Chose the Best // کتنے پیسے دے سکتے ہو

0 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Feb 28, 2026, 4:18:18 AM (7 days ago) Feb 28
to

If you have a Choice, Then choose the Best. If you have No choice Then Do your Best.. 1. A Philosophy of Excellenc...




If you have a Choice,
Then choose the Best.
If you have No choice
Then
Do your Best..

1. A Philosophy of Excellence

  • This quote encourages striving for excellence, whether through deliberate selection or by making the best of circumstances.

2. Making the Right Decisions

  • When options are available, carefully evaluating and choosing the best reflects wisdom, foresight, and responsibility.



__________________________________________________

کتنے پیسے دے سکتے ہو

  بابا جی! کل میرے گھر میں افطاری ہے، قریباً سو احباب ہونگے، مجھے سموسے اور پکوڑے چاہئیں، کتنے پیسے دے جاوں؟ میں نے پوچھا، بابا جی نے میری ط...



 بابا جی! کل میرے گھر میں افطاری ہے، قریباً سو احباب ہونگے، مجھے سموسے اور پکوڑے چاہئیں، کتنے پیسے دے جاوں؟ میں نے پوچھا،

بابا جی نے میری طرف دیکھا اور سوالیہ نظروں سے مسکرائے ۔
"کتنے پیسے دے سکتے ہو"
مجھے ایسے لگا، جیسے بابا جی نے میری توہین کی ہے،
مجھے ایک عرصے سے جانتے ہوئے بھی یہ سوال بے محل اور تضحیک تھی،
میں نے اصل قیمت سے زیادہ پیسے نکالے اور بابا جی کے سامنے رکھ دئیے،
بابا جی نے پیسے اٹھائے اور مجھے دیتے ہوئے بولے،
وہ سامنے سڑک کے اس پار اس بوڑھی عورت کو دے دو، کل آ کر اپنے سموسے پکوڑے لے جانا،
میری پریشانی تم نے حل کر دی، افطاری کا وقت قریب تھا اور میرے پاس اتنے پیسے جمع نہیں ہو رہے تھے، اب بیچاری چند دن سحری اور افطاری کی فکر سے آزاد ہو جائے گی۔
میرے جسم میں ٹھنڈی سی لہر دوڑ گئی۔
وہ کون ہے آپکی ؟؟
میرے منہ سے بے اختیار سوال نکلا ۔ بابا جی تپ گئے،
وہ میری ماں ہے ، بیٹی ہے اور بہن ہے ۔ تم پیسے والے کیا جانو، رشتے کیا ہوتے ہیں، جنہیں انسانیت کی پہچان نہیں رہی انہیں رشتوں کا بھرم کیسے ہو گا، پچھلے تین گھنٹے سے کھڑی ہے، نہ مانگ رہی ہے اور نہ کوئی دے رہا ہے۔
تم لوگ بھوکا رہنے کو روزہ سمجھتے ہو اور پیٹ بھرے رشتوں کو افطار کرا کے سمجھتے ہو ثواب کما لیا۔
"اگر روزہ رکھ کے بھی احساس نہیں جاگا تو یہ روزہ نہیں، صرف بھوک ہے بھوک"
میں بوجھل قدموں سے اس بڑھیا کی طرف جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا، اپنے ایمان کا وزن کر رہا تھا، یہ میرے ہاتھ میں پیسے میرے نہیں تھے بابا جی کے تھے، میرے پیسے تو رشتوں کو استوار کر رہے تھے۔
بابا جی کے پیسے اللہ کی رضا کو حاصل کرنے جا رہے تھے۔
میں سوچ رہا تھا کہ اس بڑھیا میں ماں، بہن اور بیٹی مجھے کیوں دکھائی نہیں دی؟
اے کاش میں بھی بابا جی کی آنکھ سے دیکھتا، اے کاش تمام صاحبان حیثیت بھی اسی آنکھ کے مالک ہوتے،
اے کاش، کے ساتھ بیشمار تمنائیں میرا پیچھا کر رہی تھیں۔

Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages