|
Site Update: Fughan e Akhtar Magazine Special Edition
January 14, 2015 12:46 pm
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
New featured book has been updated on www.khanqah.org.
Name: Fughan e Akhtar Magazine Special Edition
By: Shaikh ul Arab wal Ajam Hazrat Maulana Shah Hakeem Muhammad Akhtar Saheb (ra)
Details: سہ ماہی فغانِ اختر کے خاص نمبر کا تعارفحق تعالیٰ شانہٗ کی قدرتِ کاملہ سے یہ دینِ اسلام قیامت تک باقی رہے گا، اور مختلف شخصیات کے ذریعے دین امّت تک پہنچتا رہے گا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد سے لے کر آج تک اللہ جل شانہٗ کے لاتعداد نیک بندے ایسے گزرے ہیں کہ جنہوں نے امت کی دینی، عملی، اصلاحی اور فکری تربیت کی، اور اس کے لیے قربانیوں اور جدوجہد و استقامت کے ایسے نُقوش چھوڑے، جو رہتی دُنیا تک کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ان ہی نُفوسِ قُدسیہ میں سے ایک ہمارے حضرت اقدس عارف باللہ، مجدد زمانہ، شیخ العرب والعجم حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ بلا شبہ اس گئے گزرے دور میں مولانا حکیم محمد اخترؒ اُس شخصیت کا نام تھا کہ جن کے شب وروز دیکھ کر لوگ زندگی گزارنے کا ڈھنگ اور سلیقہ سیکھتے تھے، اُن کے علم وعمل کا مشاہدہ کر کے شریعت سے بے بہرہ افراد اپنی زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق ڈھالنے کا طریقہ اور راستہ پاتے تھے اور اُن کے نقشِ پا سے اصل زندگی کی راہیں تلاش کی جاتی تھیں۔ وہ بلا شبہ علمائے سلف کی یادگار تھے۔ حضرت مولانا حکیم محمد اختر ؒ علم وعمل، فضل وکمال، لطف وشفقت، اصلاح وارشاد، نظم وضبط، ہر کام کے حوالے سے سلیقہ مندی، ہمہ گیر ہنر مندی، ہر علم وفن میں بے مثال صلاحیت اور فیض ِ رسانی واِفادیت کی بے نظیر قدرت کے ساتھ ساتھ پُر وقار وبااعتبار وپُر کشش شخصیت کے حامل اپنی نظیر آپ تھے۔قدردان قومیں اپنے اسلاف کی خدمات و کارناموں کو یاد رکھتی ہیں اور ان کی قربانیوں اور دین اسلام پر استقامت و جدوجہد کے ساتھ چلنے کو اپنے لیے راہِ عمل بناتی ہیں اور قلم و قرطاس کے ذریعے ان کی حیات و خدمات کی یادگار دستاویزیں تیار کرلیتی ہیں، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کا سامان ہو اور ان کو اندازہ ہو کہ اس گئے گزرے دور میں جب ہمارے اکابر کلی طور پر قرآن و سنّت کے احکامات پر نہ صرف خود عمل کر گئے بلکہ اپنے اخلاق و کردار اور علم و عمل کے ذریعے دوسرے کتنے ہی لوگوں کی زندگیاں بدل گئے، تو یقینا ہم بھی ذرا ہمت کریں تو اللہ جل شانہٗ کا بتلایا ہوا اصل راستہ پاسکتے ہیں اور نہیں تو کم از کم فرائض کا اہتمام اور محرمات سے اجتناب تو کر ہی سکتے ہیں، گویا اسلاف کی سیرت و سوانح اُن کی وفات کے بعد بھی تبلیغِ دین کی حیثیت ہی رکھتی ہے۔حضرت مولانا حکیم محمد اخترؒ کی بھی امّت کے لیے بے پناہ اصلاحی و دینی خدمات کا تقاضہ تھا کہ حضرت والاؒ کی حیات و خدمات، حالات و واقعات اور سیرت و سوانح پر مشتمل یادگاری نمبر شائع کیا جائے، اللہ تبارک و تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے آپ کے اکلوتے صاحبزادے اور قائم مقام حضرت مولانا حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم کو کہ انہوں نے ہمت فرمائی اور اپنی نگرانی میں مولانا شفیق احمد بستوی (فاضل دیوبند)، مولانا یوسف حسین اور راقم الحروف کو اس پر مقرر فرمایا کہ حضرت والا ؒ کی حیات و خدمات پر کام کیا جائے، توکلاً علی اللہ کام شروع کردیا گیا پانچ ماہ کی شبانہ روز محنت کے بعد بحمد اللہ خانقاہِ امدادیہ اشرفیہ سے شائع ہونے والا رسالہ ’’سہ ماہی فُغانِ اختر‘‘ کا قریباً گیارَہ سو صفحات پر مشتمل ضخیم و عظیم خاص نمبر تیار ہو گیا، الحمد للہ اس عظیم دستاویز میں حضرت والاؒ کے بچپن کے حالات سے لے کر سانحۂ وفات تک کی تفصیلات، تحصیل و تکمیلِ علم، راہِ تصوّف وسُلوک میں عبدیت وانابت، عشقِ رسول ص(لی اللہ علیہ وسلم) واتباع سنت میں فنائیت، فضل و کمال، دینی و علمی کارنامے، سیرت و اخلاق، تصنیف و تالیف، پُر عزم زندگی، لازوال جدوجہد، لائقِ تحسین کردار، الغرض دلچسپ، مفصّل، رُلادینے اور عملِ صالحہ پر اُبھارنے والے حیرت انگیز واقعات پر مشتمل ایک پورے عہد کی ترجمان دستاویز، جس میں معرکۃ الآرا تحریریں، گرانقدر مضامین، تفصیلی تأثرات و مشاہدات، پاک و ہند کے رسائل و جرائد کے اِداریے، منظوم کلام غرضیکہ یہ کتاب حضرت والاؒ کی حیاتِ مستعار کی ترجمان دستاویز بن کر تاریخی اوراق میں محفوظ ہوگئی ہے۔اس خاص نمبر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں اسّی (۸۰؍) کے قریب تو صرف بھارت کے ہر طبقہ کے علماء کرام، اکابرینِ عظام، مفتیانِ دین اور شعراء کے تفصیلی مضامین، مختصر پیغامات و تأثرات اور منظوم کلام شامل ہیں، ہماری رائے میں اب تک پاکستان میں جتنے بھی بزرگوں کے خصوصی نمبر شائع ہوئے ہیں، اُن میں اتنی تعداد میں دیوبند، مظاہر علوم، ندوۃ العلماء اور دیگر ہندوستان کے دینی اداروں و جماعتوں کے حضرات کے مضامین شامل نہیں ہیں۔ اُس کے علاوہ ملک ِعزیز پاکستان کے بھی تقریباً اکثر اکابرین، علماء کرام، اہلِ قلم واہلِ دِل حضرات کے رَشحاتِ قلم شاملِ اشاعت کیے گئے ہیں۔ اُن میں سے چند کے نام ذکر کرتا ہوں:۔حضرت مولانا حکیم محمد مظہر، مولانا محمد طلحہ کاندھلوی (سرپرست مظاہر علوم سہارنپور)، مولانا محمد سالم قاسمی (مہتمم دار العلوم وقف دیوبند)، مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی (مہتمم ندوۃ العلماء لکھنؤ)، مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی (صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)، مولانا سلیم اللہ خان، مولانا ڈاکٹر محمد عبد الحلیم چشتی، مولانا ڈاکٹر عبد الرزّاق اسکندر، مولانا عبد المجید لدھیانوی، مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی سعید احمد پالن پوری(شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند)، مولانا سید احمد شاہ خضر کشمیری (شیخ الحدیث دار العلوم وقف دیوبند)، مولانا سیّد نجم الحسن تھانوی (ناظم خانقاہ تھانہ بھون)، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی حیدر آباد دکن، مولانا عبد الخالق مدراسی( نائب مہتمم دیوبند)، مولانا محمد اسلم قاسمی( ناظم تعلیمات وقف دیوبند)،مولانا رِیاست علی بجنوری(استاذ حدیث دیوبند)، مولانا غلام محمد وستانوی( رکن شوریٰ دیوبند)، مولانا اشہد رشیدی مولانا ڈاکٹر محمد اسجد قاسمی ندوی۔اللہ جل شانہٗ کی ذات پر امید رکھتے ہوئے یہ بات عرض کی جاتی ہے کہ پانچ ماہ کی قلیل مدت میں ایسا ضخیم، جاندار خصوصی نمبر جس میں ہر طبقہ کی قد آور شخصیات کے مضامین شامل ہیں، نہ صرف یہ کہ حضرت والاؒ کی شخصیت کو اُجاگر کرنے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ تشنگانِ علم اور سالکین راہِ سُلوک کے لیے بھی سرچشمۂ ہدایت ثابت ہوگی، مزید برآں قارئین کے لیے پسندیدگی کا باعث بھی ہوگی۔ اس سب کے علاوہ آخر میں ۲۲؍ رنگین صفحات پر حضرت والاؒ کے کاغذات سے دستیاب اکابرین کے قلمی خطوط کے عکس بھی لگائے گئے ہیں، جو کہ ایک نادرِ و نایاب خزانہ ہے ان میں مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادیؒ، حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا اصغر حسین دیوبندیؒ، مولانا عبد الغنی پھول پوریؒ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ، مولانا محمد زکریا مہاجر مدنیؒ، مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ، مفتی محمد شفیعؒ، مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا محمد منظور نعمانیؒ، ڈاکٹر محمد عبد الحئی عارفیؒ، مولانا محمد احمد پرتاب گڑھیؒ، مولانا ابرار الحق ہردوئیؒ، مولانا مسیح اللہ خانؒ، مولانا محمد اللہؒ، مفتی محمود حسن گنگوہیؒ، مفتی رشید احمد لدھیانویؒ، مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ، مفتی محمد عاشق الٰہیؒ، مفتی عبد الحکیم سکھرویؒ، صوفی شریف صاحبؒ، نواب قیصر صاحبؒ وغیرہ حضرات کے خطوط شامل ہیں، پھر ان ہی رنگین صفحات میں حضرتؒ کے استعمال کی اشیاء، تبرکات، جامعہ اشرف المدارس اور خانقاہ کے روح پرور مناظر بھی شامل ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود رہ رہ کر یہ خیال آتا ہے کہ حضرتؒ کی خدمات کے کتنا ہی پہلو تشنۂ تکمیل رہ گئے، جس کی انشاء اللہ سہ ماہی فُغانِ اختر کے آئندہ شماروں میں تلافی کی کوشش کی جائے گی۔غرضیکہ یہ خاص نمبر بزرگوں کی سیرت و سوانح میں ایک نیا اور قابلِ قدر اضافہ ہے، ٹائٹل ، جلد بندی، طباعت اور کاغذ کی عمدگی کی بنا پر قیمت چھ صد روپے مقرر کی گئی ہے، امید ہے اہل ذوق، حضرتؒ سے عقیدت و محبت رکھنے والے، بلکہ ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے احباب قدردانی فرمائیں گے۔اس دستاویز کے مطالعہ سے اندازہ ہوگا کہ حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحبؒ نے اس دنیا کے اندر ایک مسافرانہ زندگی گزاری اور عشق الٰہی کو حاصل کرنے اور دوسروں میں یہ تڑپ پیدا کرنے کے لیے گھلتے اور پگھلتے رہے، اگر ایک شخص کی زندگی بھی اس کے ذریعے تبدیل ہوگئی تو یقینا ہماری محنت وُصول ہوگئی اور یہی جذبہ اس اشاعت کے لیے کارفرما ہے، آئیے! اسی شوق وجذبہ سے اس کا مطالعہ کریں۔
Read Online | Download Now
|