یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو بشیر بدر

0 views
Skip to first unread message

Zahid Hussain

unread,
Nov 17, 2019, 12:52:49 PM11/17/19
to Designed Poetry
یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو
بشیر بدر
یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر میں رہا کرو 
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو 
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے 
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلہ سے ملا کرو 
ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا 
تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو 
مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں 
جو کہا نہیں وہ سنا کرو جو سنا نہیں وہ کہا کرو 
کبھی حسن پردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لباس میں 
جو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلا کرو 
نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو 
اسے اتنی گرمیٔ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو 
یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے 
یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو 

yoon hi.jpg

yoon hi animated.gif



Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages