کچھ بھوکےجو کبھی بھی سیر نہیں ہوتے ۔۔۔!!!

0 views
Skip to first unread message

tadeeb khan

unread,
Nov 3, 2011, 5:58:32 AM11/3/11
to Pakistani Press
اس دنیا میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں ۔اچھے بھی اور برے بھی ،بہت اچھے
بھی اور بہت برے بھی۔اچھے اور برے لوگوں میں اصل اور نقل کی پہچان مشکل
ہے۔ایک طرف وہ اچھے ہیں جن کا ظاہر اچھا ہے اور باطن جھوٹا اور دوسرے
اچھے وہ لوگ ہیں جن کا ظاہر اور باطن دونوں یا تو اچھا ہے یا برا۔۔۔۔۔یہ
لوگ ہماری اسی دنیا میں بستےہیں ۔ہمارے اردگرد ہی رہتے ہیں اور ہم ان سے
ا چھی طرح واقف ہوتےہیں۔ان کی اصلیت بھی معلوم ہوتی ہے لیکن نہ تو زبان
سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے عمل سے اس منافقت کو ختم
کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔دنیا کے سامنے خود کو اچھا بنا کر پیش کرنے کی
کوشش ہر انسان کرتا ہے کیونکہ یہ انسان کی نفسیات میں شامل ہے کہ وہ خود
کو دوسروں سے ممتاز رکھنا چاہتا ہے۔اپنے جھوٹے باطن کو چھپا کر اچھائی
اور نیکی کا ماسک لگا کر دنیا کے سامنے آتا ہے۔اس دنیا میں ایسے کم ہی
لوگ ہیں جن کا ظاہر ان کے باطن سے میل کھاتا ہو۔ہمارے ملک کاالمیہ یہ ہے
کہ یہاں رائے عامہ بنانے والوں کی اکثریت ان ہی لوگوں کی ہے جو دوہری
شخصیت رکھتےہیں۔جن کا باطن ان کے ظاہر سے چغلی کھاتا ہے۔جھوٹی انا اور
شان ان کی شخصیت کا خاصہ ہے جسے برقرار رکھنے کے لئے وہ کسی بھی حد کو
پار کرنے کے لئےتیار ہیں۔کچھ بھی کر سکتے ہیں ،کسی بھی چیز کا سودا کر
سکتےہیں،پھر چاہے اس شان کو برقرار رکھنے کے لئے انہیں اپنا ضمیر بیچنا
پڑے یا ملکی وقار۔
دولت کی ہوس انسان کو غافل بنادیتی ہے، ملک سے ۔قوم سے۔اہل خانہ سے ۔یہاں
تک کے اپنی ذات سے۔ایسے میں دولت کے یہ پجاری اسے حاصل کرنے کی تگ و دو
میں دن رات صرف کرتے ہیں۔ اپنے مقصد حیات کو پیش نظر رکھنے کے بجائے
اپنی جھوٹی آن اور شان ان کے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل
غور ہے کہ دولت کی نامناسب تقسیم انسان میں ذہنی انتشار کو جنم دیتی ہے۔
تقدیر کی دیوی ہنستی ہے. کہیں طوائف کے کوٹھے پر. لاکھوں کی بارش ہوتی
ہے. تو کہیں افلاس کی ماری ماں. بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے سے بھی
قاصر ہے۔ لیکن بھوک ہر بار صرف کھانے کی ہی نہیں ہوتی ۔اگر آپ سے کہا
جائے کہ " کچھ ایسے بھوکے ہیں جو کبھی بھی سیر نہیں ہوتے " تو آپ کو حیرت
ہوگی کہ یہ کیسی بات ہے بھلا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی کبھی سیر نہ
ہو ، معدہ ہے کہ شیطان کی آنت، جو کبھی بھرتا ہی نہیں ، اشتہا کی بھی ایک
حد ہوتی ہے لذیذ سے لذیذترین غذا کیوں نہ ہو بالآخر آدمی کو ہاتھ روکنا
ہی پڑتا ہے اور اگر کوئی دسترخوان سے خود نہیں اٹھا تو لوگ اس کو اٹھانے
پر مجبور ہوجاتے ہیں بھوک اور نہ مٹے، ممکن ہی نہیں ہے ؟ !اور اگر یہ بات
صحیح ہے تو یقینا" یہ بھوک غذا کی بھوک نہیں ہوسکتی ۔ یہ بھوک ہے دولت کی۔
یہ لالچ ہے زر کی ،یہ ہوس ہے زمین کی ،حرص و ہوس یعنی خواہش و چاہت میں
افراط سے کام نہ لینا، توازن اور اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جانا،
انسان کو ہمیشہ بے چین و مضطرب رکھتی ہے آدمی اپنا سکون کھودیتا ہے اور
اسی سکو ن کوپانے کے لئے ہر طریقہ اختیار کرتا ہے چاہے وہ جائز ہو یا
ناجائز۔جائز زرائع کا حصول چوں کہ وقت طلب ہے اور انسان جلد باز،تو ایسے
میں ناجائز زرائع سے دولت حاصل کرنا انسا ن کی اولین ترجیح ہے۔
صادق آل محمد (ص) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس سوال کا جواب
معلوم کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہے :
" دنیا میں دو ایسے حریص اور بھوکے پائے جاتے ہیں جو کبھی بھی سیر نہیں
ہوتے ایک تو وہ جو علم و دانش کا بھوکا ہو اور دوسرے وہ جو مال و ثروت کا
بھوکا ہو یہ دونوں کبھی سیر نہیں ہوتے ۔" ( خصال شیخ صدوق باب دوم ص 53
حدیث 69 )
ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں ایسے لوگوں کی بہتات ہے جو مال و ثروت
کے بھوکے ہیں۔ان میں جہاں سیاستدان اور بیوروکریٹ شامل ہیں وہیں کھیل کے
میدان بھی ایسے لوگوں سے خالی نہیں۔ حال ہی میں کرکٹ کرپشن کیس کی داستان
عوام کے سامنے آئی۔جس میں سلمان بٹ۔محمد عامر اور محمد آصف مرکزی کرداروں
میں شامل ہیں۔قوم کے یہ ہیرو جنھیں عوام نے سر آنکھوں پر بٹھایا انہوں نے
دولت کی خاطر نہ صرف اپنی عزت داؤ پر لگا دی بلکہ قومی وقار کو بیچ ڈالا۔
چند سکوں کی خاطر ملک و قوم کو گروی رکھ دیا۔ان کھلاڑیوں نے لاکھوں ڈالر
اور پاؤنڈ لینےکے بعد اپنے کھیل،اپنے ملک یہاں تک کے اپنے آپ سے بھی
غداری کی۔
دولت و ثروت کی ہوس بھی ایک ایسی بھوک ہے جو اگر کسی کے یہاں پیدا ہوجائے
تو کبھی سیر نہیں ہوتا ۔دولت و ثروت کی چاہت کبھی ختم نہیں ہوتی اور
بالآخر ثروت اندوزی انسان کو قارون بنادیتی ہے اور انسان اپنے تمام مال و
دولت کے ساتھ زمین میں دفن کردیا جاتا ہے ۔ان کھلاڑیوں کی اس حرکت کی وجہ
سے ملکی وقار کے لرزتے وجود کو ٹھیس پہنچی ہے۔ بیرون ملک پاکستان کا نام
ذہن میں آتےہیں ویسے ہی دہشت گردی،بم دھماکے،خود کش حملے اور قتل و غارت
گری سامنے آتی ہے اب امیج میں کرپشن اور دھوکہ دہی بھی شامل ہو جائے گی۔
کرپشن کے تاریک سائےاس قدر گہرے ہو چکے ہیں کہ روشنی کی کوئی کرن دکھائی
نہیں دیتی۔ایک چپراسی سے لے کر اعلی اقتدار تک سب لوگ کرپٹ ہو چکے ہیں
اور اپنی اس کرپشن کو چھپانے کے لئے کبھی اپنے عہدے کا سہارا لیا جاتا ہے
تو کبھی طاقت کا۔
ان کھلاڑیوں کی کرپشن کے باعث اب پاکستان کا نام دنیا کےکرپٹ ممالک کی
فہرست میں بھی شامل ہو گیاہے۔ابھی تک دنیا کے ائیرپورٹس پر پاکستانیوں کی
تلاشی ایسے لی جاتی تھی جیسے ان کے پاس بم بنانے اور خود کش حملوں کے
علاوہ کوئی اور کام نہیں ۔بھئی انہیں پتہ نہیں کس بات کا ڈر ہے۔حالانکہ
ہم بم بناتے بھی خود ہیں اور اس سے ہلاک بھی اپنے لوگوں کو ہی کرتے ہیں ۔
دہشت بھی اپنے ہی ملک میں پھیلاتے ہیں۔ہم مرتے بھی خود ہیں اور مارتے بھی
خود ہیں۔اب دنیا کے رویے میں تبدیلی یہ آئےگی یہ کہیں بھی پاکستانیوں کو
دیکھتےہی سب سے پہلے تو ان کی تلاشی لی جائے گی۔ پھر ان کے کردار کا ٹیسٹ
لیا جائے گا۔نئی مشینیں تیار کی جائیں گی جو خون میں موجود دھوکے کے
جراثیمیوں کا پتہ لگائیں گی اور اس کے بعد انسانوں کا ٹیسٹ کرکے انہیں
اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دی جائے گی یا ان کے ساتھ کوئی رابطہ کیا
جائےگا۔چلیں پیارے پاکستانیوں کی بدولت ٹیکنالوجی میں مذید اضافہ تو ہوگا۔
لیکن اس کے بعد۔۔۔۔اس کے بعد کیا ہوگا۔ملک کوقوم کو بیچنے والوں کےساتھ
کیسا سلوک کیاجائےگا۔اور انہیں کس قابل سمجھا جائے گا اس بات کا اندازہ
لگانا شائید کسی کے لئے بھی مشکل نہیں۔۔۔۔۔۔

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages