WSM
---------- Forwarded message ----------
From: said hamid <saidham...@yahoo.com>
Date: Mon, 11 Oct 2010 11:28:56 -0700 (PDT)
Subject: Fw: [Pak NGOs Home Email:1557] Aik Mutasir Konn Qissa
To: saidha...@gmail.com
----- Forwarded Message ----
From: Azhar Rai <azha...@gmail.com>
To: Ahsan Rai <m.ahs...@gmail.com>
Cc: taskeen afzal <taske...@gmail.com>; Hr AJK <hr....@irp.org.pk>; Andrew
Morgan <andrew...@thestayathomejob.com>; Imtiaz Ahmed
<imtiaz...@irp.org.pk>; agb...@hope-ngo.com; mani <zama...@gmail.com>;
zahoo...@yahoo.com; Muhammad Sajjad Khan <sajja...@irp.org.pk>; sarfarz
mushtaq <sarfraz...@yahoo.com>; SohAiL RaNjhA
<sohail_r...@yahoo.com>;
sm-...@hotmail.com; soha...@live.com; sose...@hotmail.com; adnan
<socra...@hotmail.com>; st...@raasta.com; said hamid
<saidham...@yahoo.com>; shabana ir <shaban...@yahoo.com>;
ranawa...@gmail.com; recruitmen...@gmail.com; raopi...@yahoo.com;
tahirs...@yahoo.com; tarne...@zajil.net; fatima 1223
<fatima...@hotmail.fr>; fausalh...@yahoo.com; umar fpc
<uma...@yahoo.com>; engmr...@gmail.com;
environmen...@googlegroups.com; expe...@yahoo.com; waqasvicky.vicky72
<waqasvick...@gmail.com>; Haroon Ur Rashid <haroon....@irp.org.pk>;
muzamil-hdf <muzam...@yahoo.com>; muzamil-hdf <muzam...@yahoo.com>;
h...@akp.com.sa; humanresource...@gmail.com
Sent: Monday, October 11, 2010 12:35:56
Subject: Re: [Pak NGOs Home Email:1557] Aik Mutasir Konn Qissa
Interesting
Azhar Rai
Skype: azhar.rai
2010/10/9 Ahsan Rai <m.ahs...@gmail.com>
>Muhammad Ahsan-ul-Haq
>Site Supervisor
>Islamic Relief
>ahsa...@irp.org.pk
>ahsa...@hotmail.com
>m.ahs...@gmail.com
>+92 345 7670784
>+92 300 6530313
>
>
>
>
>---------- Forwarded message ----------
>From: Aasia Asif <aas...@gmail.com>
>Date: 2010/10/7
>Subject: [Pak NGOs Home Email:1557] Aik Mutasir Konn Qissa
>To:
>
>
>
>
>
> ( In the name Allah, most beneficent and most merciful)
> (May Peace and blessings of Allah be on you)
>ايک متأثر کن قصہ
> آخر تک پڑھيئے
>
>ايک شخص نے يوں قصہ سنايا کہ
>
>ميں اور ميرے ماموں نے حسب معمول مکہ حرم شريف ميں نماز جمعہ ادا کي اورگھر
>کو واپسي کيلئے روانہ ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے کچھ فاصلے پر ايک بے
>آباد سنسان مسجد آتي ہے، مکہ شريف کو آتے جاتے سپر ہائي وے سے بارہا گزرتے
>ہوئے اس جگہ اور اس مسجد پر ہماري نظر پڑتي رہتي ہے اور ہم ہميشہ ادھر سے ہي گزر
>کر جاتے ہيں مگر آج جس چيز نے ميري توجہ اپني طرف کھينچ لي تھي وہ تھي ايک نيلے
>رنگ کي فورڈ کار جو مسجد کي خستہ حال ديوار کے ساتھ کھڑي تھي، چند لمحے تو ميں
>سوچتا رہا کہ اس کار کا اس سنسان مسجد کے پاس کيا کام! مگر اگلے لمحے ميں نے کچھ
>جاننے کا فيصلہ کرتے ہوئے اپني کار کو رفتار کم کرتے ہوئے مسجد کي طرف جاتي کچي
>سائڈ روڈ پر ڈال ديا، ميرا ماموں جو عام طور پر واپسي کا سفر غنودگي ميں گزارتا ہے
>اس نے بھي اپني اپني آنکھوں کو وا کرتے ہوئے ميري طرف حيرت سے ديکھتے ہوئے پوچھتا،
>کيا بات ہے، ادھر کيوں جا رہے ہو؟
>
>
>ہم نے اپني کار کو مسجد سے دور کچھ فاصلے پر روکا اور پيدل مسجد کي طرف چلے، مسجد
>کے نزديک جانے پر اندر سے کسي کي پرسوز آواز ميں سورۃ الرحمٰن تلاوت کرنے کي آواز
>آ رہي تھي، پہلے تو يہي اردہ کيا کہ باہر رہ کر ہي اس خوبصورت تلاوت کو سنيں ، مگر
>پھر يہ سوچ کر کہ اس بوسيدہ مسجد ميں جہاں اب پرندے بھي شايد نہ آتے ہوں، اند جا
>کر ديکھنا تو چاہيئے کہ کيا ہو رہا ہے؟
>
>ہم نے اند جا کر ديکھا ايک نوجوان مسجد ميں جاء نماز بچھائے ہاتھ ميں چھوٹا سا
>قرآن شريف لئے بيٹھا تلاوت ميں مصروف ہے اور مسجد ميں اس کے سوا اور کوئي نہيں
>ہے۔ بلکہ ہم نے تو احتياطا ادھر ادھر ديکھ کر اچھي طرح تسلي کر لي کہ واقعي کوئي
>اور موجود تو نہيں ہے۔
>
>
>ميں نے اُسے السلام و عليکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا، اس نے نطر اُٹھا کر ہميں
>ديکھا، صاف لگ رہا تھا کہ کسي کي غير متوقع آمد اس کے وہم و گمان ميں بھي نہ تھي،
>حيرت اس کے چہرے سے عياں تھي۔
>اُس نے ہميں جوابا وعليکم السلام و عليکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا۔
>
>ميں نے اس سے پوچھا، عصر کي نماز پڑھ لي ہے کيا تم نے، نماز کا وقت ہو گيا ہے اور
>ہم نماز پڑھنا چاہتے ہيں۔
>اُس کے جواب کا انتظار کئے بغير ميں نے اذان دينا شروع کي تو وہ نوجوان قبلہ کي
>طرف رخ کئے مسکرا رہا تھا، کس بات پر يا کس لئے يہ مسکراہٹ، مجھے پتہ نہيں تھا۔
>عجيب معمہ سا تھا۔
>پھر اچانک ہي اس نوجوان نے ايک ايسا جملہ بولا کہ مجھے اپنے اعصاب جواب ديتے نظر
>آئے،
>
>نوجوان کسي کو کہہ رہا تھا؛ مبارک ہو، آج تو باجماعت نماز ہوگي۔
>
>ميرے ماموں نے بھي مجھے تعجب بھري نظروں سے ديکھا جسے ميں نظر انداز کر تے ہوئے
>اقامت کہنا شروع کردي۔
>
>جبکہ ميرا دماغ اس نوجوان کے اس فقرے پر اٹکا ہوا تھا کہ مبارک ہو، آج تو
>باجماعت نماز ہوگي۔
>
>دماغ ميں بار بار يہي سوال آ رہا تھا کہ يہ نوجوان آخر کس سے باتيں کرتا ہے، مسجد
>ميں ہمارے سوا کوئي بندہ و بشر نہيں ہے، مسجد فارغ اور ويران پڑي ہے۔ کيا يہ پاگل
>تو نہيں ہے؟
>
>ميں نے نماز پڑھا کر نوجوان کو ديکھا جو ابھي تک تسبيح ميں مشغول تھا۔
>
>ميں نے اس سے پوچھا، بھائي کيا حال ہے تمہارا؟ جسکا جواب اس نے ــ’بخير و للہ
>الحمد‘ کہہ کر ديا۔
>ميں نے اس سے پھر کہا، اللہ تيري مغفرت کرے، تو نے ميري نماز سے توجہ کھينچ لي ہے۔
>’وہ کيسے‘ نوجوان نے حيرت سے پوچھا۔
>ميں نے جواب ديا کہ جب ميں اقامت کہہ رہا تھا تو نے ايک بات کہي مبارک ہو، آج تو
>باجماعت نماز ہوگي۔
>
>نوجوان نے ہنستے ہوئے جواب ديا کہ اس ميں ايسي حيرت والي کونسي بات ہے؟
>ميں نے کہا، ٹھيک ہے کہ اس ميں حيرت والي کوئي بات نہيں ہے مگر تم بات کس سے کر رہے
>تھے آخر؟
>نوجوان ميري بات سن کر مسکرا تو ضرور ديا مگر جواب دينے کي بجائے اس نے اپني نظريں
