gaon aor shahr k akhlaq me farq

5 views
Skip to first unread message

Ishteyaque

unread,
Jun 25, 2011, 6:44:01 AM6/25/11
to hazarewalls
Please forward it to your mailing list

http://urdu.salahsoltan.com/component/content/article/38-slideshow/1093-2011-06-25-08-16-45.html
گاؤں اور شہر کے اخلاق میں فرق
بقلم: ڈاکٹر. صلاح الدين سلطان
ترجمہ : اشتیاق عالم فلاحی
کہا جاتا ہے کہ گلوبلائزیشن کے دور میں مواصلات اور فضائیات اور رابطہ کے
وسائل کی ترقّی کی بناء پر دنیا ایک "چھوٹے گاؤں"میں تبدیل ہو گئی ہے،
حالانکہ در حقیقت یہ گاؤں پر ایک الزام ہے۔ اس کے بجائے دنیا کو "ایک
چھوٹے شہر" یا "ایک چھوٹے ہوٹل"کا نام دینا زیادہ موزوں ہے، کیونکہ گاؤں
کے تمام لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں، کون وہاں کا اصل ہے اور کون باہر سے
آیا ہوا یہ بھی معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بالمقابل شہر کی آبادی کی صورتِ حال
ملی جُلی ہوتی ہے، اور ہر فرد کی شناخت کا معیار حقیقت اور جوہر کے
بجائے لباس اور ظاہری کرّو فرّ قرار پاتا ہے۔ گاؤں کے اندر کچھ اصول ہوتے
ہیں جس کے سب ہی پابند ہوتے ہیں، ان کی خوشی سب کی خوشی ہوتی ہے اور ان
کا غم بھی سب کا غم۔ وہ ایک دوسرے سے مشابہہ لباس پہنتے ہیں اور تقریباً
ایک جیساکھانا کھاتے ہیں۔ ان کی عادتیں بھی ایک جیسی ہوتی ہیں۔ لیکن
شہرکے اندر بیک وقت ہر رنگ پایا جاتا ہے، ایک ہی محلہ میں اور کبھی تو
ایک ہی عمارت میں ایک طرف کوئی بڑی تکلیف میں ہوتا ہے تو دوسری طرف خوشی
کے شادیانے ہوتے ہیں۔ غم کی چیخیں اور مسرّت کے نغمے ایک ساتھ بلند ہوتے
ہیں۔ وعظ و نصیحت کی آوازوں کے درمیان ہی موسیقی کی دُھنیں بھی چل رہی
ہوتی ہیں۔ ہر مجنوں کی خوشی یا اس کا غم محض اس کی لیلیٰ سے وابستہ ہوتا
ہے۔ گھر، عمارت، اور بلڈنگوں کے رنگوں کی طرح کھانے، پینے،
پہننے ،اوڑھنے، نکاح و طلاق کی روایتیں بھی ہر قدم پر جدا جدا ہوتی ہیں.

گاؤں میں بات چلتی ہے اور اطاعت ہوتی ہے تو بڑوں کی۔ وہ بڑا شخص صاحبِ
اقتدار بھی ہوسکتا ہے، آبادی کا شیخ بھی، قبیلہ کا سردار بھی اور بستی
کا عالم بھی۔ لیکن شہر ، یہاں تو ہر شخص خود بڑا ہوتا ہے، وہی اپنے آپ
میں قائد اور سربراہ ہوتا ہے، وہی میئر ، شیخ، سیّد اور مفتی سب کچھ ہوتا
ہے۔ وہاں کسی پر کسی کا زور نہیں چلتا۔ وہاں کسی کے لئے کوئی دوسرا بڑا
نہیں ہوتا۔
گاؤں میں مناروں کی بلندی کے سامنے عمارتوں کی بلندی ماند ہوتی ہے۔
عمارتوں کے اطراف میں درخت، کھیتیاں، پھول اور پھل بھرے ہوتے ہیں۔ فضا
گلاب کی خوشبوسے معطر ہوتی ہے، گوریوں کی چہچہاٹ اور پالتو بلّیوں کی
آوازیں بھی ہوتی ہیں۔ جب کہ شہر میں منارے عمارتوں کی بلندی سے چھُپ جاتے
ہیں، مساجد سے زیادہ بلند سینیما گھر بھی دکھائی دیتے ہیں، یہاں چہچہانے
والے گوریّوں کی نہیں بلکہ رکھوالی کے کتّوں کی کثرت ہوتی ہے۔ قندیلِ
راہنما پر صنم خانے بھاری ہوتے ہیں۔
گاؤں میں بچّے ، ماں ، باپ، چچا، ماموں، پڑوسی ، رشتہ دار اور دور کے
افراد سب سے سیکھتا ہے۔ بستی کے سب لوگ تمام بچّوں کی تربیت کرتے ہیں۔
چنانچہ ان بچوں کی نشوونما اس طرح ہوتی ہے کہ ان کے اندر سماجی شعور ہوتا
ہے ، وہ شریف اور سخی ہوتے ہیں۔ البتّہ شہر کے بچّے وہ مساکین ہیں جن کی
تربیت ٹی وی سے ہوتی ہے اور فلموں اور اسپورٹس کے ہیرووں سے۔ ڈرامے کے
اسٹیج پر اُبھرنے والے نجوم وکواکب ، آزاد اور پابند کھیل کے سورماوں سے
ان کی تربیت ہوتی ہے۔ ان میں سے ہر بچّہ ایک منفرد جزیرہ ہوتا ہے، وہ
دوسروں سے الگ تھلگ ہو جاتا ہےحتی کہ اپنے خاندان سے بھی۔ لیکن یہ المیہ
اس وقت اور شدید ہو جاتا ہے جب جب گلوبلائزیشن کے سخت ہاتھ بستیوں اور
آبادیوں کو آلودہ کرنے کے لئے آگے بڑھتے ہیں۔ یہ ذلّت و رسوائی پھیلاتے
ہیں، انسانوں کو خواہشِ نفس اور شیطان کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ البتّہ
امّید کی ایک کِرن بھی ہے، مومن مرد اور عورتیں ان سب کے باوجود بھی گاؤں
کے اخلاق، اصول، اس کی روایات کو باقی رکھنے کے لئے سرگرمِ عمل ہیں۔ وہ
اس بات کے لئے کوشاں ہیں کہ قرآن اور سنّت کے نور کو امّ القریٰ سے لے کر
ہر چہار جانب شہروں ، بستیوں، بلکہ پوری دنیا میں پھیلا دیں تاکہ یہ چیز
سارے انسانوں کے لئے رحمت بن جائے اور مفسدین کے گلوبلائزیشن کا یہ جواب
ہو۔ ٭٭٭٭

Muzaffar Mirza

unread,
Jun 25, 2011, 2:01:27 PM6/25/11
to hazar...@googlegroups.com
Mohtaram Dr. Sb.

A.o.K - gawn r global village s mutahaq ap ke tehrir zaberdest r dil m
utterne wali hay. mere kheal m " Gaon ke hasseyat Mann jese hay" es
say etna he peyar mehsoos hota hay jetna Mann s"
Thanks.

MA mirza

Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages