اَلصَّلوٰۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ ﷲ ۔
اے اﷲ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم آپ پر درود اور سلام ہو۔
……………………………………
آخری نبی سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ لا تکتبو اعنی غیر القرآن ۔ ( الحدیث ) کہ مجھ سے سوائے قرآن کے کچھ نہ لکھو۔
_________________________________________________________
اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرْ ۔
بےشک اے محمد کہ تمھارا دشمن ہی بے نام نشان رہے گا۔ سورة کوثر۔
For he who hatheth thee, He will be cut off (from future hope) : Al-Kauthar, or Abundance.
___________________
Close your eyes, take three deep breaths, and decide what's best
_________________________________________________________
پس ظہور اسلام سے لے کر تین سو سال تک آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے فرمانبردار تابعدار امتیوں نے لا تکتبو اعنی غیر القرآن ۔ ( الحدیث ) پر عمل کیا اور ماسوائے قرآن کے کچھ بھی اسلام کی طرف منسوب نہ کیا۔ مگر ظہور اسلام کے تین سو سال بعد برطانوی سعودی عرب نجد کے جاگیر دار بادشاہوں نے اپنے باریش رشوت خور فنکاروں دلالوں کے ذریعے عوام پر عدم مساوات پر مبنی حکومت کرنے کے لئے کئی کتابیں قانونی آئین لکھ کر حدیثوں کی صورت میں اسلام سے منسوب کرکے عوام پر جبری مسلط کر دیں۔ جس کی وجہ سے آج کے موجودہ دور میں ستر سے زیادہ شریعت قائم ہوچکی ہیں۔ جس کا شیطان مرکز برطانیہ ہی ہے۔ جس کہ بنیاد پر مسلمانوں کا مذہب پوری دنیا میں دہشت گردی کا مذہب بن رہا ہے۔
_________________________________________________________
ہر اہلسنت والجماعت ( عشق محبت کا جذبہ سمجھنے والوں ) کی مساجد کی در دیوار کی پہچان کہ ان پر تحریر یا اﷲ ۔ یا رسول ، یا ﷲ ۔ یامحمد سے بارونق رہتے ہیں۔ اور ان کے لب ہمیشہ یا ﷲ ۔ یارسول، یا ﷲ ۔ یامحمد سے سے بارونق رہتے ہیں۔ لہذا جعلی سنی یا جعلی اہلسنت والجماعت سے ہوشیار رہیں۔ مثال کے طور پر جعلی سنی کمینے بخیل اپنی ابلیسی برطانوی دلالوں کی بدنیتی کی بنیاد پر اکثر اجتماع عنوان شان مصطفی کانفرس کے تحت صورت سے منع کرتے ہوئے سیرت کا بیان کرتے ہیں۔ اور درست عنوان شان محمد مصطفی کانفرس ہے جس میں صورت کے بیان اور مساوات کے بیان کو افضل ترجیح دی جاتی ہے۔
_________________________________________________
What is Wahhabiism or Wahhabi or Salafism or Deo-bund or Deo-boond or Ahl al-Hadith or Ahl-e-Hadith, IMFI, I$I, I-Pond-I , I-Fund-I , I-Bribery-I , I-Lond-On-I , I-Lond-Off-I , I-Deo-I, I-Najdi-I agencies ?
آخری نبی سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ لا تکتبو اعنی غیر القرآن ۔ ( الحدیث ) کہ مجھ سے سوائے قرآن کے کچھ نہ لکھو۔
پس ظہور اسلام سے لے کر تین سو سال تک آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کے فرمانبردار تابعدار امتیوں نے لا تکتبو اعنی غیر القرآن ۔ ( الحدیث ) پر عمل کیا اور ماسوائے قرآن کے کچھ بھی اسلام کی طرف منسوب نہ کیا۔ مگر ظہور اسلام کے تین سو سال بعد برطانوی سعودی عرب نجد کے جاگیر دار بادشاہوں نے اپنے باریش رشوت خور فنکاروں دلالوں کے ذریعے عوام پر عدم مساوات پر مبنی حکومت کرنے کے لئے کئی کتابیں قانونی آئین لکھ کر حدیثوں کی صورت میں اسلام سے منسوب کرکے عوام پر جبری مسلط کر دیں۔ جس کی وجہ سے آج کے موجودہ دور میں ستر سے زیادہ جعلی شریعت قائم ہوچکی ہیں۔ جس کا شیطان مرکز برطانیہ ہی ہے۔ جس کہ بنیاد پر مسلمانوں کا مذہب پوری دنیا میں دہشت گردی کا مذہب بن رہا ہے۔ اور حدیث پاک ( لا تکتبو اعنی غیر القرآن ۔ ( الحدیث ) کہ مجھ سے سوائے قرآن کے کچھ نہ لکھو۔ ) کے دنیا میں سب سے زیادہ نافرمان مفت بر قومیں آزاد کشمیر پاکستان، چودھری بدنام زمانہ چوہدری پاکستان اور پاکستان میں دوہری شہریت کے تحت گھس بیٹھیے افغانی ہیں۔ حال ہی میں پاکستان میں دنیا کا سب سے خطرناک برطانوی ہم جنس پرست دیو بونڈ جانور اور امریکی سود خور آئی ایم ایف کے ہم جنس پرست دیو بونڈ مسلم لیگ نون اسحاق ڈارون وزیر خزانہ پاکستان کے طور پر آیا ہے۔ جبکہ عوام جب پاکستان کی کسی بھی ٹیکس دفتر میں جاتے ہیں۔ تو ٹیکس کا عملہ ( پٹواری، ایکسائز انسپکٹر، انکم ٹیکس انسپکٹر ) عوام کو مختلف طریقوں سے بلیک میل کرکے بھتہ مانگتے ہیں۔ اور انکم ٹیکس کمشنر، یا ایکسائز کمشنر ، تحصیل دار اپنے حرام خور سرکاری ملازموں سمیت عوام کو مختلف طریقوں سے بلیک میل کرکے بھتا مانگتے ہیں۔ اور عوام کوپاکستانی حرام خور بھتہ خور پولیس اور برطانوی اغلام افواج پاکستان کے اسلحوں کی گولیوں کی بوچھار کی دھمکی دے کر روزانہ اربوں روپے بھتا وصول کررہے ہیں۔ اور برطانوی آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر قرضہ پاکستانی عوام کے نام پر وصول کرکے آزاد کشمیر پاکستان، چودھری بدنام زمانہ چوہدری پاکستان اور پاکستان میں دوہری شہریت کے تحت گھس بیٹھیے افغانی بندر بانٹ کرکے اپنا اپنا حرام خوری کا حصہ لے رہے ہیں۔ واضح ہو کہ برطانوی اغلام پاکستانی فوج اور پاکستانی خفیہ سرکاری ایجنسیاں آئی ڈالر آئی، آئی پونڈ آئی ، آئی ایم ایف آئی ، آئی بھتہ آئی، درحقیقت میں برطانوی ماہر رشوت خور فنکاروں دلالوں پر مشتمل یہی مفت بر آزاد کشمیر پاکستان، چودھری بدنام زمانہ چوہدری پاکستان اور پاکستان میں دوہری شہریت کے تحت گھس بیٹھیے افغانیوں کی کھچڑیاں ہی پکی ہوئی ہیں۔ جن کو پاکستانی عوام کے جلد مفت سماجھی انصاف اور معاشی مساوات کے مفادات سے کوئی غرض نہیں ہے۔ یہی وجہ سے کہ پاکستان کے تمام عوامی مقامات پر پبلک لائٹرین کو استعمال کرنے کی سرکاری فیس دو عدد روٹیوں کی قیمت کے برابر ہر بچے، بزرگ، عورت ، نوجوان سے وصول کی جاتی ہے۔ اور بیت الخلاءکی فیس ادا نہ کرنے والے کو پاکستانی حرام خور بھتہ خور پولیس اور برطانوی اغلام افواج پاکستان کے اسلحوں کی گولیوں کی بوچھار کی دھمکی دی جاتی ہے۔
_________________________________________________
Shaikh Saadi made a stark-observation. Says Shaikh Saadi:
Never trust three castes/creeds:
Agar Qaht-e-Rajal Bashad zeeshaan az aun na geree
Yak Kamboh, Doyam Afghan, Soyam Bad zaat Kashmiri"
Translated:
Never trust three castes/creeds:
1. Awal Afghan ( First: Afghanistan )
2. Do-am Kamboh ( Second: Kaboh xxx bad name Chaudhary and Chauhadry are the brokers of Britain London )
2. So-am Badzaat-E-Kaashmiri ( Third: Inferior & felonious Kashmiri are the brokers of Britain London)
Kashmir as Badzaat-E-Kaashmiri ( Third: Inferior & felonious Kashmiri ) Pakistan's 'jugular vein bad luck of British IMF Usury Pakistan
شیخ سعدی اور بابا بلھے شاہ قصوری کا قول ہے کہ میں زندگی میں تین قوموں کے ہاتھوں زبردست پریشان ہوا ہوں۔
پہلی پاکستان میں دوہری شہریت کے تحت گھس بیٹھیے افغانیوں سے جنھوں نے دماغی امراض میں استعمال ہونے والی چند سکوں کی ادویات افیون ، چرس کو قانون میں منع قرار دلوا کر اربوں روپے میں برطانوی اغلام افواج پاکستان اور برطانوی اغلام پاکستانی سرکاری رشوت خور رینجرز اور رشوت خور خفیہ ایجنسیوں آئی ڈالر آئی، آئی پونڈ آئی ، آئی ایم ایف آئی ، آئی بھتہ آئی، اور حرام خور بھتا خور رشوت خور پولیس کی مدد سے بلیک کرکے پاکستان کے اندر بیچا۔ جس پر کہا جاسکتا ہے کہ اگر ایک گرام افیون اور ایک گرام چرس کی مقدار پاکستانی شہریوں کو اپنے قبضہ میں ہونا کوئی جرم نہ ہو تو چند دنوں میں پاکستان کی برطانوی اغلام رشوت خور افواج ، اور پاکستانی برطانوی اغلام رشوت خور سرکاری خفیہ ایجنیساں آئی ڈالر آئی، آئی پونڈ آئی ، آئی ایم ایف آئی ، آئی بھتہ آئی، وغیرہ چند دنوں میں ہی گل سڑ کر مرنا گلنا شروع ہوجائیں گی۔ یہاں یہ نصیحت بھی قابل غور ہے۔ کہ چرس یا افیون وغیرہ خوراک نہیں ہے۔ چرس اور افیون ذہنی امراض اور دیگر امراض میں استعمال ہونے والی اہم ادویات ہیں۔چرس یا افیون کو استعمال کرنے سے پہلے جرس یا افیون کو استعمال کرنے کی قلیل مقدار کا علم ، اور چرس یا افیون استعمال کا دورانیہ دنوں کا وقفہ کی پابندی لازمی ہے۔ ورنہ چرس یا افیون کو تفریح کے طور پر استعمال کرنا اپنی ہی موت کو دعوت دینا ہے۔ جبکہ واضح ہو کہ رشوت خور ، حرام خور بھتہ خور پاکستانی پولیس کی مدد سے دوہری شہریت کے افغانیوں نے پاکستان کے تقریبا تمام مذہبی مزارت کے ایک حصہ پر جبری قبضہ کرکے افیون اور چرس مہنگی قیمت میں بیچنے کا سلسلہ بنا رکھا ہے۔ پاکستان میں جگہ جگہ افخان کالونیاں قائم ہیں جو کہ خان کالونیوں کے نام سے مشہور ہیں۔ ان افغان کالونیوں میں مقیم باریش ہم جنس پرستوں کو اکثر پاکستانی برطانوی اغلام سرکاری خفیہ ایجنسیاں آئی ڈالر آئی، آئی پونڈ آئی ، آئی ایم ایف آئی ، آئی بھتہ آئی، جعلی جلسے جلوس میں استعمال کرکے جھوٹ دکھاتے ہیں کہ پاکستان میں سب اچھا ہے۔ واضح ہو کہ پاکستان کے تمام سرکاری اداروں میں شدید بھتاخوری ، بلیک میلنگ، سائلین کو دھمکا کر بلیک میل کرکے بھتا وصول کرنا یہ سب حرام خوری کے کام پاکستانی سرکاری خفیہ ایجنسیاں آئی ڈالر آئی، آئی پونڈ آئی ، آئی ایم ایف آئی ، آئی بھتہ آئی، سرانجام دیتی ہیں۔ واضح ہو کہ پاکستان میں دوہری شہریت سے مقیم افغانیوں کا مزاج مفت بر، کمینے بخیل ، متکبر، حاسد ، ضدی قسم کا ہے۔ یہی وجہ سے کہ پاکستان کے تمام عوامی مقامات پر پبلک لائٹرین کو استعمال کرنے کی سرکاری فیس دو عدد روٹیوں کی قیمت کے برابر ہر بچے، بزرگ، عورت ، نوجوان سے وصول کی جاتی ہے۔ اور بیت الخلاءکی فیس ادا نہ کرنے والے کو پاکستانی حرام خور بھتہ خور پولیس اور برطانوی اغلام افواج پاکستان کے اسلحوں کی گولیوں کی بوچھار کی دھمکی دی جاتی ہے۔ جبکہ مثال کے طور پر پاکستانی چوک اچھرہ میں حکومت پاکستان کے بلیک میلر حرام خور رشوت خور سرکاری ملازموں کی انتہا یہ فٹ پاتھ غیر قانونی کرائے پر بکتے ہیں۔ جس کی حصہ پتی رشوت غیر قانونی آمدنی پاکستان کی سرکاری خفیہ ایجنسیوں کو آئی ڈالر آئی، آئی پونڈ آئی ، آئی ایم ایف آئی ، آئی بھتہ آئی، کو باقاعدہ ملتی ہے۔ جس کی وجہ سے شہری فٹ پاتھ پر چلنے سے محروم ہیں۔
دوسری قوم کمبوہ ہے۔ جو کہ بدنام زمانہ چودھری اور چوہدری ہم جنس پرستی کی علامت ہیں۔ یعنی کمبوہ اپنی ذات ( مقعد ) کے ساتھ خود ہی بدفعلی ہم جنس پرستی کرتے ہیں۔ مثلا مسلم لیگ کشمیری کا چودھری نثار خود ہی چودھری بن کر اپنی چوہدری مقعد کے ساتھ بدفعلی کرنے کی بار بار روزانہ خود ہی کوشش کرتا رہتا ہے۔ کمبوہ ( چودھری ) کہ زمانہ قدیم سے ہی برطانوی ہم جنس پرست دلال رہے ہیں اور انگریزوں نے برصغیر میں سو سال کی جبری حکومت کے دوران کمبوہ چودھریوں کے ذریعے غریب عوام سے گالی مارپیٹ کے اصول کے تحت ٹیکس بھتہ نچوڑا۔ واضح ہو کہ چودھریوں کا مزاج مفت بر، کمینے بخیل ، متکبر، حاسد ، ضدی قسم کا ہے۔ یہی وجہ سے کہ پاکستان کے تمام عوامی مقامات پر پبلک لائٹرین کو استعمال کرنے کی سرکاری فیس دو عدد روٹیوں کی قیمت کے برابر ہر بچے، بزرگ، عورت ، نوجوان سے وصول کی جاتی ہے۔ اور بیت الخلاءکی فیس ادا نہ کرنے والے کو پاکستانی حرام خور بھتہ خور پولیس اور برطانوی اغلام افواج پاکستان کے اسلحوں کی گولیوں کی بوچھار کی دھمکی دی جاتی ہے۔ جبکہ مثال کے طور پر پاکستانی چوک اچھرہ میں حکومت پاکستان کے بلیک میلر حرام خور رشوت خور سرکاری ملازموں کی انتہا یہ فٹ پاتھ غیر قانونی کرائے پر بکتے ہیں۔ جس کی حصہ پتی رشوت غیر قانونی آمدنی پاکستان کی سرکاری خفیہ ایجنسیوں کو آئی ڈالر آئی، آئی پونڈ آئی ، آئی ایم ایف آئی ، آئی بھتہ آئی، کو باقاعدہ ملتی ہے۔ جس کی وجہ سے شہری فٹ پاتھ پر چلنے سے محروم ہیں۔
تیسری قوم پاکستان کے قبضہ کا علاقہ آزاد کشمیر کے بدذات کشمیری ہیں۔ اور انگریزوں نے برصغیر میں سو سال کی جبری حکومت کے دوران کشمیروں کو استعمال کرکے اپنے مخالفین کا قتل عام کروایا۔ واضح ہو کہ پاکستانی آزاد کشمیر کے کشمیری زمانہ قدیم سے قتل و غارت کرنے میں بے درد ہیں۔ اور پاکستانی کشمیری شب روز برطانوی اغلام اور ایسے سانپ ہیں کہ جن کا ڈسا ہوا پانی بھی نہیں مانگتا ہے۔ اسی لئے محمد علی جناح برطانوی وکیل نے پاکستانی آزاد کشمیر کو پاکستانیوں کی شہ رگ کی موت قرار دیا ہے۔ کہ جب چاہے پاکستانی کشمیری پاکستانیوں کی شہ رگ پر برطانوی حکم کے تحت زہریلا سانپ بن کر کاٹ کھائے ۔ اور برطانوی اغلام افواج پاکستان امریکی و برطانوی آئی ایم ایف سے اربوں روپے قرضے لے کر کشمیری زہریلے سانپوں کو دودھ پلانے کے بعد اپنے برطانوی دلالوں سے ہم جنس پرستی کروانے میں مصروف ہوجاتی ہے۔ ۔ اور پاکستانی حرام خور بھتہ خور پولیس اور برطانوی اغلام افواج پاکستان غریب پاکستانی عوام کی شہ رگ پر اپنی بندوقیں تان کر کتے کی طرح بھونک کر اور بندر کی طرح غرا کر کہتی ہے۔ کہ برطانوی آئی ایم ایف کا لیا گیا قرض بعمہ سود جبری ٹیکسوں کے ذریعے ادا کرو۔ علاوہ ازیں پاکستانی پٹواری ، ایکسائز انسپکٹر ، انکم ٹیکس آفیسر پاکستانی عوام سے کئی اقسام کے ٹیکس لینے کے باوجود بھی عوام کو بلیک میل کرکے بھتا بھی وصول کرتے ہیں۔ اور بھتہ نہ دینے والوں کو پاکستانی حرام خور بھتہ خور پولیس اور پاکستانی برطانوی اغلام افواج پاکستان کے اسلحوں کی گولیوں کی بوچھار کی دھمکی دیتے ہیں۔ اور پاکستنانی عدالتوں میں عام عوام کو بیس سال سے زائد عرصہ گذر جاتا ہے۔ مگر ان کو انصاف کورٹ فیس ، وکیلوں کی فیس ادا کرنے کے باوجود انصاف نہیں ملتا۔ واضح ہو کہ پاکستانی آزاد کشمیر کے کشمیریوں کا مزاج نہایت مفت بر، کمینے بخیل ، متکبر، حاسد ، ضدی قسم کا ہے۔ کشمیری کی واضح پہچان ہے کہ یہ مفت بر ، بھتہ خور، اور انہائی زہریلا ڈنگ مارنے والا ، قتل و غارت کرنے والا ، شہ رگ کاٹنے والا موذی جانور ہے۔ یہی وجہ سے کہ پاکستان کے تمام عوامی مقامات پر پبلک لائٹرین کو استعمال کرنے کی سرکاری فیس دو عدد روٹیوں کی قیمت کے برابر ہر بچے، بزرگ، عورت ، نوجوان سے وصول کی جاتی ہے۔ اور بیت الخلاءکی فیس ادا نہ کرنے والے کو پاکستانی حرام خور بھتہ خور پولیس اور برطانوی اغلام افواج پاکستان کے اسلحوں کی گولیوں کی بوچھار کی دھمکی دی جاتی ہے۔ جبکہ مثال کے طور پر پاکستانی چوک اچھرہ میں حکومت پاکستان کے بلیک میلر حرام خور رشوت خور سرکاری ملازموں کی انتہا یہ فٹ پاتھ غیر قانونی کرائے پر بکتے ہیں۔ جس کی حصہ پتی رشوت غیر قانونی آمدنی پاکستان کی سرکاری خفیہ ایجنسیوں کو آئی ڈالر آئی، آئی پونڈ آئی ، آئی ایم ایف آئی ، آئی بھتہ آئی، کو باقاعدہ ملتی ہے۔ جس کی وجہ سے شہری فٹ پاتھ پر چلنے سے محروم ہیں۔
___________________________________________________
برصغیر پاک و ہند میں اسلام روس کے نامور مفتی عالم بہاوالدین نقشبند جیسے دانشور ، عاجز، سخی، فخر عالم کے ذریعے پھیلا۔ روس کے نامور مفتی مفتی عالم بہاوالدین نقشبند نے روس میں اسلامی طرز معاشی مساوات کی عملی مثال قائم کی۔
Sufi saint Baha al-Din al-Naqshbandi, Bukhara Russia .
معاشی مساوات کے نظام کے ملک روس کے مشہور عالمی عالم مفتی مرزا عزت بیگ عرف مہینوال کی برصغیر پاک و ہند کے شہر گجرات میں صدیوں پہلے آمد
This is the story of Social Equality. That is how Russian Prince Mirza Izzat Baig became 'Mahiwal' for he became the 'cow-herder', a chauraaha who grazes cows on the field, to earn his means of subsistence, for staying near the place where Sohni lived.
اور اسی طرح گجرات شہر کے برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز مفتی احمد یار خان نعیمی اوجھیانوی بدایونی ناظم مدرسہ غوثیہ نعیمیہ گجرات پاکستان
مصنف کتاب : جاءالحق اردو یا انگریزی زبان میں
مصنف : مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اﷲ علیہ
For more information Reference Book : JA,Al- HAQ ( In Urdu or English )
By : Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi
________________________________
اسلامی تصور مساوات
Islamic Concept of Equality
پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کلاس ہفتم اسلامیات مضمون سخاوت کا مفہوم اور فضیلت میں درج کیا گیا ہے کہ آخری نبی حضرت محمد صلی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر ( رضی اﷲ عنہ ) مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرے دن تک اس میں سے ایک اشرفی بھی میرے پاس رہ جائے۔ میں چاہوں گا کہ اس کو اﷲ کے بندوں میں دائیں بائیں اور آگے پیچھے بانٹ دوں۔
It is written in essay "The Meaning and Importance of Generosity" of Islamiat of Punjab Text Book Board Class 7th that The Last Holly Prophet Muhammad (Peace be upon him) said to Abu Zar that I dislike that I would have gold equal to Mountain Ahad and still retain even a single penny up till third day. I would like to give it to people of God all around me.
آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲعلیہ وسلم کے صحابی خلیفہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالی عنہ ہر عامل کو حکم دیتے کہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا۔ مہنگے کپڑے نہ پہنے گا۔ چھنا ہوا آٹا ( میدہ ) نہ کھائے گا۔ دوازے پر دربان نہ رکھے گا۔ اہل حاجت کے لئے دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا۔
Caliph Hazrat Umer the companion of Last Holy Prophet Hazrat Muhammad (peace be upon him) used to give orders to each appointed governor that he shall not ride on a Turkey horse (expensive horse), he shall not wear expensive clothes, he shall not eat superfine flour, he shall not keep a peon on his door and he shall always keep his doors open for the needy persons.
حضرت ابوبکر صدیق ( حضرت عبداﷲ) رضی اﷲ تعالی عنہ اور اسلامی تصور مُساوات اور مفت سماجھی انصاف
لنگر لگا ہوا تھا اور لاتعداد لوگ اس کے اچھے کھانے سے مستفید ہورہے تھے۔ہر شخص اپنا حصہ لے کر آگے بڑھ جاتا تھا۔ ایک شخص نے دو انسانوں کا لنگر مانگا تو تقسیم کرنے والے نے پوچھا کہ دو انسانوں کا لنگر کیوں مانگ رہے ہو۔ اس نے کہا ایک اپنے لئے اور ایک اس غریب اور مسکین آدمی کے لئے جو دور بیٹھا روکھی روٹی پانی سے کھا رہا ہے۔ لنگر تقسیم کرنے والے نے کہا جو یہ لنگر سب کھا رہے ہیں وہ اس شخص کی جانب سے تقسیم کیا جارہا ہے وہ ہمارا خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق ( حضرت عبداﷲ) رضی اﷲ تعالی عنہ ہے۔
Hazrat Abdullah (Aboo Bakr Sadiq) First Caliph of Islam The concept of Islamic Equality and Gratis Social Justice.
Once there was being distributed free very tasty food for all the public and people were coming and getting their share. A person came and asked food for two persons. The person distributing food asked why two people, the person pointed towards another person who was sitting at far end and eating old bread by dipping it into water. The person distributing the food said that all of this tasty food is being distributed on that persons behalf who is actually the first caliph of Muslims Hazrat Abdullah (Aboo Bakr Sadiq).
اسلامی تصور مُساوات اور سماجھی مفت انصاف حضرت ابوبکر صدیق حضرت عبداﷲ خلیفہ اول
حضرت ابوبکر صدیق ( حضرت عبداﷲ) رضی اﷲ تعالی عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ کی تنخواہ (وظیفہ) کا مسئلہ پیدا ھوا، آپ نے فرمایا، مدینہ میں ایک محنت کش کو جو یومیہ اجرت دی جاتی ھے اتنی ھی اجرت میرے لئے بھی مقرر کی جائے، پوچھا گیا اتنی اجرت میں اپ کا گزارہ کیسے ھو گا،آپ نے فرمایا کہ میرا گزارہ اسی طرح ھو گا جس طرح مدینہ کے ایک محنت کش کا ھوتا ھے، ہاں اگر گزارہ نہ ھوا تو محنت کش کی یومیہ اجرت بڑھا دوں گا۔
Hazrat Abdullah (Aboo Bakr Sadiq) First Caliph of Islam Income equality Gratis Justice and Islamic Concept of Equality.
When Hazrat Abdullah (Aboo Bakr Sadiq) were designated as the caliph of Muslims a problem arose as to what should be their pay for this service. Hazrat Abu Bakar Siddique replied that what ever daily wage is given to a simple labour man of Madina I should also get the same daily wage. People asked how would you manage your day to day needs. Hazrat Abdullah (Aboo Bakr Sadiq) replied just as that simple labour man will do and if he will not be able to meet his needs then I will raise the daily wage of the simple labour man.
حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ جب خلیفہ بنے تو حضرت علی کی تنخواہ کا مسئلہ پھر اٹھایا گیا۔ تو حضرت علی نے فرمایا کہ اگر میرا بڑا بھائی ( حضرت ابوبکر صدیق ( حضرت عبداﷲ) خلیفہ اول ) ایک محنت کش کی تنخواہ پر گذارہ کرسکتا ہے۔ تو میں بھی محنت کش کی تنخواہ پر گذارہ کرسکتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
The Last Holy Prophet Muhammad Peace be upon him said: Bani Israel was divided in to seventy two sects; my Ummah will be divided in to seventy three sects and all of them will go to hell, expecting one.
آخری نبی حضرت محمد صلی صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی تھی اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی جس میں سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔
کی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جہان چیز ہے کیا لوح قلم تیرے ہیں ( ڈاکٹر اقبال مرحوم )
خبردار سنی یا اہلسنت والجماعت یا حقیقی اصلی مسلمان وہی ہے۔ جن کے لبوں اور دل میں نعرہ ہے۔
اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَی_±کَ یاَ رَسُو_±لَ اﷲ ۔
اے اﷲ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم آپ پر درود اور سلام ہو۔
لہذا
نقلی سنی یا جعلی اہلسنت ولجماعت کا لیبل استعمال کرنے والے سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین سے ہوشیار رہیں۔
پیغمبروں کو بشر کہنے والے فوراً کافر ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔
سورہ تغابن ۔۔۔۔۔
( Tagabun ) Mutuual Loss and gain۔۔۔۔۔۔۔
کیا تم کو اُن لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے تو اُنھوں نے اپے کاموں کی سزا کا مزا چکھ لیا اور ابھی دُکھ دینے والا عذاب اور ہونا ہے۔ یہ اس لئے کہ اُن کے پاس پیغمبر کھلے معجزے لے کرآتے تو یہ کہتے کہ کیا بشر ہم کو ہدایت دینے آئے ہیں ؟ تو وہ ( پیغمبر کو بشر کہنے پر) فوراً کافر ہوئے اور منہ پھیر لیا اور خدا نے بھی بے پروائی کی اور اﷲ بے پروا اور اﷲ غنی حمید ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اﷲ تعالیٰ قرآن میں سورة الاحزاب میں ارشاد فرماتا ہے۔ خدا اور اُس کے فرشتے آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ مومنو، تم بھی آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر درُود اور سلام بھیجا کرو۔ جو لوگ خدا اور اُس کے آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو رنج پہنچاتے ہیں اُن پر خدا دُنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے۔ اور اُن کے لئے خدا نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
It is ordered in Holy Quran in Surah The Confederates or Al- Ahzab that Allah and His Angels, send blessings on The Last Holy Prophet Muhammad (Peace be upon him), O ye that believe, send ye blessings on him and salute him with all respect. Those who annoy Allah and His Messenger The Last Holy Prophet Muhammad (Peace be upon him)..... Allah has cursed them in this world and in the Hereafter, and has prepared for them a humiliating Punishment.
مقدمہ :: سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ میں جنت البقع میں صحابہ اکرام کی قبروں کی صدیوں پرانی مقدس نشانیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کی سازش اسلام کی خدمت کرنے کا دھوکہ دے کر چند سال پہلے برطانوی عرب نجد کی طرف سے کی گئی۔۔۔۔۔۔
تمام فتنوں میں زبردست فتنہ اور تمام مصیبتوں میں خطرناک مصیبت وہابیوں نجدیوں کا فتنہ ہے۔ جس کی خبر صادق نبی آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے پہلے دے دی تھی۔ اور طرح طرح سے اس فتنہ سے مسلمانوں کو آگاہ کردیا تھا۔ چنانچہ مشکوة جلد دوم باب ذکر الیمن و الشام میں بخاری کے حوالہ سے روایت ہے۔ کہ حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں۔ کہ ایک دن دریائے رحمت آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم جوش میں ہے۔ بارگاہ الہی میں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی جارہی ہے۔ اللھم بارک لنا فی شامنا اے اﷲ ہمارے لئے ہمارے شام میںبرکت دے ۔ اللھم بارک لنا فی یمننا ۔ اے اﷲ ہم کو یمن میں برکت دے۔ حاضرین میں سے بعض نے عرض کیا فی نجدنا ۔ یارسول اﷲ دعا فرمائیں کہ ہمارے نجد میں برکت دے پھر حضور علیہ السلام نے وہ ہی دوا فرمائی۔ شام اور یمن کا ذکر فرمایا۔ مگر نجد کا نام نہ لیا۔انھوں نے پھر توجہ دلائی کہ وفی نجدنا حضور یہ بھی دعا فرمائیں کہ نجد میں برکت ہو ۔ غرض تین بار یمن اور شام کے لئے دعائیں فرمائیں ۔ بار بار توجہ دلانے پر نجد کو دعا نہ فرمائی بلکہ آخر میں فرمایا۔
ھناک الزلازل والفتن و بھا یطلع قرن الشیطن ۔
میں اس ازلی محروم خطہ کو دعا کس طرح فرماﺅں وہاں تو زلزلے اور فتنے ہونگے۔ اور وہاں شیطانی گروہ پیدا ہوگا۔
اس سے معلوم ہوا کہ آخری نبی حضرت محمد صلی اﷲعلیہ والہ وسلم کی نگاہ پاک میں دجال کے فتنہ کے بعد نجد کا فتنہ تھا۔ جس کی اس طرح خبر دی۔
The most wicked mischief and the most intriguing persecution was that of Najadee Wahabees, about which the Last Holy Prophet had already warned in different ways. Bukhari has related in Mishkat Vol. II, See Zikr-ul-Yaman-wa- Sham that Hadrat Abdullah ibne-e-Umar said : one day , the Last Holy Prophet was seen mercifully stretching his hands before Almighty Allah and praying in the following words:
O, Allah Bless us in our 'Sham" ( Syria ).
O, Allah Bless us in our ' Yaman'.
Some of those present said to the Last Holy Prophet,
O. Last Holy Prophet of Allah ! Pray that Allah bless us in our Najad.
The Last Holy Prophet repeated the same prayer, mentioning Sham ( Syria ) and Yaman, without naming Najad. They once again drew his attention to this request.
Kindly pray that Allah blesses Najad.
In short , the Last Holy Prophet prayed three times for Sham and Yaman, and despite repeated supplication , he did not pray for Najad; rather, he said in the end :
How should I pray for this eternally "deprived' area; it would face earthquakes and mischief's; a devilish group ( of People) would rise from there.
In naturally mean that the Last Holy Prophet was observing the mischief of 'Najad' as the mischief of ' Dajjal, and adopted the above way of expressing it.
مزید تفصیلات کے لئے کرو مطالعہ کتاب : جاءالحق اردو یا انگریزی زبان میں
مصنف : مفتی احمد یار خان نعیمی رحمتہ اﷲ علیہ
For more information Reference Book : JA,Al- HAQ ( In Urdu or English )
By : Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi
____________________________________________________
مقدمہ : سعودی عرب کے مفتیوں کا فتوی ہے کہ سعودی عرب نجد کی خواتین کا نکاح سعودی عرب کے علاوہ دنیا کے کسی بھی مسلمان مرد سے حرام اور غیر قانونی ہے۔ اور سعودی نجد کی کسی بھی لیلہ خواتین سے نکاح کرنے پر مسلمان قیص مرد حضرات کو لیلہ سمیت قتل کردیا جائے۔
قیس پیدا ہوں تیری محفل میں یہ ممکن نہیں
تنگ ہے صحرا تیرا محمل ہے بے لیلیٰ تیرا
شعیہ مفکر ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم کتاب بانگ درا
اہل محبت اہل سخاوت کو مجنوں کہتے ہیں۔
برطانوی اغلام سعودی نجد کا بادشاہ اور نجد روز اول سے محبت مساوات سے محروم ہے۔ قیس ( مجنوں ) اور لیلی کو قتل کروانے والے وہی برطانوی اغلام سعودی بادشاہ نجد اور بادشاہ نجد کے منافق فنکار سیاسی اداکار ہیں۔ صدیوں سے سعودی بادشاہ نجد ( نجد کا بادشاہ ) ہمیشہ سے لازمی برطانوی اغلام تعینات ہوتا آرہا ہے۔ چونکہ برطانوی اغلام سعودی بادشاہ نجد ہم جنس پرستی کا شوقین ہوتا ہے۔ لہذا بادشاہ نجد کو عورت اور مرد کی محبت فطری تعلق سے شدید نفرت ہے۔ اور وہ ہمیشہ سے محبت کرنے والوں کو قتل کرکے اپنی پتھر دل قلب کو تسکین دیتا آرہا ہے۔ اسی لئے ڈاکٹر علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا کہ سعودی بادشاہ نجد کے دربار یا نجد میں قیس پیدا ہی نہیں ہوسکتے ہیں۔ اور برطانوی اغلام سعودی نجد کا بادشاہ کے صحرا میں ہمیشہ لیلی سے محروم رہے گا۔ اسی لئے قدرت الہی نے بھی فرمایا کہ نجد کے بادشاہ کے دربار میں اور نجد میں ہمیشہ فتنے اور زلزلے ہی پیدا ہونگے۔ اور نجد کے بادشاہ کے دربار اور نجد میں کبھی بھی قیس یا لیلی پیدا نہیں ہونگے۔ برطانوی اغلام سعودی نجد کا بادشاہ اور نجد روز اول سے محبت مساوات سے محروم ہے۔ مزید تفصیلات کے لئے آپ دیکھ سکتے ہیں بھارتی سنسر بورڈ سے منظور شدہ فلم
Indian Film : Laila Majnu 1976
اس فلم کو دیکھنے کے بعد آپ واقعی یقین کرلیں گے کہ برطانوی اغلام سعودی بادشاہ نجد اور نجد روز اول سے دنیا کی محبت و مساوات کے لئے ایک برطانوی فتنہ اور برطانوی زلزلہ ہے۔
_________________________________________________
Indian Film : Heer Raanjha 1970
پاکستان کے رشوت خور دلال قاضیوں کی برطانوی سعودی عرب نجدیوں کے پران کیدو پادریوں سے عدم مساوات کی ملی بھگت
اسلام میں چار شادیوں کی مسلمان مردوں کو اجازت ہے۔ مگر برطانوی سعودی نجد کے ہم جنس پرست پران پادری پاکستان کے رشوت خور ، نذرانہ خور، برطانوی اغلام ہم جنس پرست سرکاری قاضیوں دلالوں کی ملی بھگت سے پاکستان میں نکاح کا باب سخت ترین کرتے آرہے ہیں جبکہ اسلام میں نکاح کا باب تمام مذہبوں میں سب سے زیادہ آسان ہے۔
دیکھے ہیرا رانجھا فلم انیس سو ستر میں برطانوی سعودی عرب نجد کا کافر پران کیدو پادری جب اسلام کے آسان ترین نکاح کے اصولوں سے انکاری کافر ہونے کے بعد کیا کہتا ہے۔
Indian Film : Heer Raanjha 1970
سب کو دیکھ لوں گا دیکھتے رہنا کچل دونگا، مسل دونگا، جلا دونگا ، مٹا دونگا ۔ رلایا مجھ کو قسمت نے ۔۔۔ میں دنیا کو رلا دونگا۔
دیا کہیں میرا پیغام تم نے چھیڑی بات ۔ ذرا بھی کی کبھی کوشش سجے میری بارات
صدا کہیں سے جو شہنائیوں کی آتی ہے۔ میرے کلیجے سے ساگر سی لوٹ آتی ہے۔
آگئے کیدو ، آگیا قاضی۔ کیا خبر لائے ہو۔
شادی کی تمنا تھی کنوارے چلے آئے۔ جیسے گئے بیچارے ویسے ہی چلے آئے۔
دکھے کلیجے میں نشتر کالونی لگانے آیا ہوں۔ ہماری راکھ ہمیں پہ اڑانے آیا ہوں۔
ہمیں لگی ہے جو ٹھوکر نجدی مسکراتا ہے۔ یہ وقت وہ ہے کہ دشمن بھی رحم کھاتا ہے۔
نہ تم کو فکر نہ نجدیوں کو غم گھرانے کا ۔ خیال آیا کبھی میرا گھر مُساوات سے بسانے کا
دیا کہیں میرا پیغام تم نے چھیڑی بات ۔ ذرا بھی کی کبھی کوشش سجے میری بارات
صدا کہیں سے جو شہنائیوں کی آتی ہے۔ میرے کلیجے سے ساگر سی لوٹ آتی ہے۔
سب اپنی سوچتے ہیں سب کو دھیان ہے اپنا ۔ یہی ہے رنگ تو پورا نہ ہوگا مساوات کا سپنا
لہذا سعودی عرب نجد کے حاکم برطانوی پران پادری کو مشورہ دیا جاتا ہے۔ کہ اب وہ پہچانا جاچکا ہے لہذا وہ اپنے اصل وطن برطانیہ واپس چلاجائے یا وہ اسلام کے نکاح کے آسان ترین اصولوں پر ایمان لے آئے۔ اور اپنی ذاتی جاگیرداری برادری کے اصولوں کو آئینی قانون سازی کے ذریعے اسلام کے آسان ترین نکاح کے اصولوں میں دخل اندازی کرنے سے باز رہے۔ اسی وجہ سے پاکستان بھر کے سرکاری دفاتر و عدلیہ میں سرکاری خفیہ ایجنسیوں آئی ڈالر آئی، آئی پونڈ آئی ، آئی ایم ایف آئی ، آئی بھتہ آئی، کی شدید ترین ہم جنس پرستی، نذرانہ خوری، رشوت خوری بھتا خوری بلیک میلنگ کا رواج زور پکڑتا جارہا ہے۔ جب کہ چین میں رشوت خور سرکاری ملازموں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔
_________________________________________________
Mard-e-Musalman (مرد مسلمان) A Muslim By Allama-Iqbal
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان
Qahhari-o-Ghaffari-o-Quddusi-o-Jabroot
Ye Char Anasir Hon To Banta Hai Musalman
To rout the foes, to grant them reprieve, do pious deeds and show great might:
Are four ingredients that make A Muslim devout who shuns not fight.
مگر برطانوی عرب سعودی عرب نجد کے دلالوں کی پہچان چار عناصر مزاج متکبر، کمینے بخیل ، حاسد، ضدی ہے۔ یہی وجہ سے کہ پاکستان کے تمام عوامی مقامات پر پبلک لائٹرین کو استعمال کرنے کی سرکاری فیس دو عدد روٹیوں کی قیمت کے برابر ہر بچے، بزرگ، عورت ، نوجوان سے وصول کی جاتی ہے۔ اور بیت الخلاءکی فیس ادا نہ کرنے والے کو پاکستانی حرام خور بھتہ خور پولیس اور برطانوی اغلام افواج پاکستان کے اسلحوں کی گولیوں کی بوچھار کی دھمکی دی جاتی ہے۔
_________________________________________________
غور کرو سورة القلم
Al-Qalam
سورة القلم میں آپ مختلف مزاجوں کے بارے میں تفصیل معلوم کریں گے۔
_________________________________________________
برطانوی سعودی عرب نجد کے جاگیرداروں کی اہم خصوصیات کمینے ، بخیل ، ضندی ۔ متکبر، حاسد،
برطانوی اغلام سعودی عرب نجدیوں کی نشانی یہ ہے کہ ان کا مزاج ضدی ہوتا ہے۔ اچانک بہترین ذہین عقل مند اور پھر اچانک مفتون نیم پاگل، خبطی جیسے ابوجہل ہو۔ اور بہترین سماعت کا دعوا اور پھر اچانک بہرہ جیسے سنا ہی نہیں۔ اچانک بہترین بصارت آنکھوں کی تیزی دکھتا ہے۔ اور پھر اچانک جیسے اندھا جیسے کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اور شاندارسخی رحیم کریم نظر ہی نہیں آتا۔ اور جیسے اندھا بد نظرگستاخ بن جاتا ہے۔ اس کی نشانی یہ بھی ہے۔ کہ یہ داڑھی اور مونچھوں کے رعب سے خود کو مرد ظاہر کرتا ہے۔ اور مردانگی کے بلند و بالا دعوے کرتا ہے۔ مگر حقیقت مٰیں اس کا نچلہ دھڑ سن بے حس ہوچکا ہوتا ہے۔ اور اعضائے تناسل نیم مردہ ہوتے ہیں ، مگر اس کی آنکھ میں شدید جنسی خواہش ہوتی ہے۔ اور خواتین کے ساتھ بہترین نرم خوشگوار ٹھر ٹہر کر مٹھاس سے بھرپور انداز گفتگو کرتا ہے۔ مگر جنسی تسکین کے لئے مردوں سے لواطت یعنی ہم جنس پرستی کرواتا رہتا ہے۔ اور عام انسانوں کے ساتھ چیخ مار کر انداز گفتگو کرتے ہیں جیسے کتا بھونک رہا ہو یا بندر غرا تا ہو۔ یہ مذکورہ خوبیاں برطانوی اغلام پولیس پاکستان اور برطانوی اغلام افواج پاکستان اور برطانوی اغلام پاکستانی کی خفیہ سرکاری ایجنسیوں اور پاکستان کے تمام سرکاری دفاتر و عدلیہ کے شدید بھتا خوروں بلیک میلروں ، رشوت خوروں، نذرانہ خوروں میں خاص طور پر پائی جاتی ہیں۔ جب کہ چین میں رشوت لینے والے سرکاری ملازموں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔
اہل محبت اہل سخاوت کو مجنون کہتے ہیں۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ہمیشہ انسانوں سے ملتے وقت انسانوں میں ، اپنی روئتی تکبر اور بات چیت کے دہشت پیدا کرنے والے انداز اختیار کرتے ہیں۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ہمیشہ عام انسانوں کو کم تر دیکھتے ہیں۔ ذات، برادری کا تکبر ان کی اہم شناخت ہے۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار مفتون یعنی روحانی طور پر محروم ہوتا ہے۔ اور جسم اور مال و دولت جاگیرداری اور جاگیرداری نظام کو برقرار رکھنے کے لئے شہزادوں کی تمنا ان کی روح کی کل طاقت ہوتی ہے۔ لہذا یہ مکمل انسان نہیں ہوتے ان کی عقل خونخوار غرانے چلانے والے بندر اور بھوکنے والے کتے جانور سے بھی کم ہوتی ہے۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروںکا مذہب نہیں ہوتا جیسے کہ تجربات سے آزمایا جاچکا ہے کہ دہشت گرد جاگیرداروں،سرمایہ داروں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ہمیشہ سے ہی روحانی طاقت والے باکمال انسانوں کی روحانیت کے کمال کے زوال کی شدید تمنا رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں نے صحابہ اکرام کی مقدس نشانیوں کو مٹانے کی بار بار جرات کی ہے۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار کی روایت ہے کہ وہ جس عمل کے کرنے کا اعلان یا وعدہ کریں تو دانشور یقین کرلیتے ہیں کہ ان کے اعلان کردہ بیان کے الٹ متضاد ہی کچھ ہونے والا ہے۔ جیسے کہ پاکستان کے سیاست دان اپنی تقریروں میں جو کچھ کہتے ہیں حقیقت میں اس کے متضاد ، الٹ ہی وہ بعد میں عمل کرگذرتے ہیں۔ یعنی برطانوی عرب نجد اور ان کے سیاسی دلال، سیاسی فنکار دنیا بھر میں زبردست جھوٹ بولنے والے پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار اگر خود کو خادم الحرمین شریفین کہیں تو دانشور یہی سمجھتے ہیں کہ یہ مذہبی فنکار اور مذہبی اداکار اب کچھ مزید اسلام کو نقصان پہنچانے کی سازش اور صحابہ اکرام کی قبروں کی نشانیوں کو مٹانے کی گستاخیاں کریں گے۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ہمیشہ سے ہی روحانی طاقت والے انسانوں کی روحانیت کے کمال کے زوال کی شدید تمنا رکھتے ہیں۔ اور روحانیت کے کمال والے انسانوں کی نشانیاں مٹانے سے ان کے دردندہ صفت دل کو تکسین ملتی ہے۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ، عشق و محبت ، خلوص و مساوات کے الفاظ کی تذلیل اپنے جسم کے تمام اعضاءکے ذریعے کتے کی طرح بھونک کر اور بندر کی طرح شرارتیں اشارے کرکے مذاق کرکے اپنے مذہبی اداکاروں کے ذریعے زمین کے کونے کونے میں جاکر کے تمسخر بناتے ہیں۔۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار سخاوت، لنگرخانوں ، معاشی مساوات اور انسانوں کے بنیادی حقوق کا انسانوں کو مفت ملنے کو سختی کے ساتھ قانونی آئینی طور پر منع کرتے ہیں۔ اور اسی لئے پاکستان میں بھی برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکاروں، سیاسی فنکاروں کمینے بخیل نے عوامی مقامات پر بیت الخلاءکو استعمال کرنے کی فیس دو عدد روٹیوں کی قیمت کے برابر رکھی ہوئی ہے۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار لفظ معاشی مساوات یا اسلامی مساوات کا بیان اپنی تقریر یا لکھائی میں نہیں کرتے ہیں۔ اور معاشی مساوات یا اسلامی مساوات کے نظام کے خلاف وہ بدترین گناہ کی سرگرمیاں بھی کرجاتے ہیں۔ جبکہ برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار برطانوی امریکی عدم مساوات کے نطام ، انسانوں میں برادریوں ، قوموں کی تقسیم، امیر و غریب کا فرق ہر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں نافذ کرنے میں اپنی جاگیردارنہ دہشت کی بقا سمجھتے ہیں۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار کی سیاست یہ ہے کہ انسانوں کو سرکاری اداروں کی بھتا خوری، نذرانہ خوری، رشوت خوری میں پریشان ، مایوس ، غم زدہ کرکے حکومت کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں نے تمام سرکاری اداروں کو شدید بھتا خور، رشوت خور، بھتہ خور، حرام خور بنایا ہوا ہے۔ تاکہ عوام مایوسی کی دلدل میں پھنس کر برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار جاگیرداروں سے نجات لینے کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار ہمیشہ جب بھی انسانوں سے گفتگو کرتا ہے کہ تو وہ چلا کر یا چیخ کر یا کتے کی طرح بھونک کر یا بندر کی طرح غرا کر بات کرتا ہے۔ لہذا پاکستانی غریب عوام کو تجربہ ہوچکا ہے کہ پاکستانی پولیس اور پاکستانی فوج ہمیشہ عام شہریوں سے بات کرتے وقت غیر انسانی غلیظ ، نیچ انداز گفتگو کرتی آرہی ہے۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں کے شہزادوں کی پیدائش کچھ اس طرح ہوتی ہے۔ جب ان شہزادوں کا آغاز حمل بنتا ہے تو خبیث روحانی اثر پر مبنی سفلس یا سائیکوسس کا جراثیم یا قدرت کی لعنت بھی اس حمل سے بوئے طفلی الحاق کرجاتی ہے۔ جس سے پیدا ہونے والے برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں کے شہزادے بچے اپنی روح میں خبیث ملعون روح کا بھی الحاق پا لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے صدیوں سے برطانوی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار برطانیہ کے عدم مساوت کے نظام کی خبیث بدروح شہزادے ہیں۔ یعنی برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں کے شہزادوں کو انسان نہیں کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ انسان روح اور جسم کی پاکیزگی ، بلند اخلاق سخاوت، مساوات کا نام ہے۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکار کی سب سے بڑی خوشی ہم جنس پرست باریش ہو کر سر پر عورتوں کی طرح مختلف ڈیزائن کے ڈوپٹے اوڑھ کر جاگیردارنہ نظام اور جاگیردارنہ نظام کو مستقبل میں برقرار رکھنے کے لئے بوئے طفلی ملعون خبیث غیر انسانی روح والے شہزادوں کی چاہت میں صرف ہوجاتی ہے۔
برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں کو سب سے زیادہ ناک کے ناقابل علاج خبیث امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور ان کی عمر کا کثیر حصہ ناک کے ناقبل علاج خبیث امراض کا علاج کرانے میں خرچ ہوجاتا ہے۔ اسی وجہ سے برطانوی سعودی عرب نجد کے سیاسی اداکار اور مذہبی فنکاروں کی عبادت گاہوں میں سجدہ کرنے والے ہر کسی کو نہایت آسانی سے ناک کے ناقابل علاج خبیث امراض فوری قدرت کی طرف سے انعام میں مل جاتے ہیں۔ اور ان کی عبادت گاہوں میں ایک سجدہ کرنے والا بھی فوری طور پر مزاج ، امراض، روحانی طور پر ان کی مثل ہوجاتا ہے۔ لہذا خبردار کیا جاتا ہے۔ کہ ان کی عبادت گاہوں کی دریوں، صفوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کرایا جائے اور میڈیکل جیورس اور ہائی جین کے کے اصولوں میں معیاری عبادت خانے کی خصوصیات کے قوانین بھی جاری کردیئے جانے چاہیں۔
_________________________________________________
سنی اور شیعہ اور منافقین
اﷲ ایک ہے۔ ہم مسلمان ہیں۔ ہم شرک بدعت نہیں کرتے، پاکستان کا مطلب مسلمانوں کا کلمہ ہے، یہ وہ نعرے ہیں کو پاکستان کے برطانوی اغلام ہم جنس پرست سرکاری مذہبی راہنما ، امام ، قاری، خطیب، حافظ، سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین اپنی عبادت گاہوں میں اور تقریروں میں بیان کرتے ہیں۔ مگر یہی برطانوی کمیشن ایجنٹ اداکار ، سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین سود خور آئی ایم سے قرضے لینے والی حکومت پاکستان سے آئی ایم ایف سود خور تنظیم کے قرضوں سے اپنی تنخواہ بھی حاصل کرتے ہیں۔ اور پوری قوم کو سود کے قرضوں کے شکنجوں میں ڈال کر اپنی شکم پرستی اور ہم جنس پرستی کا شوق پورا کرکے قوم کو مصنوعی مہنگائی میں دھکیل دیتے ہیں۔ ہاں یہی وہ برطانوی کمیشن ایجنٹ سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین ہیں کو کہ اپنی لکھائی یا تقریر بیان میں ہرگز جملہ اسلامی تصور مساوات نہیں پیش کرتے ہیں کیونکہ ان کے عدم مساوات کے نظام ملک برطانیہ کی جانب سے ان کو بطور برطانوی کمیشن ایجنٹ رشوت دے کر منع کیا گیا کہ عوام کے سامنے لفظ مساوات کسی لکھائی یا تقریر کی صورت میں ہرگز پیش نہیں کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے نجد کے نجدیوں کے کسی بھی مفتی ، امام مذہبی راہنما نے آج تک کبھی بھی اپنے خطبہ یا تقریر یا لکھائی میں لفظ مساوات کو شامل نہیں کیا ہے۔ کہ پاکستان میں بچوں ، عورتوں، انسانوں سے عوامی مقامات پر بیت الخلاءکے استعمال کرنے کی فیس دو عدد روٹیوں کی قیمت کے برابر جبری آئینی فوجی و پولیس کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اسلحے کے زور سے طلب کرتے ہیں۔ یہ وہ منافق ہیں جنھوں نے معاشرے کو طوائف، کنجڑی ، کنجڑکا نام دیا جس کا فائدہ پاکستانی برسر اقتدار برطانوی کیمشن ایجنٹوں کو مالی نفع کی صورت میں متواتر ہوتا آرہا ہے۔ اور خود ہم جنس پرست پاکستانی برسر اقتدار برطانوی کیمشن ایجنٹ، سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین شریف بن کر عورتوں کی طرح سر پر مختلف ڈیزائن کے ڈوپٹوں کی طرز کا کپڑا ڈال کر نکاح کے آسان ترین باب کے آسان ترین طریقوں کو بے حد مشکل بنا کر نکاح خواں بن کر نکاح کے قانونی کاغذات اپنے قبضے میں لے کر عوام سے نقدی روپے نذرانے بٹور رہے ہیں۔ اور پاکستان کے سرکاری دفاتر و عدلیہ میں شدید ترین بھتاخوری، رشوت خوری، نذرانہ خوری خوف ، دہشت ، مایوسی کا رواج قیام پاکسان سے تاحال پاکستانی عام شہریوں پر نافذ کررکھا ہے۔ جبکہ چین میں رشوت خور نذرانہ خور، بھتہ خور سرکاری ملازمین کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ یہ تو تھا ان برطانوی کمیشن ایجنٹ سیاسی اداکار ، مذہبی فنکار منافقین منافقوں کا احوال اب غور کریں کہ اصلی سنی کون ہیں۔
برطانوی غلام سعودی عرب نجد کے حکم کے تحت پاکستان کے کی سرحدیں افغانیوں کے لئے ہر قسم کی ٹریفک کے لئے کھلی رہتی ہیں۔ اور پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں کے ذریعے کوئی بھی افغانی کسی بھی وقت پاکستان آجاسکتا ہے۔ اور کوئی بھی پاکستانی سفر کرکے افغانستان میں بغیر قانونی کاغذات کے نہیں جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تمام شہروں میں خان کالونیاں درحقیقت افغان کالونیاں قائم ہیں۔ ان منافقین کے پاس دوہری شہریت یعنی افغانی اور پاکستانی شناختی کارڈ وغیرہ بیک وقت موجود ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر افغان کالونی ، خان کالونی پرانا ائیرپورٹ گلبرگ تھری لاہور وغیرہ جہاں افغانی شہری برطانوی سعودی عرب نجد کے حکم کے مطابق منافقت کے اصولوں پر رہائش پذیر ہیں۔ اور ان خان کالونیوں میں رہائش پذیر سر پر ڈوپٹہ اوڑھے ہوئے باریش اہم جنس پرست منافقین افغانیوں کو پاکستان کی سرکاری خفیہ ایجنسیوں آئی ڈالر آئی، آئی پونڈ آئی ، آئی ایم ایف آئی کے رشوت خور منافق اکثر جعلی جلسے جلوسوں، قومی الیکشن وغیرہ میں منفی پالیسوں کو مثبت بنانے کے لئے شرکت کرواتے ہیں۔ تاکہ پاکستان میں اسی فیصد عوامی بجٹ بمعہ آئی ایم ایف کا قرضہ ہڑپ کرنے والی برطانوی اغلام افواج پاکستان اور پاکستان کے سرکاری دفاتر و عدلیہ کی شدید بھتا خوری،رشوت خوری، بلیک میلنگ ، نذرانہ خوری کا سلسلہ قائم رہے۔ تاکہ پاکستان کے سرکاری ملازم عوام کے ساتھ کتے کی طرح بھونک کر اور بندر کی طرح غرا کر بطور برطانوی اغلام ہم جنس پرست پیش آتے رہیں۔ جب کہ چین میں رشوت لینے والے سرکاری ملازموں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔
___________________________
Muslims, Sunni Islam , Ahl-Sunnat-Wa-Jamaat, Shiaism, Shia, Indian Film : Laila Majnu 1976 , Indian Film : Heer Raanjha 1970, Sohni Mahiwal (1985) , Kharjees , Wahabees , Wahabism , Najd, Deo-Bund, Homosexuality, Deo-Boond, , Political Actor , Political Artists, Religious Actor, Religious Artists, Modeling, Model, Drama, Commission agents, Boutiques for religious Uniform, inequality criminal, Marriage System in Saudi Arabia, Ameer -e- Najad of London England, Ameer Saudi Arab of London England.
You will find following from this Article.
What is Wahhabiism or Wahhabi or Salafism or Deo-bund or Deo-boond or Ahl al-Hadith or Ahl-e-Hadith, IMFI, I$I, I-Pond-I , I-Fund-I , I-Bribery-I , I-Lond-On-I , I-Lond-Off-I , I-Deo-I, I-Najdi-I agencies ?
Close your eyes, take three deep breaths, and decide what's best.
Decide what's best True Muslims and Islam.
True Muslims and Islam decide what's best.
Real True Sunni Muslims or True Sunni Islam .
Social equality based Russian Famous Scholar Mufti Mriza Izzat Baig ( Mahiwal ) Gujarat Indian Pakistan.
Russian Scholar Mufti Mriza Izzat Baig ( Mahiwal ) Gujarat Indian Pakistan.
This is the story of Islamic Social Equality.
This is the story of Social Equality. That is how Russian Prince Mirza Izzat Baig became 'Mahiwal' for he became the 'cow-herder',
Kashmir as Badzaat-E-Kaashmiri ( Third: Inferior & felonious Kashmiri ) Pakistan's 'jugular vein bad luck of Britiish IMF Pakistan
Difference between Sunni Muslims and Shia and Wahabees Hypocrites by London England.
List of Political Actor as well as Political Artists modeling inequality criminal commission agents of Saudi Najd London England
List of Religious Actor as well as Religious Artists modeling inequality criminal commission agents of Saudi Najd London England
National Boutiques Pakistan army academy for new Uniform for Religious Actor as well as Religious Artists commission agents inequality criminal of Saudi Najd London England.
Award winning designers for new Uniform for Religious Actor as well as Religious Artists commission agents inequality criminal of Saudi Najd London England.
Pakistan and Afghanistan border illegal trafficking Homosexual ISI Afghan Colony Pakistan.
Dual Citizen ship holder homosexual Political Mafia in Pakistan.
The Real Face of Saudi Arabia King. Real face of the Saudi Arabs King.
A Pakistani official speaks just like barking dog or bad monkey.
Homosexual Devil Rana Zina Khan Deo-Boond PML-N Saudi Arab Najd is Law Minister Punjab Pakistan and illegal Parking Stands of Homosexual PML-N Deo-boonds in Chwok Chuburji Lahore.
Illegal encroachments footpath deprived nation by bribe homosexual government of Pakistan in Pakistani Chowk Ichhra Lahore.
_____________________________________________________________________