Dear Brothers,
Salamun Alaikum,
Labbaik Ya Mohammad(SAWW) Wa Labbaik Ya Hussain(AS)
عاشورا کا پیغام
کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال پر نظر ڈالنے سے، عاشورا کے جو پیغام ہمارے سامنے آتے ہیں ان مین سے ایک یہ ہے۔
:طاغوتی طاقتوں سے جنگ
امام حسین علیہ السلام کی تحریک طاغوتی طاقتوں کے خلاف تھی۔ اس زمانے کا طاغوت یزید بن معاویہ تھا۔ کیونکہ امام علیہ السلام نے اس جنگ میں پیغمبراکرم (ص) کے قول کو سند کے طور پر پیش کیا ہے کہ ” اگر کوئی ایسے ظالم حاکم کو دیکھے جو الله کی حرام کردہ چیزوں کو حلال ا ور اس کی حلال کی ہوئی چیزوں کوحرام کررہا ہو، تواس پر لازم ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اسے الله کی طرف سے سزا دی جائے گی۔“
شیطان بزرگ کی عیاری
لمحوں میں فنا ہوگی ساری
ہےمصر یمن میں بیداری
دیکھو بحرین کی تیاری
دجال نے دیکھا حیرت سے
مرنا جینا ہے عزت سے
ہم دور بہت ہیں ذلت سے
هيهات منا لذالة هيهات منا لذالة
Dear Brothers,
Salamun Alaikum,
Labbaik Ya Mohammad(SAWW) Wa Labbaik Ya Hussain(AS)
عاشورا کا پیغام
کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال پر نظر ڈالنے سے، عاشورا کے جو پیغام ہمارے سامنے آتے ہیں ان مین سے ایک یہ ہے۔
:اپنے رہبر کی حمایت ضروری ہے
کربلا ،اپنے رہبر کی حمایت کی سب سے عظیم جلوہ گاہ ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے شب عاشور اپنے ساتھیوں کے سروں سے اپنی بیعت کو اٹھالیا تھااور فرمایا تھا جہاں تمھارا دل چاہے چلے جاؤ۔ مگر آپ کے ساتھی آپ سے جدا نہیں ہوئے اور آپ کو دشمنون کے نرغہ میں تنہا نہ چھوڑا۔ شب عاشور آپ کی حمایت کے سلسلہ میں حبیب ابن مظاہر اور ظہیر ابن قین کی بات چیت قابل غور ہے۔ یہاں تک کہ آپ کے اصحاب نے میدان جنگ میں جو رجز پڑہے ان سے بھی اپنے رہبر کی حمایت ظاہر ہوتی ہے ،جیسے حضرت عباس علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر تم نے میرا داہنا ہاتھ جدا کردیا تو کوئی بات نہیں، میں پھر بھی اپنے امام ودین کی حمایت کروں گا۔
.مسلم ابن عوسجہ نے آخری وقت میں جو حبیب کو وصیت کی وہ بھی یہی تھی کہ امام کو تنہا نہ چھوڑنا اور ان پر اپنی جان قربان کر دینا
علی خامنہ ای علی خامنہ ای
امام زمانہ (عج) کا سچا سپاہی
شریعت کا پیرو تقدس کا پیکر
ہے بعد خمینی یہی اپنا رہبر
وہی ہیں نگاہیں وہی اس کے تیور
دلاور جری صف شکن مرد غازی
علی خامنہ ای علی خامنہ ای
امام زمانہ (عج) کا سچا سپاہی
Dear Brothers,
Salamun Alaikum,
Labbaik Ya Mohammad(SAWW) Wa Labbaik Ya Hussain(AS)
عاشورا کا پیغام
کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال پر نظر ڈالنے سے، عاشورا کے جو پیغام ہمارے سامنے آتے ہیں ان مین سے ایک یہ ہے۔
:عزت کی حفاظت کرنا
حضرت امام حسین علیہ السلام کا تعلق اس خاندان سے ہے، جو عزت وآزادی کا مظہر ہے۔ امام علیہ السلام کے سامنے دو راستے تھے، ایک ذلت کے ساتھ زندہ رہنا اور دوسرا عزت کے ساتھ موت کی آغوش میں سوجانا۔ امام نے ذلت کو پسند نہیں کیا اور عزت کی موت کو قبول کرلیا۔ آپ نے فرمایا ہے کہ :ابن زیاد نے مجھے تلوار اور ذلت کی زندگی کے بیچ لا کھڑا کیا ہے، لیکن میںذلت کوقبول کرنے والا نہیں ہوں

یہ جہل کا سایہ ہے ذلت
یہ بغض کا دریا ہے ذلت
یہ خواہش دنیا ہے ذلت
ذلت کا سہنا ہے ذلت
گردن کو اٹھا ؤ ہمت سے
Dear Brothers,
Salamun Alaikum,
Labbaik Ya Mohammad(SAWW) Wa Labbaik Ya Hussain(AS)
عاشورا کا پیغام
کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال پر نظر ڈالنے سے، عاشورا کے جو پیغام ہمارے سامنے آتے ہیں ان مین سے ایک یہ ہے۔
:مکتب کی بقاء کے لئے قربانی
دین کے معیار کے مطابق، مکتب کی اہمیت، پیروان مکتب سے زیادہ ہے۔ مکتب کو باقی رکھنے کے لئے حضرت علی علیہ السلام و حضرت امام حسین علیہ السلام جیسی معصوم شخصیتوں نے بھی اپنے خون و جان کو فدا کیا ہے۔ امام حسین علیہ السلام جانتے تھے کہ یزید کی بیعت دین کے اہداف کے خلاف ہے لہٰذا بیعت سے انکار کردیا اور دینی اہداف کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کردی، اور امت مسلمہ کو سمجھا دیا کہ مکتب کی بقا کے لئے مکتب کے چاہنے والوں کی قربانیاںضروری ہے۔ انسان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ قانون فقط آپ کے زمانہ سے ہی مخصوص نہیں تھا بلکہ ہر زمانہ کے لئے ہے۔
Dear Brothers,
Salamun Alaikum,
Labbaik Ya Mohammad(SAWW) Wa Labbaik Ya Hussain(AS)
عاشورا کا پیغام
کربلا کے واقعہ اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے اقوال پر نظر ڈالنے سے، عاشورا کے جو پیغام ہمارے سامنے آتے ہیں ان مین سے ایک یہ ہے۔
:شہادت کے جذبے کو زندہ رکھنا
جس چیز پر دین کی بقا، طاقت، قدرت و عظمت کا دارومدار ہے وہ جہاد اور شہادت کا جذبہ ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ دین فقط نماز روزے کا ہی نام نہیں ہے یہ خونی قیام کیا ،تاکہ عوام میں جذبہٴ شہادت زندہ ہو اور عیش و آرام کی زندگی کا خاتمہ ہو۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایاکہ : میں موت کو سعادت سمجھتا ہوں۔ آپ کا یہ جملہ دین کی راہ میں شہادت کے لئے تاکید ہے۔