>جھکا کر زمين ميں گاڑ ليں، گويا سوچ رہا ہو کہ ميري بات کا جواب دے يا نہ دے۔
>ميں نے اپني بات کو جاري رکھتے ہوئے کہا کہ مجھے نہيں لگتا کہ تم پاگل ہو، تمہاري
>شکل بہت مطمئن اور پر سکون ہے، اور ماشاءاللہ تم نے ہمارے ساتھ نماز بھي ادا کي ہے۔
>
>اس بار اُس نے نظريں اُٹھا کر مجھے ديکھا اور کہا؛ ميں مسجد سے بات کر رہا تھا۔
>
>اس کي بات ميرے ذہن پر بم کي کي طرح لگي، اب تو ميں سنجيدگي سے سوچنے لگا کہ يہ
>شخص ضرور پاگل ہے۔
>ميں نے ايک بار پھر اس سے پوچھا، کيا کہا ہے تم نے؟ تم اس مسجد سے گفتگو کر رہے
>تھے؟ تو پھر کيا اس مسجد نے تمہيں کوئي جواب ديا ہے؟
>اُس نے پھرمسکراتے ہوئے ہي جواب ديا کہ مجھے ڈر ہے تم کہيں مجھے پاگل نہ سمجھنا
>شروع کر دو۔
>ميں نے کہا، مجھے تو ايسا ہي لگ رہا ہے، يہ فقط پتھر ہيں، اور پتھر نہيں بولا
کرتے۔
>
>اُس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپکي بات ٹھيک ہے يہ صرف پتھر ہيں۔
>اگر تم يہ جانتے ہو کہ يہ صرف پتھر ہيں جو نہ سنتے ہيں اور نہ بولتے ہيں تو
> باتيں کس سے کيں؟
>نوجوان نے نظريں پھر زميں کي طرف کر ليں، جيسے سوچ رہا ہو کہ جواب دے يا نہ دے۔
>
>اور اب کي بار اُس نے نظريں اُٹھائے بغير ہي کہا کہ ؛
>ميں مسجدوں سے عشق کرنے والا انسان ہوں، جب بھي کوئي پراني، ٹوٹي پھوٹي يا ويران
>مسجد ديکھتا ہوں تو اس کے بارے ميں سوچتا ہوں
>مجھے اُنايام خيال آجاتا ہے جب لوگ اس مسجد ميں نمازيں پڑھا کرتے ہونگے۔
>
>پھر ميں اپنے آپ سے ہي سوال کرتا ہوں کہ اب يہ مسجد کتنا شوق رکھتي ہوگي کہ کوئي
>تو ہو جو اس ميں آکر نماز پڑھے، کوئي تو ہو جو اس ميں بيٹھ کر اللہ کا ذکر کرے۔
> ميں مسجد کي اس تنہائي کے درد کو محسوس کرتا ہوں کہ کوئي تو ہو جو ادھر آ کر
>تسبيح و تحليل کرے، کوئي تو ہو جو آ کر چند آيات پڑھ کر ہي اس کي ديواروں کو ہلا
>دے۔
>
>ميں تصور کر سکتا ہوں کہ يہ مسجد کس قدر اپنے آپ کو باقي مساجد ميں تنہا پاتي
>ہوگي۔
>کس قدر تمنا رکھتي ہوگي کہ کوئي آکر چند رکعتيں اور چند سجدے ہي اداکر جائے اس
>ميں۔
>کوئي بھولا بھٹکا مسافر، يا راہ چلتا انسان آ کر ايک اذان ہي بلند کرد ے۔
>
>پھر ميں خود ہي ايسي مسجد کو جواب ديا کرتا ہوں کہ اللہ کي قسم، ميں ہوں جو تيرا
>شوق پورا کرونگا۔
>اللہ کي قسم ميں ہوں جو تيرے آباد دنوں جيسے ماحول کو زندہ کرونگا۔
>
>پھر ميں ايسي مسجدميں داخل ہو کر دو رکعت پڑھتا ہوں اور قرآن شريف کے ايک سيپارہ
>کي تلاوت کرتا ہوں۔
>
>ميرے بھائي، تجھے ميري باتيں عجيب لگيں گي، مگر اللہ کي قسم ميں مسجدوں سے پيار
>کرتا ہوں، ميں مسجدوں کا عاشق ہوں۔
>
> ميري آنکھوں آنسوؤں سے بھر گئيں، اس بار ميں نے اپني نظريں زميں ميں ٹکا ديں
>کہ کہيں نوجوان مجھے روتا ہوا نہ ديکھ لے،
>
>اُس کي باتيں۔۔۔۔۔ اُس کا احساس۔۔۔۔۔اُسکا عجيب کام۔۔۔۔۔اور اسکا عجيب
>اسلوب۔۔۔۔۔کيا عجيب شخص ہے جسکا دل مسجدوں ميں اٹکا رہتا ہے۔۔۔۔۔
>
>ميرے پاس کہنے کيلئے اب کچھ بھي تو نہيں تھا۔
>
>صرف اتنا کہتے ہوئے کہ، اللہ تجھے جزائے خير دے، ميں نے اسے سلام کيا، مجھے اپني
>دعاؤں ميں ياد رکھنا کہتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔
>مگر ايک حيرت ابھي بھي باقي تھي۔
>
>نوجوان نے پيچھے سے مجھے آواز ديتے ہوئے کہا تو ميں دروازے سے باہر جاتے جاتے رُک
>گيا،
>
>نوجوان کي نگاہيں ابھي بھي جُھکي تھيں اور وہ مجھے کہہ رہا تھا کہ جانتے ہو جب
>ميں ايسي ويران مساجد ميں نماز پڑھ ليتا ہوں تو کيا دعا مانگا کرتا ہوں؟
>ميں نے صرف اسے ديکھا تاکہ بات مکمل کرے۔
>
>اس نے اپني بات کا سلسلہ جاري رکھتے ہوئے کہا ميں دعا مانگا کرتا ہوں کہ
>’ اے ميرے پروردگار، اے ميرے رب! اگر تو سمجھتا ہے کہ ميں نے تيرے ذکر ، تيرے
>قرآن کي تلاوت اور تيري بندگي سے اس مسجد کي وحشت و ويرانگي کو دور کيا ہے تو اس
>کے بدلے ميں تو ميرے باپ کي قبر کي وحشت و ويرانگي کو دور فرما دے، کيونکہ تو ہي
>رحم و کرم کرنے والا ہے‘
>
>مجھے اپنے جسم ميں ايک سنسناہٹ سي محسوس ہوئي، اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور
>پھوٹ پھوٹ کر رو ديا۔
>پيارے دوست، پياري بہن
>کيا عجيب تھا يہ نوجوان، اور کيسي عجيب محبت تھي اسے والدين سے!
>کسطرح کي تربيت پائي تھي اس نے؟
>اور ہم کس طرح کي تربيت دے رہے ہيں اپني اولاد کو؟
>ہم کتنے نا فرض شناس ہيں اپنے والدين کے چاہے وہ زندہ ہوں يا فوت شدہ؟
>بس اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہميں نيک اعمال کي توفيق دے اور ہمارا نيکي پر خاتمہ
>کرے، اللھم آمين
>
>ازراہ کرم! اگر آپ کو اس ايميل کا موضوع اچھا لگا ہے تو اپنے ان احباب کو بھيج
>ديجيئے جن کا آپ چاہتے ہيں بھلا اور فائدہ ہو جائے۔
>مت بھولئے کہ نيکي کي ترغيب دلانے والے کو نيکي کرنے والے جتنا ثواب ملتا ہے۔
>
>کيا کبھي آپ ميں سے کسي نے يہ سوچا ہے کہ موت کے بعد کيا ہوگا؟ جي ہاں موت کے بعد
>کيا ہوگا؟
>
>تنگ و تاريک گڑھا، گھٹا ٹوپ اندھيرا، وحشت و ويرانگي، سوال و جواب، سزا و جزا،
>اور پھر جنت يا دوزخ۔
>
>يا اللہ، اس ايميل پڑھنے والے کے دکھ درد اور پريشانياں دور فرما دے، اور ہر اس شخص
>کي بھي جو وعظ و عبرت کيلئے اس ايميل کو دوسروں کو بھيجے۔
>آمين يا رب العالمين۔
>
> حسب سابق اس مضمون کو عربي سے اردو ميں ترجمہ کرکے آپ تک پہنچايا ہے، مجھے بھي
>اپني دعاؤں ميں ياد رکھئے گا، اللہ آپ کو جزائے خير دے ۔
>
>
>
>REGARDS,
>
>Aasia
> --
>You received this message because you are subscribed to the Google
>Groups "Pak NGOs HOME" group.
>To post to this group, send email to pak.ng...@gmail.com and
>pakng...@googlegroups.com
>To unsubscribe from this group, send email to
>pakngoshome...@googlegroups.com
>For more options, visit this group at
>http://groups.google.com/group/pakngoshome?hl=en?hl=en
>
--
Said Hamid
USI Field Officer EDO Health Office Balambat Timergara District Dir
Lower Khyber Pukhtunkhwa
Cell-0301-8054077
Micronutrient Initiatives, Solution For Hidden Hunger
www.micronutrient.org
Asalm o alikum
hopefully you all r fine and good health.i miss my all colgues.rember me in your prayers.
|
|
|
|