سنٹر جیل بہاولپور میں قید جھوٹے مقدمات میں بند سینئر صحافی غلام رسول خان کا کھلا خط

1 view
Skip to first unread message

BBC NEWS

unread,
Oct 25, 2012, 9:16:03 AM10/25/12
to good-governance-forum, good.governance, Imran (PK)
سینئر صحافی
بہاولپور(غلام رسول خان نیو سینٹر ل جیل سے)
بہاولپور کے سینئر صحافی غلام رسول خان جو حق وسچ لکھنے کی پاداش میں
سنٹرجیل قید ہیں ان کا قصور یے ہے کہ انہوں نے کرپشن کے خلاف جہاد کیا
اور وزیراعلیٰ پنجاب کی کرپشن بے نقاب کی
وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کی حکومت کا کردارجسم فروش عورت سے بھی بد تر
ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب اپنی ٹیم سمیت کرپشن بھی کرتے ہیں اور پھر حقائق شائع
ہونے سے ڈرتے بھی ہیں جو صحافی حق سچ کی بات لکھتے ہیں وہ دراصل جہاد
کررہے ہیں حکمرانوں اور ان کے کرپٹ نظام کو قائم رکھنے والے ادارے
انتظامیہ اور پولیس وغیرہ اس دور میں جابرانہ اور ظالمانہ کردار ادا کر
رہے ہیںآئی جی پنجاب الحاج بھی ہیں اور حج بیت اللہ کے ساتھ ساتھ حال ہی
میں عمرہ کی سعادت بھی حاصل کرکے آئے ہیںآر پی او بہاولپور راجپوت خاندان
اور ڈی پی او بہاولپور پٹھان خاندان سے تعلق رکھنے کے دعویدار ہیں مگر
جھوٹے مقدمات میں حق سچ لکھنے والوں کو کرپٹ حکمرانوں کی ایماء پر جیلوں
میں بند کر دیتے ہیں انکا کردار اور قول وفعل میں تضاد پکار پکار کر کہہ
رہا ہے وہ اپنی نوکری بچانے کے لیئے اپنے ایمان کا سودا کر چکے ہیں ۔
کرپٹ تولے کے آلہ کار پولیس افسران خود ہی اپنے گریبانوں میں
جھانکیں۔۔جھوٹے مقدمات قائم کرنے والے افسران غیرت مند نہیں ہوسکتے۔مجھے
3 اکتوبر سے جیل میں جھوٹے مقدمے میں ڈی سی او بہاولپور کی ایماء پر
شہباز شریف اور انکی ٹیم کی کرپشن کی نشاندہی پر ناجائز قید کر دیا گیا
ہے اور میڈیا نے تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے نام نہاد خادم اعلیٰ پنجاب
جو کرپشن مافیا کا سربراہ ہے کی کرپشن منظرعام لانے پر مبارک باد کا
مستحق ہے۔شہباز اینڈ کمپنی مکمل طور پر صوبے اور خاص طور پر بہاولپور کے
وسائل لوٹنے میں ملوث ہے اور بہاولپور ملک بھر میں اپنی کرپشن کی وجہ سے
پہلے نمبر پر ہے ڈی سی او نعیم رؤف کرپشن کی کھلی کتاب یہی وجہ ہے کہ ڈی
سی او نعیم رؤف نے وزیر اعلیٰ پنجاب کا نام استعمال کرتے ہوئے مقامی پولس
آفیسران کے ذریعہ انتہائی جھوٹا مقدمہ نمبر 532/12 بجرم 295A و 298A اور
16MPO و جس میں بعد ازاں 7ATA کا اضافہ کروا کر مجھے جیل بند کروادیا ہے
اسی ڈی سی او نے پہلے بھی اکتوبر2010 میں مجھے گرفتار کروایاتھابعد میں
ضمانت ہونے پر 30 دن کے لیئے پھر نظر بند کردیا گیا ۔جھوٹے مقدمات سچ کو
سامنے لانے سے نہیں روک سکتے ۔قیدو بند کی صعوبتیں سہنے کے باوجود ان کی
کرپشن کو منظرعام پر لاتا رہوں گا۔چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ اور چیف جسٹس
آف پاکستان سپریم کورٹ از خود نوٹس لے کہ یہاں سرعام لوگوں کو غائب کیا
جارہا ہے تو باقی عوام کا کیا بنے گااور میری جان کو جیل میں خطرہ ہے کہ
کرپٹ مافیا میرے ساتھ کچھ بھی کرسکتاہے
gulam rasool khan.jpg
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages