3 views
Skip to first unread message

BBC NEWS

unread,
Nov 10, 2014, 9:26:57 PM11/10/14
to pakista...@googlegroups.com, asad.a...@gmail.com, Pakistani Press Google group, ---------- Forwarded message ---------- From: Shahid Ghuman <shahidghuman@gmail.com> Date: Fri, 27 May 2011 07:33:59 -0700 Subject: **JP** Column Yome Takbeer To: joinpakistan@googlegroups.com, presszone@yahoo.com, district press club district press club <nankanaspress@gmail.com>, info@dailyuniversal.com.pk, daily rae <rahetalaash@yahoo.com>, qasim ali <qasima23@yahoo.com>, afkarjahan@gmail.com, info <info@dailyjinnah.com>, khabrainmultan@gmail.com, ehtesab@yahoo.com, azadiswat@link.net.pk, iqbal.janjua1@gmail.com, info@shanabashana.com, mashriq@brain.net.pk, bbclhr@gmail.com, bazpurs@gmail.com, news@saltnat.com, dailysahafat@gmail.com.pk, editor.daisperdais, good-governance-forum


11/11/2014
عوام اور آل صحافتی برادری کے نام ایک کھلا خط
محترم بندہ ایک سنیئر ترین33سالہ تجربہ رکھنے والا صحافی ہے جو ضلع بہاول پور کی تحصیل خیرپورٹامیوالی سے تعلق رکھتا ہے اسوقت بندہ عرصہ پندرہ دنوں سے یزمان میں مقیم ہوچکا ہے بندہ نے اپنی صحافتی سروس کے دوران ہمیشہ ایماندارانہ اور بلیک میلنگ سے پاک صحافت کی ہے اپنی صحافتی سروس کے دوران بہت سارے نشیب وفراز بھی دیکھے ہیں ظلم وجبراور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف جہاد کیا ہے اور متعددجھوٹے مقدمات کا سامنا بھی کیا ہے بندہ کو انتظامیہ اور پولیس ۔ظالم جاگیرداروں کی طرف سے حراساں بھی کیا گیا ہے گزشتہ دنوں 6/7نومبر 2014کے درمیان روز نامہ ایکسپریس ملتان میں کرائم کے صفحہ میں یزمان کے نمائندہ ایکسپریس کی جانب سے کرائم کی ڈائری شائع ہوئی جس میں لکھا گیا ہے کہ یزمان پولیس مقابلے۔دس ماہ کے دوران 36آفراد ہلاک ہوئے ۔اسی طرح یے خبر مورخہ10/11/14کو یزمان کے خبرنگار کے حوالے سے بھی روز نامہ نوائے وقت میں بھی شائع ہوئی ہے بندہ نے انہی اخبارات کے حوالے سے یہی فیگر رائل نیوز پر ٹیکر کی صورت میں چلوادیئے ہیں جس کے نتیجہ میں بندہ کو پولیس کی جانب سے سخت حراساں کیا جارہا ہے گزشتہ رات 10بجے کے قریب ایک موبائل کال نمبری0300.6825571 سے موصول ہوئی کال کرنے والے نے اپنا تعارف PRO /ڈی پی او بہاول پور کرایا اور پوچھا کہ یے ٹیکر آپ نے کون سے حوالے جاری کیئے ہیں میں نے انہیں اخبارات کا حوالہ دیا کہ یے فیگر ان اخبارات میں شائع ہوئے ہیں میں نے ان کے حوالے سے ٹیکر چلا دیا ہے ان صاحب نے مجھے ڈی پی اوآفس آنے کا حکم دیا ہے مجھے یے حکم زبانی کلامی دیا گیا ہے کوئی تحریری نوٹس نہ ہے ۔میں یے فیصلہ اپنی صحافتی برادری اور اعوام پر چھوڑتا ہونکہ میں کیا کروں جن اخبارات کے نمائندگان نے یے فیگر شائع کیئے ہیں ان سے کوئی جواب نہ لیا جارہا ہے میرے ایک ٹیکر چلانے پر مجھے حراساں کیا جارہا ہے پہلے بھی یزمان میں میرے سات یہی کچھ ہوچکا ہے اب یے دوبارہ وہی کھیل کھیلا جارہا ہے مجھے ڈی پی او صاحب تحریری نوٹس جاری کریں اور میرے ساتھ ان اخبارات کے نمائندگان کو بھی طلب کریں ان سے پوچھیں کہ یے فیگر کیوں شائع کرائے ہیں میں نے اپنے ادارے رائل نیوز کو بھی تمام صورت حال سے آگاہ کردیا ہے برائے کرم آل صحافتی برادری میری مدد کرے میں اس وقت تک ڈی پی او آفس نہیں جاونگا جب تک مجھے تحریری طور پر نہیں بلایا جاتا۔اگر اس دوران مجھے کوئی بھی جانی ومالی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوگی ۔۔۔العارض۔۔۔ایم اقبال انجم جرنلسٹ یزمان 03017737662


--
news.jpg
litor.inp
1102514324-1.gif
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages