Qadiyani & Bahai [ Must Read ]

2 views
Skip to first unread message

Nayyer Bhai

unread,
Oct 31, 2011, 4:44:27 AM10/31/11
to

بہائیت اور قادیانیت میں مماثلت  Abdul Latif Khalid Chima

.... عبداللطیف خالد چیمہ.... اسلام مخالف تحریکوں کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے ”فری میسن“ کو پڑھنا از حد ضروری ہے اور صہیونی طریق کار پر نظر رکھے بغیر ہم درست تجربے کی پٹڑی پر نہیں چڑھ سکتے۔ انیسوی صدی کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اسلام دشمن اعلانیہ اور خفیہ تحریکوں اور تنظیموں نے خوب اپنے رنگ دکھائے۔ سابق وفاقی وزیر مذہبی امور اور ممتاز محقق و مصنف ڈاکٹر محمود احمد غازی جناب بشیر احمد کی کتاب ”بہائیت“ کے مقدمہ میں رقمطراز ہیں کہ ”یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ جن دنوں ہندوستان میں قادیانیت کی داغ بیل ڈالی جارہی تھی ٹھیک انہی دنوں ایران میں بہائیت کو پروان چڑھایا جارہا تھا چونکہ دونوں کے مقاصد ایک تھے اس لیے طریقہ کار میں بھی حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ چونکہ ایران اور برصغیر پاک و ہند کے دو مختلف پس منظر رکھنے والے علاقوں میں ان دو تحریکوں کو کام کرنے کے لیے تیار کیا جارہا تھا۔ اس لیے تفصیلات میں قدرے اختلاف اور فرق بھی معلوم ہوتا ہے“۔ ”بہائیت“ کے حوالے سے پہلی مستند اردو کتاب ”بہائیت اسرائیل کی خفیہ سیاسی تنظیم“ کے مصنف جناب شیر احمد لکھتے ہیں کہ ”بہائی اکابر نے دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی نئی اسلامی مملکت پاکستان کے قیام کو دلچسپ تجربہ قرار دیا۔ اس مملکت کے عرب ممالک سے ابھرتے ہوئے روابط ایران سے قربت اور جغرافیائی اہمیت کے باعث یہاں نئے مشن قائم کرنے کی فوری ضرورت محسوس کی گئی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے قیام کی سخت مخالفت کی۔ پاکستان کے اسلامی تشخص اور اس کی عرب نواز پالیسی کے نتیجے میں سامراجی طاقتوں کی یہ خواہش تھی کہ یہاں ان کی وفادار تنظیمیں اور ادارے پھلیں پھولیں۔ قادیانی خلیفہ مرزا محمود احمد بھی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر قادیان سے لاہور آگئے تھے تاکہ برطانوی مہرے کے طور پر کام کرسکیں“۔ بہائیت اور قادیانیت میں کس حد تک مماثلت ہی؟ اور 1953ءکی تحریک ختم نبوت کے بعد شوتی آفندی نے اسفند یار بختیاری کو اسرائیل کن مقاصد کے لیے طلب کیا؟ 1954ءمیں بختیاری، محفوظ الحق علمی کی تحریک ختم نبوت کے واقعات کے حوالے سے کیا رپورٹ لے کر پاکستان سے اسرائیل گیا؟ ملکی و بین الاقوامی سطح پر بہائیوں نے مسلمانوں کے عقائد اور مفادات کو کیسے ذبح کیا اور پاکستان کے اہم ترین مقامات اور بعض غیر معروف جگہوں پر کس طرح اپنے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں؟ یہ موضوع تفصیل طلب ہے اور اس پر انشاءاللہ تعالیٰ کسی مناسبت سے پھر کسی وقت کچھ لکھا جاسکے گا مذکورہ پس منظر کی وجہ یہ ہے کہ مصر میں دولت، میڈیا اور پراپیگنڈے کے ذریعے تفریق پیدا کرنے کے لیے ”قادیانی اور بہائی“ کس طرح سازش کررہے ہیں۔ ایک بڑے ہوٹل میں پاکستان، ایران اور مصر کے قادیانیوں اور بہائیوں کی ایک میٹنگ کی رپورٹ روزنامہ ”المصریون“ میں اس طرح شائع ہوئی ہے۔ مصری اخبار ”المصریون“ نے دعویٰ کیا ہے کہ ”پاکستان، ایران اور مصر کے قادیانی اور بہائی رہنماﺅں نے بیروت میں ایک میٹنگ کی، جس کا مقصد حالیہ مصری انقلاب کے بعد مصر میں قادیانی اور بہائی مذہب کی تخم ریزی تھا۔ یہ میٹنگ بیروت کے علاقے فیردان کے بڑے ہوٹل میں ہوئی، جس میں مصر سے فائز عبدالقوی (بہائی)، سلامہ صالح صالح (بہائی)، عادل شریف تہامی (بہائی) اور ربیع علی ربیع (قادیانی)، ایران سے باکتر کرامی (قادیانی)، جمشید فرزند (قادیانی)، شبیر قد جھدانی (قادیانی)، پاکستان سے حنیف نور الدین (قادیانی)، لبنان سے وسیم دحدوح (بہائی)، لوئی شہاب الدین (قادیانی) شامل تھے۔ میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سپریم کورٹ میں دعویٰ دائر کرکے مصری حکومت کو قادیانی و بہائی مذہب کو سرکاری مذہب تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اسی طرح مصری سیٹلائٹ نیل 7 کے ذریعے دو سیٹلائٹ چینل بنائے جائیں، جن کے لیے فنڈ قادیانی فراہم کریں گے اور ان کا نظم و نسق بہائیوں کے ہاتھوں میں ہوگا تاکہ مصر اور دیگر عرب ممالک میں اپنی سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر پھیلایا جائے نیز میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وزارت عدل اور کابینہ سے نوٹس جاری کروایا جائے جس میں قادیانیوں کے لیے مساجد کی تعمیر کی اجازت ہو۔ اجتماع میں فیصلہ ہوا کہ اخوان المسلمین اور دیگر اسلامی جماعتوں میں اختلافات پیدا کیے جائیں اور مصری فوج اور عوام کے بیچ دوری پیدا کرکے اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا جائے۔ میٹنگ میں کہا گیا کہ مصر کے فقراءو مساکین کو مال و دولت اور ماہانہ وظائف کے ذریعے اپنی طرف راغب کیا جائے اور قادیانی و بہائی تعارفی لٹریچر زیادہ سے زیادہ چھپوا کر تقسیم کیا جائی، نیز ویب سائٹس، آن لائن جرائد اور سوشل نیٹ ورکس جیسے فیس بک مثلاً الیکٹرونک ذرائع سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ اس سے پہلے بھی اخبار نے قادیانوں کی مذموم سرگرمیوں سے پردہ اٹھایا تھا، جب انہوں نے قاہرہ کے وسط میں واقع طلعت حرب روڈ پر راہگیروں میں اپنے کفریہ لٹریچر کی تقسیم شروع کر رکھی تھی۔ قادیانی گروہ نے انیسویں صدی کے اواخر میں برصغیر میں جنم لیا اس کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی بھارتی پنجاب کے شہر قادیان کا رہنے والا تھا۔ اس نے 1889ءمیں اس فرقے (گروہ) کی بنیاد رکھی اور مہدی منتظر ہونے کا دعویٰ کیا۔ قادیانی گروہ افریقہ، یورپ، امریکا اور جنوب مشرقی ایشیا تک پھیل چکا ہے اور اس کے پیروکاروں کی زیادہ تعداد انڈیا اور پاکستان میں ہے ۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ پہلے بھی قادیانی گروہ نے مجمع البحوث الاسلامیہ کو درخواست کی تھی کہ انہیں مصر میں کام کرنے کی اجازت دی جائے اور اپنے آپ کو ایک اسلامی فرقہ ظاہر کرکے کچھ لٹریچر بھی مجمع کو پیش کیا تھا۔ لیکن مجمع نے یہ کہہ کر ان کو اپنی تبلیغی سرگرمیاں بحیثیت مسلمان شروع کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا کہ ان کا عقیدہ اسلام مخالف اور یہ مرتد ہیں ان کے لیے مسلمانوں کی مساجد میں داخلے کی بالکل اجازت نہیں۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ قادیانی فرقہ برطانوی و فرانسیسی استعمار کی پیداوار ہے اور انہیں بہائیوں کی جانب سے بھرپور امداد حاصل رہی ہے کیونکہ دونوں کا مقصد مسلمانوں کو راہ ہدایت سے گمراہ کرنا ہے۔ ماضی میں جب قادیانی عرب ممالک میں اپنی مذموم سرگرمیوں کے فروغ میں ناکام رہے تو اسرائیل نے ان کے لیے اپنے دروازے واہ کردیے اور برطانیہ کے بعد قادیانیوں کا سب سے بڑا مرکز اسرائیل کے شہر حیفہ میں ہے۔ 1934ءمیں قادیانیوں نے حیفہ میں اپنا عبادت خانہ بنایا جس کا نام مسجد سیدنا محمود رکھا۔ اسی طرح وہاں سے انہوں نے ایک ٹی وی چینل ایم ٹی سی کا بھی آغاز کیا۔ اخبار آخر میں لکھتا ہے کہ قادیانی پاکستان اور افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایجنٹ کے طور پر کام کررہے ہیں جس کے عوض ان کو لاکھوں ڈالر امداد ملتی ہے“۔ ہم اس رپورٹ پر مزید تبصرے کے بجائے صرف اتنا کہنا چاہیں گے کہ جو حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں 1974ءکی قومی اسمبلی میں لاہوری و قادیانی مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے اور بعد ازاں 1984ءمیںامتناع قادیانیت ایکٹ کے اجراءو نفاذ کے بعد قادیانی مسئلہ حل ہوگیاہے۔ اور اس پر کام کی ضرورت نہیں وہ اس رپورٹ کے تناظر میں پوری دنیا میں قادیانی سرگرمیوں کا جائزہ لیں، امریکا و یورپ، افریقہ و مشرق وسطیٰ سمیت ہر جگہ ان کے دجل و دھوکے کو قریب سے دیکھ کر ان پر کام کی ضرورت و اہمیت ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کتنی بڑھ گئی ہی؟ حج جیسی عبادت کے موقع پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قادیانی امریکا و یورپ اور برصغیر سے کس طرح پہنچ جاتے ہیں کس کس ملک سے کون کون سی ٹریول ایجنسیاں قادیانیوں کو وہاں پہنچاتی ہیں، جدہ میں ان کا خفیہ مرکز کس طرح کام کررہا ہے اور وہاں حجاج و زائرین کو پھنسانے کے لیے قادیانی کیا حربے استعمال کرتے ہیں صرف اس حوالے سے کس طرح کے کام کی ضرورت ہے اور سفارتی ذرائع استعمال کرنے کے لیے کس ڈھب کی محنت کی ضرورت ہی؟ یہ سب کچھ اہل فکر و نظر کے لیے ایک سوال ہے سوچنا کا! اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق سے نوازیں اور کفار و مشرکین اور مرتدین سے ارض مقدس کو پاک فرمادیں۔ آمین یا رب العالمین۔









Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages