Story: When the Boss Is Wrong

0 views
Skip to first unread message

Junaid Tahir

unread,
Jul 1, 2026, 2:19:25 AM (8 days ago) Jul 1
to

Story: When the Boss Is Wrong

It was peak winters and the ponds were frozen when Akbar asked Birbal if a man would be inside the frozen pond throughout the night, with...





It was peak winters and the ponds were frozen when Akbar asked Birbal if a man would be inside the frozen pond throughout the night, without any attire for money. Birbal agreed. The next day, Birbal came to the court along with a poor Brahmin whose family was starving. He agreed to be in the pond all night. The whole night he was inside the pond, shivering. He returned to the durbar the next day to receive his reward. The king asked how he managed to withstand the extreme temperature all through the night. He replied, 'I could see a faintly glowing light a kilometer away and I withstood with that ray of light.'


Akbar wasn't convinced and refused to give him any reward. The Brahmin went to Birbal asking for help. Thereafter, Birbal stopped coming to the durbar and sent a messenger to the king saying that he would come to the court only after cooking his khichdi. After a few days, the king himself went to Birbal's house to see what he was doing. Birbal had lit the fire and kept the pot of uncooked khichdi one meter away from it. Akbar questioned him, 'How will the khichdi get cooked with the fire one meter away?'


Birbal replied, 'When it was possible for a person to receive warmth from a light that was a kilometer away, then it is possible for this khichdi, to get cooked too. Akbar understood his mistake and rewarded the Brahmin man with 2000 gold coins.

It's possible to handle such situations without anger or frustration. If Birbal could make Akbar realise his mistake without making him feel embarrassed, so can you.



__________________________________________


سوشل میڈیا ہمیں غصیلا، اندھا اور ایک دوسرے سے دور کیوں کر رہا ہے؟

  سوشل میڈیا ہمیں غصیلا، اندھا اور ایک دوسرے سے دور کیوں کر رہا ہے؟ کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ آپ نے صرف پانچ منٹ کے لیے فیس بک یا ا...


 


سوشل میڈیا ہمیں غصیلا، اندھا اور ایک دوسرے سے دور کیوں کر رہا ہے؟

کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ آپ نے صرف پانچ منٹ کے لیے فیس بک یا انسٹاگرام کھولا ہو، اور اچانک معلوم ہوا ہو کہ دو گھنٹے گزر چکے ہیں؟ پریشان نہ ہوں، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ یہ ایپس (Apps) بنائی ہی اس طرح گئی ہیں کہ آپ کا زیادہ سے زیادہ وقت کمپیوٹر اسکرین پر گزرے۔


یہ ایپس آپ کے ذریعے پیسہ کیسے کماتی ہیں؟

سوشل میڈیا ایپس بالکل مفت ہوتی ہیں، لیکن پھر بھی یہ کمپنیاں اربوں روپے کما رہی ہیں۔ آخر کیسے؟ اشتہارات (Ads) کے ذریعے۔

جب بھی آپ اسکرین اوپر نیچے (Scroll) کرتے ہیں، آپ کو کوئی نہ کوئی اشتہار نظر آتا ہے۔ اس کا حساب کتاب کچھ یوں ہے:

  • فرض کریں ایک اشتہار سے کمپنی کو بہت معمولی رقم ملتی ہے—صرف 0.2 سینٹ (یعنی ایک روپے کا بھی چھوٹا حصہ)۔
  • اب ذرا سوچیں، جب کروڑوں لوگ روزانہ یہ ایپ استعمال کرتے ہیں اور ہر شخص کئی اشتہارات دیکھتا ہے، تو یہ چھوٹی چھوٹی رقم مل کر ایک بہت بڑا پہاڑ بن جاتی ہے۔

آپ کو زیادہ سے زیادہ اشتہارات دکھانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ایپ پر دیر تک ٹکیں رہیں۔ اس لیے، ان کا کمپیوٹر سسٹم یہ دیکھتا ہے کہ آپ کو کیا پسند ہے۔ اگر آپ نے کھانا پکانے کی ایک ویڈیو دیکھی، تو ایپ فوراً آپ کو ویسی ہی دس اور ویڈیوز دکھانا شروع کر دے گی۔ یہ آپ کو وہی کچھ دکھاتی ہے جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ آپ ایپ بند نہ کریں۔ اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ہے، یہ ان کا کاروبار ہے۔


اصل مسئلہ: سیاست اور نفرت

اصل خطرہ تب شروع ہوتا ہے جب بات سیاست پر آتی ہے۔

اگر آپ کسی ایک سیاسی پارٹی کو پسند کرتے ہیں اور دوسری سے نفرت کرتے ہیں، تو ایپ اس بات کو نوٹ کر لیتی ہے۔ پھر وہ آپ کو صرف وہی ویڈیوز دکھانا شروع کر دے گی جن میں آپ کی پسندیدہ پارٹی کی تعریف ہو اور دوسری پارٹی کی برائی کی جا رہی ہو۔

یہ بہت خطرناک ہے کیونکہ:

یہ آپ کے دماغ کو دھوکہ دیتا ہے: چونکہ آپ روزانہ اپنے فون پر ایک ہی جیسی چیزیں دیکھتے ہیں، اس لیے آپ سوچنے لگتے ہیں کہ آپ کی پارٹی 100 فیصد سچی ہے اور کبھی غلطی نہیں کر سکتی۔
یہ نفرت بڑھاتا ہے: آپ دوسری پارٹی سے مزید نفرت کرنے لگتے ہیں، بغیر کسی حقیقت کو جانے۔
یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دیتا ہے: آپ اپنے دماغ کا استعمال بند کر دیتے ہیں اور ہر اس بات پر یقین کر لیتے ہیں جو آپ کا فون آپ کو دکھاتا ہے۔


خود کو بچانے کے 4 آسان اصول

اپنے دماغ کو پرسکون اور زندگی کو پرامن رکھنے کے لیے ان چار اصولوں پر عمل کریں:


1. اپنے فون پر اندھا دھند یقین نہ کریں

ہمیشہ یاد رکھیں کہ جو کچھ آپ کو سوشل میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے، وہ اصل دنیا نہیں ہے۔ یہ صرف ایک کمپیوٹر کا تیار کردہ مینو ہے جو آپ کو ایپ کے ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔


2. ہر چیز گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا بند کریں

سیاست سے جڑی کسی بھی پوسٹ یا ویڈیو پر "شیئر" (Share) کا بٹن دبانے سے پہلے رکیں اور سوچیں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے رشتہ داروں، دوستوں یا واٹس ایپ گروپس کے لوگوں کی رائے آپ سے الگ ہو۔ اپنی سیاسی سوچ ان پر زبردستی تھوپنے سے ان کا ذہن نہیں بدلے گا، بلکہ اس سے صرف لڑائی جھگڑے ہوں گے اور آپ کے رشتے خراب ہوں گے۔ خاندان اور رشتے کسی بھی سیاسی پارٹی سے زیادہ اہم ہیں۔


3. کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا

سچے بنیں۔ اگر آپ کی پسندیدہ سیاسی پارٹی کوئی بڑی غلطی کرتی ہے، تو اس کا دفاع کرنے یا اسے چھپانے کی کوشش نہ کریں۔ غلط بات غلط ہی ہوتی ہے، چاہے وہ کوئی بھی کرے۔


4. انٹرنیٹ پر بتائے گئے صحت کے ہر ٹوٹکے پر یقین نہ کریں

آج کل کوئی بھی شخص AI (مصنوعی ذہانت) کا استعمال کر کے بہترین الفاظ اور خوبصورت ایڈیٹنگ کے ساتھ ایک شاندار ویڈیو بنا سکتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں: انہوں نے وہ ویڈیو لاکھوں ویوز (Views) حاصل کرنے اور پیسے کمانے کے لیے بنائی ہے، آپ کی صحت کے لیے نہیں.

ایک آسان مثال: اگر کوئی ویڈیو آپ کو بتائے کہ کچے آم (یا ایوکاڈو) کے ساتھ لیموں کا رس ملا کر پینے سے کوئی بیماری جڑ سے ختم ہو جاتی ہے، اور آپ اندھا دھند اسے پی لیں، تو ہو سکتا ہے یہ آپ کے معدے کو شدید نقصان پہنچا دے۔ جب تک آپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا، تب تک نقصان ہو چکا ہوگا۔ صحت سے جڑی کسی بھی بات پر عمل کرنے سے پہلے ہمیشہ ایک مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

آخری بات

سوشل میڈیا تفریح اور لوگوں سے جڑے رہنے کا ایک اچھا ذریعہ ہے، لیکن آخر کار یہ ایک کاروبار ہے۔ اسے استعمال ضرور کریں، لیکن اسے اپنے دماغ، اپنی سوچ، اور اپنے پیاروں کے ساتھ آپ کے رویے پر قبضہ نہ کرنے دیں۔


Junaid Tahir  
Blogger, Editor, Designer
Exceediance | allgoodschools
Reply all
Reply to author
Forward
0 new messages