سانحہ پشاور - کیا یہ کسی بڑے کھیل کا نقطہ آغازہے؟
مسعود انور
سانحہ پشاور پر ہر شخص سوگوار ہے۔ پورے ملک میں اداسی کی فضاء چھائی ہوئی ہے۔ سیاسی و قومی تقریبات تو دور کی بات ہے ، نجی تقریبات میں بھی لوگ بجھے بجھے سے ہیں۔ یہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ اس سے اگلے روز یہ پوری دنیا کے سارے اخبارات کے صفحہ اول پر موجود تھا بلکہ ٹائمزآف اسرائیل کی تو یہ اس روز کی لیڈ اسٹوری تھی۔ پاکستان کا بھی مین اسٹریم میڈیاہو یا سوشل میڈیا روز اسی سے بھرا پڑا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ واقعہ اتنا بڑا ہے کہ ہر ذی ہوش اس سے ہل کر رہ گیا ہے مگر اب روز الیکٹرونک میڈیا
جس طرح اور جس جس زاویے سے اس پر پیکیج پیش کررہا ہے اس سے شک پڑتا ہے کہ قوم کو کسی جانب ہانکا لگایا جارہا ہے۔
اس سانحہ کے بعد سے پوری پاکستانی قوم اسی حالت میں موجود ہے جس حالت میں نائن الیون کے بعد پوری امریکی قوم تھی۔ ہر شخص جوش انتقام میں ہے۔ جس پر ذرہ برابر بھی شبہ ہو کہ وہ اس سانحہ میں ملوث ہے ، ہر شخص اس کو زمیں بوس کرنے کے لیے پکار اٹھتا ہے۔ جس طرح نائن الیون کے بعد امریکی قیادت نے نائن الیون کے نتیجے میں اٹھنے والے جذبات کا خوب خوب فائدہ اٹھایا ۔ حتیٰ کہ افغانستان و عراق پر چڑھ دوڑا جن کے اس پورے وقوعے میں کوئی کردار ہی نہیں تھا۔سانحہ پشاور کے بعد میڈیا پر پیدا کی جانے والی شدت سے
اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ ہونے جارہا ہے۔
سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ سانحہ پشاور ایسا کوئی واقعہ نہیں ہے کہ چند لوگ جذبات میں اٹھے اور اسکول پر چڑھ دوڑے۔ یہ ایک مکمل اور منظم منصوبہ بندی کے تحت کی گئی دہشت گردی ہے جس کی تمام جزیات کو انتہائی باریک بینی کے ساتھ طے کیا گیا۔ نقشے بنائے گئے اور اہداف بھی طے کیے گئے۔ اس کے تمام لوازمات کو پورا کیا گیا اور پھر دہشت گردی کی اس واردات پر عمل کیا گیا۔ اس دہشت گردانہ کارروائی کا جو بھی اسکرپٹ رائٹر اور ڈائریکٹر تھا ،ا سے اچھی طرح سے اپنے اہداف معلوم ہیں۔ اسے اچھی طرح سے
معلوم ہے کہ اس سانحے کے نتیجے میں کیا ہوگا۔ اس سانحے کے نتیجے میں پوری پاکستانی قوم کے پیدا ہونے والے جذبات کس طرح مزید بھڑکائے جاسکتے ہیں اور کس طرح ان کی شدت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ ان جذبات کو مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے کس طرح اور کس طرف موڑنا ہے، یہ سب پہلے سے طے شدہ ہے۔ یہ کون سے اہداف ہوسکتے ہیں، انہیں بوجھنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ دیکھیے کہ اس سانحہ کی آڑ میں اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کردی گئی ہے۔ پوری دنیا میں پھر سے اسلام کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا گیاہے اور تو اور پاکستان میں بھی اسلام کا نام لینے والا نکّو بنا دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں این جی اوز المعروف سول سوسائٹی کے لال مسجد کے باہر مظاہرے کو دیکھیے اور نعروں کا جائزہ لیجیے تو از خود اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان این جی اوز کے باہر بیٹھے ریموٹ کنٹرول کیا چاہتے ہیں۔
مگرکیا اس دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا صرف یہی ایک ہدف ہے؟ ایک مرتبہ پھر سے صہیونیوں کی چار خونی چاند گرہن کی تھیوری دیکھیے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2014-15 میں انہیں خوشخبری ملے گی۔ اس خوشخبری کا تعلق یقینا نیو ورلڈ آرڈر سے ہے۔ یہ نیو ورلڈ آرڈر کیا ہے ۔ یہ اس دنیا پر شیطان کی عالمگیر حکومت کے قیام کی سازش ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کچھ بھی ہونے جارہا ہے ، اس کے تانے بانے کا تعلق صرف پاکستان سے نہیں ہے۔ پاکستان میں ان معصوم بچوں کے خون بہنے کے نتیجے میں جو زبردست خوں خرابہ کیا
جائے گا، اس کے نتیجے میں نیو ورلڈ آرڈر ایک قدم ہی آگے بڑھے گا۔
چونکہ یہ سانحہ پیش ہی پاکستان میں آیا ہے، اس لیے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کا پہلا ردعمل ہی پاکستان میں آئے گا۔ اب پاکستان میں مزید خوں خرابے کے لیے بھی تیار رہیے اور اس کے بعد سیاسی تبدیلی کے لیے بھی ۔ یہ سب کچھ ہونے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگے لگا۔ بس چند ماہ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