درد نہ بیان کئے جائیں،اُس میں فلسطین کازخم نہ بیان کیاجائے، اُس میں کشمیر کاتذکرہ نہ کیاجائے اوراُس میں عراق کا ذکر نہ کیاجائے۔
مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے
پوشیدہ خانقاہیں
وہ مدرسے جوذکر وفکر صبح گاہی میں مشغول ہیں،پڑھتے رہو،پڑھتے رہو۔مدرسے خانقاہ جب بن جائیں فقط ذکر و فکر ہو،کسی جگہ اُردو میں ذکر وفکر ہو،کسی جگہ عربی میںذکر وفکر ہو،ذکر و فکر کی تو کوئی مشکل نہیں ہے جس زبان میںچاہے ذکر وفکر شروع کردو۔ایسا بالکل نہیں کہ عربی میںذکر وفکر کرو تو اسلام ہوجاتاہے لیکن پنجابی میں ذکرو فکر کرو تو خانقا ہ ہوجاتی ہے ! ذکر وفکر جس زبان میں شروع کردو وہ خانقاہ ہوجاتی ہے۔
اسلام دستور العمل ہے منشورِ حیات ہے،زندگی کا دستور ہے منصوبہ ہے اورزندگی کے منصوبے پر زندگی بسر کرنی چاہیے،زندگی کے دستور العمل پر عمل کرنا چاہیے،زندگی کے منصوبے کو عمل میں لانا چاہیے۔جب تک یہ منصوبہ عمل میں نہیں آجاتا اُمت مسلمہ اسلام سے دُور ہے بیشک اسلام کا ورد کرتی رہے! اسلام کے ورد سے شیطان نہیں گھبراتا، تاریخ میں بھی لکھا ہے اور بعض شعراء نے اس کو شعر کی زبان میںبھی بیان کیا ہے کہ ایک نمازِ شب خوان،نمازِ تہجد پڑھنے والا جس کی نمازِ تہجد کبھی قضا نہیں ہوتی تھی،ایک دن تھکا ہوا تھا بڑا خستہ تھاسوگیا،نماز ِ شب کا وقت ہوا اُس کی آنکھ نہیں کھُلی شیطان آیااُس نے اُس کو بیدار کیا کہ اُٹھ نمازِ شب پڑھ،کیونکہ یہ تہجد جو ذکروفکر صبح گاہی ہو فقط،خانقاہی تہجد ہواس کے لیے تو شیطان بھی نیندسے اُٹھاتا ہے!
برطانیہ نے سو سال پہلے بھی عراق پر قبضہ کیا تھا،ایک برطانوی وائسرائے،جرنیل ایک علاقے سے گزر رہا تھاکہ اذان کا وقت ہوگیا،اُس نے آذان کی آوازسُنی،اُسے سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیا ہے اپنے مترجم سے پوچھنے لگا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں،یہ کیا اعلان ہورہاہے؟اُس نے کہا یہ اذان ہے! اذان کیا ہوتی ہے؟ اُس نے تفصیل سے سمجھانا شروع کردیایہ افسربے حوصلہ تھا اُکتاگیا،کہاکہ مختصر کرو،ایک جملے میں مجھے بتاؤکہ یہ اذان برطانیہ کے تاج و تخت کے لئے خطرہ ہے یا نہیں ؟ مترجم نے کہا نا حضور! کوئی خطرہ نہیں ہے! تو کہنے لگا ان مسلمانوں سے کہہ دو کہ جتنی اذانیں دے سکتے ہو دو،اگر مینارے چھوٹے ہیں ہم بڑے بنادیں گے،اگر مؤذن کم ہیں ہم اسپیکر دے دیںگے،ایمپلی فائر ہم دے دیں گے جتنی اذانیںدے سکتے ہو دو۔
اسی لئے اقبال نے کہا:
ملّا کی اذان اور مجاہد کی اذان اور
وہ اذان جو لوری بن جائے،وہ اذان جو سُلادے،وہ اذان جو غافل کردے وہ اور اذان ہے،اوروہ اذان جو ہوشیار کردے،وہ اذان جو بیدار کردے وہ مجاہد کی اذان ہے۔یہ شیطان کا نسخہ اُمتِ مسلمہ کے لئے ہے کہ اس اُمت کو لے جاکر خانقاہوںمیں بند کردو! اس کی مسجدوں کو خانقاہیں بنادو،اس کی عبادت گاہوں کو خانقاہیں بنادو، ان کے مدرسوں کو خانقاہ بنادو،اس کا مزاج خانقاہی بنادو۔اب اگر خانقاہیوں کے ساتھ جو ہوتا ہے ہوتا رہے،انکے ساتھ جو کرتے ہو کرتے رہو،خانقاہیوں کے قرآن کی بے حرمتی ہوتی ہے تو ہوتی رہے،خانقاہیوں کے رسولۖ کی بے حرمتی ہوتی ہے تو ہوتی رہے، خانقاہیوں کو کسی چیز کی کوئی فکر نہیں ہے۔خانقاہیوں کے اوپر بم برساتے رہیں،خانقاہیوں کے امام کا گنبد اگر بم سے اُڑادیاجائے تو ان کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی،خانقاہیوں کو وہ امام دس سال اُٹھاتا رہا،وہ خمینی کبیراس ملت عراق کو دس سال اُٹھاتا رہا کہ اُٹھو! یہ جلاد،یہ سفاک،یہ چنگیز،یہ خونخواراس کا تختہ اُلٹ دو لیکن انہوںنے ایک نہیں سنی، موسیٰ زمان کی ایک بات پلے نہیں باندھی لیکن بیس ہزارکلومیٹر سے ایک سامری اُٹھ کر آتا ہے،آزادی کا گوسالہ لیکر آتاہے،ڈیموکریسی کا گوسالہ لے کر آتا، جموریت کا گوسالہ لیکر آیا،جموریت کا گوسالہ لیکر آیا،انتخابات کا گوسالہ لیکر آیا،اُس گوسالے کے پیچھے پوری اُمت چل پڑی۔
وہ اُمت جس کا مزاج خانقاہی بن جائے اُس کو موسیٰ زمان پکارتا رہتا ہو،وہ موسیٰ زمان کی بات نہیں سنتے لیکن جو گوسالہ لے کر آتاہے اُس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے
خانقاہوں سے نجات؟
اب چارۂ کار کیا ہے؟
چارہ صرف افسوس کرنا نہیں،چارہ یہ نہیں کہ اورذکر وفکر بڑھادیاجائے، چارہ یہ نہیں کہ ورد کے اوقات اور بڑھادئیے جائیں،چارہ یہ نہیں ہے کہ خانقاہیں مزید بڑھادی جائیں،چارۂ کار کیا ہے؟چارۂ کار بھی شاعر مشرق، شاعر اسلام، مصور پاکستان نے بتادیا، کیا بتایا؟
نکل کر خانقاہوںسے ادا کر رسمِ شبیری
خانقاہوں سے نکل رسمِ شبیری ادا کر،یہ خانقاہیں تو نے بنا لی ہیں،یہ خانقاہیں تجھے نہیں بچاسکتیں،دین شبیر ی اپنا لے،یہ دین خانقاہی تجھے نہیں بچاسکتا۔نماز پڑھ تو نمازِ شبیری،اذان دے تو اذانِ شبیری، مسجد بنا تو مسجدِ شبیری، سجدہ کر توسجدۂ شبیری، حج کر تو حجِ شبیری۔وہ حج کر جو ایوان ستم کو لرزا دے، لیکن وہ حج جو یزیدیت کے ستون اور مضبوط کرے تو تُو وہاں اپنا جامۂ احرام کھول دے،کہ یہ خانقاہ ہے کعبہ نہیں ہے،آج تو کربلا جا، جب کعبہ خانقاہ بن جائے تو کعبہ کوکعبہ بنانے کے لئے سجدۂ شبیری کی ضرورت ہے اور یہ سجدہ کعبہ میں نہیں بلکہ مقتل میں اداہوتا ہے۔
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
لیکن افسوس کہ مسجدیں تو خانقاہیں بن گئیں،مدرسے تو خانقاہیں بن گئے، امام بارگاہیںبھی خانقاہیں بن گئیں،سب کچھ خانقاہ بن گیا، افسوس کعبہ بھی خانقاہ بنادیاگیا، اس کا بھی افسوس سب کو خانقاہ بنادیاگیا، لیکن سب سے بڑا افسوس یہ ہے کہ وہ آئینِ شبیری جو ان خانقاہوں سے اُمت کو نکال کر میدان میں لانے کے لئے تھا اُس کو بھی خانقاہی بنادیاگیا۔عزاداری فقط ذکر وفکر کا نام نہیں ہے،عزاداری آئینِ شبیر ہے،آئینِ شبیری ہے !عزاداری سے ایوانِ ظلم لرزتا ہے اس آئیِن شبیری سے شیطان پریشان ہے کہ یہ اُمت اس کی طرف نہ آنے پائے،لیکن اُس کے چیلوں کا کیا کہنا کہ اتنی نفاست کے ساتھ جہاں دوسری چیزوں کو خانقاہی بنایا وہاں عزاداری کوبھی خانقاہی بنادیا۔ عزداری بھی لوریاں سنانے کاایک ذریعہ بن گئی،عزاداری تو لوریوں کا مرکز نہیں ہے عزاداری بیداری کا مرکز ہے،بیداری کی اذانوں کا مرکز ہے،بیداری کے سجدوں کا مرکز ہے،بیداری کے نوحوں کا مرکز ہے، اُمت مسلمہ کو بیدار کرنے کا جلوس ہے۔
خانقاہی عزاداریاں ہوتی ہیں ہنگو میں پینتیس لاشیں گرجاتی ہیں،پورے ملک میں خبر جاپہنچتی ہے عاشور کادن ہے چند منٹ کے احتجاج کے لئے تیار نہیں ہیں کہتے ہیں ہماری عزاداری کا تقدس پائمال ہوتا ہے یہ کون سی عزاداری ہے کہ شہیدوں کے لئے احتجاج سے اُس کا تقدس پائمال ہوتاہے عزاداری تو ہے ہی شہیدوں کی راہ کوجاری رکھنے کانام۔اگر تو عزاداری کربلا کی ہے پھر تو شہیدوں سے اس کے اندر اورولولہ پید اہوتا ہے،عزاداری میں توشہید پلتے ہیں،عزداری توشہادت کے مقام تک انسان کو پہنچاتی ہے۔یہ خانقاہی عزاداری ہے جس کا تقدس شہیدوں کے احتجاج سے پائمال ہوتاہے،لوریوں سے پائمال نہیں ہوتا،نغموں سے پائمال نہیں ہوتالیکن شہداء کا نام لینے سے پائمال ہوتاہے۔اگر عزاداریاں اور عبادتیں خانقاہی نہ ہوں تو دشمن کی کیاجرأت ہے کہ آئینِ شبیری کی طرف آئے اور اسکو ہدف بنائے،اگر اُمت خفتہ نہ ہو، اگر غافل نہ ہو،اُس کے مقدسات کی کوئی توہین نہیںکرسکتاہے،اُس کے رسول کو کوئی گستاخی نہیں کرسکتا، جس کے ماننے والے کروڑوں،اربوں کی تعداد میں ہوں،اربوں پیروکار جس رسول کے ہوں اُس رسول کے پیروکاروں سے کوئی ڈرتاہی نہیں!کیوں نہیں ڈرتا؟ جب اُس رسول کے کروڑوں اورعربوں پیروکارخانقاہی بن جائیں اُن خانقاہی پیروکاروں سے کوئی نہیں ڈرتا۔نہ سلمان رشدی ڈرتاہے، نہ ڈینش اخبار ڈرتاہے،نہ ڈنمارک ڈرتاہے، نہ اس کا پرائم منسٹر ڈرتاہے،نہ اس کا سفیر ڈرتاہے، نہ وہ معذرت کرتاہے! کیوںاور کس سے کرے؟ ابھی رسول ۖ اکرم کی گستاخی کا زخم مندمل بھی نہیں ہوا تھا،کہ آلِ رسول کے روضے کا گنبد اُڑادیاگیا۔ اورپھر منہ چڑانے کے لئے پاکستان کادورہ بھی رکھ دیا،آ بھی رہے ہیںتماشہ دیکھنے کے لئے،منہ چڑانے کے لئے۔
آمریت اوریزیدیت اسلام کے ساتھ،اُمت مسلمہ کے ساتھ جو مرضی چاہے کرے،اس کے مقدسات کے ساتھ جو مرضی کرے اورپھر اُسکا منہ چڑانے اُس کی طرف آ بھی جائے اور اُسے کہے کہ میرا استقبال بھی کرو،اوریہ اُمت اُسی گستاخ کے گلے میں ہار بھی ڈالے، کہ تونے بہت اچھی توہین کروائی،تونے گنبد اُڑادیا۔
جب تک امریکہ نہ چاہے عراق میں کوئی مکھی بھی پر نہیں مار سکتی یہ طے ہے۔سُنّی کو شیعہ سے لڑانے کے لئے،شیعہ کو سُنّی سے لڑانے کے لئے کبھی شیعہ کے مقدسات کی بے حرمتی کریں گے، کبھی سُنّی کے مقدسات کی بے حُرمتی کریں گے تاکہ اس اُمتِ خانقاہی کو آپس میں لڑاتے رہیں۔ یہ شیعہ سُنّی جنگ نہیں ہے۔چند گروہ بنالئے،خود بنائے انہوںنے،کچھ افغانستان میںبنا لئے،کچھ عراق میںبنالئے اورکام خود کرتے ہیںاور نام ایسوں کے لگا دیتے ہیں جن کو کوئی جانتا بھی نہیں ہے،جن کاکوئی وجود بھی نہیں ہے،جنہیں آج تک دکھا بھی نہیں سکے، اُن کے نام سونپ دیا کہ یہ فلاں نے کیا ہے۔کس طرح سے ہوسکتاہے کہ آپ کی لاکھوں کی فوج موجود ہواوراُس لاکھوں کی تعداد میں آکر گنبد مقدس کواُڑدیا جائے اورکروڑوں انسانوں کے مقدسات کی توہین کی جائے اوراُن کے احساسات کو جریعہ دار کیاجائے،یہ ممکن نہیں ہے۔
فکرِ خانقاہی سے رسمِ شبیری تک:
یہ جان لینا چاہئے کہ شاید آج یہ اُمت خُفتہ ہو اورذکر وفکرخانقاہی نے اسے سلادیا ہو لیکن زیادہ دیر یہ اُمت خُفتہ نہیں رہے گی،اس اُمت کے اندر آئین شبیری بھی موجود ہے یہ ایک دن خانقاہوں سے نکل آئے گی اور خانقاہوں سے نکل کر مسلک حضرت شبیر اس نے اپنالیا توپھر نہ تمہیں عراق میں چین ملے گا،نہ تمہیں پاکستان میںچین ملے گا، نہ کسی اور مقام پہ چین ملے گا فقط منتظر رہو اس اُمت کی بیداری کے کہ جب خانقاہوں سے نکل کر آئین شبیرمیں آجائے۔یہ نکلے گی خانقاہوں سے،اوروہ دن دُور نہیں۔
لیکن اُمت خُفتہ کو دینِ خانقاہی سے نکال کر آئین شبیری میں لانے کے لئے کچھ افراد کی ضرورت ہے۔کون سے افراد کی ضرورت ہے؟مسلح افراد کی ضرورت نہیں،جنگجوؤں کی ضرورت نہیں! تو پھرکس کی ضرورت ہے؟
آئینِ شبیری تک کون لائے گا؟
دو قسم کے مبلّغوںکی ضرور ت ہے جو آئین شبیری کی تبلیغ کریں،ایک بے ردا،پابندِ رسن بی بی کی ضرورت ہے اورایک بیمار کمرخمیدہ،تازیانوں کے نشان سے،تازیانوں کی ضربوں سے سیاہ کمر،بیٹریاں ہاتھ میں،طوق گردن میں،ایسے مبلّغ کی ضرورت ہے جو کوفہ بھی جائے، کونسا کوفہ؟وہی جو خانقاہی دین میںساقط بیٹھا ہوا تھا،خاموش بیٹھا ہوا تھااُس کوفہ میں جائیں،اُس کوفہ میںجاکر خانقاہیوں کو بتائیں کہ خانقاہیو! دین داری ایسے نہیں ہوتی جیسے تم کررہے ہو،دین داری ایسے نہیں ہوتی جیسے تم دکھارہے ہو۔وہ حالت کوئی خطبہ دینے کی نہیں تھی،خدا شاہد ہے خطبہ دینے کی حالت نہیں تھی جس بی بی کے بہتر عزیزکربلا میں شہید ہوچکے ہوں،بہتر سر نوکِ نیزہ پر اُس کے آگے آگے حرکت کررہے ہوں اوروہ جو پیکرِ شرم و حیاء ہے مگر اُس کے سر پہ ردا بھی نہ ہو،اُس کے ہاتھ رسیّوں میں بندھے ہوئے ہوں اورپھر وہ آئے کوفہ کے بازار میں،اجنبیوںمیں،نامحرموںمیںکھڑی ہو لوگ تماشہ دیکھنے آئے ہوں،اُن تماشائیوںمیں کھڑے ہوکر خطبے دے،اوراُن کو پکارپکار کے کہے کہ اے اُمت! یہ جس کو باغی کہہ رہے ہو، یہ باغی نہیں ہے، یہ حسین ہے،یہ شبیر ہے،یہ تمہارے رسولۖ کا نواسہ ہے۔اس مبلغ نے اپنے بھیّا کا تعارف کروایا کہ یہ امن کے دنوںمیں تمہارا ملجاء ہے،یہ جنگ کے دنوںمیں تمہاری پناگاہ ہے،یہ اُمت کا سہارا ہے،یہ اسلام کا قلعہ ہے جسے تم نے شہید کردیا اگر اس ظلم پر آسمان خون رونے لگے تعجب نہیں کرنا۔اُس مبلّغ کی ضرورت ہے اوراُس مبلّغ کی ضرورت ہے جو یزید کے دربار میں جاپہنچتا ہے کیا گزرتی ہے اُس مبلّغ پر کہ ساری زندگی روتا رہا جب پوچھتے تھے مولا!کیوں روتے ہو تو فرماتے تھے شام،شام،شام۔کیا ہوا جگرِ سجاد کو؟بابا کو تو کربلامیں شہیدکیاگیا،پیاسوں کو کربلا میںشہید کیاگیا، علی اکبر کوکربلامیںشہید کیاگیا،حضرت اصغر کو کربلامیں شہید کیاگیا،حضرت عباس کے بازو کربلامیں کٹے،خیموں کو کربلا میںجلایاگیا،لوٹ کربلامیں پڑی، لیکن جگرِسجاد کو شام کھا گئی۔شام میں کیا ہوا؟عزداران! شام میں کچھ تو ہوا ہے کہ ساری زندگی سجاد روتے رہے جب شام کا نام آجاتاتھا تو روتے تھے،کیا ہوا شام کے اندر؟یہی ہوا شام کے اندر کہ جب شام میں دربار سجا،جب شرابیوں کے اندر،جب اُن اجنبیوںکا مجمع لگا تویزید نے حکم دیا،کہ لے آؤ اسیروں کو،لایا گیا، لاکر پھر اُس نے مقدسات کی توہین شروع کردی،مقدسات کی توہین کیسے شروع کردی ؟ایک چھڑی لیکر طشت میں رکھے ہوئے سرِ اقدس سے کھیلنے لگا،کبھی محاسن میں چھڑی ہلاتا،کبھی آنکھوںپہ چھڑی مارتا،کبھی بالوں پہ چھڑی مارتا اوروہ ساتھ شعر کہتا لیکن جب وہ چھڑی دانتوں پہ آئی تو اُدھر سے مبلّغۂ اسلام بول پڑی یزید ذرا حیاء کر تو کہاں پہ کھیل رہا ہے،کس مقدس کی توہین کررہا ہے، یہ بوسہ گاہِ نبیۖ ہے، جس کی تو توہین کررہا ہے۔یزید پوچھنے لگا کہ میں نے سُنا تھا کہ حسین کی بہن زینب تھی آیا کربلا میں ماری گئی ہے یا اسیر ہوکر شام آگئی ہے،ایک ملعون نے کہا یزید! اسیر ہوکر آگئی ہے تیرے دربار میں کھڑی ہے لعین نے پوچھا! کہاں ہے یہی وہ منظر تھا جو جگرِ حضرت سجاد کو کھاگیا،جس میں ایسے غم اُٹھانے کے باوجود آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہو وہ رسم شبیری نہیں ادا کرسکتا۔
عزیزان راہِ حل یہی ہے کہ ہم رسمی دین چھوڑ کر،خانقاہی ورد چھوڑ کر رسم شبیری اور کربلائی اپنائیں،کربلا کے مبلغوں کی طرح جان،مال اور عزتوں کی قربانی دیتے ہوئے دین کی حفاظت کریں،صرف یہی کام اسلام اور مسلمین کو سُرخرو کرسکتاہے۔