محرم الحرام حرمت والا مہینہ ہے۔ محرم کی دس تاریخ (یوم عاشور) کو بے شمار واقعات رونما ہوئے ہیں۔ خصوصاً 61 ھجری میں یوم عاشور کے واقعات بہت زیادہ خونی اور افسوس ناک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اہل بیت کی تعریف فرمائی ہے چنانچہ بائیسویں(22) پارے کے پہلے رکوع میں ارشاد ہوتا ہے۔
ترجمہ: "اللہ عزوجل تو یہی چاہتا ہے اے نبی ﷺ کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کر کے خوب ستھرا کر دے" (کنز الایمان) اس آیت کریمہ کے بارے میں حضرت عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت تطہیر ہے یعنی پاک کرنے والی آیت ہے۔ حضرت نعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے اہل بیت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور اہل بیت میں نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا اور حضرت خاتون جنت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا اور علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ یہ آیت حضرت سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر نازل ہوئی اور اسی وقت حضور اکرم ﷺ نے حسنین کریمین رضی اللہ عنہا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور تینوں کو اپنی چادر مبارک میں چھپا لیا اور دعا فرمائی! اے اللہ عزوجل یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے نجاست کو دور فرما اور ان کو پاک و صاف کر دے اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کی پشت اطہر کے پیچھے تھے۔ اہل بیت کا یقیناً بہت بڑا مقام ہے یہ تو وہ گھرانہ ہے کہ جہاں قرآن نازل ہوا اور جہاں جبرائیل علیہ السلام بھی بغیر اجازت داخل نہ ہوتے۔ لیکن ان کے ساتھ لوگوں نے کیسا سلوک کیا۔ دنیا کی محبت ہوس پرستی اور اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے ان پر کیسے کیسے مظالم ڈھائے ایک مرتبہ بچپن میں دونوں شہزادوں حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہم نے تختیاں لکھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، بابا جان! بتایئے دونوں میں سے کس کا خط اچھا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ اگر ایک کا خط اچھا کہوں گا تو دوسرے کا دل ٹوٹے گا۔ لہذا فرمایا اپنی امی جان سے جا کر پوچھ لو ۔ چنانچہ دونوں شہزادے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے بھی یہی سوچ کر فرمایا، ناناجان ﷺ سے پوچھو۔ جب بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا، اس کا فیصلہ جبرائیل کریں گے۔ اتنے میں جبرائیل علیہ السلام آ گئے اور بحکم خدا وندی عز و جل جنت سے ایک سیب لائے اور طے پایا کہ تختیاں رکھ کر سیب پھینکا جائے جس کی تختی پر سیب گرے گا اس کا خط عمدہ ہوگا۔ جبرائیل علیہ السلام نے سیب پھینکا تو وہ دو ٹکڑے ہو گیا۔ آدھا سیب شہزادہ حسن رضی اللہ عنہ کی تختی پر گرا اور آدھا شہزادہ حسین رضی اللہ عنہ کی تختی پر۔ (جامع المعجزات) اللہ اکبر! آج اللہ تعالیٰ کو ان کی اتنی سی رنجیدگی اور اتنا سا غم بھی نا منظور ہے۔ مگر قربان جائیے اسکی شان بے نیازی پر کہ کل یہی شہزادے بھوکے پیاسے زخموں سے چور ہو کر کربلا میں گلا کٹوائیں گے۔ درحقیقت جو جتنا محبوب ہوتا ہے اس کا امتحان اتنا ہی سخت ہوتا ہے۔
ایک مرتبہ دوران بچپن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے رونے کی آواز بے تاب ہو کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا بیٹی رضی اللہ عنہا! اسکو رُلایا مت کرو کیونکہ اس کے رونے سے میرے دل کو صدمہ ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک بار دونوں شہزادے آپس میں کشتی کر رہے تھے حضور اکرم ﷺ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے فرماتے اے بیٹا حسین کو پکڑو۔ چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں کہ بابا جان ﷺ! آپ ﷺ حسن سے فرما رہے ہیں کہ حسین کو پکڑو مگر حسین سے نہیں فرما رہے کہ حسن کو پکڑو۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا مفہوم "جس طرح میں حسن سے کہہ رہا ہوں کہ حسین کو پکڑو اسی طرح جبرائیل امین علیہ السلام حسین سے کہہ رہے ہیں کہ حسن کو پکڑو۔ سبحان اللہ! کہ حضرت امام حسین کی شان کتنی بلند ہے۔ ایک روز حضور اکرم ﷺ چند صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ہمراہ ایک گلی میں سے گزر رہے تھے۔ ایک مقام پر دیکھا کہ کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ حضور ﷺ نے ایک بچے کو گود میں اٹھا کر بہت پیار کیا۔ صحابہ علیہم الرضوان نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ اس بچے کے ساتھ خصوصی شفقت کیوں؟ فرمایا، ایک بار میں نے اس کو میرے لخت جگر حسین رضی اللہ عنہ کے قدموں کے نیچے کی خاک آنکھوں میں ڈالتے دیکھا تو اس دن سے مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے۔ میں قیامت کے روز اس کی اور اس کے والدین کی شفاعت کروں گا۔ (اوراق غم)
ایک مرتبہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کہیں جا رہے تھے۔ چلتے چلتے نخلستان آگیا۔ چنانچہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک جگہ حضرت حسن کیلئے کچھ بچھا دیا جہاں آپ رونق افروز ہوئے۔ آپ جس درخت کے نیچے تشریف فرما تھے وہ کھجور کا تھا۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کاش یہ درخت سر سبزو شاداب ہوتا اور ہمیں کھانے کو کھجوریں ملتیں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا! کیا تم کھجوریں کھانا چاہتے ہو؟ عرض کیا حضور! خواہش تو ہے مگر اس وقت کہاں سے میسر آ سکتی ہیں۔ آپ نے آہستہ آہستہ زبان سے کچھ فرمایا پھر دعا کی تو جس درخت کے نیچے آپ رونق افروز تھے دیکھتے ہی دیکھتے آن کی آن میں سر سبز و شاداب ہو گیا اور اس میں کھجوریں بھی لگ گئیں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ابن زبیر سے فرمایا کہ اس میں سے جتنا جی چاہے کھجوریں کھاؤ۔ اونٹ چلانے والا شتر بان بھی وہاں موجود تھا وہ بڑا حیران ہوا اور حیرت سے کہنے لگا خدا کی قسم آپ تو بہت بڑے جادو گر ہیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اے بد نصیب! تجھے کیا معلوم یہ ساحر نہیں بلکہ مستجاب الدعوات ہیں۔ اس نے دریافت کیا تو پھر یہ کون ہیں؟ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ حضور اکرم ﷺ کے نواسے ہیں۔
ایک بار حضرت امام حسینؓ نے اپنی کنیز کو کھانا لانے کا حکم دیا۔ جب وہ کھانا لانے لگی اور قریب پہنچی تو اتفاقاً ٹھوکر لگی اور وہ کھانا حضرت امام حسینؓ پر گرا اور آپ کے کپڑے آلودہ ہو گئے۔ وہ کنیز بھی اہل بیت کی شان سے واقف تھی چنانچہ اس کے منہ سے یہ آیت نکلی ترجمہ "اور غصہ پینے والے" (یہ آیت مومن کی شان کے بارے میں ہے) یہ آیت مبارکہ سن کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا غصہ فوراً ٹھنڈا ہو گیا اور آپ نے فرمایا "میں غصہ پی گیا" پھر وہ کنیز بولی ترجمہ "اور لوگوں سے درگزر کرنے والے" تو فوراً آپ کی زبان اقدس سے جاری ہوا "میں نے تمہیں معاف کیا" تو جھٹ اس کنیز نے اس آیت کا آخری حصہ بھی تلاوت کر دیا۔ ترجمہ: "اور نیک لوگ اللہ عزوجل کے محبوب ہیں" تو اس پر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا "تو آزاد ہے اللہ کیلئے"
حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ عنہم دونوں بہت عظمت والے ہیں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو زہر دیا گیا جس سے آپ کا انتقال ہوا لیکن آپ نے اس کے باوجود اپنے قاتل کا انتقال تک نام نہیں بتایا۔ دوسری طرف حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کربلا میں تین دن کے بھوکے پیاسے، اپنے سامنے چمنستان کو لوٹتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ آپ کے ننھے شہزادے علی اصغر رضی اللہ عنہ کا پیاس کی وجہ سے گلا خشک ہو چکا تھا آپ نے اتمام حجت کیلئے چھ ماہ کے شہزادے کو اٹھایا اور ظالموں سے جب اس کے لئے پانی مانگا تو ظالموں نے آہ صد ہزار آہ! اس شیر خوار شہزادے کے خشک حلق پر تیر مار کر شہید کر دیا۔ اب ان سب کے سالار حضرت امام حسین بھی تیروں سے چھلنی ہونے اور تلواروں سے کٹنے کے لئے میدان کارزار کی طرف بڑھ رہے ہیں اور آہ! دشمنوں کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے بالآخر آپ بھی سجدے کی حالت میں جام شہادت نوش کر جاتے ہیں۔